حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور نبوت کے دلائل

درس نمبر 131 - سورۃ آل عمران: آیت: 42 تا 49- (اشاعتِ اول) یکم اپریل، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

• حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی اور اللہ کا انتخاب۔

• "کُن" (ہو جا) کے کلمے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش۔

• گہوارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام کرنا۔

• حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات (مردوں کو زندہ کرنا، کوڑھی کو شفا دینا وغیرہ)۔

• معجزات کے باوجود منکرین کا رویہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ ﴿42﴾ يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرَّاكِعِيْنَ ﴿43﴾ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ؕ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۪ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ﴿44﴾ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ۖ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ﴿45﴾ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ ﴿46﴾ قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ﴿47﴾ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ﴿48﴾ وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ ۬ۙ اَنِّيْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۙ اَنِّيْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًاۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙ فِيْ بُيُوْتِكُمْ ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿49﴾


صدق اللہ العلی العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم

اور (اب اس وقت کا تذکرہ سنو) جب فرشتوں نے کہا تھا کہ: ”اے مریم! بیشک اللہ نے تمہیں چن لیا ہے، تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور دنیا جہان کی ساری عورتوں میں تمہیں منتخب کر کے فضیلت بخشی ہے ﴿42﴾

اے مریم! تم اپنے رب کی عبادت میں لگی رہو، اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کرو۔“ ﴿43﴾

(اے پیغمبر!) یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہیں دے رہے ہیں۔ تم اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کے لئے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا


جیسا کہ اوپر آیت نمبر 37 میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم علیہا السلام کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلافِ رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا۔ اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اور نہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ (اس مسئلے میں) ایک دوسرے سے اختلاف کر رہے تھے ﴿44﴾ (وہ وقت بھی یاد کرو) جب فرشتوں نے مریم سے کہا تھا کہ: ”اے مریم! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے ایک کلمے کی (پیدائش) کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ہوگا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ کہنے کی وجہ اوپر گذر چکی ہے۔

یعنی کلمۃ اللہ سے مراد یہاں پر یہ ہے کہ جیسے اللہ پاک نے خود فرمایا کہ جب اللہ پاک چاہتا ہے تو کہتا ہے، "کُن" اور پھر وہ ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ کلمۃ اللہ اس کو جو فرمایا گیا، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ "کُن" سے پیدا ہوئے۔

اس میں وہ عادی طریقہ استعمال نہیں ہوا جو انسان کی پیدائش کے لیے ہوتا ہے۔ یہ بالکل مختلف اللہ پاک کی قدرت کا ظہور اور "کُن" کے ذریعے سے عیسیٰ علیہ السلام کا وجود میں تشریف لانا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کی پاک دامنی واضح کرنے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کو معجزے کے طور پر اس وقت بات کرنے کی قدرت عطا فرمائی، جب وہ دودھ پیتے بچے تھے۔

جو دنیا اور آخرت دونوں میں صاحبِ وجاہت ہوگا، اور (اللہ کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا ﴿45﴾ اور وہ گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرے گا

مطلب یہ ہے کہ، مریم علیہا السلام کے لیے تو بہت بڑا یعنی گویا کہ مسئلہ تھا کیونکہ ظاہر ہے مریم علیہا السلام کی شادی تو ہوئی نہیں تھی۔ اور اللہ جل شانہ نے اولاد عطا فرمائی، تو اس پر لوگوں نے جو باتیں بنانی تھیں وہ تو بنانی تھیں۔ مطلب ظاہر ہے اس وقت جو بھی تھے، تو اس پر مریم علیہا السلام نے اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام (کی طرف) جو گہوارے میں تھے، اشارہ کیا۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم ان سے بات کیوں کریں؟ یہ تو سمجھتے ہی نہیں، بچہ ہے۔ تو بہرحال عیسیٰ علیہ السلام نے خود ہی کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور نبی ہوں۔ تو اس طرح بات انہوں نے گہوارے میں کی۔ اور یہ معجزانہ بات تھی، جس پہ انسان عادت کے طور پر انسان نہیں کر سکتا کہ ایک دودھ پیتا بچہ اس طرح واضح بات کر لے۔

مریم نے کہا: ”پروردگار! مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہو جائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں؟“ اللہ نے فرمایا: ”اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ ”ہو جا“ بس وہ ہو جاتا ہے ﴿47﴾ اور وہی (اللہ) اس کو (یعنی عیسیٰ ابنِ مریم کو) کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا ﴿48﴾ اور اسے بنی اسرائیل کے پاس رسول بنا کر بھیجے گا (جو لوگوں سے یہ کہے گا) کہ: ”میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، (اور وہ نشانی یہ ہے) کہ میں تمہارے سامنے گارے سے پرندے جیسی ایک شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں، تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے، اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دیتا ہوں، اور مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں، اور تم لوگ جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے یا ذخیرہ کر کے رکھتے ہو میں وہ سب بتا دیتا ہوں

