بابِ مراقبہ: اللہ کی معیت اور کیفیتِ حضوری کا حصول

درس نمبر 75- باب الصدق، حدیث نمبر 60، (اشاعتِ اول)، 24 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• بابِ مراقبہ کا آغاز اور متعلقہ قرآنی آیات (سورۃ الشعراء اور سورۃ الحدید) کی تلاوت و تفسیر۔

• نماز اور تہجد میں اللہ تعالیٰ کی اپنے حبیب ﷺ اور بندوں پر نگاہِ کرم۔

• مفسرین کے اقوال کی روشنی میں قیام، سجدہ اور صفوفِ نماز کے مفاہیم۔

• اللہ تعالیٰ کی معیت کا ادراک اور اس بات کا یقین کہ وہ ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے۔

• تنہائی میں اللہ کو نگہبان سمجھنے کی تلقین 

• کیفیتِ حضوری کی اہمیت اور نفس کی اصلاح 


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

أَمَّا بَعْدُ

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

آج نیا باب شروع ہو رہا ہے

(5) بابِ مراقبہ

قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى : ﴿اَلَّذِيْ يَرَاكَ حِيْنَ تَقُوْمُ وَ تَقَلُّبَكَ فِى السَّاجِدِيْنَ﴾

وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾

ارشاد خداوندی ہے: ”جو تم کو جب تم (تہجد وغیرہ کے وقت) اٹھتے ہو دیکھتا ہے اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی۔“

اس میں مفسرین کے تین اقوال ملتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقاتل کے نزدیک کھڑے ہونے سے مراد نماز میں کھڑا ہونا ہے۔

ابوالجوزا فرماتے ہیں: مراد کھڑے ہونے سے جب بھی آپ ﷺ اپنی جگہ کھڑے ہوں۔

حضرت حسن بصری کے نزدیک مراد جب آپ ﷺ تنہائی میں ہوتے ہیں۔ سب ہی مراد ہوسکتا ہے۔

"سَاجِدِیْنَ" سے مراد حضرت عبداللہ بن عباس، عکرمہ اور مقاتل وغیرہ کے نزدیک نماز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم تنہا نماز پڑھتے ہو اور اس وقت بھی دیکھتا ہے جب نمازیوں کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھتے ہو۔

علامہ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ آپ ﷺ جب نماز میں مقتدیوں کی طرف دیکھتے ہو اس کو بھی اللہ جانتا ہے جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ میں اپنی پشت کے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے کہ سامنے کی طرف دیکھتا ہوں۔

بعض کے نزدیک اس سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ تہجد گزاروں کے احوال کو تلاش کرنے کے لئے آپ ﷺ جو آتے جاتے ہیں اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب شب کی نماز کی فرضیت منسوخ ہوئی تو آپ ﷺ رات کو اپنے گھر سے باہر تشریف لے آئے تاکہ دیکھیں کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم رات کو اپنے گھروں میں کیا کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو عبادت خداوندی میں مشغول پایا اس حال کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے۔

فرماتے ہیں: ”اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔“

تشریح: اے بندو! تم جہاں کہیں بھی ہوں اللہ تمہارے ساتھ ساتھ ہے۔ انسان ہر ایک سے چھپ سکتا ہے مگر اللہ کے سامنے وہ چھپ نہیں سکتا۔ اللہ ساتھ میں ہے اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطۂ علم میں نہیں آسکتی مگر یہ معیت کا وجود یقینی ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کا وجود قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی دنیا کا کوئی کام ہوسکتا ہے۔ دنیا کا تمام نظام اسی اللہ کی مشیت و قدرت پر ہی موقوف ہے، وہ اللہ ہر جگہ اور ہر حال میں موجود ہے مگر معیت ناقابل بیان ہے۔

علامہ ابن کثیر نے آپ ﷺ کی روایت نقل کی ہے کہ سب سے افضل ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اس کا یقین ہو کہ جہاں پر بھی میں ہوں گا اللہ میرے ساتھ ہوگا۔ امام احمد کی طرف یہ اشعار منسوب ہیں:

اِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّهْرَ يَوْمًا فَلَا تَقُلْ خَلَوْتُ وَ لٰكِنْ قُلْ عَلَىَّ رَقِيْبُ

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ يَغْفِلُ سَاعَةً وَ لَا اَنَّ مَا تُخْفِىْ عَلَيْهِ يَغِيْبُ

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو یہ کیفیت نصیب فرما دے کہ ہر وقت ہم اپنے آپ کو اللہ کے سامنے حاضر پائیں۔ یہ کیفیت، کیفیتِ حضوری کہلاتی ہے۔ اور جس کو نصیب ہو جائے تو بڑی سعادت کی بات ہے۔ کیونکہ گناہوں کا امکان پھر بہت ہی کم ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہ انسان ہر وقت اس بات سے ڈرتا رہتا ہے کہ مجھ سے اللہ پاک ناراض نہ ہوں۔

تو یہ کیفیتِ حضوری کس وقت حاصل ہوتی ہے؟ تو ظاہر ہے یہ نفس کی اصلاح کے ذریعے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ کہ نفس ہی رکاوٹ ہے اللہ اور اللہ کے بندے کے درمیان۔ تو جس وقت نفس کی رکاوٹ دور ہو جائے، یعنی قابو میں آ جائے، تو پھر انسان کے حجابات دور ہو جاتے ہیں، اور وہ اللہ پاک کے ساتھ اپنے آپ کو قریب پاتا ہے اور اللہ کو اپنے قریب پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع عنوان: بابِ مراقبہ: اللہ کی معیت اور کیفیتِ حضوری کا حصول

متبادل عنوان: تنہائی اور محفل میں اللہ کی نگہداشت: نفس کی اصلاح کا راستہ

اہم موضوعات:

• بابِ مراقبہ کا آغاز اور متعلقہ قرآنی آیات (سورۃ الشعراء اور سورۃ الحدید) کی تلاوت و تفسیر۔

• نماز اور تہجد میں اللہ تعالیٰ کی اپنے حبیب ﷺ اور بندوں پر نگاہِ کرم۔

• مفسرین کے اقوال کی روشنی میں قیام، سجدہ اور صفوفِ نماز کے مفاہیم۔

• اللہ تعالیٰ کی معیت کا ادراک اور اس بات کا یقین کہ وہ ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے۔

• تنہائی میں اللہ کو نگہبان سمجھنے کی تلقین

• کیفیتِ حضوری کی اہمیت اور نفس کی اصلاح


بابِ مراقبہ: اللہ کی معیت اور کیفیتِ حضوری کا حصول - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور