عقائد اہل سنت والجماعت (وحدت الوجود و الشہود کی حقیقت، اور کائنات میں اللہ کی قدرت و حکمت کا توازن)

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 - (حصہ سوم) - (اشاعتِ اول)، 3 جنوری، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

  • وحدت الوجود و وحدت الشہود: ان دونوں نظریات کے مابین تطبیق اور سکر و ہوش کی کیفیات کا بیان۔
    • محبتِ الٰہی بمقابلہ محبتِ دنیا: دل کو دنیا کی محبت سے خالی کرنے کے لیے اللہ کی محبت کی ضرورت۔
      • نظامِ کائنات اور خالق کا ادراک: کائنات کی ترتیب اور انسانی جسم کی حیاتیاتی پیچیدگیوں (جیسے انسانی آنکھ کی ساخت) سے اللہ کی معرفت۔
        • اسباب اور توکل: اسباب اختیار کرنا سنت ہے جبکہ مؤثرِ حقیقی اللہ کی ذات کو ماننا اصل توکل ہے۔
          • ارادہ اور رضا: اللہ خیر و شر دونوں کا خالق ہے لیکن وہ صرف خیر سے راضی ہوتا ہے۔
            • نفس کی اصلاح: نفس پر بوجھ ڈالنے اور اس کی مخالفت سے تقویٰ کا حصول۔


              اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝

              سب سے پہلے تو معذرت ہے کہ وقت پہ میں نہیں پہنچ سکا، اصل میں راستے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ ہماری گاڑی کی Speed بھی کچھ کم تھی کسی وجہ سے، لیکن پھر بھی ہم پہنچ سکتے تھے لیکن یہاں Motorway کے بعد والا مسئلہ کچھ زیادہ لمبا ہو گیا۔ جماعت بھی ہم سے رہ گئی، پھر ہم نے اپنے گھر پہ جماعت کر لی۔ تو بہرحال! ہمارے ہاں یہ چیز بہت اہم ہے کہ ناغہ نہ ہو۔ کیونکہ ناغہ سے بڑی بے برکتی ہوتی ہے۔ تو چاہے تھوڑا ہو زیادہ ہو لیکن بہرحال حاضری ضروری ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ناغے کی بے برکتی سے محفوظ فرمائے۔ اور جو برکات و فیوض ہمارے بزرگوں کے تحریرات میں ہیں، اس سے ہمیں محروم نہ فرمائے۔

              فرماتے ہیں: 

              ہاں مسئلہ "وحدت الوجود" میں اس گروہ (صوفیہ) کی ایک بڑی جماعت شیخ کے ساتھ شریک ہے اگرچہ شیخ (موصوف) اس مسئلہ میں بھی ایک خاص طرز رکھتے ہیں لیکن اصل بات میں وہ سب لوگ (شیخ کے ساتھ) شریک ہیں۔ یہ مسئلہ بھی اگرچہ ظاہر میں اہل حق کے عقائد کے مخالف ہے لیکن توجہ کے قابل اور تطبیق دینے کے لائق ہے ـــ اس فقیر نے اللہ سبحانہ کی عنایت سے ہمارے حضرت (خواجہ باقی باللہؒ) کی "شرح رباعیات" کی شرح میں اس مسئلہ کو اہل حق کے عقائد کے ساتھ تطبیق دی ہے اور فریقین کے نزاع کو لفظ کی طرف پھیرا ہے (یعنی نزاع لفظی ثابت کیا ہے) اور طرفین کے شکوک و شبہات کو اس طرح حل کیا ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی: کَمَا لَا یَخْفیٰ عَلی النَّاظِرِ فِیہِ (جیسا کہ اس کے دیکھنے والے پر پوشیدہ نہیں ہے)۔

