آیت الکرسی کی فضیلت: اللہ کی ذاتِ کبریا اور توحید کا کامل بیان

درس نمبر 109، سورۃ البقرہ: آیت: 255، 256- (اشاعتِ اول) 11 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• آیت الکرسی کی بطورِ حفاظت فضیلت اور اہمیت۔

• اللہ تعالیٰ کی صفات، بالخصوص حی (سدا زندہ) اور قیوم (سب کو تھامنے والا) ہونے کا بیان۔

• شفاعت کے اصول (اللہ کے اذن اور مرضی کے بغیر کسی کی سفارش کا ناممکن ہونا)۔

• اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم اور کرسیِ الٰہی کی وسعت اور عظمت۔

• دین میں زبردستی کی ممانعت اور ہدایت و گمراہی کے راستوں کا واضح ہونا۔

• طاغوت (شیطان) کا انکار کر کے اللہ کے مضبوط سہارے (عروۃ الوثقیٰ) کو تھامنے کے ثمرات۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ!

فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۬ۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ؕ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ ﴿255﴾

لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ۟ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ٭ لَا انْفِصَامَ لَهَا ؕ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴿256﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے؛ جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے، نہ نیند۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے (وہ بھی) اور زمین میں جو کچھ ہے (وہ بھی)، سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے؟ وہ سارے بندوں کے تمام آگے پیچھے کے حالات کو خوب جانتا ہے، اور وہ لوگ اس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے، سوائے اُس بات کے جسے وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے؛ اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا، اور وہ بڑا عالی مقام، صاحب عظمت ہے۔ ﴿255﴾

یا اللہ! یا کریم!

یہ آیت الکرسی یہ بہت ہی زیادہ اہم آیت ہے، اور ہمارے لیے بڑی حفاظت کا ذریعہ ہے، بہت حفاظت کا ذریعہ ہے۔

اصل میں لوگ دوسری چیزوں سے سہارے لیتے ہیں۔ تو اس میں اللہ جل شانہٗ نے اپنا تعارف کروایا ہے کہ اور کسی کے سہارے کی لینے کی کسی کو کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ اللہ کا سہارا وہ سہارا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور سہارے کی بالکل ضرورت نہیں۔ اللہ جل شانہٗ کے صفات اس میں بیان کیے گئے۔ اول تو یہ ہے کہ اللہ پاک واحد معبود ہے، اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ پاک سدا زندہ ہے اور اس نے ہی سب چیزوں کو تھاما ہوا ہے، سب چیزوں کو تھاما ہوا ہے۔ کیونکہ جو تھامنے والی کوئی بات ہو نا، تو وہ جس وقت نہیں ہوتی تو کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ تو اللہ جل شانہٗ نے سب کچھ کو تھاما ہوا ہے، لیکن یہ تھامنا جو ہے یہ کسی خاص وقت کے لیے نہیں ہے بلکہ اللہ پاک کی وہ ذات ہے کہ اس کو نہ کوئی نیند آتی ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل ہر وقت ایک اس میں۔ اور یہ سب کچھ جتنے بھی کائنات ہے، سب کچھ جتنا بھی ہمیں محسوسات ہیں اور غیر محسوسات جو چیزیں ممکن ہیں، وہ سب کے سب اللہ کے ہیں۔

اور ایک بہت اہم بات اس کے اندر یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکتا، اللہ کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یعنی گویا اللہ تعالیٰ کو اگر کسی نے اگر ناراض کیا ہو، تو اللہ جل شانہٗ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ ہاں، اگر اللہ خود معاف کرنا چاہے اور کسی کو اجازت دے دے کہ تو اس کی شفاعت کرو، تو ٹھیک ہے وہ دے گا۔ لیکن یہ بات ہے کہ وہ اللہ پاک کی مرضی سے اور اللہ پاک کے اجازت سے۔

وہ یہاں تک تو بات اللہ تعالیٰ کی گویا کہ قدرت کی، اللہ پاک کی حیات کی، اللہ جل شانہٗ کی ہر چیز کو تھامنے کی، یہ بات آگئی۔ اب علم کی بات ہے کہ اللہ کے علم میں سب کچھ ہے۔ اور مخلوق کو اللہ پاک کے علم کے بغیر اللہ پاک کے بارے میں کسی چیز کا پتا نہیں، ہاں مگر وہ جو کسی چیز کو کسی چیز کا بتانا چاہے۔ وہ والی بات ہے۔ اب جیسے یہ باتیں اللہ پاک نے بتائی ہیں تو اللہ پاک کے بتانے سے ہمیں پتا چلی ہیں۔ اور اگر اللہ پاک نہ بتائے تو اللہ پاک کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی ذات ورائے الوراء ہے۔

پھر اللہ پاک کی عظمت، کہ اللہ پاک کی کرسی جو ہے یہ پورے کائنات کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ اس کی حفاظت سے تھکتا نہیں ہے، اس کے اوپر کوئی بوجھ نہیں ہے، اور بے شک وہ بڑا عالی مقام ہے اور صاحبِ عظمت ہے۔

اب ایک اور اصول بیان کیا جا رہا ہے:

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۔

دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہوکر واضح ہوچکا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس کو بالکل واضح کر دیا۔ گویا کہ بتا دیا گیا کہ حق کیا ہے، باطل کیا ہے۔

اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے ﴿256﴾

تو اصل میں میں نے عرض کیا نا کہ اگر کوئی اللہ کا بن جائے، تو کوئی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ اللہ پاک سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔ اور اللہ کے سامنے کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں۔ تو جس نے اللہ پاک پر ایمان لایا اور اس نے شیطان سے انکار کر دیا، تو پھر اس نے ایک مضبوط کنڈا پکڑ لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور اللہ پاک اس طرح بے خبر نہیں ہے، یعنی خوب سننے والے بھی ہے اور سب کچھ جاننے والا بھی ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان مفاہیم اور معرفت کی جو باتیں ہیں جو قرآن میں ہیں، ان سب کو سمجھنے کی اور اس کے مطابق اپنے آپ کو رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



آیت الکرسی کی فضیلت: اللہ کی ذاتِ کبریا اور توحید کا کامل بیان - درسِ قرآن - دوسرا دور