فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث کا مقام اور درود شریف کی برکات

کتاب: فضائل درود شریف، اشاعت اول، 8 جون، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

جمعہ کے دن 80 مرتبہ درود شریف پڑھنے کی فضیلت اور گناہوں کی معافی۔

• فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث کی شرعی حیثیت اور محدثین کا قاعدہ۔• سوشل میڈیا (Social media) اور عصرِ حاضر کے نامعلوم فتنے۔

• ضعیف حدیث کے متعلق حضرت امام ابو حنیفہؒ کا قول اور اکابرینِ امت کا طرزِ عمل۔•

دنیاوی معاملات (سڑک بند ہونے کی مثال) اور اخروی معاملات میں احتیاط کا خوبصورت موازنہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا

عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمِ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الصَّلَاةُ عَلَيَّ نُورٌ عَلَى الصِّرَاطِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثَمَانِينَ مَرَّةً غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُ ثَمَانِينَ عَامًا۔

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مجھ پر درود پڑھنا پل صراط پر گزرنے کے وقت نور ہے اور جو شخص جمعہ کے دن اسی (80) دفعہ مجھ پر درود بھیجے، اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ذَكَرَهُ السَّخَاوِيُّ مِنْ عِدَّةِ رِوَايَاتٍ ضَعِيفَةٍ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے "قولِ بدیع" میں اس حدیث کی متعدد روایات جن پر ضعف کا حکم بھی لگایا گیا ہے، نقل کی ہیں اور صاحبِ اتحاف نے بھی "شرحِ احیاء" میں اس حدیث کو مختلف طرق سے نقل کیا ہے اور محدثین کا قاعدہ ہے کہ ضعیف روایت بالخصوص جبکہ وہ متعدد طرق سے نقل کی جائے، فضائل میں معتبر ہوتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے "جامع صغیر" میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث پر حسن کی علامت لگائی گئی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ "شرح شفاء" میں جامع صغیر کے حوالے سے بروایت طبرانی و دارقطنی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے بھی نقل کی جاتی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث میں یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسی (80) مرتبہ یہ درود شریف پڑھے: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِيمًا۔ اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف ہوں گے اور اسی (80) سال کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا۔

ایک بات جو کہ بہت اہم ہے سمجھانا، اصل میں یہ دور ہے فتنے کا۔ اور فتنہ اس کو کہتے ہیں جس کو انسان فتنہ نہیں سمجھتا ہو، یعنی اس میں پڑ جائے اور پتا بھی نہ چلے کہ میں فتنے میں پڑ گیا ہوں۔ تو آج کل یہ والی بات ہے کہ Social media ہے، لوگوں سے ملنا جلنا ہوتا ہے، ہر قسم کی باتیں لوگ سن چکے ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو سناتے ہیں، اور اس میں بعض باتیں ایسی باتوں باتوں میں ہو جاتی ہیں جس سے انسان کا دماغ ہل جاتا ہے اور کچھ سے کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ مثلاً ایک بات بہت اہم ہے کہ جو فضائل کی کتابیں ہوتی ہیں ان میں ہر طرح کی روایات ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فضائل سے مسائل تبدیل نہیں ہوتے، فضائل سے مسائل تبدیل نہیں ہوتے۔ مثلاً، میں نے آج نماز پڑھی، جمعہ کے دن نماز پڑھی۔ اب یہ ہے کہ مجھے اس کا ثواب 25 گنا یا 27 گنا مل جاتا ہے ایک روایت کے مطابق۔ اور میں نے اللہ کے راستے میں نماز پڑھی تو ایک ضعیف روایت کے مطابق مجھے 49 کروڑ نمازوں کا ثواب مل سکتا ہے۔ اب مجھے 49 کروڑ نمازوں کا ثواب ملے یا وہ 25 نمازوں کا ثواب ملے، نماز میں کوئی فرق پڑا؟ نماز پہ کوئی فرق نہیں پڑا۔ اور نماز مجھے پڑھنی تو تھی، میں نے اس وجہ سے تو نہیں پڑھی... نماز مجھے پڑھنی تھی، اور نماز میں نے پڑھی، اس میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اب اجر کس کے ذمے ہے؟ اللہ کے ذمے ہے۔ تو آپ کو کیا پریشانی ہوئی؟ جبکہ اللہ پاک یہ بھی فرما رہے ہیں:

أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔

میں بندے کے اس گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔

تو کیا بندے کے گمان کے لیے ضعیف حدیث کافی نہیں ہے؟ کیا خیال ہے؟ بھئی کم از کم کشف اور خواب سے تو معتبر ہے نا۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ "اگر مجھے ضعیف حدیث بھی ملے تو وہ میں اپنی بات اور قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں"۔

