الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ.
﴿وَ الْفَجْرِۙ (1) وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ (2) وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ (3)﴾. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، لَا سِيَّمَا صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ الَّذِیْ قَالَ فِيْهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِیْ قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ».
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِیُّ الْكَرِيْمُ.
معزز خواتین و حضرات!
الحمدللہ، اللہ پاک کا احسان ہے کہ انتہائی مبارک ایام میں سے، بس ابھی گزرنے والے ہیں ان شاء اللہ۔ یہ ایام جو آ رہے ہیں ذی الحجہ کے، ماشاءاللہ انتہائی مبارک ایام ہوں گے۔ اس کے بارے میں ابھی جو میں نے آپ کے سامنے ایک آیتِ کریمہ تلاوت کی ہے، سب سے پہلے اس کا مفہوم عرض کروں گا۔ اس کے بعد ان شاء اللہ وہ جو حدیثِ شریفہ میں نے بیان کی ہے، تلاوت کی ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔
اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں: قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی، اور طاق اور جفت کی۔ دُرِ منثور میں متعدد سندوں سے روایت درج کی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس آیت میں ﴿لَیَالٍ عَشْرٍ﴾ سے عشرۂ ذی الحجہ مراد ہے اور وتر (طاق) سے عرفہ کا دن یعنی طاق ہوتا ہے 9 ذی الحج اور شفع (جفت) سے قربانی کا دن (یعنی دسویں تاریخ) مراد ہے اور عیدین کی رات میں شب بیداری کی روایت رمضان کے اخیر خطبہ میں گزر چکی ہے۔
اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان ایام کی بہت قدر کرنی چاہیے۔ اب چونکہ اللہ پاک نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے تو اس کے اندر کوئی فیض ہوگا کوئی برکت ہوگی۔ تو حدیث شریف میں یہ ارشاد فرماتے ہیں آپ ﷺ کہ:
کوئی دن عشرہ ذی الحجہ کے سوا ایسے نہیں کہ ان میں عبادت کرنا خدائے تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو، ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال روزہ رکھنے کے برابر ہے (دسویں کو روزہ رکھنا حرام ہے، پس نو دن کا۔ پس یہ فضیلت نو دنوں کے لیے ہے۔ اور ان کی ہر رات کا جاگنا شبِ قدر کے برابر ہے۔ یہ ترمذی اور ابنِ ماجہ کی روایت ہے۔ یہ دونوں، یعنی صحیح روایات اس میں کثرت سے بیان کی جا رہی ہیں۔
اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میں اُمید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ عرفہ کا روزہ کفارہ ہو جاتا ہے ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئنده کا۔
یہ مسلم شریف کی روایت ہے۔
تو یومِ عرفہ کا جو روزہ ہے، وہ حاجیوں کے لیے الگ ہے اور غیر حاجیوں کے لیے الگ ہے۔ حاجی بھی رکھ سکتے ہیں لیکن ان کے لیے افضل ہے کہ نہ رکھیں۔ اور جو غیر حاجی ہیں، ان کے لیے افضل ہے کہ رکھیں۔ اور اس کے بارے میں اکثر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جو شوال کے روزے ہیں، اگرچہ اس کی روایت بھی حدیث شریف سے ثابت ہے، لیکن وہ اس کے مقابلے میں اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی کہ یہ روایت مضبوط ہے۔ اور ان کی قسم بھی اللہ نے کھائی ہے نا، سب سے بڑی بات تو یہ ہے۔ تو اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے، تو اس کی بڑی قدر ہونی چاہیے۔ لیکن اکثر اس کی قدر نہیں ہوتی، اس کے بارے میں کوئی اہتمام، کوئی ایسی بات، ٹھیک ہے نفل ہے، یعنی کسی کو ملامت نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن نفل اعلیٰ درجے کا نفل ہے۔ اور ثواب کے لحاظ سے بہت آگے ہے، ایک سال کے روزوں کا ثواب ایک دن میں! تو یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے اس کی بڑی قدر کرنی چاہیے اور اس دفعہ تو آ رہے ہیں میرے خیال میں شاید یہ گرمیوں میں بھی آ رہے ہیں، تو اس میں مشقت بھی زیادہ ہوگی اس دفعہ، اور جتنی مشقت زیادہ ہوتی ہے تو اتنا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تو اس دفعہ اور بھی ان شاء اللہ اجر بڑھ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نصیب فرمائے۔
دوسرا اس میں حج اور عمرہ کے فضائل اور مسائل کا topic تھا۔
فضائل: سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حج تو فرض ہے صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک بار۔ اور عمرہ سنت ہے۔ اور اس کو چھوٹا حج کہتے ہیں، حجِ اصغر۔ حجِ اکبر جو ہے نا وہ اصل جس کو ہم حج کہتے ہیں اس کو کہتے ہیں۔ اس کے لیے میں مختصر طور پر اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ جہاں تک اس کے مسائل ہیں، جو بھی حاجی حج پہ جا رہے ہیں، ان کے مسائل ضرور سیکھیں۔ بلکہ اگر حج کیا بھی ہو، تو پھر بھی ذرا یاد دہانی کے لیے دوبارہ ان کو دیکھیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ تکبیرات جو ہوتی ہیں عید الفطر کی اور عید الاضحیٰ کی، تو جو مولوی صاحبان ہوتے ہیں وہ باقاعدہ اس کو دہراتے ہیں ہر دفعہ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ چونکہ سال میں دو دفعہ آتا ہے لہٰذا لوگ بھول جاتے ہیں طریقہ کار، لہٰذا بار بار یاد دہانی کرنی پڑتی ہے تاکہ لوگ اس میں غلط نہ ہو جائیں۔ تو حج بھی اگر پہلی دفعہ کوئی گیا ہے تو اس کا تو مسئلہ ہے ہی... اس کو تو بہت زیادہ خیال کرنا چاہیے، سیکھنا چاہیے۔ اور اگر کوئی گیا ہے، تو ہر دفعہ حج میں ایک نیا experience ہوتا ہے۔ کم از کم میرا تجربہ تو یہ ہے۔ اور ہمارے علمائے کرام بھی، مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے، حضرت نے کافی حج کیے تھے۔ فرمایا، ہر دفعہ حج میں مجھے ایسی بات کا پتہ چل جاتا ہے جو پہلے معلوم نہیں ہوتی۔ اور حج کا معاملہ بھی الگ ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے کتاب لکھی اس پر، وہاں جا کر طواف غلط شروع کر لیا۔ مطلب یہ ہے کہ معاملہ ایسا ہے۔ تو اس وجہ سے اچھی طرح تیاری کر کے جانا چاہیے، اچھی طرح تیاری کر کے جانا چاہیے۔
عمرہ چونکہ پہلے کرنا ہوتا ہے حج سے جانے سے پہلے، اگر تمتع ہے تو بھی عمرہ کرنا پڑے گا، اگر قِران ہے تو بھی عمرہ کرنا پڑے گا۔ ہاں اِفراد میں نہیں ہوتا۔ تو عمرے کا طریقہ بھی سیکھنا چاہیے، اور زیادہ ضروری باتیں اس میں آ ہی جاتی ہیں۔ طواف بھی، ظاہر ہے طواف وہ تو حج اور عمرے کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ تو طواف اس میں، سعی بھی ایک جیسی ہوتی ہے، مطلب سعی اُس میں بھی کرنی ہوتی ہے، اِس میں بھی کرنی ہوتی ہے۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ منیٰ اور عرفات میں، مزدلفہ میں جانا نہیں ہوتا عمرے میں، وہ حج میں چلے جاتے ہیں۔ تو ان کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے۔ کتابیں الحمدللہ موجود ہیں، مسائل کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔
ہاں البتہ ایک بات میں عرض کروں گا، کہ ان مسائل کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ، اس کی جو اصل روح ہے نا، اس کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ حج کی اصل روح کیا ہے؟ وہ ہمیں معلوم کرنی چاہیے۔ اصل میں اگر دیکھا جائے، تو اللہ جل شانہٗ نے ہمیں عقل عطا فرمائی ہے۔ چیزوں کو جانچنے کے لیے، سمجھنے کے لیے، علم کے لیے، فیصلہ کرنے کے لیے، عقل عطا فرمائی ہے۔ لیکن اس کو بھی بے مہار نہیں چھوڑنا ہوتا۔ اگر اس کو بے مہار چھوڑا جائے تو پھر یہ شریعت میں دخل دینے لگتی ہے۔ تو حج میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ شریعت کی کوئی بات بے شک عقل میں نہ بھی آئے، پھر بھی ماننا ہوگا۔ پھر بھی ماننا ہوگا۔ تاکہ supremacy جو شریعت کی ہے، وہ بالکل سامنے آ جائے، واضح ہو جائے۔ اب مثال کے طور پر میں مثال دیتا ہوں۔ یہ سعی جو ہوتی ہے، یہ حضرت ہاجرہ بی بی کی سنت ہے۔ ہمارے اوپر واجب ہے، سنت اس کو کہتے ہیں کہ یعنی ان کا طریقہ ہے۔ انہوں نے کیا تھا۔ لیکن یہ ہمارے اوپر واجب ہے۔ تو حضرت ہاجرہ بی بی کی سنت ہے، تو حضرت ہاجرہ بی بی عورت تھی نا۔ تو اضطراری طور پر وہ دوڑی تھیں۔ اضطراری طور پر دوڑی تھیں۔ لیکن اس وقت حج میں مرد دوڑتے ہیں، عورتیں نہیں دوڑتیں۔ عورتوں کو دوڑنے کا حکم نہیں ہے۔ یعنی عورتوں کی سنت عورتوں پر نہیں! کیوں؟ وہ اضطراری دوڑنا تھا یہ اختیاری دوڑنا ہے۔ تو اختیاری دوڑنے میں عورت اور مرد کا حکم الگ ہے۔ کیونکہ عورت دوڑے گی تو ممکن ہے لباس آگے پیچھے ہو جائے، مسئلہ ہو جائے، تو کچھ مسائل اور بھی ہو سکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ان کو آرام سے جانا چاہیے۔ جبکہ جو مرد ہیں وہ دوڑ سکتے ہیں تو لہٰذا ان کو دوڑنے کا حکم ہے۔ اس کے بعد جتنے انبیاء علیہم السلام ہیں وہ دوڑے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں بڑے بڑے شرفاء جو قدم بڑی احتیاط سے رکھتے ہیں، وہ بھی دوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ظاہر ہے دوڑنا تو ہوتا ہے۔ اور کیا ہے، سب شریفوں سے زیادہ اوپر، آپ ﷺ بھی دوڑے ہیں۔ صحابہ کرام دوڑے ہیں۔ تو لہٰذا یہ سب کو ہی دوڑنے کا حکم ہے۔ تو ایک تو یہ بات ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اچھا خاصا آدمی، یہاں سے جو لباس ان کا ہوتا ہے، فاخرانہ ہوتا ہے یا جو بھی ہوتا ہے، وہ لباس اتار کے صرف دو چادریں پہن لیتا ہے۔ اور ان دو چادروں کی بات تو الگ ہے، یہ تو سادگی کی ایک علامت ہے۔ لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ ٹھنڈک کے لیے آپ غسل کر سکتے ہیں، آپ میل دور کرنے کے لیے غسل نہیں کر سکتے۔ اب بتاؤ یہ کونسی عقل کی بات ہے؟ حتیٰ کہ جوئیں آپ اپنے سر سے نہیں نکال سکتے! کیا وجہ ہے؟ یہاں پر عقل کام نہیں کرے گی۔ یہاں شریعت چلے گی اور شریعت کو سمجھنے کے لیے عشق ہے۔ یعنی اس بات کو سمجھنے کے لیے عشق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے عقل نہیں ہے۔ کیوں؟ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جو کام ہوئے ہیں، یہ عشق کے ہوئے ہیں۔ اور عشق کے تقاضے ہیں۔ جو عاشق ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ صرف معشوق کا خیال ذہن میں ہوتا ہے کہ بس میں نے اس کو راضی کرنا ہے، خوش کرنا ہے۔ اس کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ میری کیا حالت ہے۔ اس وجہ سے میلا کچیلا یہی ہوتا رہتا ہے۔ تو اس لحاظ سے گویا کہ اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہے کہ میرے راستے میں جو آیا ہے، وہ اس طرح نظر آئے جیسے عاشق ہوتے ہیں۔ تو میلے کچیلے جو اس میں رہنا ہوتا ہے، ہاں ٹھیک ہے، جس وقت اعمال پورے ہو جائیں پھر ماشاءاللہ اس کو، یعنی حلق کر لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد دوسرے کپڑے پہن لیتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی ایسے نہیں ہے mechanical انداز میں کہ بس یہ کر لیا اور اس کی روح نہیں لیا۔ اس کا روح لینا چاہیے کہ آخر یہ ہم کیا کر رہے ہیں؟