              اللہ اکبر۔

              مسئلہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود، یہ بہت دفعہ یہاں discuss ہو چکا ہے۔ اگر مسئلہ وحدت الوجود کو کوئی "حال" قرار دے تو پھر تو یہ بہت آسان ہے سمجھ میں آ جانا۔ اور اگر اس کو کوئی "فلسفہ" قرار دے، پھر زندیقی ہے۔ ہاں اگر کوئی اس کو فلسفہ قرار دے پھر زندیقی ہے۔ اگر کوئی "حال" قرار دے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ حال میں انسان معذور ہوتا ہے، تو معذور معذور ہوتا ہے۔ جب معذور کو اللہ پاک نہیں پکڑتے تو اور کون پکڑ سکتا ہے؟ معذور معذور ہوتا ہے۔ اور "فلسفہ" میں معذور نہیں ہوتا۔ فلسفے کا تعلق چونکہ عقل کے ساتھ ہے، لہٰذا ہوشمندی لازم ہے۔ ہر چیز کا دلیل پاس ہونا چاہیے۔ ورنہ اگر بلا دلیل بات کی اور غلط ہو، تو پکڑ ہوگی۔

              جبکہ "حال" جو ہوتا ہے، یہ کیفیت ہوتی ہے، سُکر ہوتا ہے، سکر کی حالت ہے۔ سکر میں ایک انسان کو نہیں سمجھ میں آتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے وہ معذور ہے، اور معذور کے اوپر گرفت نہیں ہے۔ لیکن معذور قابلِ اقتداء بھی نہیں ہوتا۔ یعنی معذور کو کوئی آگے نہیں کرتا۔ کیا خیال ہے، معذور کے پیچھے نماز ہوتی ہے؟ مفتی صاحب؟ مطلب یہ ہے کہ معذور معذور ہوتا ہے۔ خود اس کی نماز ہو جاتی ہے، عذر کی حالت میں اس کی نماز تو ہو جاتی ہے لیکن دوسروں کو تو نہیں نہ پڑھا سکتا۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ جو معذور ہوتا ہے وہ قابلِ اقتداء نہیں ہوتا۔ معذور قابلِ اقتداء نہیں ہوتا، ہاں یہ الگ بات ہے کہ معذور کی اللہ پاک اس کی گرفت نہیں فرماتے۔

              اصل میں ہے کیا؟ بتاتا ہوں۔ محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور محبت دنیا کے ساتھ، یہ دو چیزیں حقیقتیں ہیں۔ اللہ کے ساتھ محبت یقیناً ایک کمال ہے۔ اور دنیا کے ساتھ محبت ایک وبال ہے۔ اگر اللہ پاک کی محبت کو حاصل نہیں کیا تو دنیا کی محبت لازمی ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: فارسی کا جو ہے نا مقولہ ہے:

              خانۂ خالی را دیو می گیرد

              مطلب جو گھر خالی ہوتا ہے اس میں دیو آ جاتے ہیں، جن آ جاتے ہیں۔ لہٰذا خالی دل جو ہوتا ہے اس میں دنیا کی محبت تو آنی ہے۔  تو اس وجہ سے یہ جو ہوتا ہے دنیا کی جو محبت ہے، اس کو نکالنا لازم ہے۔ اس میں فرماتے ہیں: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ تو دنیا کی محبت جب ساری خطاؤں کی جڑ ہے تو اس کو نکالنا لازم ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں: diamond cuts diamond تو محبت کو محبت ہی کاٹ سکتی ہے۔ محبت کو محبت ہی نکال سکتی ہے۔

              تو اللہ کی محبت دنیا کی محبت کا توڑ ہے۔ اللہ کی محبت دنیا کی محبت کا توڑ ہے۔ اللہ جل شانہ کی محبت جس وقت آپ لاتے ہیں، سبحان اللہ! تو اس وقت اس کا جو فوری اثر ہوتا ہے، چونکہ اللہ پاک کی ذات بہت بڑی ہے اور اللہ جل شانہ کی عظمت بہت زیادہ ہے، اور اللہ پاک کی محبت پھر ظاہر ہے اس کو کنٹرول کوئی نہیں کر سکتا۔ نتیجتاً اس میں سکر کی کیفیت آ جاتی ہے۔ سکر کی کیفیت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ محبت کی وجہ سے اس کو کوئی اور چیز نظر نہیں آتی۔ کیا خیال ہے؟ جس کو دولت کے ساتھ محبت ہے اس کو کوئی اور چیز نظر آتی ہے؟ نہ باپ نظر آتا ہے، نہ ماں نظر آتی ہے، نہ استاد نظر آتا ہے، نہ شاگرد نظر آتا ہے۔ کیا خیال ہے؟ کوئی نظر آتا ہے اور؟ جس کو دنیا کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔

              تو اسی طریقے سے جب جس کو اللہ کے ساتھ محبت ہوتی ہے، اس کو بھی کوئی اور نظر نہیں آتا۔  ہر چیز فانی ہو جاتی ہے حتیٰ کہ خود بھی فانی ہو جاتا ہے۔ جب خود فانی ہو جاتا ہے، اس کے Senses بھی فانی ہو جاتے ہیں، اس کا علم بھی فانی ہو جاتا ہے۔ جب اس کا علم فانی ہو جاتا ہے، تو بس پھر اس کو تو صرف ایک ہی نظر آتا ہے:

              جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے

              ظاہر مطلب ہے کہ اس کے بعد تو اس کو کوئی اور چیز تو نظر نہیں آئے گی۔ ایسی صورت میں اس کے اوپر جو غلبۂ حال ہے، یہ وحدت الوجود کہلاتا ہے۔ اس صورت میں اس کے پاس علم نہیں ہوتا، اس کے پاس صرف کیفیت ہوتی ہے۔ جس وقت اس کیفیت سے انسان گزر جاتا ہے، تو یہ اتنا بڑا وہ ہے جس کو کہتے ہیں نا بات ہے، یعنی اس میں سب کچھ دھل جاتا ہے، دنیا کی محبتیں ساری ختم ہو جاتی ہیں۔ تو اس process سے جب کوئی گزر کے پھر دوبارہ ہوش میں آتا ہے، تو اس نے تو یہ دنیا دیکھی ہوتی ہے نا۔ تو ایسی صورت میں پھر وہ اس دنیا سے اثر نہیں لیتا، پھر دنیا کو سمجھ لیتا ہے لیکن اس سے اثر نہیں لیتا۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے سورج کی موجودگی میں تارے نظر نہیں آتے۔ سورج کی موجودگی میں تارے نظر نہیں آتے، یہ بالکل یقینی بات ہے۔ لیکن ایک بات یہ ہے کہ ایک شخص ناواقف ہے وہ کہتا ہے تارے ہیں ہی نہیں، دوسرا واقف ہے وہ کہتا ہے تارے ہیں تو نظر نہیں آتے بس۔ یہ بات ہے۔ یعنی واقف ہے، اس کو پتہ ہے کہ تارے ہیں لیکن وہ کہتا ہے نظر نہیں آتے۔ تو جو پہلا case ہے یہ وحدت الوجود ہے، جو دوسرا case ہے وہ وحدت الشہود ہے، یہ اس کی طرح ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ کے علاوہ اس کی جو مخلوق ہے، وہ نظر نہیں آتی اس کو، یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اس کا اثر نہیں لیتا، لہٰذا وہ وحدت الشہود کی حالت ہے۔ اور جو دوسری حالت ہے اس سے پہلے والی یعنی کیا ہے؟ وہ وحدت الوجود کی حالت ہے۔ لیکن وحدت الشہود میں جانے کے لیے وحدت الوجود سے گزرنا اکثر پڑتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اوپر بھی یہ حالت گزری ہے، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ پر گزری ہے۔ بڑے بڑے اکابر کے اوپر یہ حالت گزری ہے۔

