اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهٗ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.
لَا سِيَّمَا صَوْمَ عَرَفَةَ الَّتِي قَالَ فِيهَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهٗ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ.
وَمِنْهَا تَكْبِيرَاتُ دُبُرِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.
وَكَانَ عَلِيٌّ يُكَبِّرُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَيُكَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَمِنْهَا إِحْيَاءُ لَيْلَةِ الْعِيدِ، وَمِنْهَا الصَّلَاةُ وَالْخُطْبَةُ؛ فَقَدْ سَبَقَ فِي خُطْبَةِ آخِرِ رَمَضَانَ.
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز خواتین و حضرات! چونکہ یہ آواز دور تک جا رہی ہے، خواتین بھی مخاطب ہیں۔ چونکہ ابھی ذی قعدہ کا مہینہ چل رہا ہے اور اس کے فوراً بعد ذی الحج کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ حج یہ بہت بڑا عمل ہے اور صاحبِ استطاعت لوگوں پر جب فرض ہوتا ہے تو ان کے لیے بہت زیادہ اہم فرض ہے۔ اتنا اہم ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کسی پر حج فرض ہو جائے، اور وہ کسی بیماری ایسی جس کا کوئی اس کے پاس حل نہ ہو، اور نہ رہ جائے یا کسی بادشاہ کی وجہ سے نہ رہ جائے، یا کسی بہت ایسا کام ہے جو کہ بہت خراب کرنے والا ہو اگر وہ جائے، تو اس کی وجہ سے اگر نہ رہ جائے، صرف سستی کی وجہ سے رہ جائے، یا بے پروائی کی وجہ سے رہ جائے، تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی مرتا ہے یا نصرانی مرتا ہے۔
اس وجہ سے اس کی اہمیت ان کے لیے بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ابھی چونکہ جو گورنمنٹ سکیم ہے اس پہ تو ظاہری بات ہے ختم ہو گئی ہے، ممکن ہے ان میں سے کچھ رہ جائیں تو ان کی جگہ پہ لوگ لے سکتے ہیں۔ لیکن وہ بات تو مکمل ہو گئی ہے۔ اب Private حج والی بات وہ چل رہی ہے، تو اگر کسی پر فرض ہے تو کم از کم کوشش ضرور کر لے۔ کوشش کے باوجود اگر رہ جائے تو پھر بات الگ ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کوشش بھی نہیں کرتے تو پھر معاملہ خطرناک ہے۔ اگلے سال پہ اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اگلے سال کا کیا پتا؟ اللہ بچائے۔
ایک بڑا عبرت انگیز واقعہ تاریخ میں موجود ہے۔ ایک شخص آپ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے آ رہا تھا، راستے میں اس کا کوئی پرانا جاننے والا ملا، اس سے پوچھا کس ارادے سے جا رہے ہو؟ اس نے کہا میں تو آپ ﷺ پر ایمان لانے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا آپ کو پتا ہے کہ اگر آپ مسلمان ہو جائیں گے تو آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ اس نے کہا بتائیں؟ اس نے کہا آپ کو تو نماز پڑھنی پڑے گی۔ اس نے کہا اچھا پڑھ لوں گا۔ آپ کو تو روزے رکھنے پڑیں گے۔ اچھا رکھ لوں گا۔ آپ کو تو زکوٰۃ دینی پڑے گی۔ دے دوں گا۔ آپ کو یہ جتنا بتاتا ہے وہ سب کے لیے تیار۔ لیکن اخیر میں اس نے کہا، شراب تمہیں چھوڑنی پڑے گی۔ وہ اس وقت شراب عام پی جا رہی تھی اور آپ کو پتا ہے کہ جو یہ بری عادت کسی کو لگ جائے نشے وغیرہ کی، تو اس کا نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ تو اس نے کہا کہ اچھا اس کے لیے کچھ چیزیں تو باقی ہیں! میں ابھی واپس ہو جاتا ہوں، اگلے سال آ کر میں پھر ایمان لاؤں گا، اور اسی سال وہ مر گیا۔
