اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج جمعرات ہے اور جمعہ کی رات کو ہم ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ مؤلفہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ، اس کی تعلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نماز کی بات شروع ہے اور گذشتہ جمعرات کو قبلہ کے بارے میں بات ہوئی تھی، تفصیلی بات۔ آج ان شاء اللہ رکعاتوں کی تعداد کے بارے میں ان شاء اللہ بات ہوگی۔
رکعتوں کی تعداد:
ایک قیام اس کے بعد رکوع پھر سجدہ اس مرتب صورت کا نام ایک رکعت ہے نماز میں کم از کم دو رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ چار مقرر کی گئیں، صبح کو دو، ظہر، عصر اور عشاء کے وقت چار چار اور مغرب میں تین۔
ایک رکعت کی مستقل نماز نہیں رکھی گئی اور نہ چار سے زیادہ رکعتیں رکھی گئیں
یعنی مغرب میں تین ہیں اور ایک رکعت کی مستقل نماز نہیں رکھی گئی اور چار سے زیادہ نہیں رکھی گئی۔
کیونکہ مصلحت یہ تھی کہ نماز نہ اتنی مختصر ہو کہ دل میں ذرا اثر بھی پیدا نہ کر سکے نہ اتنی لمبی کہ انسان کو بد دل بنا دے ایک رکعت کی نماز اتنی مختصر تھی کہ اس سے قلب میں خضوع و خشوع پیدا نہ ہوتا کیونکہ صرف چند سیکنڈ میں تمام ہو جاتی اور چار سے زیادہ رکعتوں کی نماز بد دلی کا باعث ہوتی کیونکہ دیر لگنے کی وجہ سے جی گھبرا جاتا، اس لئے فرض نماز کی رکعتیں چار سے زیادہ نہیں رکھی گئیں۔
مکہ میں مسلمانوں کو جو بے اطمینانی اور بے سروسامانی تھی اور جس طرح کفار کے ڈر سے چھپ کر وہ نماز پڑھتے تھے اس لحاظ سے اس وقت نماز میں زیادہ رکعتیں ہونا ممکن نہ تھا اس لئے مکہ معظمہ میں ہر نماز صرف دو رکعتوں کی تھی۔ جب مدینہ آ کر اطمینان نصیب ہوا تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں کر دی گئیں لیکن مسافر کے لئے وہی دو رکعتیں قائم رہیں کیونکہ اس کی عارضی پریشان حالی باقی رہتی ہے جو اس تخفیف کی علت تھی۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مقیم کے لئے چار رکعتیں مسافر کے لئے دو اور بحالتِ خوف ایک۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اطمینان کی زیادتی اور کمی کی بناء پر ان رکعتوں کی تعداد گھٹتی اور بڑھتی ہے۔
مغرب اور صبح کی نمازیں قیام و سفر دونوں حالتوں میں یکساں ہیں، مغرب کی تین رکعتوں کا آدھا اور صبح میں کچھ دو رکعتیں ہیں ان میں کیا کمی ہوسکتی ہے؟ لیکن مغرب اور صبح میں یہ تین اور دو رکعتیں کیوں ہیں؟ اس کی گرہ کشائی ام المومنین حضرت عائشہؓ نے فرمائی ہے "مغرب میں تین اس لئے ہیں کہ وہ دن کا وتر ہے اور صبح میں دو اس لئے کہ اس میں دو رکعتوں کے بڑھانے کے بجائے قرأت لمبی کر دی گئی ہے"۔
حضرت عائشہؓ کے ارشاد میں تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہے۔ گذر چکا ہے عین طلوع اور غروب کے وقت نماز کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ یہ کفار (آفتاب پرستوں) کی عبادت کا وقت تھا۔ مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے بعد فوراً ہوتی ہے اس لئے ضرورت ہے کہ اہل توحید آفتاب پرستی کے شرک سے پوری براءت ظاہر کریں اسی لئے اس وقت کی نماز میں رکعتوں کی تعداد وہ رہ گئی جس سے خدا کے واحد اور وتر ہونے کا ثبوت مل سکے۔ یہ عدد واحد تو نہیں ہو سکتا کہ اس سے خضوع و خشوع اور تاثر کا مقصد فوت ہوتا، دو کا عدد بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ زوج اور جوڑا ہے طاق نہیں بنابریں توحید کا رمز آشکارا کرنے والا سب سے قریب ترین طاق عدد تین ہی ہے جس سے خدا کا واحد ہونا اور وتر ہونا دونوں باتیں ثابت ہوتی ہیں نیز نماز کے خشوع و خضوع کا کمال بھی فوت نہیں ہوتا جو ایک رکعت ہونے میں فوت ہو سکتا تھا اس لئے مغرب میں رکعتوں کی تعداد تین رکھی گئی اور چونکہ آفتاب کا کامل زوال و انحطاط جس کو غروب کہتے ہیں اسی وقت ہوتا ہے اس لئے اس توحید کے رمز کو اسی وقت آشکارا ہونا چاہیے اس مفہوم کی تشریح اس حدیث کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے وتر نماز کی تاکید فرمائی ہے۔
﴿أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ فَإِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ﴾ (ابوداؤد)
اے قرآن والو! وتر (طاق) پڑھا کرو کیونکہ خدا بھی وتر (طاق) ہے
اور وہ وتر (طاق) کو پسند کرتا ہے۔
صبح کا وقت وہ دلکش وقت ہے جب انسان پورے آرام و سکون کے بعد بیدار ہوتا ہے یہ بڑا سہانا وقت ہوتا ہے طبیعت موزوں ہوتی ہے دل مطمئن ہوتا ہے تمام عالم اس وقت سراپا اثر مجسم کیف نظر آتا ہے اس لئے یہ وقت نماز و دعا کے لئے خاص طرح سے موزوں ہے، اور قرآن مجید میں اس کے اس خاص امتیاز کا ذکر ان لفظوں میں کیا گیا ہے۔
﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ (سورة الإسراء: 78)
صبح کی نماز کی قرأت کا وقت حضوری کا ہوتا ہے۔
اس بناء پر شریعت محمدیہ نے اس وقت کی نماز میں رکعتوں کی تعداد کے بجائے اس کی اصل کیفیت کو پیشِ نظر رکھا یعنی رکعتیں تو دو ہی رہیں، مگر حکم دیا گیا کہ قراءت لمبی کر دی جائے اور سورتیں بڑی بڑی پڑھی جائیں چنانچہ خود آنحضرت ﷺ اور نمازوں میں ایک رکعت میں تقریباً پندرہ آیتیں تلاوت فرماتے تھے مگر صبح کی نماز میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک قراءت فرماتے تھے۔ اور اسی نسبت سے رکوع و سجود بھی ہوتا تھا۔
رکعتوں کی تعداد اگرچہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی سنتِ متواترہ سے ثابت ہے اور تمام مسلمان اس تواتر پر بلا استثناء عامل بھی ہیں تاہم اس کا عملی اشارہ قرآن پاک میں نماز خوف سے ظاہر ہوتا ہے جس میں یہ حکم ہے کہ اسلامی فوج کے دو حصے ہو جائیں پہلے اگلا حصہ امام کے پیچھے کھڑا ہو کر ایک رکعت ادا کرے اور دوسرا دشمن کے مقابل کھڑا رہے پھر اگلا حصہ امام کے سامنے کھڑا ہو جائے اور دوسرا امام کے پیچھے آ کر ایک رکعت ادا کرے اس طرح امام کی دو رکعتیں ہو جاتی ہیں اور مقتدیوں کی جماعت کے ساتھ ایک ایک، اور اگر دوسری رکعت کا موقع ملتا ہے تو وہ ارکان کے ساتھ اور یہ ممکن نہ ہو تو اشاروں سے علیحدہ علیحدہ ادا کرتے ہیں جب نمازِ خوف میں قصر کی دو رکعتیں ثابت ہوئیں تو اصل رکعتیں چار ہوں گی اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ قصر چار ہی رکعت والی نمازوں میں ہے نماز قصر کی آیات سورہ نساء کے پندرھویں رکوع میں ہیں۔
اللہ اکبر!
اس کتاب کے پڑھنے کا بہت بڑا فائدہ جو ہوا، وہ یہ ہوا ہےکہ اس میں ہمیں احکامات کی حکمتیں، ان کے گویا کہ ظاہر کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ عوام کے لیے تو اتنی حکمتوں کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے، وہ تو بس سیدھا سیدھا عمل کریں۔ کیونکہ وہ حکمتوں کو پا نہیں سکیں گے تو کنفیوز ہی ہوں گے، پریشان ہی ہوں گے۔ لہٰذا ان کو تو بس یہ کہیں کہ بس حکم ہے اللہ کا، بس مانو! ان کے لیے تو یہ بات صحیح ہے۔ لیکن علماء کے لیے ایسی باتیں نہیں ہوتی ہیں، علماء کو غور و خوض کرنا ہوتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے عوام قرآن پڑھتے ہیں تلاوتِ قرآن، تو اس میں وہ معانی کا ادراک نہیں کر سکتے، ان کو قرآن پاک کی تلاوت ہی کرنی ہوتی ہے۔ لیکن علماء کے لیے تدبر فی القرآن کی بات آئی ہے کہ وہ تدبر کریں قرآن میں، ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور اس میں غور کریں کہ کس چیز کا کیا مطلب ہے۔ پھر چونکہ عوام کو صرف خود عمل کرنا ہوتا ہے، لیکن علماء کو دوسروں کو بھی سمجھانا ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے ان کو تفصیلی علم کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر کوئی سوال ایسا ہو جائے، کوئی پھنسا لے کسی کو، کوئی کنفیوز کرے کسی کو، تو اس کو کنفیوژن سے نکالنے کا ان کے پاس سامان ہو۔ تو یہ کتاب جو ہے حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کا، سیرت کے بارے میں، ماشاء اللہ اس نوع کی بہت بہترین کتابوں میں سے ہے۔ کہ حضرت نے بہت آسان پیرائے میں وہ حکمتیں جو احکامات میں رکھی گئی ہیں، جن کا احکامات میں خیال رکھا گیا ہے، وہ حکمتیں ماشاء اللہ حضرت بیان فرماتے ہیں۔
اب جیسے یہ والی بات ہے، حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ باقی رکعتیں جفت ہیں اور مغرب کی طاق کیوں ہیں؟ چونکہ سوال عوام میں سے کسی نے کیا، وہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے ان تمام تفصیلات کو، تو حضرت نے فرمایا کہ تیری ناک آگے کو لگی ہے، پیچھے کو نہیں لگی، کیا وجہ ہے؟ تو اس نے کہا اللہ پاک نے ایسے ہی بنائی ہے، تو انہوں نے کہا بس اللہ پاک نے ایسے ہی حکم دیا ہے۔ تو ایسے لوگوں کے لیے تو پھر یہی جواب ہوا، کیونکہ ظاہر ہے جس شخص کے پاس بنیادی علم نہ ہو، جس کی بنیاد پر وہ اگلی باتوں کو سمجھ سکے، جس کو ہم کہتے ہیں Pre-requisite knowledge، پہلے سے مطلوبہ علم کسی چیز کو جاننے اور سمجھنے کے لیے۔ اگر وہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا وہ سمجھے گا؟ حضرت تھانوی صاحب سے کسی نے مشکل سوال پوچھا کوئی، وہ کسی سے سنا ہو گا، تو اس میں اس کی اتنی استعداد تھی ہی نہیں کہ وہ سمجھ سکے، تو حضرت نے فرمایا کہ چھٹے درجے کے کسی طالب علم کو بلاؤ اور خود بھی ساتھ بیٹھ جاؤ، میں تقریر کروں گا اس بات کے بارے میں، وہ سمجھ جائے گا تو نہیں سمجھ سکے گا۔ کیونکہ اس کے لیے جس علم کی ضرورت ہے بنیاد کی، وہ اس کے پاس ہے تیرے پاس نہیں ہے۔ لہٰذا جب تیرے پاس نہیں ہے تو۔۔۔۔ مجھے بتاؤ یہ میڈیکل کے جو prescription ہوتی ہے دوائیوں کے ساتھ جو لگی ہوتی ہے، اس کو عوام سمجھتے ہیں؟ تو جو عوام نہیں سمجھتے، تو اس کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ بس وہ پھر ڈاکٹر سے ہی پوچھتے ہیں، بلکہ دوائیوں کے اوپر بھی صاف لکھا ہوتا ہے as prescribed by the physician۔ جیسے کہ ڈاکٹر آپ کو بتائے، اس طرح استعمال کر لو۔ خود اس میں غور نہ کرو کیونکہ تمہاری بات نہیں ہے، تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔
یہ ہمارا مکان بن رہا تھا، تو beam ڈال رہے تھے نا وہ کھڑکیوں کے اوپر، تو اس کے دو دن کے بعد اس پہ چنائی کر رہے تھے۔ میں نے کہا بھئی کیا کر رہے ہو؟ کہتا اس پہ چنائی کر رہا ہوں۔ میں نے کہا چنائی تو آپ نہیں کر سکتے ابھی، کم از کم آپ کو ایک ہفتہ اس کی ترائی کرنی ہے پھر اس کے بعد آپ اس پہ چنائی کر سکتے ہیں، ابھی نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ میں نے کہا آپ کے خیال میں کچھ بھی نہیں ہوتا نا، میں نے کہا جو اتنی ساری لیبارٹریاں بنی ہوئی ہیں جو ٹیسٹنگ کرتے ہیں وہ ویسے تو نہیں ہیں نا، آخر اس کی کوئی ضرورت ہے۔ میں نے کہا فرق صرف یہ ہے کہ اگر آپ ابھی چنائی کر لیں، تو اگر دس سال کے بعد اس پہ کریک آجائے، پھر آپ کو کون پکڑے گا؟ اور اگر آپ اس کی ترائی صحیح کر لیں، تو پچاس سال تک بھی اس کو کچھ نہیں ہو گا۔ تو یہ چالیس سال آپ نے اس کی جو زندگی کم کر دی، اس کا ذمہ دار کون ہوگا پھر؟ آپ کو کون پکڑے گا؟ پھر میں نے اس کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہا، اچھا میاں میں نے کہا دیکھو آپ اتنے عرصہ سے کنسٹرکشن کا کام کر رہے ہیں، میرے ایک آسان سوال کا جواب دو۔ کہتا کیا؟ میں نے کہا یہ بیم جو اندر کا ہوتا ہے، یہ rectangular ہوتا ہے، مطلب اس کی سائیڈیں برابر ہوتی ہیں۔ اور باہر جو beam نکلتا ہے نا وہ ترچھا ہوتا ہے، مطلب یہ کہ وہ taper beam اس کو کہتے ہیں، مطلب ابتدا میں موٹا پھر کم ہوتا جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ چپ ہو گیا۔ میں نے کہا تو نہیں سمجھ سکتا اس کو، مجھے پتہ ہے اس کا، کیونکہ ہمارا علم ہے، ہم اس کو جانتے ہیں۔ تو نہیں جان سکتا، اور میں تمہیں سمجھا بھی دوں تو شاید نہ سمجھا سکوں۔ میں نے کہا بس یہی فرق ہے کہ میں آپ کو اس لیے کہہ رہا ہوں کہ تم یہ نہیں جانتے ہو، میں جانتا ہوں۔ تو آپ میری بات پر عمل کریں، کیونکہ یہ فن ہمارا ہے۔
تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ ایک دنیاوی چیز ہے۔ تو دنیاوی چیز میں ایک علم کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہے، فائدہ ہوتا ہے اس کا۔ تو دینی باتوں میں پھر دینی علم کی ضرورت ہے۔ جو دینی عالم ہوتا ہے، وہی اس کا ذمہ دار ہے۔ تو جیسے تو اگر ڈاکٹر ہے، تو کسی مولوی کو ڈاکٹری میں بات کرنے نہیں دیتا۔ یہ تمہارا فن نہیں ہے، تو نہیں جانتا۔ بالکل صحیح کہتے ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں۔ ہم مولوی صاحب سے عرض کر لیں گے کہ آپ ڈاکٹر نہیں ہیں۔۔۔ لیکن اگر آپ نے دین کے معاملے میں مداخلت کی اور مولوی نہیں ہیں، تو پھر ہم آپ سے کہیں گے کہ تو اس قابل نہیں ہے کہ تو اس میں بات کرے۔