              حضرت تھانوی صاحب خود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگ گئے میرے استاد کے پاس، میں نے وعظ کہنا چھوڑ دیا تھا، وعظ کہنا چھوڑ دیا تھا۔ تو ان کے استاد مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس لوگ گئے کہ حضرت ان کا وعظ بہت اچھا ہے، بہت فائدہ ہوتا ہے، انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ ان کو نصیحت کر لیں کہ شروع کر لیں۔ انہوں نے بلایا حضرت کو، کیوں وعظ نہیں کرتے ہو؟ آپ کے وعظ سے فائدہ ہوتا ہے، ایک فائدے سے لوگوں کو کیوں محروم کرتے ہو؟ استاد تو ڈانٹ بھی سکتا ہے۔ تو حضرت اب استاذ کو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے لیکن انہوں نے رونا شروع کر دیا۔ جب رونا شروع کر دیا تو حضرت سمجھ گئے۔ انہوں نے لوگوں کو اٹھا دیا، کہتے ہیں جاؤ بس ان کو نہ چھیڑو۔ اگر ان کو اس حالت میں منبر پر بٹھا دیا تو پہلی بات جو ان کے منہ سے نکلے گی وہ "أنا الحق" ہوگا۔ جس سے فتنہ ہوگا، لہٰذا آپ ان کو چھوڑیں۔ اور پھر جس وقت اچھی صحیح حالت پہ، افاقہ کی حالت پہ آ گئے، تو اس کے بعد پھر حضرت سے خود کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا تھا؟ فرمایا ہاں اس وقت مجھ پہ توحید کا غلبہ تھا۔ 

              سبحان اللہ!

               تو یہ جو ہوتا ہے، مطلب یہ جو توحید کا غلبہ ہوتا ہے، یہ وحدت الوجود کی حالت میں سکر کی حالت میں ایسا ہوتا ہے۔ اور جس وقت کہ ہوش میں آ جاتا ہے، تو پھر یہ چیز وحدت الشہود میں بدل جاتی ہے۔

              عقیدہ نمبر (9)

              جاننا چاہئے کہ تمام ممکنات خواہ جواہر ہوں یا اعراض، خواہ اجسام و عقول ہوں یا نفوس، افلاک ہوں یا عناصر، سب اسی قادر مختار کی ایجاد کئے ہوئے ہیں ان کو جو یہاں خانہ عدم سے معرض وجود میں لایا ہے، اور جس طرح یہ سب اپنے وجود میں اس تعالیٰ کے محتاج ہیں اسی طرح بقا (باقی رہنے) میں بھی اس سبحانہ کے محتاج ہیں، اور اس نے اسباب و وسائل کے وجود کو اپنے فعل کا روپوش بنا دیا ہے اور حکمت کو اپنی قدرت کے پردے بنا دیئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اسباب کو اپنے فعل کے ثبوت کے دلائل قرار دے کر حکمت کو اپنی قدرت کے وجود کا وسیلہ فرمایا ہے کیونکہ وہ عقلمند حضرات جنہوں نے حضرات انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی متابعت میں اپنی بصیرت کو سرمگیں اور روشن کر لیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اسباب و وسائل اپنے وجود و بقا میں اس سبحانہ کے محتاج ہیں اور اپنا ثبوت و قیام اسی تعالیٰ و تقدس سے اور اسی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں وہ جماد محض ہیں، وہ کس طرح دوسرے میں جو وہ بھی ان کے مثل (جماد) ہے اثر انداز ہو سکتے ہیں، اور ان میں احداث و اختراع کس طرح کر سکتے ہیں (ہرگز نہیں) بلکہ ان کے علاوہ اور قادر ہے جو ان کو ایجاد کرتا ہے اور ہر ایک کے لائق و مناسب کمالات ان کو عطا فرماتا ہے جیسا کہ عقلمند آدمی جماد محض سے فعل کو دیکھ کر اس کے فاعل اور محرک کا سراغ لگا لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ فعل اس (جماد) کے حال کے لائق نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور فاعل ہے جو اس فعل کو اس میں ایجاد کرتا ہے، لہذا عقلمندوں کے نزدیک جماد کا فعل، فاعل حقیقی کے فعل کا روپوش ہونا ثابت نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی جمادیت کی طرف نظر کرنے کے لحاظ سے اس کا وہ فعل فاعل حقیقی کے وجود پر دلیل ہو گیا۔ پس یہاں بھی اسی طرح ہے۔

              لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ۔

              إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

              بے شک کائنات کی تخلیق میں اور دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں، اور عقلمند وہ لوگ ہیں جو کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرنے والے ہیں اور جو کائنات کی تخلیق میں فکر کرنے والے ہیں، تو ان کے دل سے بے ساختہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اے اللہ! ان تمام چیزوں کو تو نے بے فائدہ نہیں پیدا کیا، پس تو پاک ہے پس ہمیں عذابِ جہنم سے نجات عطا فرما۔

              تو اس میں یہ والی بات ہے کہ حضرت نے بھی یہی بات ارشاد فرمائی ہے کہ عقلمند لوگ جو ہوتے ہیں وہ چیزوں کے اندر غور کرنے سے چیزوں کے خالق کو جان لیتے ہیں۔ چیزوں کے اندر غور کرنے سے چیزوں کے خالق کو جان لیتے ہیں۔ یہ بات ہے۔

              کوئی شخص کسی کے گھر میں جائے اور وہ گھر ویران پڑا ہو۔ اور دوسرے گھر میں جائے وہ بالکل سلیقے سے ساری چیزیں موجود ہوں، تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟  کہ جو گھر ویران پڑا ہے اس کا کوئی مالک نہیں ہے،  اور جو سلیقے سے پڑا ہوا ہے ساری چیزیں، تو اس کا مالک موجود ہے اس کو maintain کر رہا ہے۔ ہر چیز کا اللہ پاک نے سبب بنایا ہے۔ بغیر سبب کے جو چیزیں بنتی ہیں وہ خرقِ عادت ہوتی ہیں۔ اور خرقِ عادت ہر وقت نہیں ہوتا۔ وہ جب اللہ پاک چاہتا ہے۔ بلکہ فرمائش پر بھی نہیں کرتے، اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔

              تو ہر چیز اللہ پاک نے اپنی قدرت سے تخلیق فرمائی ہے اور اپنی قدرت سے اس کو maintain کیا ہوا ہے۔ خالق بھی ہے اور قیوم بھی ہے۔  مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو maintain بھی رکھنے والا ہے۔ اگر ذرہ بھر بھی… اللہ نہ فرمائے، (مثال نہیں ہے اللہ پاک کے لیے ظاہر ہے ہم تو نہیں کہہ سکتے) لیکن یہ کہ سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں کہ میں نے جس چیز کو پکڑا ہوتا ہے اور وہ کسی اور چیز کی وجہ سے نہیں پکڑا گیا ہوتا، تو میں اس کو چھوڑ دوں تو کیا ہوگا؟ ظاہر ہے وہ گرے گا۔ تو اسی طریقے سے اللہ پاک نے پوری کائنات کو تھاما ہوا ہے۔ وَلَا یَئُٔودُهُ حِفۡظُهُمَامطلب اس کو تھکاتا نہیں ہے۔ تو اللہ جل شانہ نے اس ساری چیزوں کو تھاما ہوا ہے، ہر چیز کو اپنی اپنی جگہ پہ رکھا ہوا ہے۔

              آپ کسی کارخانے میں جائیں نا، کارخانے میں، اس کارخانے میں جو چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں نا آپ حیران ہو رہے ہوتے ہیں کہ یہ کیسے ہو رہی ہیں۔ کوئی جگہ سے سوئی نکل رہی ہے، دوسری جگہ سوئی اندر جا رہی ہے، کسی جگہ ڈبکی لگا رہا ہے، کسی جگہ پر کیا کر رہا ہے کسی جگہ پر کیا کر رہا ہے۔ وہ ایک نظام چل رہا ہوتا ہے بہت تیزی کے ساتھ چل رہا ہوتا ہے، آپ کو سمجھ نہیں آتی لیکن اگر آپ تھوڑا سا اس کو Slow Motion میں دیکھیں تو ساری چیزیں بالکل اپنی اپنی جگہ پہ ٹھیک ٹھاک ہو رہی ہوتی ہیں۔ تو آپ کہتے ہیں واہ جی واہ! کمال ہے۔ یہ تو صرف ایک چھوٹا سا کارخانہ ہوتا ہے۔ ہمارے جسم کے اندر کیا کچھ Automatically ہو رہا ہے۔

