اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ ۘ مِّنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ ؕ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا ۟ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ ﴿253﴾
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ؕ وَالْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿254﴾
صَدَقَ اللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔
یہ پیغمبر جو ہم نے (مخلوق کی اصلاح کے لئے) بھیجے ہیں، ان کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا، اور ان میں سے بعض کو اس نے بدرجہا بلندی عطا کی۔
مطلب یہ ہے کہ تھوڑی بہت فضیلت تو مختلف انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر دی گئی ہے، لیکن بعض انبیائے کرام کو دوسروں پر بدرجہا زیادہ فضیلت حاصل ہے، اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔
ہمارے شیخ فرمایا کرتے تھے:
ولی را ولی می شناسد،
نبی را نبی می شناسد،
خاتم النبیین را خدا می شناسد۔
ولی کو ولی جان سکتا ہے، نبی کو نبی جان سکتا ہے اور خاتم النبیین کو صرف اللہ ہی جان سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اور کوئی خاتم النبیین تو ہے نہیں جو ان کو جانے، تو یہ بات کہ آپ ﷺ کی جو فضیلت ہے، اس کی طرف یہ اشارہ ہے۔
اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی نشانیاں دیں، اور روح القدس سے ان کی مدد فرمائی۔
اس کی تشریح پہلے آ چکی ہے یعنی جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے ان کی مدد فرمائی۔ اور کھلی نشانیوں سے مراد یہ ہے کہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے، پرندے میں پھونک مارتے تھے اور پھر وہ زندہ ہو جاتا تھا۔ تو برص ٹھیک ہو جاتا تھا۔ اس طرح اور۔۔۔ تو یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس کے ذریعے سے ان کی مدد فرمائی۔
اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے لوگ اپنے پاس روشن دلائل آجانے کے بعد آپس میں نہ لڑتے، لیکن انہوں نے خود اختلاف کیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جو ایمان لائے، اور کچھ وہ جنہوں نے کفر اپنایا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ﴿253﴾
قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کردیتا، اور اس صورت میں سب کا دین ایک ہی ہوجاتا، اور کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا، لیکن اس سے وہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا جس کے لئے یہ دنیا بنائی گئی ہے اور انسان کو اس میں بھیجا گیا ہے۔ انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد اس کا یہ امتحان لینا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں سے ہدایت کا راستہ معلوم کرنے کے بعد کون ہے جو اس ہدایت پر اپنی مرضی سے چلتا ہے، اور کون ہے جو اس کو نظر انداز کرکے اپنی من گھڑت خواہشات کو اپنا رہنما بناتا ہے۔ اس لئے اللہ نے زبردستی لوگوں کو ایمان پر مجبور نہیں کیا۔ چنانچہ آگے آیت نمبر 256 میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ حق کے دلائل واضح کردیئے گئے ہیں، اس کے بعد جو کوئی حق کو اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ایسا کرے گا، اور جو شخص اسے نظر انداز کرکے شیطان کے سکھائے ہوئے راستے پر چلے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔
تو یہ عرض کر رہا ہوں کہ دو چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کی قدرت میں سب کچھ ہے۔ اس لیے اگر وہ چاہتا تو کوئی بھی اللہ پاک کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا تھا۔ جیسے اللہ پاک کے تکوینی نظام میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوتا۔ جو ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس طرح اگر اللہ چاہتے تو سب کو مسلمان کر سکتے تھے۔ لیکن یہ تو بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی، یہ تو یہاں کے اختیار والی بات نہ ہوتی۔