دیکھیں نا اس میں ایک نعرہ ہے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ۔ مرد جہری طور پہ، عورتیں سری طور پہ، وہ پڑھتی ہیں۔ تو اس میں جو حاضری کی کیفیت ہے نا، وہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ میں کس کے سامنے حاضر ہو رہا ہوں۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ۔ اس کیفیت کے ساتھ حاضری دینی چاہیے۔
اور عرفات میں، یعنی کمال ہے، ایک دن پہلے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اور ایک دن بعد بھی کچھ بھی نہیں ہوگا۔ لیکن اسی ایک دن میں اس میں اتنی زیادہ فضیلت آ جاتی ہے کہ دنیا جہاں کے لوگ، بے شک ادھر آ چکے لیکن اگر اس میں قدم نہیں رکھا تو اس کا حج نہیں ہوگا۔ اور جو خانہ کعبہ کے گرد تیز تیز چکر لگا رہے ہیں، حجرِ اسود کو ہر چکر میں بوسہ دے رہے ہیں، وہ سب کچھ چھوڑ کے اس کو عرفات جانا ہوگا۔ یہ نہیں کہ وہ عرفات کو چھوڑ دے اس کے لیے، کہ اوہ یہ تو بہت آسان بات ہے۔ چلو جی۔ نہیں! کیونکہ اس وقت جو کچھ ہے، وہ ادھر عرفات میں ہے۔
ای قوم به حج رفته کجایید؟ کجایید؟
محبوب در ایں جاست، بیایید بیایید
(مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ)
محبوب تو یہاں پر ہے۔ آجاؤ، ادھر آجاؤ، آجاؤ ادھر آجاؤ۔ تو بہرحال یہ ہے کہ آپ ﷺ کے طریقے پر، دل و جان سے چلنے کا نام حج ہے۔ آپ ﷺ کے طریقے پر دل و جان سے وہاں پر جو اعمال ہیں مناسک ہیں، اس کو کرنا، یہ حج ہے۔ تو بہرحال ہمیں بھی اس طرح، اس جذبے کے ساتھ، یہ حج کرنا چاہیے۔
اور اس میں چونکہ پوری عمر میں ایک دفعہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں ہوتی ہے اور بہت سارے لوگوں کی معافیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ اب عرفات میں چونکہ یہ سارا ہو رہا ہوتا ہے تو عرفات میں شیطان بہت ذلیل ہوتا ہے۔ بہت زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ اپنے سر پہ خاک ڈال رہا ہوتا ہے کہ میں تو تباہ ہو گیا میری تو ساری محنت چلی گئی۔ تو وہاں پر شیطان، اگر ہمیں دھوکہ دے سکتا ہے، تو یہی ہے کہ سستی ڈال دے۔ یا ادھر ادھر چیزوں پہ نظر ہو۔ بعض لوگ ایسے کرتے ہیں کہ وہ اللہ معاف فرمائے اللہ بچائے، وہ جو خیراتی چیزیں ہوتی ہیں، ان کو سمیٹنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ خدا کے بندو، کہاں آئے ہو؟ ہمارے ایک ساتھی ہیں، ذہن اس کا ماشاءاللہ بڑا scientific ہے۔ تو اس نے بڑے scientific انداز میں ایک بات کی۔ اس نے کہا کہ... بلکہ آپ لوگ بھی کر لیں... 11 لاکھ 75 ہزار minimum حج ہے، 40 دن کے حساب سے۔ 40 دن کے آپ بنا لو گھنٹے بنا دو۔ 40 ضرب 24۔ یہ گھنٹے ہو گئے۔ اور اس 11 لاکھ 75 ہزار کو آپ گھنٹوں پر تقسیم کرو۔ کتنے بنتے ہیں؟ 1223 روپے ایک گھنٹے کے بنتے ہیں۔ اب مثال کے طور پر آپ اس گھنٹے میں آپ نے بہت ساری خوراک جمع کی، اس کو کھا بھی نہیں سکو گے۔ تو آپ کا ہر گھنٹہ کم از کم 1223 روپے سے زیادہ ہے۔ تو آپ نے کیا کمایا؟ اور پھر آپ فقیر تو نہیں ہیں نا، حج تو فقیر پہ فرض نہیں ہے۔ حج تو مالدار پہ فرض ہے۔ تو کیا مالدار کو اس چیز کے لیے اچھلنا چاہیے؟ کود کود کے حاصل کرنا چاہیے؟ ہاں، اِس سے بچنا چاہیے۔ ٹھیک ہے وہ لوگ محبت میں پیش کر رہے ہیں، لیکن آپ کا اچھلنا اس کے لیے جائز تو نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ آپ کے ساتھ محبت کے ساتھ آ کر اس کو با عزت طریقے سے پیش کر لے، پھر تکبر نہیں کرنا چاہیے، پھر لینا چاہیے۔ کیونکہ ظاہر ہے عزت کی بات ہے ہدیہ ہے۔ تو آپ اس کو ہدیے کے طور پہ لے سکتے ہیں لیکن اچھلنا، یہ آپ کا اپنا... مجھے بتاؤ، اشرافِ نفس بھی حرام ہے، اشرافِ نفس! دل سے سوال... یعنی دل میں آپ کی یہ بات ہو کہ یہ مجھے ملے۔ یہ بھی حرام ہے۔ تو کہاں خود سوال؟ اور وہ بھی حاجی کا؟ یہ اچھلنا کیا چیز ہے سوال ہے مفتی صاحب یا نہیں ہے؟ سوال تو ہے، سوال حرام ہے یا نہیں؟
تو یہ بہت غلط حرکت ہے، مطلب یہ وہاں نہیں کرنا چاہیے۔ اور جس وقت انسان ان سے مستغنی ہو جائے نا، تو پھر اللہ پاک کی قدرتیں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ ہم ایک دفعہ جا رہے تھے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اگر آپ کو قطار بدلنی پڑے نا، تو جائز نہیں ہوگا۔ قطار نہیں بدلیں گے۔ خود آ اگر کوئی آئے اور آپ کو راستے میں دے دے، تو ٹھیک ہے، وہ ان کی محبت ہے۔ لیکن آپ کو اگر دوسری قطار میں ہو رہی ہے اور آپ پہلی قطار میں ہیں تو آپ کا پہلی قطار سے دوسری قطار میں جانا سوال کے لیے ہے، وہ غلط ہوگا وہ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نہ جائیں اس طرف۔ خیر ہم جا رہے تھے، شیطانوں کو کنکر مارنے۔ راستے میں پولیس نے روک دیا۔ حیران ہو گئے کہ پولیس نے کیوں روک دیا بھئی یہاں نہ کوئی checking ہو رہی ہے passport کی نہ کوئی اور بات۔ پولیس نے کیوں روک دیا؟ تو پوچھا کیوں تو انہوں نے پیچھے وہ پڑے ہوئے تھے کریٹ پڑے ہوئے تھے، اس میں یہ شربت وغیرہ، اس طرح کھانے کی چیزیں تھیں۔ یہ لے لو! ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیں یہ لے لو! اس کے لیے روکا ہوا تھا۔ اب دیکھو! یعنی مطلب یہ ہے کہ جب اللہ دیتا ہے، تو پھر لے لو۔ لیکن اللہ پاک کا قانون تو اس کے لیے نہ توڑو نا! تو یہ بات بہت اہم ہے، اور یہ ایک بات میں عرض کرتا ہوں کہ حج ہے نا، حج، یہ کسوٹی ہے۔ وہاں پر انسان کی اپنی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔ جو بھی حقیقت ان کی ہوتی ہے۔ اچھی ہے تو اچھی چیز ظاہر ہو جائے گی، بری ہے تو بری چیز ظاہر ہو جائے گی۔ تو اگر آپ لوگوں نے وہاں پر یہ چیز جاری رکھی تو اس کا مطلب ہے حریص ہیں۔ تو یہ حرص آپ کی کئی گنا بڑھ جائے گی یہاں پر آکر۔ اور پھر آپ حریص ہی رہیں گے۔ تو کتنی خطرناک بات ہے یہ؟ تو وہاں پر ان چیزوں کی طرف دیکھیں بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت دینے والے ہیں۔ مجھے بتاؤ کونسی چیز کی کمی ہوتی ہے؟ ساری چیزیں مطلب دیکھو نا آپ، جتنے پیسے آپ نے لگائے ہیں اس کے حساب سے ہے نا سارا کچھ؟ تو بس ٹھیک ہے... مجھے تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بڑی عجیب بات فرمائی۔ مجھے فرمایا حج پہ جاؤ نا، تو پیسے نہ بچانا، وقت بچانا۔ پیسے نہ بچائیں وقت بچائیں۔ مثال کے طور پر آپ بس میں جا سکتے ہیں 2 ریال دے کر۔ ان دنوں دو ریال کی بات تھی۔ دو ریال دے کر اگر آپ بس میں جا سکتے ہیں تو پیدل نہ جانا۔ کیونکہ یہ جو وقت آپ کا بچے گا یہ وہاں حرم میں استعمال کر لو۔ پیدل کیوں استعمال کرتے ہو؟ اور اسی طرح بازار میں چکر لگا کے ایک سستی چیز ڈھونڈنا۔ اب سستی چیز کتنی سستی ہوگی؟ دو ریال سستی ہوگی، تین ریال سستی ہوگی؟ اس کے لیے آپ نے ایک گھنٹہ لگا دیا۔ تو میں نے ابھی آپ کو تو بتا دیا نا کہ آپ کا ایک گھنٹہ کتنے کا ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اپنے اوقات کو بازاروں میں، اور اس قسم کی چیزوں میں بالکل نہیں لگانا چاہیے۔ اور جب ان میں نہیں لگانا تو پھر گپ شپ میں کیوں لگائیں؟ گپ شپ میں بھی نہیں لگانا چاہیے۔ بس یا تو حرم میں ہو، ماشاءاللہ، یا پھر یہ کہ گھر پہ آرام کر رہے ہوں، یا پھر کسی کی خدمت کر رہے ہو۔ یہی ہمارے کام ہیں نا۔ تو اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور کام نہیں ہونا چاہیے۔ تلاوت، عبادت یہی سارا کام ہمیں کرنا چاہیے۔ اس کے لیے وقت بچانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
قربانی کی جو بات ہے، تو قربانی کے بارے میں میں اتنا عرض کروں گا کہ یہ ایک عجیب عاشقانہ عمل ہے۔ آج کل مہنگائی ہے۔ بہت سارے لوگ، جو مال رکھتے بھی ہیں، کچھ مالدار ہیں، وہ بھی سوچنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ تو بہت مہنگا سودا ہے اوہ یار یہ تو پیسے کم ہوجائیں گے۔ ہمارے حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے علاج کے لیے امریکہ جا رہے تھے۔ تو کسی نے کہا حضرت! یہ تو بہت خرچ ہوگا اس پر۔ مطلب ظاہر ہے وہاں امریکہ جائیں گے اور پھر وہاں کے اخراجات بھی ہوں گے سارے۔ فرمایا! اللہ پاک نے دیے اس لیے ہیں کہ اس پر خرچ کرو۔ جب اللہ نے دیے ہیں تو میں اس پہ خرچ کیوں نہ کروں؟ تو اگر concept یہ ہو کہ اللہ پاک نے جس چیز کے لیے دیے ہیں تو اس پر خرچ کرو! تو پھر کیوں نہ خرچ کریں؟ تو اس وجہ سے جو قربانی جو ہے، وہ اللہ پاک نے ہمیں مال کس لیے دیا ہے؟ کیوں؟لے جانے کے لیے قبر میں ساتھ؟ تو قبر میں تو کوئی ساتھ نہیں لے جا سکتا۔حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب فوت ہو رہے تھے، تو ان کے گھر والوں نے بتایا، آخری بات جو حضرت نے اپنے گھر والوں سے کی، تو یہ فرمایا تھا کہ جو کچھ کرنا ہے اپنے لیے کرو، بعد میں کوئی آپ کے لیے نہیں کرے گا۔ جو کچھ کرنا ہے وہ اپنے لیے ادھر کر لو، بعد میں آپ کے لیے کوئی کچھ نہیں کرے گا۔ اور یہ بات بالکل fact ہے، کون کرتا ہے؟ اول تو کرتے نہیں، اور کرتے ہیں تو رسومات کے مطابق کرتے ہیں، وہ بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ تو جو کچھ آپ نے خود اپنے لیے کیا ہوگا، تو وہی کام آئے گا۔اب میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ بلکہ دو واقعے ہیں۔ ایک تو ہم سب کو اس کا جاننا ضروری ہے، اور دوسرا، جو مجھے معلوم ہے وہ بتا دوں گا آپ کو۔جو سب کو جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حج کے موقع پر 100 قربانیاں کیں، 100 اونٹ قربان کیے، 100 اونٹ۔ اور اونٹ عربوں میں کس کو کہتے تھے؟ کار کے برابر value تھی اس کی۔تو 100 اونٹ قربان کیے۔ زمانے کو اگر تھوڑا سا آپ دیکھیں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے 63 اونٹ ذبح کیے ہیں۔ اور 37 جو ہیں، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیے کہ انہوں نے پھر ذبح کیے۔ 63 اونٹ کیوں ذبح کرنا، عقار کہتے ہیں، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی، ہر ایک نہیں کر سکتا۔ تو آپ ﷺ نے خود عقار 63 اونٹوں کے کیے۔ تو اس وقت آپ ﷺ کی عمر 63 سال تھی۔ تو کچھ میسج مل گیا؟ کچھ پتہ چل گیا؟ کہ اس میں کیا نسبت ہے؟ سال پر ایک اونٹ! سال پر ایک اونٹ آ رہا ہے۔ تو گویا کہ ہر سال حج اگر ہوتا، یعنی آپ ﷺ وہ کرتے، تو ہر ایک کے لیے ایک قربانی کر لی۔ یہ میری سوچ ہے میں نہیں کہتا ہوں کہ بھئی، لیکن برابر اس طرح بن رہا ہے، ٹھیک ہے نا؟ تو اب یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ آپ ﷺ نے 100 اونٹ قربان کیے، حالانکہ قربانی صرف آپ ﷺ پر ایک حصہ تھی اونٹ میں۔ سات حصے ہوتے ہیں ایک اونٹ میں۔ یعنی ایک کی جگہ 700 کیے ہیں۔ تو اس سے کچھ پتہ چل گیا کہ قربانی کیا چیز ہے؟ تو ایک تو یہ بات ہے، یہ واقعہ۔
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ اب ایک افغانی تھے، جس کی ہم نے الحمدللہ زیارت بھی کی ہے ، کئی دفعہ کی ہے۔ وہ ہمارے ایک دوست تھے ہمارے ساتھ عنایت اللہ ریاض صاحب۔ ان کے دوست تھے۔ تو انہوں نے ہمارے ساتھ تعارف کرایا تھا۔ افغانی تھے۔ مالدار بہت تھے۔ یقیناً، لیکن انتہائی سادہ، کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اتنا مالدار ہوں گے۔ کہتے ہیں مجھے بھی حیرت ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ چلو چلتے ہیں اونٹ لیتے ہیں۔ اور وہ بھی پشتو میں اس کو بڑبڑی اوښان... یعنی وہ جو بڑے Size کے ہوتے ہیں۔ تو وہ اونٹ لیں گے۔ 100 اونٹ لیے اس نے! 100 اونٹ اس نے قربان کیے۔ اور اس میں آپ ﷺ کے لیے، صحابہ کے لیے، اہلِ بیت کے لیے، مختلف اس کے لیےوہ کیے۔ یہ عشق ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ماشاءاللہ ذوق والے اور شوق والے ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ جو Calculation کرتے ہیں وہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن جو ذوق و شوق والے ہوتے ہیں وہ ذرا...
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
مطلب وہ عقل والے تو سوچتے رہتے ہیں، اوہ آج کل بڑی مہنگائی ہے تو یہ ہو گیا وہ تو فلاں چیز میں کام آ جائے گا، فلاں چیز میں کام آ جائے گا۔ اور ایک اور قسم کے لوگ بھی آج کل! وہ خود بھی نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی نہیں کرنے دیتے، وہ ان کو بتاتے ہیں، او یار یہ گوشت ضائع ہو جاتا ہے اور اس طرح ہو جائے گا اور فلانا بھئی یہ کسی غریب کو دے دو۔ تو آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ آپ نے کتنے غریبوں کی خدمت کی، تھوڑا سا ذرا ڈیٹا دے دیں؟ کتنے غریبوں کی خدمت آپ نے کی؟
ایک دفعہ میرے ایک کلاس فیلو تھے، لیبیا میں posting تھی۔ ان کا ایک پیپر رہتا تھا۔ وہ آئے تھے پیپر دینے کے لیے۔ میں viva لینے کے لیے گیا تھا۔ وہاں ملاقات ہوئی۔ چائے پہ دعوت کی اس نے، چائے پی رہے تھے۔ درمیان میں پتا نہیں لیبیا میں کسی سے بات چیت ہو چکی ہو گی تو، نظریہ بدل گیا ہو گا۔ تو کہا کہ، "دیکھو نا عثمان رضی اللہ عنہ غنی تھے اور بلال رضی اللہ عنہ کی قمیص بھی نہیں تھی۔ تو یہ کیوں ہے اس طرح؟
تو باتوں باتوں میں اس نے پہلے بتایا کہ اس کے دو گھر ہیں، یعنی یہاں پر، چونکہ وہاں پیسے کمائے ہوں گے تو دو گھر تھے۔ میں نے کہا، "اچھا آپ اس طرح کریں نا کہ، آپ تو ماشاءاللّٰہ بڑے ہی غریبوں کے خیر خواہ ہیں نا، تو دو گھر ہیں نا آپ کے، یہ ایک گھر غریبوں کو دے دو۔ اچھا ہے نا! ماشاءاللّٰہ آپ کے نظریے کی تصدیق ہو جائے گی۔ تو آپ یہ ایک گھر غریبوں کو دے دیں۔ چپ ہو گئے۔ میں نے کہا، دیکھو نا تمہارے پاس دو گھر ہیں اور ایک نہیں دے سکتے ہو۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کم از کم تین دفعہ جنت خریدی۔ ہاں تین دفعہ جنت خریدی بقول آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے، جو پکی بات ہے۔ تو تم ان کے پیچھے بات کر رہے ہو؟ اور جو صحابہ کے پیچھے بات کرتے ہیں، وہ ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔ اب میں آپ کا ساتھی نہیں ہوں۔ آپ کا میرے ساتھ تعلق ختم ہو گیا ہے۔ نہ آپ مجھے یاد رکھیں، نہ میں آپ کو یاد رکھوں گا۔
وہ ارد گرد جو بیٹھے ہوئے تھے، وہ بڑے پریشان ہو گئے بھئی یہ اچانک کیا بات ہو گئی۔ وہ منتیں کرنے لگے، "حضرت یہ کیوں..." میں نے کہا، "نہیں، یہ سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔ جو عثمان رضی اللہ عنہ کو معاف نہیں کرتا، ہمارا ان کے ساتھ کیسے تعلق ہو سکتا ہے؟ ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔" وہ چائے میں نے چھوڑ دی، میں نے کہا، "آپ کی چائے نہیں پیتا۔"
ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہونا چاہیے۔ بھئی خدا کے بندو! خود تو تمہاری یہ حالت ہے، اور اعتراض کن پر کر رہے ہو؟ تو یہ ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے۔