              کمال کی بات ایک تو اللہ پاک کی قدرت کا کارخانہ جو باہر ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ سَنُرِيْهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ مطلب آفاق کے اندر جو آیات ہیں اس کا کوئی حد نہیں۔ اور دوسرا ہمارے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا بھی کوئی حد نہیں۔ باریک سے باریک میں، ہمارے دماغ کو دیکھیں۔ دماغ کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ signals کیسے آ رہے ہیں؟ دیکھو نا ہر طرف سے Signals Signals ہیں۔ اب دیکھو ہماری جو آنکھیں ہیں، ان کے signals پیچھے جاتے ہیں، وہ process ہو رہے ہوتے ہیں، اس سے تصویر بن رہی ہوتی ہے۔ تصویر سے اس کا ہم لوگ جو تاثر ہے وہ لے رہے ہوتے ہیں۔ وہ store بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ reflexes بھی دے رہا ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کو اچانک کوئی چیز سامنے آ گئی تو آپ رک جاتے ہیں۔ یہ رک جانا کیا ہے؟ یہ بھی ایک reflex ہے نا۔ یعنی وہ جو چیز آ گیا تو آپ کے جسم نے اس کو جو ہے نا وہ کیا کہ یہ کیا چیز ہے۔ مثلاً یکدم ادھر سے سانپ گر جائے تو کیا خیال ہے آپ لوگ کیا کریں گے؟ تو یہ ظاہر ہے پورا ایک نظام ہے، اب سانپ کو دیکھا، دیکھنے کے ساتھ دماغ نے محسوس کیا، pick کیا، اس کو process کیا، pick کر لیا، اور Pick کرنے کے ساتھ فوراً اس نے prompt action کر لیا: بھاگو! چھوڑو اس رستے کو۔