یہ سب معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی نبوت کے ثبوت کے طور پر عطا فرمائے تھے، اور آپ نے ان کا عملی مظاہرہ فرمایا تھا۔

اگر تم ایمان لانے والے ہو تو ان تمام باتوں میں تمہارے لئے (کافی) نشانی ہے ﴿49﴾

عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ چونکہ بالکل مختلف تھا، ایک معجزانہ طریقے سے وجود میں آئے تھے۔ اس وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزات عطا کیے گئے جن کا کوئی انکار نہ ہو سکتا ہو، بالکل ہی یعنی مختلف نوع مطلب ایسی چیز۔ یعنی جیسے مردہ کو زندہ کرنا اور مٹی سے ایک شکل بنانا پرندے کا اور پھر اس میں پھونک مار کے اس کا اڑ جانا۔ یہ تو انسان بالکل سوچ بھی نہیں سکتا۔ تو باقاعدہ عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ پاک نے یہ کام کروائے اور ماشاء اللہ سب لوگوں نے دیکھا۔ تو یہ فرمایا کہ "اگر تم ایمان لانے والے ہو تو ان تمام باتوں میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے"۔

اصل میں بات یہ ہے کہ شیطان اپنا کام کرتا ہے۔ تو اب دیکھیں ایسے معجزے جب وجود میں آ جاتے ہیں تو پھر شیطان ان کو یہ سکھا دیتا ہے کہ یہ تو جادو ہے۔ اور جب نہیں ہوتے تو مانتے نہیں، اور جن لوگوں نے ماننا ہوتا ہے، تو پہلے حالت میں بھی مان لیتے ہیں، دوسری حالت میں بھی مان لیتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اصل میں جس نے نہ ماننا ہو نا، جو ایمان نہیں لانا چاہتا ہو اس کو کوئی بھی چیز قائل نہیں کر سکتی۔ تو اس لیے فرمایا اگر تم ایمان لانے والے ہو۔ تو ان تمام باتوں میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے۔

واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین


مزید تشریح بتاریخ یکم مئی 2026:

حضرت شیخ دامت برکاتہم نے سورۂ آل عمران کی ایک خاص انفرادیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سورت میں اللہ پاک نے نہایت عجیب اور حیرت انگیز معجزات کا ذکر فرمایا ہے۔ انسان کی پیدائش کے حوالے سے عام طور پر تخلیق کا ایک طبعی قاعدہ مقرر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس قاعدے کے پابند نہیں۔ چنانچہ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اس سے قبل حضرت آدم علیہ السلام کا تذکرہ ہے جنہیں بغیر ماں باپ کے محض مٹی سے پیدا فرمایا۔ اسی تسلسل میں حضرت مریم علیہا السلام کی پاکیزگی کا ذکر ہوا، جن سے قبل حضرت یحییٰ علیہ السلام کا تذکرہ بھی گزرا جو کہ انتہائی پاکباز اور پارسا تھے۔


حضرت شیخ نے مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ جب فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کو بیٹے کی بشارت دی، تو انہوں نے حیرت سے کہا کہ مجھے تو کسی انسان نے چھوا تک نہیں، اور فرشتے کو اللہ کا خوف دلایا۔ فرشتے نے جواب دیا کہ وہ اللہ کا فرشتہ ہے اور اللہ جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش عام انسانی تخلیق کے قاعدے کے بجائے براہِ راست اللہ کے امرِ "کُن" سے ہوئی، اسی لیے انہیں "کلمۃ اللہ" کہا جاتا ہے۔


پھر جب حضرت مریم علیہا السلام پر انگلیاں اٹھائی گئیں تو اللہ کی قدرت سے ایک اور عظیم معجزہ ظاہر ہوا کہ دودھ پیتے بچے نے گہوارے میں کلام کیا اور واضح الفاظ میں فرمایا کہ "میں اللہ کا بندہ اور اس کا نبی ہوں"۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نبوت کے ثبوت کے لیے مزید حیرت انگیز معجزات عطا فرمائے، جیسے گارے سے پرندے کی شکل بنانا اور اس میں پھونک مارنا جس سے وہ اللہ کے حکم سے اڑنے لگ جاتا۔

ان عظیم معجزات کے حوالے سے حضرت شیخ نے شیطان کے طریقۂ واردات کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان کا کام ہر حق بات کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ ان معجزات کو دیکھ کر شیطان نے یہود کو یہ پٹی پڑھائی کہ یہ "جادو" ہے، جبکہ عیسائیوں کو غلو میں مبتلا کر کے انہیں "اللہ کا بیٹا" کہنے پر لگا دیا۔ اس کے برعکس الحمدللہ، ہم مسلمان صراطِ مستقیم پر ہیں، جو قرآن و سنت کی روشنی میں ان حقائق میں نہ کوئی کمی کرتے ہیں نہ زیادتی، بلکہ من و عن ان پر ایمان لاتے ہیں۔