تو اللہ پاک نے ساری چیزیں مہیا کر کے اختیار دے دیا۔ یعنی تم یہ بھی کر سکتے ہو، یہ بھی کر سکتے ہو، یہ بھی کر سکتے ہو، تمہیں اختیار ہے۔ البتہ تم یہ کرو گے تو یہ ہوگا، یہ کرو گے تو یہ ہوگا، یہ کرو گے تو یہ ہوگا۔ ساتھ ساتھ بتا دیا۔ اس کو ہدایت کہتے ہیں۔ تو اب اگر کوئی شخص اس ہدایت والے راستے پر چلتا ہے کہ جو بتایا گیا ہے کہ اس میں فائدہ ہے اور اس پر چلے گا تو اس کو وہ فائدہ حاصل ہوگا۔ اور جو ہدایت کے خلاف چلتا ہے تو اس کے بارے میں جو بتایا گیا کہ یہ ہوگا تو پھر وہ ہو جائے گا۔ تو اس نے گویا کہ اپنے لیے آسانی اور مشکل خود ہی Adopt کر لیا اپنے ارادے کے ساتھ۔ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ باقی یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سارے لوگ ایک ہی دین پر ہوتے، کوئی بھی چوں بھی نہیں کر سکتا تھا۔ سب وہی کرتے۔ وہی کرتے جو کہ اللہ چاہتا۔ لیکن اللہ پاک نے سب کو اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے ایک بات لے لے چاہے دوسری بات لے لے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ؕ وَالْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿254﴾
اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے وہ دن آنے سے پہلے پہلے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرلو جس دن نہ کوئی سودا ہوگا، نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)، اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی۔
یہاں پر گویا کہ بتایا جا رہا ہے کہ جو چیزیں اس وقت تم کر سکتے ہو بعد میں نہیں کر سکو گے۔ بعد میں نہیں کر سکو گے۔ جیسے مثال کے طور پر ایک شخص ہے، Question Paper اس کے ہاتھ میں ہے، تین گھنٹے کا ٹائم ہے۔ ان تین گھنٹے میں وہ جو اس کو آتا ہے وہ لکھ لے گا۔ اس کے پاس لکھنے کا چانس ہے، قلم اس کے ہاتھ میں ہے، ٹائم اس کے پاس ہے، پیپر اس کے سامنے پڑا ہوا ہے۔ تو جو اس کو آتا ہے وہ لکھ لے۔ لیکن اگر اس نے ایک دفعہ پیپر رکھ دیا یا ٹائم ختم ہو گیا، اس کے بعد ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکے گا۔ اس کو اجازت نہیں ہو گی حالانکہ بے شک وہ کہتا ہو کہ مجھے آتا ہے۔ آتا ہے تو لکھ لیتے، کس نے روکا تھا؟ تو Within that due time آپ جو کچھ لکھنا چاہتے تھے لکھ سکتے تھے۔ لیکن اب Time over مطلب ٹائم ختم ہو گیا، تو اس کے بعد اب اگر کوئی لکھے گا تو خلاف ورزی ہو گی یہاں پر۔ وہاں تو خلاف ورزی کر ہی نہیں سکے گا۔ یہاں پر حکم کی خلاف ورزی ہو گی، Negative مسئلہ ہو سکتا ہے۔
تو اس وجہ سے جو وقت دیا گیا ہے۔ اب چونکہ وہاں پر تو تین گھنٹے کا ٹائم بتایا گیا ہے لیکن یہاں پر تین گھنٹے کا ٹائم نہیں ہے، یہاں پر جتنا ٹائم ہے اللہ کو پتا ہے تمہیں پتا نہیں ہے۔ اس کے اندر اندر کرنا ہے۔ لہٰذا آپ کا ایک سیکنڈ آخری ہو سکتا ہے کوئی اگلا سیکنڈ۔ لہٰذا اس سے پہلے پہلے کر لو، جتنا کر سکتے ہو۔ اب مثال کے طور پر گاڑی جا رہی ہے، اور یکدم اس کا ایکسل ٹوٹ جاتا ہے اور آدمی کسی اور گاڑی سے ٹکرا جاتا ہے یا پُل سے گر جاتا ہے۔ اس کے پاس پھر کیا ٹائم ہے؟ بس وہ within seconds وہ چلا جائے گا۔ تو اس کے پاس کوئی ٹائم والی بات نہیں ہو گی۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی بیماری ہو گی، تو لمبی ہو گی، تو پھر اس وقت میں توبہ کر لوں گا یا یہ کر لوں گا وہ کر لوں گا۔ وہ سب کے لیے تھوڑی ہوتی ہیں؟ مطلب اچانک دھماکا ہو جاتا ہے اس میں کتنے سارے لوگ اڑ جاتے ہیں۔ چھت گر جاتی ہے، تودہ گر جاتا ہے۔ ابھی مجھے کسی نے وہ بھیجا ہے ویڈیو کہ وہ ایک گاڑی جا رہی ہے اس کے اندر میوزک لگا ہوا ہے، میوزک سنتے ہیں۔ اور صاف سڑک ہے لیکن بارش ہو رہی ہے، یکدم اوپر سے ایک تودہ گرتا ہے بس سارا کچھ ختم۔ تو بات یہ ہے کہ اب آدمی کیا کر سکتا ہے؟ اس وقت وہ مست ہے۔ یہ ہم دیکھتے نہیں ہیں کہ شادی پہ جو لوگ جاتے ہیں اور ناچتے کودتے ہیں اور رنگ رلیاں مناتے ہیں سب کچھ کرتے ہیں، اچانک ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے اور بس کام خراب ہو جاتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اب یہ جو ٹائم دیا گیا تھا وہ عمل کے لیے تھا۔ وہ ہم نے وہ ویڈیو جو دیکھی تو اس میں باقاعدہ آوازیں آ رہی ہیں "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، مطلب اس وقت جب ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ لیکن وہ تو آخری بعض اوقات تھے نا، اس سے پہلے تو بہت کچھ کر سکتے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی یہ جو چیزیں ہیں انسان کو سمجھنا چاہیے کہ میرے پاس جتنا ٹائم ہے، جتنا وقت ہے، اس کو میں صحیح طور پر استعمال کروں۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
آگے ایک بہت بڑا مضمون آ رہا ہے، تو اس کو کل پہ چھوڑ دیتے ہیں ان شاء اللہ۔ وہ آیت الکرسی کا ہے۔ آیت الکرسی بذاتِ خود ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔ تو ان شاء اللہ اس پر ان شاء اللہ کل بات کریں گے ان شاء اللہ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