یہی وہ بنیادی بات ہے جو ہمارے مشائخ اور علماء کرتے ہیں۔ قرآن میں رائے کے ساتھ اگر کسی نے وہ بیان کر لیا تو وہ جو ہے نا کیا ہے؟ تفسیر بالرائے ہے جس کو ہم کہتے ہیں۔ اس نے صحیح تفسیر بھی کی پھر بھی غلطی کی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ہے جو ڈاکٹر نہیں ہے اور اس نے اپنے ناکافی علم کی بنیاد پر کسی کو دوائی لکھ دی، یا کسی کو دوائی دے دی۔ تو اس نے اگر صحیح دوائی بھی دی پھر بھی اس نے غلطی کی۔ کیوں غلطی کی؟ آئندہ کے لیے کوئی ایسے ہی کام کرے گا جس سے کسی کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ میں ڈی واٹسن (D. Watson) جو مشہور دکان ہے مری روڈ پر، اس میں کھڑا تھا تو ایک صاحب آئے۔ وہ اس نے کہا کہ مجھے کھانسی کی دوائی دو۔ اس نے کھانسی کی ایک سیرپ پکڑا دی اس کو، پیسے دے دیے۔ میں نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا، جانے نہیں دیا۔ میں نے اس سے پوچھا میں نے کہا حضرت بتاؤ، میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن میں نے ڈاکٹروں سے سنا ہے کہ کم از کم تین کھانسیاں ایسی ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اور ایک کا علاج دوسرے کے لیے بیماری ہے۔ یعنی اگر ایک قسم کی کھانسی ہے اور آپ اس کو دوسری قسم کی کھانسی کی دوائی دیتے ہیں تو اس کو اور مزید بیمار کر لو گے۔ میں نے کہا آپ گئے ہیں ان کے ساتھ؟ آپ نے دیکھا اس مریض کو کہ اس کو کون سی کھانسی ہے؟ آپ نے دیکھا تو نہیں، تو آپ بغیر دیکھے کیسے کر سکتے ہیں؟ کون سی کھانسی ہے اس کو؟ کیا پتہ آپ کو؟ وہ فوراً سمجھ گیا، اس نے دوائی اس سے واپس لی، پیسے اس کو دے دیے کہ جاؤ ڈاکٹر سے لکھوا کر لے آؤ۔ طریقہ بھی یہی ہے۔ ہر چیز کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔
تو میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ یہ ماشاء اللہ، یہ کتاب جو ہے الحمدللہ علماء کے لیے تو بہت بڑی ماشاء اللہ سعادت کی بات ہے، کیونکہ ان کو یہ باتیں جو ہیں شاید اتنے مختصر جگہ پہ بہت کم جگہ پہ ملی ہوں گی۔ اور یہ بہت بڑی ریسرچ ہے جو حضرت نے کی ہے۔ کہ اس میں رکعاتوں کی تعداد کے بارے میں باتیں کی ہیں کہ ایک ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ کم تھا، چار سے زیادہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ زیادہ تھا، پھر مغرب کی تین کیوں ہے؟ پہلے بتایا تھا کہ نمازوں کے اوقات کون کون سے ہیں اور کون کون سے اوقات میں جو ہے نا نماز لازم کی ہے، وہ قرآن پاک سے ثابت کیا۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ بہت تفصیلی طور پر الحمد للہ۔ یہ وہی کر سکتے ہیں جن کو ماشاء اللہ علم پر کافی عبور حاصل ہو۔
جاری ہے ان شاءاللہ