اب دیکھیں اس نے اس بات پر بھروسہ کیا کہ اگلے سال کے لیے میں کروں گا تو ایمان ہی نصیب نہیں ہوا۔ تو اس طریقے سے اگر کوئی حج کو postpone کرتا ہے اس بات پر کہ میں اگلے سال کر لوں گا یا اگلے سال اس کا انتظام کر لوں گا، تو یہ بہت خطرناک سوچ ہے۔ اس پر انسان کو سوچنا چاہیے، کم از کم ارادہ کر لے، کوشش کر لے۔ اگر نصیب ہو جائے، سبحان اللہ، اور اگر رہ جائے تو ان شاء اللہ کوشش کرنے والوں میں تو آئے گا نا۔ اللہ پاک ہم سب کو شریعت کے جملہ امور کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ابھی میں نے آپ کے سامنے جو مضمون بیان کیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اللہ جل شانہٗ، جو میں نے آیہ کریمہ تلاوت کی، اس میں فرماتے ہیں: فجر کی قسم! اور دس راتوں کی قسم! اور جفت کی قسم! اور طاق کی قسم! مفسرین فرماتے ہیں کہ اس میں دس راتوں سے مراد یہ ذی الحج کی دس راتیں ہیں۔ پہلے عشرے کی دس راتیں ہیں۔ اور جفت سے مراد ذی الحج کی دسویں تاریخ ہے، کیونکہ یہ یوم النحر ہے۔ یعنی اس پر انسان قربانی کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، یعنی عید الاضحیٰ کا پہلا دن۔ اور طاق سے مراد نو ذی الحج ہے جس پر حج ہوتا ہے، یعنی یوم العرفہ۔
تو ان راتوں کی اللہ پاک نے قسم کھائی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک جس چیز کی قسم کھاتے ہیں، تو اس میں بہت بڑی خیر اور برکت اللہ پاک نے رکھی ہوتی ہے تب اللہ پاک اس کی قسم کھاتے ہیں۔ یا اس میں اس کی بہت بڑی اہمیت ہوتی ہے تکوینی۔ جیسے سورۃ شمس میں سورج کی قسم کھائی، چاند کی قسم کھائی، دن کا، رات کا، زمین کا، آسمان کا، پھر نفس کا۔ تو اسی طریقے سے ان دس راتوں کی بھی اللہ نے قسم کھائی ہے اور ساتھ نو ذی الحج اور دس ذی الحج اس کے دن کی بھی قسم کھائی ہے۔
اب آپ ﷺ نے ان ایام کے بارے میں جو فرمایا ہے وہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ متعدد احادیث شریفہ ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ کو ان ایام سے زیادہ جو عشرہ ذی الحج کا جو اول عشرہ ہے، ان ایام سے زیادہ کی عبادت کسی اور وقت کی قبول (محبوب) نہیں ہے، یعنی رمضان کے علاوہ۔ اور اس کا اجر اتنا زیادہ ہے کہ اس میں ہر دن، یعنی یکم ذی الحج، دو ذی الحج، تین ذی الحج، چار ذی الحج، پانچ ذی الحج، چھ ذی الحج، سات ذی الحج، آٹھ ذی الحج، ان آٹھ ذی الحج کے جو ہر دن کا اجر ہے روزے کا، وہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔ نفلی ہے، فرض و واجب نہیں ہے۔ اگر کوئی نہیں رکھتا تو کوئی اس کو ملامت نہیں کر سکتا۔ لیکن کوئی رکھ لے گا تو اجر بہت زیادہ ہے۔ بہت زیادہ اجر ہے۔ مجھے بتاؤ ایک سال روزے کون رکھے؟ تو اللہ پاک اس میں ہر روزے کا اجر جو ہے وہ ایک سال کے روزوں کے اجر کے برابر دیتے ہیں۔ گویا کہ یہ آٹھ روزے کوئی رکھ لے، تو آٹھ سال اس نے روزے رکھ لیے۔ ایک بات۔
دوسری بات جو نو ذی الحج کا روزہ ہے، اس کے بارے میں تو ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ پچھلے سال اور اگلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ "أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهٗ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهٗ"۔ یعنی ایک سال پہلے کا اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ بہت بڑی بات ہے! بہت بڑی بات ہے! اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ایام کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دیکھیں اللہ جل شانہٗ نے اس امت پہ بڑا کرم کیا ہے۔ طرح طرح کے انعامات اس امت کو اللہ پاک نے عطا فرمائے ہیں۔ اور یہ انعامات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اللہ پاک نے اس کے لیے بہت کچھ رکھا ہے، مختلف اوقات میں، مختلف جگہوں میں، اور مختلف کاموں میں اللہ پاک نے بہت کچھ اس میں رکھا ہے امت کے لیے۔