اب ضعیف حدیث ہوتی کیا ہے وہ ذرا سمجھنے کی کوشش کر لیں۔ اچھی طرح ذہن نشین کریں، کام آئے گا ان شاء اللہ بار بار۔ ضعیف حدیث اصل میں متن کے ساتھ مسئلہ کوئی نہیں ہوتا، متن تو وہی ہوتا ہے۔ یہ روایت پر منحصر ہوتا ہے۔ جب راوی سارے ثقہ ہوں، ان کے درمیان میں کوئی انقطاع نہ ہو تو وہ روایت صحیح ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر راویوں میں ضعف پایا جائے مثلاً کوئی مجہول ہو۔ مجہول اس کو کہتے ہیں جس کو لوگ جانتے نہیں ہوں۔ روایت مجھے نہیں معلوم کہ کہاں کون ہے لیکن اس نے کہہ دیا۔ تو اس سے بھی روایت ضعیف ہو جاتی ہے حدیث شریف کے قانون کے مطابق۔

اگر ہم راستے پہ جاتے ہیں اور کوئی ہمیں بتاتا ہے کہ آگے جا کر سڑک Block ہے، اور اس آدمی کو جو یہ بات کہہ رہا ہے اس کو میں نہیں جانتا، تو کیا خیال ہے؟ میں کہوں گا تو کون ہے؟ جاؤ جاؤ اپنا کام کرو۔ مجھے فکر پڑ جائے گی نا کہ بھئی راستہ تو آگے Block ہے اور اگر ایک آدمی اور بھی راستے میں ملے جس سے میں پوچھوں اور وہ مجھے کہے کہ یہ راستہ Block ہے، تو کیا اس کو میں جانتا ہوں گا؟ اس کو بھی نہیں جانتا۔ اب میرا شک اور بھی مضبوط ہو گیا! اور اگر تیسرا ایک آدمی بھی کہہ دے بھئی آگے کیسے جا رہے ہو ادھر تو راستہ Block ہے۔ اب پھر کیا ہو گا؟ جاؤں گا میں آگے؟ تو یہ کیوں میں واپس ہو گیا؟ کیا وہ روایت صحیح ہو گئی؟ روایت وہی ضعیف ہی ہے، اس پر میں نے عمل کر لیا، کیوں؟ مجھے مشکل پیش آئی۔ اگر میں Trial لیتا ہوں... Risk میں جاتا ہوں، بڑا مسئلہ ہے۔

تو کیا خیال ہے یہ Risk کم ہے، یا ادھر آخرت سے واپس آنے کا Risk کم ہے؟ واپس آ سکتے ہیں دوبارہ؟ چلو جی وہ عمل تو میں نے ضعیف حدیث کی وجہ سے چھوڑا تھا، تو اب میں واپس آتا ہوں کیونکہ مجھے پتا چل گیا اب میں یہ عمل کرتا ہوں۔ کوئی Chance ہے؟

تو بس یہی والی بات ہے کہ اگر ہوشیار آدمی ہو وہ ان چیزوں سے دلائل پکڑ لیتا ہے۔ تو یہ جو محدثین نے ایک قانون بنایا ہے کہ ایک ضعیف حدیث اگر کئی طرق، کئی راویوں سے آ جائے تو ان کو قوت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ قوت حاصل ہو جاتی ہے نا، ہم خود ہی اس کو مطلب دیکھ رہے ہیں۔ اور اس سے کوئی حکم بدلتا بھی نہیں۔ حکم اس طرح نہیں بدلتا کہ درود شریف بھی وہی ہے اور میں بھی اس طرح پڑھتا ہوں۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ 80 سال کے گناہ معاف ہو گئے... نہیں ہوئے، Chance تو پیدا ہوا نا۔ میں نے عمل کر لیا Chance تو پیدا ہو گیا نا۔ اور میرا وقت کتنا لگا؟

سب سے بڑی بات، ہم سے زیادہ جاننے والوں کا عمل تھا۔ ہم سے زیادہ جاننے والوں کا عمل تھا۔ خود یہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کا عمل تھا باقاعدہ۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ 50 سال تک احادیث شریفہ کا درس دے چکے ہیں۔ تو ان کی بات زیادہ معتبر ہو گی یا میری اور آپ کی؟

جو بات بہت ہی اہم بات ہے سمجھ کی بات ہے، دیکھیں... علم بھی بار بار تکرار سے پختہ ہوتا ہے۔ علم بھی بار بار کی تکرار سے پختہ ہوتا ہے۔ اور برکت بھی بار بار احادیث شریف پڑھنے سے آ جاتی ہے۔ یہ شیخ الحدیث جو آخر میں ہوتے ہیں نا، اللہ تعالیٰ ان کو بہت برکت عطا فرماتے ہیں۔ ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کھول لیتے ہیں، ان پر چیزیں اللہ تعالیٰ منکشف فرماتے ہیں۔ ہے نا یہ بات؟

تو جب یہ والی بات ہے، تو یہ جو یہ حضرات جس وقت کوئی Step لے لیں تو اس میں بہت بڑا خیر ہوتا ہے۔ اب یہ جو کتابیں ہیں فضائل کی، ان میں آپ کو ہر قسم کی روایات ملیں گی کیونکہ وہ فضائل کی کتابیں ہیں، فضائل اعمال، چاہے وہ نماز کے بارے میں ہے، چاہے وہ ذکر کے بارے میں ہے، چاہے وہ درود شریف کے بارے میں ہے، چاہے رمضان شریف کے بارے میں ہے، چاہے تبلیغ کے بارے میں ہے، یہ سب روایات آپ کو اس میں ہر قسم کی روایات مل جائیں گی۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث کا مقام اور درود شریف کی برکات - فضائل درود شریف