بہرحال، میں عرض کر رہا ہوں کہ قربانی جو ہے، یہ عشق کا معاملہ ہے، یہ calculation کا معاملہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد عشق ہے۔ تو یہ میں تھوڑا سا آپ کو اس پہ کلام سناتا ہوں۔ ابھی ابھی میں نے سنایا ہے لیکن بہرحال ابھی آپ کو بھی سناتا ہوں۔ کیونکہ مقصد تو سمجھنا ہے نا، جس طرح بھی سمجھ آ جائے۔ بات کرنی ایسی ضروری تو نہیں ہے نا، بس یہ بات ہے کہ اگر ہمیں یہ سمجھ آ جائے تو بس کافی ہے۔
دیکھو ذرا یہ کام ہے کس چیز کی دلیل
بیٹے کو ذبح کرتا ہے اللہ کا خلیل
بیٹے کو گرایا ہے اور ہے ہاتھ میں چھری
اللہ کی محبت میں بہت زور سے پھیری
یہ سوچ کے ہوتی ہے عقلمند کو جھرجھری
یہ عشق کا میداں ہے یہاں سوچ کہاں ہے
یہ عقل کا نہیں ہے کوئی اور جہاں ہے
اللہ نے جب عشق کا دیکھا یہ نظارہ
اس نے بھی جبریئل کو بہت جلدی سے بھیجا
اور ساتھ ہی جنت سے اس کے ساتھ وہ مینڈھا
جلدی چھری کے سامنے ہی پھر رکھ دیا اس کو
خلیل نہیں جانتے کہ ذبح کیا کس کو
دیکھا تو سامنے ذبح شدہ مینڈھا پڑا ہے
بیٹا قریب اس کے ہی محفوظ کھڑا ہے
اللہ نے قبول یہ کام کتنا کیا ہے
فرمایا تو نے خواب سچا کرکے دکھایا
اور اس عمل کو آگے بھی کس طرح بڑھایا
کرتے ہیں مسلمان جو قربانیاں ہر سال
تو سامنےہوتی ہے یہی عشق کی مثال
اور اس سے مزین ہوئے حج کے ہیں یہ اعمال
چلتا رہے ہمیشہ یہی عشق کا سفر
ہوجائے اب شبیؔر کے دل پر بھی کچھ اثر
دیکھو ذرا یہ کام ہے کس چیز کی دلیل
بیٹے کو ذبح کرتا ہے اللہ کا خلیل
تو میں عرض کر رہا تھا کہ جو قربانی ہے، اس کا تعلق عشق و محبت کے ساتھ ہے۔ اس وجہ سے فرمایا کہ اس کا جو خون ہے، اور گوشت، یہ نہیں پہنچتا اللہ تعالیٰ تک۔ بلکہ جو تقویٰ ہے، اس کا، وہ پہنچتا ہے۔ اور تقویٰ کس چیز کا فعل ہے؟ دل کا فعل ہے۔ تو لہٰذا یہ اصل میں دل کا معاملہ ہے۔ اس میں اس بات کو خاص خیال میں رکھنا چاہیے کہ ہمارا دل صحیح ہو۔ ایک اور عجیب بات بتاؤں؟ ہے فقہی بات لیکن اس میں بھی یہ نکتہ موجود ہے۔ اگر کسی نے جانور لے لیا، اور وہ جانور گم ہو گیا اس سے، نیت قربانی کی ہے یعنی قربانی کے لیے جانور لے لیا، اور وہ گم ہو گیا۔ مجبوراً اس نے دوسرا لے لیا۔ اب جب دوسرا لے لیا، اس کے بعد وہ پہلے والا مل گیا۔ اب کیا کرے؟ دونوں کو قربان کرے؟ ایک کو قربان کرے؟ کیا کرے؟ تو اس میں قول جو موجود ہے، فتویٰ موجود اس طرح ہے کہ جو مالدار ہے، وہ صرف ایک اس پر واجب ہے۔ کوئی سا بھی کر لے، پہلے والا کر لے، دوسرا والا کر لے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جو غریب ہے، وہ دونوں کرے گا! اب بتاؤ؟ ایسے ہے نا مفتی صاحب؟ غریب دونوں کرے گا! تو یہ بظاہر تو فقہ کا ایک جزئیہ ہے لیکن اس کے اندر بھی یہ بات ہے کہ غریب کے مال کو چونکہ اس کے اوپر واجب نہیں تھا۔ تو فقہی طور پر اس نے اپنے اوپر واجب کر دیا جب خرید لیا۔ خریدنے سے واجب ہو گیا۔ لہٰذا اب وہ دونوں کرے گا کیونکہ دونوں اس واجب ہو گئے۔ اب دنوں کرے گا۔ مالدار پہ پہلے سے ایک ہی واجب تھا۔ لہٰذا اگر اس سے گم ہو گیا دوبارہ مل گیا تو اس میں سے جو بھی کرے تو واجب اس کا پورا ہو جائے گا۔ لیکن کچھ حضرات اہلِ دل نے اس کا مطلب یہ کیا ہے۔ کہ اللہ پاک کو یہ عمل اتنا پسند آ گیا غریب کا کہ اس نے یہ قانون بنا دیا کہ یہ دونوں کرے گا، چونکہ اس نے محبت کے ساتھ کیا ہے۔ اور دونوں اس کو کرنے پڑیں گے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی پر قربانی واجب نہیں ہے، پھر بھی اس کے فضائل اتنے بے شمار ہیں، اتنے زیادہ ہیں کہ کسی طریقے سے کر ہی لے تو اچھا ہے۔ کسی طریقے سے کر ہی لے تو اچھا ہے۔ کیونکہ اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں اور بہت زیادہ ماشاءاللہ اس کے فوائد ہیں۔ تو لہٰذا آدمی کو اس کا شوق ہونا چاہیے کہ اس کو کر لے۔ تو قربانی جو ہے، ماشاءاللہ آج کل اگرچہ مہنگی بھی ہے لیکن بہرحال عمل اس کا چونکہ محبت کے ساتھ ہے لہٰذا اس محبت کو سامنے رکھنا چاہیے۔
باقی یہ کہ جو بات جو میں نے عرض کی ہے کہ حج، حج کا تعلق بھی ایسے ہی ہے۔ حج میں بھی محبت والی بات غالب ہے۔ کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے جو بھی اس میں اعمال کیے ہیں، وہ سب ایسے ہیں جو عقل سے بالا بالا ہیں۔ یعنی عقل اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ جو اعمال بھی ہیں۔ تو ہمیں اس کی کوشش کرنی چاہیے کہ محبت کے ساتھ اس عمل کو پورا کر لیں۔ اور اس کے لیے کچھ ہے۔ان شاءاللہ وہ میں آپ کو سنتا ہوں۔ایک تو یہ بات ہے ظاہر ہے منیٰ میں ہم جاتے ہیں، منیٰ میں پہنچتے ہیں تو منیٰ میں ہم کیسے رہیں ذرہ منیٰ کی یاد ہمیں آجائے کہ منیٰ کیسے ہوتی ہے اور اس میں ٹھہرنا کیسا ہوتا ہے تو یہ ذرہ تھوڑا سا میں آپ سے عرض کروں گا۔
آپ بیٹھے ہوئے ہونگے اور صحابہ بھی یہاں
ہم جو بیٹھے دو چادروں میں ہیں منیٰ میں یہاں
ایک تقدس کے ساتھ اتنی آزادی کے ساتھ
ہم کہ بیٹھے ہیں یہ حالت ملے گی اور کہاں
یہ مناسک اپنی تاریخ ہے اور اپنا مقام
کیا برکات اور کیا حکمتیں ہیں ان میں نہاں
یہ بندگی کے نظارے اور عشق کے انداز
ملے گا کیسے بغیر اس کے ہمیں ایسا سماں
روح آزاد کو باندھا ہے نفس نے بند در بند
نفس نے کچھ چھوڑ دیا شبیؔر ہمیں یاں بے مکاں