              تو یہ سارا ہمارے اندر ہو رہا ہے۔ ہمارے لیے تو چونکہ معمول کی بات ہے لہٰذا ہم اس پہ حیران نہیں ہو رہے ہوتے۔ لیکن جو اس process پہ غور کرتے ہیں نا analytically، وہ پھر حیران ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک eye specialist نے مجھے کہا کہ جب میں آنکھ کو کھول دیتا ہوں آپریشن کے لیے تو کہتا ہے خدا تعالیٰ کی صناعیت پہ حیران رہ جاتا ہوں۔ شاید آپ کو تو محسوس بھی نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ کہتے ہیں بھئی کیوں حیران ہو رہے ہیں؟ آنکھ آنکھ ہی ہے بس ٹھیک ہے۔ آپ کو پتہ ہے اس آنکھ کے اندر کتنے cones ہیں اور کتنے rods ہیں؟  کبھی پتہ ہے سنا ہے؟ لاکھوں! لاکھوں سامنے اور پھر سائیڈ میں۔ وہ سامنے پورا picture بناتا ہے۔ اور جو سائیڈ پہ rods ہوتے ہیں وہ صرف محسوس ہونے کے لیے ہوتے ہیں۔ مثلاً اب مجھے پتہ ہے ادھر کچھ ہے، تفصیل نہیں معلوم۔ لیکن آپ کو میں دیکھ رہا ہوں مجھے پتہ ہے آپ ہی ہیں۔ ادھر اگر کوئی نیا آدمی آ گیا تو مجھے پتہ نہیں چلے گا بس پتہ چلے گا کہ کوئی آ گیا ادھر بیٹھ گیا۔ لیکن باقی مجھے تفصیل کا پتہ نہیں ۔ جبکہ سبحان اللہ! جس طرح Irregular, Irregular, Irregular reflection کے فوائد میں نے بتائے تھے نا ایک دن، ایک ہوتا ہے نا Regular reflection آئینے کی، جس کے اپنے فوائد ہیں۔ وہ بتایا تھا میں نے کہ بھئی یہ تو آپ کو سورج کی روشنی آئینہ آپ کی طرف کر لیتی ہے، اس کے اپنے فوائد ہیں۔ لیکن Irregular reflection کے یہ فوائد ہیں کہ دیکھو یہ سورج کی روشنی جس وقت سورج افق سے پیچھے ہو جاتا ہے اور آپ کو تقریباً آدھ پون گھنٹے تک چیزیں نظر آتی ہیں، یہ Irregular reflection کی برکت ہے۔ ہاں! اور یہ جو چاند کی روشنی بہت مزیدار لگتی ہے، چاندنی، یہ کیا چیز ہے؟ یہ Irregular reflection کی برکت ہے۔ اگر چاند آئینہ بنتا تو آئینے میں سورج آپ کو بالکل سامنے ہوتا اس لیے جس طرح آئینے سے، بلکہ آئینے میں یہ ہوتا ہے کہ migraine اکثر آئینے سے ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں جو روشنی ہوتی ہے بالکل آنکھ کے اوپر سیدھی پڑتی ہے۔ پانی میں بھی کبھی اس طرح آ جاتا ہے تو اس سے migraine ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز بالکل ہوتی تو آپ رات کو تو پھر پریشان ہوتے، لیکن اللہ پاک نے اس کے اوپر بڑے بڑے گڑھے بنا دیے۔ ان گڑھوں کی وجہ سے جو Irregular reflection ہوتی ہے وہ سبحان اللہ چاندنی بن جاتی ہے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو Rods ہیں، سبحان اللہ سبحان اللہ! اس میں بھی بڑی حکمت ہے۔ کچھ سوچا اس میں کیا حکمت ہو سکتی ہے؟ کچھ سمجھ میں آئی کیا حکمت ہو سکتی ہے؟ حضرت اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ اگر غیر محرم اس طرح بیٹھے ہوں تو اس کی existence کا پتہ ہے لیکن اس کا آپ پر اثر انداز نہیں ہوگی مطلب آپ کا اس کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے۔ لہٰذا تو اب بات ہے بعض کسی چیز کے موجود ہونے کا پتہ تو ہونا چاہیے لیکن اس کو دیکھنا تو منع ہے، اس کو دیکھنا تو منع ہے۔ لیکن آپ کو محسوس تو ہو رہی ہے نا، تو آپ بچیں گے بھی۔

              یہ تو میں نے صرف ایک بتا دیا جو سمجھ میں آ گیا، واللہ اعلم کتنے اور اس کی برکات ہیں اور وہ ہے۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو اللہ پاک نے اتنی چیزیں ہمارے اندر رکھی ہیں، اور اس کے اندر غور کرنے سے ہمیں اللہ جل شانہ کے وجود کا ادراک ہوتا ہے۔  تو کائنات کے اندر وہ تو بہت وسیع ہے۔ اس کے اندر کیا کیا کچھ رکھا ہے اللہ پاک نے۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ ہر چیز کے لیے اللہ پاک نے اسباب بنائے ہیں لیکن یہ اسباب غلام ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے۔ خود کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ جو فلسفی تھے دنیا بھر کے جاہل لوگ جو فلسفی بن گئے تھے، مطلب اس لحاظ سے جاہل کہ حقیقت کے مخالف، ورنہ اُس وقت کے بڑے ہوشیار لوگ تھے۔ اب دیکھیں وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ پاک نے عقلِ اول کو بنا دیا اور پھر خود فارغ ہو گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ عقلِ اول نے پھر عقلِ دوم کو بنا دیا، عقلِ دوم نے پھر عقلِ سوم۔ خدا کے بندے کیا کہتے ہو؟ آپ کو کس نے بتایا؟ کہاں سے آپ نے پتہ کیا؟  تو مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ جس طرح کسی چیز کے پیدا کرنے میں کسی شریک کے محتاج نہیں، اس طرح کسی کو سنبھالنے میں بھی شریک کے محتاج نہیں ہیں۔ سب لوگ اسی کے محتاج ہیں۔