جگہیں تو آپ جانتے ہیں، جیسے عرفات ہے، اور حطیم ہے، ملتزم شریف ہے، مقامِ ابراہیم ہے، اور مسجدِ حرام ہے، مسجدِ نبوی ہے، مسجدِ اقصیٰ ہے۔ اور اس طریقے سے مختلف مقامات ہیں جس میں اللہ پاک نے شرف رکھا ہوا ہے۔ اور وہاں اگر کوئی پہنچتا ہے، تو اس کے لیے ماشاءاللہ ایک open check ہے۔ وہ اس کو وصول کر لے۔ مسجدِ حرام میں اگر کوئی تجارت کی نیت سے بھی گیا ہو، نماز پڑھے گا تو ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہو گا، اگر ایک نماز پڑھے گا۔ اور اگر ایک روزہ رکھے گا تو ایک لاکھ روزوں کا ثواب ہو گا۔ تو یہ وہاں جگہ کی نسبت سے ہے۔ اس طرح مسجدِ نبوی ہے اس میں پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے، اگر ایک نماز پڑھے گا۔ اور مسجدِ اقصیٰ میں پچیس ہزار نمازوں کا ثواب ہے۔ اور ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کے دیکھنے کی نیت سے، زیارت کی نیت سے کوئی سفر نہیں کر سکتا۔
ان تین مساجد کا ایک اللہ پاک نے شریعت میں احترام رکھا ہوا ہے کہ اس کی نیت کر کے انسان سفر کر سکتا ہے۔ مثلاً میں اگر فلسطین جاؤں صرف اس لیے جاؤں کہ میں مسجدِ اقصیٰ کی زیارت کر لوں، بالکل ٹھیک ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر میں مسجدِ نبوی جاؤں تو بالکل ٹھیک ہے، اس طرح حرم شریف کی نیت سے جاؤں بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن میں اگر فیصل مسجد کی نیت سے اسلام آباد جاؤں، تو ٹھیک نہیں ہے۔ اگر میں بادشاہی مسجد کی نیت سے لاہور جاؤں تو ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا اہتمام ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے، نہ کمی ہو سکتی ہے۔ ہاں جو چیز جتنی رکھی گئی ہے اتنا ہی لے لو۔ ﴿اَلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيْنَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَامَ دِينًا﴾ اس طرح یہ ہے کہ گویا کہ ہم ان مقامات کی برکات کو وصول کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔
اسی طرح ایام کی برکات ہیں۔ سب سے بڑی تو رمضان شریف ہے۔ سبحان اللہ! رمضان شریف کا مہینہ تو ایسا ہوتا ہے جس میں بس برسات ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی۔ اس کا جو پہلا عشرہ ہے وہ تو رحمت کا عشرہ ہے، دوسرا مغفرت کا عشرہ ہے، تیسرا جہنم سے خلاصی کا عشرہ ہے۔ اور یہ ہے کہ افطار کے وقت کتنے لوگوں کو معاف کیا جاتا ہے اور سحری کے وقت کتنی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اور اس طریقے سے کوئی ایک روزے کا افطار کرا دے کسی کو تو اس پر اس کے روزے کے برابر اجر ملتا ہے، اور عجیب و غریب گویا کہ ایک مسلسل ایک نوازنے والا مہینہ ہے۔ یعنی اس میں انسان کو مسلسل ملتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی نہ لے تو اس کے لیے بہت ہی زیادہ افسوس کی بات ہے۔ حتیٰ کہ تین دفعہ جو آپ ﷺ نے آمین کہا تھا، اس میں ایک آمین اس پر بھی تھا کہ رمضان شریف کا مہینہ جس پر گزر جائے اور اس کی وجہ سے اس کی مغفرت نہ ہو، تو اللہ اس کو تباہ و برباد کرے۔ تو آپ ﷺ نے اس پر آمین کہا تھا۔
تو یہ ہے کہ رمضان شریف کے مہینے کی بہت زیادہ قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔
اسی طریقے سے یہ جو دس راتوں کا میں نے بتایا، اس میں اللہ پاک نے جو کچھ رکھا ہے، اس کو ہم لینے والے بن جائیں۔ اور اس کی جو عبادت ہے وہ لیلۃ القدر کی طرح شمار ہوتی ہے اور اس کا جو دن کا جو اجر ہے روزے کا، وہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور جو نو ذوالحج کا روزہ ہے، وہ تو ہم لوگوں کے لیے جو حج پہ نہیں جا رہے۔ وہ ایک سال گزشتہ کا اور ایک سال آئندہ کا، ماشاءاللہ، گناہوں کا کفارہ ہے۔
یہ اس میں جو ایامِ تشریق بھی آتے ہیں۔ ایامِ تشریق، یعنی جس میں نو ذوالحج کی صبح فجر کی نماز سے لے کر تیرہویں ذوالحج کی عصر کی نماز تک، ہر نماز کے بعد ایک دفعہ: ﴿اللهُ أَكۡبَرُ، اللهُ أَكۡبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ﴾ یہ پڑھنا۔ یہ ماشاءاللہ، یہ ہم لوگوں کے لیے واجب ہے اور ہم لوگوں کو پڑھنا چاہیے، چاہے ہم انفرادی نماز پڑھ رہے ہوں، چاہے جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہوں۔ جماعت کے ساتھ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں کوئی ایک نہ ایک تو زور سے پڑھ لیتا ہے، لہٰذا سب کو یاد آ جاتا ہے۔ اور جو انفرادی ہوتا ہے وہ بعض دفعہ بھول جاتا ہے۔ اس وجہ سے عورتوں پر بھی واجب ہے تو عورتیں اکثر بھول جاتی ہیں، کہ ان کو پتہ نہیں چلتا، بس وہ نماز پڑھ کے پھر فارغ ہو جاتی ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم سب کو اس کی بھی تیاری کرنی چاہیے اور اس کے جو فوائد ہیں ان کو حاصل کرنا چاہیے۔
ابھی ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسے حج ماشاءاللہ، ابھی حج کے لیے لوگ جا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے بار بار وہاں جانا۔ تو قربانی یہ بھی اس ذی الحج میں ہے، یعنی گویا کہ ابتدائی تین دن ایامِ نحر میں انسان قربانی کر سکتا ہے۔
قربانی کے بارے میں ایک بات میں آپ کو بتا دوں، اس وقت دورِ فتن ہے۔ یعنی فتنے ہیں۔ فتنوں کا کام کیا ہوتا ہے؟ فتنوں میں یہ ہوتا ہے کہ جو ثواب کمانے کی چیزیں ہوتی ہیں، اس میں انسان کوئی نہ کوئی-نعوذ باللہ من ذالک-اپنے الحادی کیڑے نکالتے ہیں۔ الحادی کیڑے، مطلب یہ ہے کہ کوئی اس میں سوالات کرتے ہیں خواہ مخواہ اس میں ایسی باتیں کرتے ہیں جس سے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں اور اس عمل کو نہ کریں۔ تو آج کل Social Media پر آہستہ آہستہ شروع ہو گئی ہے، اور ابھی یہ بڑھے گی، یہ چکر شروع ہو گا۔ مثلاً کیا ہوگا؟ "او جی، قربانی کرنا، اس کے بجائے یہ ہے کہ کوئی بچی گھر میں بیٹھی ہوئی ہے، ان کی شادی کروا دو۔ اور کسی غریب کا پیٹ بھر دو۔ یہ کر دو، وہ کر دو۔ اور حج کے لیے کیا ہے؟ وہ غریب کے گھر کا طواف کر لو، خانہ کعبہ کے طواف کے بجائے"۔ اس قسم کی باتیں آ رہی ہیں۔
ان خدا کے بندوں سے آدمی پوچھے، کہ تم لوگوں نے اس بات پر کتنا عمل کیا کہ دوسروں کو دعوت دے رہے ہو؟ کتنے غریبوں کی بیٹیوں کی شادیاں کرائی ہیں؟ کتنے غریبوں کا پیٹ بھرا ہے؟ کتنے لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا ہے؟ صرف باتیں کر رہے ہو، اور باتیں بھی شریعت کے خلاف کر رہے ہو! ایسے بدبخت لوگ جو ہوتے ہیں نا، یہ خود بھی تباہ کرتے ہیں اپنے آپ کو، دوسروں کو بھی تباہ کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قربانی، یہ گوشت یا خون، اس کو نہیں کہتے۔ ﴿لَن يَنَالَ ٱللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡ﴾ اللہ پاک تک تمہاری قربانی کا گوشت اور قربانی کا خون نہیں پہنچتا، مگر وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو اس کے اندر پنہاں ہے۔ اس تقویٰ کو حاصل کرنا چاہیے۔ اس خون بہانے میں جو مقصود ہے اس کو حاصل کرنا چاہیے، اور وہ مقصود کیا ہے؟ وہ اللہ کی رضا ہے۔
دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ سب سے زیادہ ہوشیار اس کائنات میں کون ہو سکتا ہے؟ سب سے زیادہ ہوشیار، وہ ہیں آپ ﷺ۔ ان سے زیادہ کوئی ہوشیار ہو سکتا ہے؟ ان سے زیادہ کوئی دین سے واقف ہو سکتا ہے؟ ان سے زیادہ کوئی آخرت کی منازل کو زیادہ جانتا ہو گا؟ اب دیکھ لو، آپ ﷺ نے حج کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانیاں کی ہیں۔ حالانکہ ایک اونٹ میں سات حصے ہو سکتے ہیں۔ تو صرف ایک حصہ واجب تھا۔ قران میں، صرف ایک حصہ واجب تھا۔ آپ ﷺ نے سات سو حصے کر لیے۔ اب بتاؤ یہ سات سو حصے کیوں کر لیے؟ کیا آپ ﷺ وہ پیسے غریبوں کو نہیں دے سکتے تھے؟ دیتے رہتے تھے آپ ﷺ۔ لیکن کیا ان اونٹوں کے پیسے غریبوں کو نہیں دے سکتے تھے؟ دے سکتے تھے۔ لیکن کیا کیا؟ سو اونٹوں کی قربانی کی۔ یہ ہے بات۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، اماموں میں ایک بڑا اونچا مقام رکھنے والے ہیں، اگر یہ نفلی حج کوئی ایسی بات ہوتی کہ یہ چیزیں بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں اس کے مقابلے میں، تو یاد رکھو، انہوں نے باون حج کیے ہیں (52) اپنی زندگی میں۔ باون حج کیے ہیں۔ وہ اس وقت اتنا آسان حج نہیں تھا جتنا ہمارا آسان حج ہوتا ہے۔ چار گھنٹے پانچ گھنٹے میں جدہ پہنچ جاتے ہیں۔ اس میں تو کافی وقت لگتا تھا۔ کبھی اونٹوں پہ، کبھی گھوڑوں پہ، کبھی پیدل، یہ جانا ہوتا تھا۔ تو ہر سال ماشاءاللہ حضرت جا رہے ہیں۔ یہ کوئی بات تو ہے نا۔
پھر آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں، کہ عمرہ اور حج یہ آپ ملا کے کر لیا کرو، یہ گناہوں اور فقر کو ایسا دور کرتے ہیں جیسا کہ میل کو آگ دور کرتی ہے۔ آگ کی بھٹی دور کرتی ہے۔ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے فقر بھی دور ہوتا ہے۔
یہ بات لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی۔ اور شاید سمجھ میں آئے گی بھی نہیں آسانی کے ساتھ۔ ہاں جن کو اللہ پاک گزار دے، ان کو پتہ چل سکتا ہے، ان کو پتہ چل سکتا ہے۔ مجھے ایک پروفیسر صاحب نے اپنا واقعہ بتایا، ان کے ساتھ میں گاڑی میں جا رہا تھا۔ کہتے ہیں، میں حج پہ چلا گیا۔ وہاں خانہ کعبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی جس کو میں جانتا نہیں تھا، وہ آکر ہمارے درمیان میں بیٹھ گیا، اور ایک بات کر لی۔ باتوں باتوں میں ایک بات کر لی۔ انہوں نے کہا، "شریف میزبان مہمان کو زادِ راہ بھی دیتا ہے"۔ "شریف میزبان مہمان کو زادِ راہ بھی دیتا ہے"۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی کہ حضرت نے یہ بات کیوں کی، اور کیسے کی۔ سمجھ نہیں آیا وہ چلا گیا۔ خیر ہم نے بھی سن لی باقی لوگوں نے بھی سن لی۔ جس وقت میں واپس آیا، تو لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ کی Promotion ہو چکی ہے۔ اس کے Arrears Claim کر لو۔ کہتے ہیں، میں نے Arrears Claim کیے، تو اتنے پیسے اس سے ملے جتنا میں نے حج میں خرچ کیا تھا۔ کہتے ہیں، مجھے پتہ چل گیا کہ اوہو، یہ تو مجھے کہا جا رہا تھا کہ شریف میزبان مہمان کو زادِ راہ بھی دیتا ہے۔
پھر اس کے بعد ماشاءاللہ کئی قسم کے واقعات الحمدللہ ہوئے۔ ہمارے ایک ساتھی تھے اس نے عمرہ کیا۔ عمرہ سے واپس آئے، تو دوبارہ کچھ عرصے کے بعد عمرہ کا ارادہ کیا۔ تو لوگوں نے کہا کہ کمال ہے، کوئی پلاٹ شلاٹ خریدو۔ یہ، آخر، عمرہ کر چکے ہو نا بس، اب تھوڑا سا اپنے لیے پلاٹ بھی خریدو۔ تو اس نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے کہا بھئی میں کیا کہہ سکتا ہوں، آپ خود جانتے ہیں۔ خیر، ان دنوں اس نے کہا میں نے ایک خواب دیکھا۔ اور وہ کہتے ہیں، میں خوابیں نہیں دیکھتا۔ یعنی میری عادت نہیں ہے خواب دیکھنے کی۔ لیکن ایک دن میں نے خواب دیکھا۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ کتاب میرے سامنے کھلی ہے۔ اس پہ صرف دو فقرے لکھے ہیں۔ جو کتاب کھلی ہے اس پہ دو فقرے لکھے ہیں، کہ جو حج عمرہ پہ جاتے ہیں نا، وہ پیسے خرچ نہیں ہوتے ان کو واپس کر دیے جاتے ہیں۔ وہ پیسے خرچ نہیں ہوتے ان کو واپس کر دیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں، میں حیران تھا کہ یہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا، اس کا مطلب ہے کہ آپ چلے جائیں۔ خیر اسی وقت وہ چلے گئے، عمرہ کے لیے چلے گئے۔ واپس جب آئے، تو اس وقت بھی میں ساتھ ہی تھا گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ گاڑی چلا رہے تھے کہ موبائل پہ فون آ گیا۔ فون پہ اس نے بات چیت کر لی۔ بات چیت کے بعد مجھے اس نے کہا کہ مجھے فون آیا ہے کہ فلاں جگہ پر آپ کا پلاٹ نکل آیا ہے۔ فلاں جگہ پر آپ کا پلاٹ نکل آیا ہے، اس کے لیے آ کر کارروائی مکمل کر لیں۔ میں نے کہا دیکھو، پلاٹ کو چھوڑ کر گئے تھے آپ عمرہ کے لیے، اللہ نے پلاٹ ویسے دے دیا۔ تو اس وجہ سے میں کہتا ہوں یہ بات میری، سمجھ میں نہیں آئے گی آپ کو، مجھے پتہ ہے۔ لیکن جب آپ کے ساتھ خود ایسا ہوگا تو پھر پتہ چلے گا، پھر میرے کہنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
تو بہرحال عرض کرتا ہوں، ان چیزوں کی وجہ سے کبھی رہ نہ جانا، کہ میرے پیسے کم ہو جائیں گے، یا کوئی اور چیز ہو جائے گی۔ بلکہ یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی پر حج فرض ہو، اور وہ کسی ایسی وجہ سے جس کو مؤخر کیا جا سکتا تھا، اس نے مؤخر نہیں کیا اور حج سے رہ گیا اس کی وجہ سے، تو لوگ حاجی حج سے واپس آجائیں گے، اس کا وہ کام نہیں ہو چکا ہوگا۔ اس کا وہ کام نہیں ہو چکا ہو گا۔ لہٰذا جس پہ حج فرض ہے وہ بالکل سستی نہ کرے، اور بالکل سستی نہ کرے اور اس کے لیے جائے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ حج ان پر فرض ہے جو آنے جانے کا خرچ، وہاں کا خرچ، یہاں نان نفقہ کا خرچ رکھتا ہو۔ یہ ضروری شرط ہے، اور خواتین پر تب ہوتا ہے جب ان کے ساتھ محرم ہو۔ بغیر محرم کے وہ نہیں جا سکتیں۔
تو بہرحال، میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ ایامِ حج ہیں، اس میں حج کی تیاری کریں۔ اور ابھی ان شاء اللہ یہ ذی الحج کا مہینہ جو آ رہا ہے نا، اس میں تو سبحان اللہ یہ جو پہلا عشرہ ہے ہمارے لیے بہت بڑا، یعنی خیر کا عشرہ ہے۔ اس عشرے سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بہت زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ آپ ﷺ نے جو ان ایام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے، ہم لوگوں کو اس کو سمجھنا چاہیے اور ہمیں ضائع نہیں کرنا چاہیے ان اوقات کو۔
پھر آپ ﷺ فرماتے ہیں:
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ
آپ ﷺ نے فرمایا جس نے حج کر لیا، اللہ کے لیے، اس نے نہ تو کوئی بے حیائی کا کام کیا اور نہ اس نے کوئی گناہ کا کام کیا، تو وہ وہاں سے ایسے لوٹ کے آئے گا جیسے کہ ماں نے اسے اس دن جنا ہو۔ یعنی ایسے معصوم لوٹ کے آئے گا۔
دیکھیں، پیسے آپ کس لیے رکھتے ہیں؟ اپنے فائدے کے لیے رکھتے ہیں نا؟ اپنے فائدے کے لیے رکھتے ہیں۔ اب سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔ اللہ کے راضی ہونے میں کون سی چیز رکاوٹ ہے؟ یہ گناہ رکاوٹ ہے، گناہ رکاوٹ ہے۔ تو اگر اللہ پاک ہمارے گناہ معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جائے، تو پھر ہمیں اور کیا چیز چاہیے؟ ہاں، یہ الگ بات ہے، سہولت اور عافیت ہم مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے اور اللہ پاک دینے والے ہیں، دیتے ہیں۔ لیکن ہمارا اصل مقصد کیا ہے؟ اصل مقصد ہے اللہ پاک راضی ہو جائیں ہم سے۔ اگر کسی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، تو سمجھو کہ وہ ابھی سمجھا نہیں۔ ابھی سمجھا نہیں ہے۔ جب تک وہ اس بات کو نہ سمجھے، اس کو سمجھدار ہم نہیں کہہ سکتے۔
دیکھیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا، اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بے وقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا، جو کرنا چاہتا ہے کرنے دے، اور پھر محض تمناؤں پر جی رہا ہو۔ محض تمناؤں پر۔ میں تمناؤں پہ کیسے بات کرتا ہوں؟ آج کل آپ سنیں گے، لوگوں سے بھی سنیں گے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ "بس جی اللہ غفور الرحیم ہے جی۔" اللہ غفور الرحیم ہے۔ اللہ پاک نے کچھ تو وعیدیں بھی بھیجی ہیں۔ مجھے آپ بتائیں، اللہ بچانے والا ہے یا نہیں؟ ہے نا بچانے والا، ہر چیز سے بچانے والا ہے۔ آپ آگ میں ہاتھ رکھ سکتے ہیں اس کو کہہ کر کہ اللہ بچانے والا ہے؟ کبھی ہاتھ رکھا ہے تم نے؟ نہیں رکھتے۔ حالانکہ اللہ بچانے والا ہے۔ آگ بذاتِ خود نہیں جلا سکتی جب تک اللہ کا حکم نہ ہو۔ اب اللہ نے حکم دیا ہے آگ میں ہاتھ نہ ڈالو۔ یعنی آپ آگ میں ہاتھ ڈالیں گے تو یہ جلا دے گی۔ جب حکم دے دیا ہے، اس حکم کی خلاف ورزی کرو گے، جو سزا ملے گی، وہ خود مل جائے گی۔ اس طریقے سے اللہ پاک نے فرمایا گناہ نہ کرو۔ گناہ نہ کرو۔ گناہ سے منع فرمایا ہے۔ اب اگر آپ گناہ کرتے ہو، گناہ کی جو سزا ہے مل جائے گی، الا ماشاءاللہ۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اس بات کو جاننا چاہیے کہ کبھی بھی ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہوں۔ لیکن اگر خدانخواستہ ہم نے ایسے کام کیے ہیں، تو پھر بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، توبہ کرنا چاہیے۔ توبہ کرنا چاہیے۔ توبہ کرنے سے اللہ پاک سارے گناہ معاف فرماتے ہیں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:
"لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ ۚ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا"
اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ پاک سارے گناہوں کو بخش دیتے ہیں، سارے گناہوں کو بخش دیتے ہیں۔ کوئی بھی چیز اس سے بچتی نہیں ہے۔
ایک دفعہ میں نے کچھ ایسی باتیں ایک بزرگ کے ساتھ کیں۔ تو بزرگ نے بڑی اچھی بات کی۔ حضرت نے فرمایا: دیکھو، اللہ پاک نے فرمایا: إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا۔ یہ "جمیعاً" میرا جمیعاً ہے، آپ کا ہے، یا اللہ پاک کا ہے؟ میں نے کہا یہ تو اللہ پاک کا ہے۔ اس نے کہا اللہ پاک کے "جمیعاً" سے پھر کوئی چیز بچ سکتی ہے؟ جب اللہ پاک نے "جمیعاً" فرما دیا، پھر کون سی چیز بچے گی؟ اس کا مطلب ہے سارے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ اگر ہم گناہوں سے معافی مانگیں، اور یہ یاد رکھو سب سے بڑی عقلمندی یہی ہے۔ گناہوں سے معافی مانگنا۔ سب سے بڑی عقلمندی یہ ہے کہ گناہوں سے ہم معافی مانگتے رہیں۔ کیونکہ یہ اتنا آسان سودا ہے، شیطان کیا کرتا ہے؟ "اوئے پھر گناہ کر لو گے نا، تو ابھی، ابھی توبہ نہ کرو۔" خدا کے بندو، اگر پھر گناہ ہو گیا، پھر توبہ کرنا! رستہ بند تو نہیں ہوا۔ موت تک رستہ کھلا ہے۔ موت تک راستہ کھلا ہے۔ جب تک موت کا وقت نہیں آیا، اس وقت تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ موت کا وقت آ جائے، یا کائنات کی موت کا وقت آ جائے یعنی قیامت آ جائے۔ اس وقت پھر توبہ قبول نہیں ہو گی۔ جب تک ایسی حالت نہیں ہے، آپ توبہ کریں، اللہ توبہ قبول فرماتے ہیں، بلکہ خوش ہوتے ہیں۔
ایک واقعہ آپ ﷺ نے بیان فرمایا ہے، عجیب و غریب واقعہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص مثلاً وہ کسی ایسے صحرا کے اندر جا رہا ہے، جس میں کوئی پھنس جائے تو پھر نکلنا بڑا مشکل ہوتا ہے، ایسے صحرا۔ تو وہ جا رہا ہے۔ اونٹ پر اس کا توشہ ہے، اور رستہ گم کر گیا۔ اب وہ رستہ تلاش کرتے کرتے کرتے اپنے اونٹ کو بھی گم کر گیا۔ اب اونٹ پر توشہ ہے، رستہ معلوم نہیں ہے، تھکا ہوا ہے، بہت پریشان ہے کہ کیا کروں۔ تھوڑی دیر کے لیے سستانے کے لیے بیٹھ گیا، نیند غلبہ ہو گیا، سو گیا۔ جس وقت اٹھے تو اونٹ بما ساز و سامان کے اس کے سرہانے کھڑا ہے۔ اس وقت وہ انتہائی خوش ہو گیا۔ اتنا خوش ہو گیا کہ کہنا یہ چاہتا تھا کہ اے اللہ تو میرا رب ہے میں تیرا بندہ ہوں، لیکن زبان سے کیا نکل رہا ہے؟ "اے اللہ میں تیرا رب ہوں تو میرا بندہ ہے۔" آپ ﷺ مسکرائے، فرمایا: اللہ جل شانہ اس سوار کی خوشی سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب کوئی توبہ کرنے والا توبہ کرتا ہے۔ جب کوئی توبہ کرنے والا توبہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ تو بہت خوش ہوتے ہیں، بس ہمیں توبہ کرنا چاہیے۔
اور توبہ کرنے کے لیے یاد رکھیے، ہر چیز کا اپنا توبہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی انفرادی گناہ ہے، جس کا لوگوں کے ساتھ تعلق نہیں ہے، صرف میرے گناہ ہیں اور اللہ کو پتہ ہے، تو میں چپکے سے توبہ کر لوں گا۔ اگر عالم نے کوئی ایسی بات کی جو غلط بات ہو، لوگوں کو غلط بات بتائی ہو، اس کا توبہ علی الاعلان ہو گا۔ وہ بتائے گا لوگوں کو، میں نے یہ بات تمہیں کی، یہ غلط تھی، میں واپس لیتا ہوں، آپ لوگ بھی اس کو چھوڑ دیں۔ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اس کا اعلان کرے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پھر لوگ اس پر آئے ہوئے ہیں۔ کتاب میں غلط بات لکھی ہو تو اعلان کرے کہ میں نے کتاب میں جو بات لکھی ہے، غلط ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام آپ لوگوں نے سنا ہو گا۔ حضرت نے باقاعدہ اس کے لیے پورا ایک رسالے کا نظام بنایا ہوا تھا۔ اگر کوئی بات غلط، حضرت نے لکھی ہوتی یا کہی ہوتی، اس میں اعلان کر دیتے تھے کہ میں نے یہ بات جو کی تھی، اگر کوئی میری وجہ سے اس بات کو مان رہا ہے، میں نے اس سے رجوع کر لیا تم بھی رجوع کر لو۔
تو عالم کا تو یہ شان ہے کہ وہ اس طرح توبہ کرے۔ ہاں، اگر کسی کا حق کسی پر ہے، تو وہ حق اس کو ادا کرے گا یا اس سے معاف کروائے گا۔ یا کوئی چیز ایسی ہے جس کی قضا بھی ہے، مثلاً نماز، روزے۔ اس کی قضا جو ہے، تو اس کی قضا بھی کرے گا، اور پھر توبہ بھی کرے گا۔ تو یہ چیز ہے۔ لیکن بعض چیزیں بالکل ایسی ہوتی ہیں جو انسان کی اپنی ہوتی ہیں اور انسان محسوس کرتا ہے کہ میں نے غلط کیا ہے، ذہن پر بوجھ ہوتا ہے، دل پر بھی بوجھ ہوتا ہے، وہ چپکے سے توبہ کر لے۔
اس کی سند میں ایک حدیث شریف ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نمازِ استسقاء پڑھا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی: "اے موسیٰ تمہارے ساتھیوں میں جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ایک ایسا شخص ہے جس نے 40 سال سے مجھے ناراض کیا رکھا ہے۔ جب تک یہ ہو گا، میں بارش نہیں دوں گا۔" اس پر موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کیا کہ مہربانی کر کے، ایک ایسا ساتھی اگر ہے، چپکے سے بس ادھر سے نکل جائے، تاکہ باقی لوگوں کو بارش نصیب ہو جائے، یہ مہربانی کرے۔ اب اعلان تو ہو گیا، لیکن کوئی نکلا نہیں ہے، اور بارش شروع ہو گئی۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو فکر ہو گئی کہ لوگ مجھے جھوٹا نہ سمجھیں۔ تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: "یا اللہ! تو نے فرمایا تھا، میں نے اعلان کر دیا، کوئی اٹھا بھی نہیں ہے، اور بارش ہو گئی ہے، تو یہ کیا ماجرا ہے؟" تو اللہ پاک نے فرمایا: "اس نے میرے ساتھ دوستی کر لی ہے۔" یعنی توبہ کر لی ہے۔ انہوں نے کہا اچھا یا اللہ! اگر تیرا دوست ہے تو پھر مجھے بتا دیں، تاکہ میں بھی اس کی زیارت کر لوں۔ تو اللہ پاک نے فرمایا: "اے موسیٰ! 40 سال اس نے مجھے ناراض کیا، اس کا پردہ نہیں اٹھایا، تو اب اس کا پردہ اٹھاؤں گا کہ وہ میرا دوست بھی بن گیا ہے؟"
اب یہ حالت ہے توبہ کی۔ لہٰذا توبہ دل سے کر لو۔ زبان ہلانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر زبان ہلانا ہے تو میں کرتا ہوں، میرے ساتھ کر لیں۔
اے اللہ! میں توبہ کرتا ہوں۔ ہر گناہ سے، چھوٹا ہے یا بڑا۔ مجھے معلوم ہے یا نہیں۔ مجھ سے قصداً ہوا یا خطا سے۔ ظاہر کا ہے یا باطن کا۔ اے اللہ! میری توبہ قبول فرما دے۔ آئندہ کے لیے ان شاء اللہ میں گناہ نہیں کروں گا۔ اگر غلطی سے ہوا تو فوراً توبہ کروں گا۔ اے اللہ! مجھے اپنی توبہ پر استقامت نصیب فرما۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