یہاں پر جو بہت اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ منیٰ میں جو ہمارا ٹھہرنا ہے، اصل میں چونکہ نفس کے ہوتے ہوئے ہم لوگ صحیح کام نہیں کر سکتے، نفس کا اثر ہمارے اوپر ہوتا ہے۔ تو نفس کو جتنی کم سے کم چیزیں آپ دیتے ہیں، یعنی قناعت پہ لاتے ہیں، تو اس کا زور ٹوٹتا ہے۔ تو منیٰ میں جب ہم کم سے کم چیزوں پر ان کو لاتے ہیں، تو اس طرح پھر ہم لوگ ماشاءاللہ عرفات میں جانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اور عرفات میں جو کچھ ملتا ہے، الحمد للہ پھر وہ ہمیں مل جاتا ہے۔ تو اس کے لیے پھر اب یہ ہے۔
تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا
ملے گا تجھ کو وہاں پہ رحمت کا آج کتنا بڑا خزانہ
قدم قدم پر ملے گا تجھ کو کیا؟ یہ سمجھو ذرا اے حاجی
اصل میں یہ تو ہے رب کی جانب سے مغفرت کا بس اک بہانہ
یہ وہ جگہ ہے جہاں پہ شیطان کو آج ملتی ہے کتنی ذلت
معاف کروا کے خود کو رو کر، لے اس کے دل کا ذرا نشانہ
یہی تو دن ہے کہ اس کی خاطر یہ لوگ آئے ہیں کہاں کہاں سے
قبول تیری یہ حاضری ہے، تو منہ پہ لبیک خوب سجانا
اگرچہ کچھ بھی نہیں ہیں رکھتے کہ پیش کر دیں ہم اسکے آگے
پسند اس کو مگر بہت ہے تری ادا آج یہ عاشقانہ
یہاں پہ محشر کا ایک سماں ہے تری نہ لوگوں پہ کچھ نظر ہو
شبیؔر یکسو تو خود کو کرلے کہیں نہ رہ جائے اس کو پانا
تو ابھی ان شاء اللہ العزیز یہ جب عرفات سے واپس آتے ہیں، تو پھر دوبارہ ماشاءاللہ مزدلفہ سے ہوتے ہوئے پھر طواف زیارت کے لیے بھی جا سکتے ہیں اور جو رمی ہے وہ بھی کر سکتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ رمی جو کرنی ہوتی ہے، 11 ذی الحج کو تین کرنی ہوتی ہے اور جو 10 ذی الحج کی ہے وہ صرف ایک کی کرنی ہوتی ہے۔ تو اس میں یہ جو جمرہ عقبہ، اس کی رمی کے بعد پھر کیا ہوتا ہے پھر ہم حلق کرتے ہیں مرد، اور عورتیں جو ہے نا وہ قصر کر لیتی ہیں۔ تو اس کے بعد پھر جو ہے نا ماشاءاللہ پھر وہ طواف زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ تو طواف زیارت کیسا مرحلہ ہے وہ بھی ذرا عرض کرتا ہوں۔
سیاہ غلاف میں کعبہ ہے مرکز تنویر
یہ گھر خدا کا ہے دنیا میں نہیں اس کی نظیر
یہ حج کے بعد اس کے گرد کیا نظارہ ہے
ہر ایک حاجی نظر آئے اس کی زلف کا اسیر
حج میں حجاج نے عشاق کے احوال دیکھے
تب ان کے سامنے آیا یہ عشق کا بدر منیر
لباسِ عشق میں حاجی گرد اس کے گھوم پھرے
لباسِ عام میں لیتے ہیں اب اس کی تاثیر
کہاں یہ عشق کی دنیا کہاں غرقِ دنیا
خدایا اپنے لیے کیجیے قبول شبیؔر
یہ جو چند کلام آپ نے سن لیے، اصل میں ان میں سے چند ہیں جو اس کے لیے لکھے گئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے میں نے عرض کیا کہ حج کے جو اعمال ہیں اس کا تعلق دل کے ساتھ ہے۔ اور اس میں اس چیز کو حاصل کیا جاتا ہے، اللہ پاک نے وہاں پر ایسی علامات اور ایسے مقامات رکھے ہیں جس کے ذریعے سے دل میں اللہ پاک کی محبت پیدا ہوتی ہے اگر کوئی حاصل کرنا چاہے۔ mechanical انداز میں نہ ہو۔ جیسے مثال کے طور پر کوئی طواف کر رہا ہے، تو طواف میں اگرچہ ضروری بات چیت کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن لوگوں نے اس کو بالکل ہی ایسا عجیب ماحول بنایا ہوتا ہے کہ ٹیلیفون کرتے ہیں درمیان میں، اور عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ ٹیلیفون ختم نہیں کرتے وہ کوئی بات پوری ہو جاتی ہے کہتے ہیں اور سناؤ! بھئی یہ کوئی موقع ہے اس کا؟ یعنی یہ تو آپ ظاہر ہے خانہ کعبہ کے پاس ہیں اور آپ کا سارا زور تو اس پہ ہونا چاہیے کہ آپ زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ کریں، یہ آپ کو اور جگہ تو نہیں ملے گا یہ تو صرف ادھر ہی مل سکتا ہے۔ تو اس طرح جو دل خانہ کعبہ کے ساتھ نہ ہو اور دل باہر ہو، تو اس سے پھر آپ یہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ان چیزوں کی اس لیے ضرورت ہوتی ہے، تو اس کے لیے پھر ہم نے مجبوراً ایک کتاب لکھی۔ وہ ہے شاہرائے محبت، یعنی محبت کی شاہراہ پہ جو چلنا ہے۔ تو اس میں نہ صرف یہ ہے کہ حج کے جو احکام ہیں ان کے بارے میں ہے، یہ تو میں نے آپ کو صرف چند سنا دیے ورنہ اس میں مزدلفہ کے بارے میں بھی ہے، پھر کوئی زخمی ہوتا ہے تو اس کے بارے میں کیا ہے، اور پھر مطلب رمی کے بارے میں ہے، تیرویں کی رمی کے بارے میں ہے، پھر اس کے بعد ماشاءاللہ مدینہ منورہ کی حاضری ہوتی ہے، وہاں بھی ایک عجیب عالم ہے انسان وہ کیا سمجھتا ہے اس وقت، اس وقت کیا حالت ہوتی ہے۔ تو یہ ساری چیزیں جو ہے نا مطلب اس میں یہیں سے اگر ہم لوگ تیاری کر کے جائیں تو پھر وہاں کے فیوض و برکات ان شاء اللہ آسانی کے ساتھ مل جائیں گے۔ وگرنہ یہ بات ہے کہ لوگ چلے جاتے ہیں اور ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے منیٰ میں، گیارہویں ذی الحج تھی تو اس میں منیٰ میں یعنی دوسرا جو دن ہوتا ہے اس پہ یعنی زوال کے بعد وقت شروع ہوتا ہے، یعنی رمی کا زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ تو ہمارے کچھ ساتھیوں میں ایک بوڑھے آدمی تھے ان کے ساتھ بیوی بھی تھی۔ تو وہ تھوڑی دیر، مطلب ہم 10 بجے کے لگ بھگ ٹائم تھا، تو وہ نہیں تھے، پھر بعد میں آ گئے، ہم نے کہا بھئی کدھر تھے؟ کہتے ہیں ہم تو رمی کر کے آ گئے۔ میں نے کہا بھئی رمی کا تو وقت ہی شروع نہیں ہوا۔ تو کہتے ہیں، ایک آدمی نے حج صحیح انداز میں کیا تھا اس کا حج قبول نہیں ہوا، دوسرے دوسرے آدمی نے حج صحیح انداز میں نہیں کیا تھا ، اس کا حج قبول ہو گیا! میں نے کہا بھئی یہ کوئی بات ہے؟ مطلب تمہارے پر وحی آئی ہے کہ اس کا قبول ہو گیا، اس کا قبول نہیں ہوا، یہ کون سا طریقہ ہے؟ تو لوگوں نے اس قسم کی باتیں بنائی ہوئی ہیں، اور وہاں پر آپ کو لوگ بہت مل جائیں گے، جو کہیں گے ہم نے 12 حج کیے ہم نے 14 حج کیے، اور سارے حج غلط کیے ہوتے ہیں، کیونکہ کسی سے پوچھ کے نہیں کیے ہوتے۔ ہاں مطلب یہ ہے کہ وہ بس اپنی طرف سے اپنی مرضی کر چکے ہوتے ہیں۔ تو یہ مرضی والی باتیں نہیں ہیں یہاں پر مرضی فنا کرنی ہوتی ہے۔ یہاں پر تو رب کی مرضی کرنی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے جیسے آپ ﷺ کو جو طریقہ بتایا اور آپ ﷺ نے پھر ہمیں بتایا، وہی طریقہ صحیح ہے۔ اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اس میں ہمیں خیال کرنا پڑے گا کہ ہم پہلے سے ایک تو حج سیکھ کر جائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایسا حج کر کے جائیں جس میں ہمارے اس جذبے کو جو محبت کا جذبہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو جائے۔ چیزوں سے نکل کر ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنا شروع کر لیں۔ چیزیں تو ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں، وہ تو اللہ پاک بہت ساری دے دے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن یہ بات ہے کہ دل اللہ کے ساتھ ہو۔ تو اس کے لیے یہ حج ہے تو اللہ تعالی ہم سب کو ایسا حج نصیب فرما دے اور بار بار وہاں پر لے آئے اور بہت وہاں کی برکات نصیب فرما دے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ. اللَّهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ، صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّٓالِّيْنَ. يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلَى دِيْنِكَ، يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ. يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيْثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ. اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَاٰثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا. يَا اَللهُ، اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنَا حُبَّكَ.
یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ! تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنا تعلق نصیب فرما، اپنی محبت نصیب فرما، اپنی رضا نصیب فرما، اپنا قرب عطا فرما، اپنا قرب عطا فرما۔ یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ! ان لوگوں میں شامل فرما جن کو تو اپنا کہتا ہے، ان لوگوں میں شامل فرما جن کے بارے میں تو فرماتا ہے جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ! ہمیں خیر نصیب فرما، شر سے بچا دے۔ یا اللہ بار بار حرمین شریفین کی حاضری نصیب فرما دے، ادب کے ساتھ، محبت کے ساتھ، قبولیت والی یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ نصیب فرما دے۔ یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ! تو اپنے فضل و کرم سے، یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ تو اپنے فضل و کرم سے بار بار وہاں پر یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ زیارتیں اور یا اللہ حج اور زیارتیں نصیب فرما دے۔ یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ تو اپنے فضل و کرم سے پورے عالم کے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما دے اور یا اللہ پورے عالم کے مسلمانوں کو معاف فرما دے، پورے عالم کے مسلمانوں کو صحیح طور پر دین پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور یا اللہ جن کا بھی شوق ہے وہاں پر جانے کا یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے اس کو پورا فرما دے۔ یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْنَ! تو ہم سے راضی ہو جا، ایسا راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ. اے اللہ! ہمارے دلوں کے اندر جو جائز حاجات ہیں ان کو پورا فرما، اور جو ناجائز حاجات ہیں ان سے ہمارے دل کو فارغ فرما۔ ہمیں مستجاب الدعوات بنا، جنہوں نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، سوچا ہے، توقع رکھتے ہیں، سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔ یا اللہ! اپنے حبیب پاک ﷺ کی معیت پاک میں اپنا دیدار پاک عطا فرما۔ یا اللہ جب تو فرمائے گا کہ میں تم سے راضی ہوا پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا اے اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ عمل نامہ دائیں ہاتھ سے نصیب فرما، حسنِ خاتمہ کی عظیم دولت سے سرفراز فرما۔ موت کی سختی سے، عذابِ قبر سے، پل صراط کی مشکلات سے، جہنم کی آگ اور دھوئیں سے اور شر سے یا اللہ ہم سب کو نجات عطا فرما۔
اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.