              مسئلہ صرف یہ ہے کہ چیونٹی جو ہے ایک چیز کو نہیں اٹھا سکتی۔ تو اب یہ تو نہیں کہہ سکتے ہاتھی بھی نہیں اٹھا سکتا۔ کیونکہ چیونٹی ہاتھی نہیں ہے۔  تو یہ تو دنیا کی مخلوق کی میں نے بات کی۔ تو کہاں اللہ جل شانہ کی ذات وہ جو وراء الوراء ہے، جس کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے، مثال بھی نہیں دے سکتے، تو ان کے بارے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم چونکہ تھک جاتے ہیں تو اللہ بھی تھک جاتا ہوگا؟ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ سب اللہ پاک کی قدرت کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اللہ پاک کے لیے پوری کائنات کو بنانا اور ایک ذرے کو بنانا ایک جیسا ہے۔ پورے کائنات کو بنانا اور ایک ذرے کو بنانا ایک جیسا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک قادر ہے۔ اللہ جل شانہ قادر ہے۔ إِنَّ اللهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔


               البتہ اس بے وقوف کے فہم میں جماد کا فعل فاعل حقیقی کے فعل کا روپوش بن گیا جس نے اپنی حد درجہ بے وقوفی کی وجہ سے  (حضرت نے ان کو بے وقوف ہی کہہ دیا) بے وقوفی کی وجہ سے جماد محض کو اس ظاہری فعل کے سبب صاحب قدرت جان لیا ہے اور فاعل حقیقی کا منکر ہو گیا ہے : يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا (بقرہ 2 آیت 26) (گمراہ کرتا ہے اس سے بہت لوگوں کو اور ہدایت کرتا ہے اس سے بہت لوگوں کو)

              یہ معرفت "مشکوٰۃ نبوت" سے مقتبس ہے لیکن ہر شخص کی فہم اس تک نہیں پہنچی۔ ایک جماعت اس کمال کو اسباب کے دور کرنے میں جانتی ہے اور شروع ہی سے چیزوں کو بغیر اسباب کے توسط کے حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی طرف منسوب کرتی ہے اور نہیں جانتے کہ اسباب کے رفع کرنے ہیں حکمت ختم ہو جاتی ہے جس کے ضمن میں بہت سی مصلحتیں مد نظر ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا (العمران 3 آیت 191) 

              اصل میں نہ تو اللہ پاک کی قدرت کا انکار کرو، نہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا انکار کرو۔ اگر اللہ پاک نے اپنی حکمت کے ساتھ ایک چیز کو بنایا ہے اور فائدہ پیدا کیا ہے، تو تم کون ہو اس کا انکار کرنے والے؟ افراط و تفریط منع ہے۔ لہٰذا قدرت کے اوپر اتنی نظر کہ حکمت سے انسان کی نظر چلی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت جو ہے وہ کامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت جو ہے وہ کیا ہے وہ کامل ہے۔ اللہ پاک کی کوئی بھی صفت کمزور نہیں ہے۔ لہٰذا جب یہ والی بات ہے تو قدرتِ کاملہ کی وجہ سے پھر حکمتِ کاملہ کو تو نہیں نہ چھوڑنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ نے جو اسباب بنائے ہیں اس میں حکمت ہے۔ اور اللہ پاک ان اسباب کا محتاج نہیں کیونکہ قادر ہے۔ یہ اسباب اس نے ہمارے لیے بنائے ہیں، اپنے لیے نہیں بنائے۔ اسباب ہمارے لیے بنائے ہیں اپنے لیے نہیں بنائے۔  اپنے لیے تو جس وقت إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ۔ اس کے لیے تو کیا مسئلہ ہے۔


              جاری ہے ان شاءاللہ

              عقائد اہل سنت والجماعت (وحدت الوجود و الشہود کی حقیقت، اور کائنات میں اللہ کی قدرت و حکمت کا توازن) - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور