دین میں یکسوئی، جہاد اور مالِ غنیمت کے احکام

درس نمبر 73- باب الصدق، حدیث نمبر 58، (اشاعتِ اول)، 21 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• جہاد میں یکسوئی کی اہمیت۔

• انبیاءِ کرام کے واقعات اور اللہ کی طرف سے ان کی مدد۔

• مالِ غنیمت کے احکام اور اُمتِ محمدیہ کے لیے اس کی حلت (جواز)۔

• کسی بھی دینی کام میں اخلاص کی ضرورت۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

دین کے کام کو مکمل توجہ کے ساتھ کرنا چاہئے

(58) ﴿اَلْخَامِسُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهٗ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِقَوْمِهٖ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا لَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا، وَلَا أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا. فَعَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَ أَنَا مَأْمُورٌ، اللّٰهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا، فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ يَعْنِي النَّارَ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَجَاءُوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعَهَا فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا فَلَمْ تَحِلُّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا ثُمَّ أَحَلَّ اللهُ لَنَا الْغَنَائِمَ لِمَا رَأَى ضَعْفَنَا وَ عَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

پانچویں حدیث: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام میں سے ایک پیغمبر نے جہاد کے لئے نکلتے وقت اپنی قوم سے کہا کہ وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا ہے لیکن ابھی تک اس کو گھر میں نہیں لایا جب کہ اس کے پروگرام میں اس کو گھر لانا ہے اور وہ شخص بھی میرے ساتھ نہ نکلے جس نے مکان تعمیر کر لیا ہے لیکن چھت نہیں ڈالی اور وہ شخص بھی نہ چلے جس نے حاملہ بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کی ولادت کا منتظر ہے اس کے بعد وہ جہاد پر نکلے۔ عصر کی نماز کے قریب اس بستی کے پاس پہنچے جن سے جہاد کرنا تھا تو انہوں نے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اس کے حکم کا پابند ہوں۔ اے اللہ سورج کو روک لیجئے، سورج رک گیا یہاں تک کہ اللہ نے فتح سے نوازا۔ انہوں نے غنیمتوں کو یکجا کرنے کا حکم دیا آسمان سے آگ آئی تاکہ ان کو جلا ڈالے لیکن آگ نے نہ جلایا، اس پر پیغمبر نے فرمایا یقیناً تم نے غنیمت کے مال میں خیانت کی ہے لہٰذا ہر قبیلہ سے ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ تم میں خیانت ہے پس چاہئے کہ تمہارا پورا قبیلہ میرے ہاتھوں پر بیعت کرے چنانچہ دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ پر چپک گئے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تم نے خیانت کی ہے تو وہ ایک گائے کے سر جیسا سونے کا سر لائے تو اسے بھی مال غنیمت میں رکھ دیا، آگ آئی تو اسے کھا گئی۔ ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمت حلال نہ تھی پھر اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھ کر حلال کر دیا۔“

یہ فرماتے ہیں کہ دین کا کام یکسوئی کے ساتھ کرنا چاہئے

فقال لقومه لا يتبعنى رَجُلٌ مَلَكَ بضع امرأة“ میرے ساتھ وہ شخص نہ نکلے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو۔

حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے چند قسم کے لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے سے روک دیا کیونکہ جب آدمی کا دل کسی چیز میں اٹکا ہوا ہوتا ہے تو اس چیز کے علاوہ کسی اور کام میں آدمی کی طبیعت نہیں لگتی اور ان جیسے لوگوں کو لشکر میں شریک کیا جاتا تو وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دشمن کا مقابلہ نہیں کرتے اور یہ تو ظاہر ہے جہاد میں تو آدمی کو اپنا جوش جذبہ دکھانا ہوتا ہے۔

اور یہ سوال ہے کہ کیا سورج کسی کے لیے رکا ہے؟

اس نبی نے سورج کو مخاطب کر کے فرمایا، تو بھی اللہ کی طرف سے مامور ہے اور میں بھی اللہ کی طرف سے مامور ہوں، اے اللہ! اس سورج کو ہم پر روک دے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوشع بن نون علیہ السلام کے لیے سورج کو غروب ہونے سے روک دیا گیا تاکہ غروب سے پہلے پہلے فتح ہو جائے۔ مواہبِ لدنیہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ کو بھی یہ معجزہ آپ ﷺ کی زندگی میں دو مرتبہ دیا گیا۔ سورج غزوۂ خندق کے دن جنگ کی وجہ سے غروب ہو گیا مگر آپ ﷺ کی دعا کی وجہ سے سورج کو واپس کر دیا گیا، آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی۔

«يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ»

اور اس طرح یہ بھی فرماتے ہیں کہ

اس حدیثِ شریف میں کہ امتِ محمدیہ پر مالِ غنیمت حلال ہے۔

پہلی اُمم میں یہ دستور تھا کہ جب ان کو مالِ غنیمت ملتا تو اس کو ایک میدان میں جمع کر دیتے اگر وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہوتا تو آسمان سے آگ آتی اور اس کو جلا دیتی اور اگر عنداللہ مقبول نہ ہوتا تو آگ اس کو نہیں جلاتی۔ مالِ غنیمت کو استعمال کرنے کی اُممِ سابقہ کو اجازت نہیں تھی، یہ اس اُمّتِ محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے لئے اللہ نے مالِ غنیمت کو حلال کر دیا۔

جیسے کہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا پس مالِ غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں کمزور و عاجز دیکھا تو اس کو ہمارے لئے حلال قرار دیا۔

تخریجِ حدیث: صحیح بخاری کتاب الجہاد (باب قول النبی ﷺ احلت لکم الغنائم) و کتاب النکاح (باب من احب النساء قبل الغزو)۔ صحیح مسلم کتاب الجہاد (باب تحلیل الغنائم لہذا الامۃ خاصۃ) و اخرجہ احمد فی مسندہ ۸۲۴۵/۳، والبیھقی ۳۹۰/۶، و ابن حبان ۴۸۰۷

تو ظاہر ہے، ان حضرات نے تو اس کی تشریح کر لی البتہ اس میں ایک اور بات بھی لگتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کا سوچ ایک چیز میں اٹکا ہوتا ہے، تو اس کی ایک توجہ اس سے بنتی ہے، اور اس توجہ کی وجہ سے دوسرے کاموں پر اثر پڑتا ہے۔ تو یہ یکسوئی والی بات بھی ہے اور یہ والی بات بھی ہے کہ اگر کسی کو۔۔۔ جیسا کہ حضرت مولانا اشرف اشرف صاحب رحمة اللہ علیہ، انہوں نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ آج بھی ان کے ساتھ کچھ لوگ جاتے تو پھر اُن کو بڑی مشکلات پیش آئیں، تو حضرت نے فرمایا: آئندہ میرے ساتھ ہر ایک نہیں جائے گا۔ کیونکہ بعض لوگوں کا مسئلہ اتنا Clear نہیں ہوتا، تو مشکلات پھر آتی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ یکسوئی بھی ضروری ہے، اور یہ بھی کہ مطلب یہ کہ واقعی، اس مسئلے میں اخلاص ہو، دیکھا دیکھی کوئی کام نہ ہو، بلکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔ تو اس میں پھر اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے، ورنہ پھر مشکلات وغیرہ بھی ہو سکتی ہیں۔ تو یہاں سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے اس حدیث شریف سے، کہ اس نبی نے بھی ان لوگوں کو روک دیا تھا جن کی توجہ کسی اور چیز کی طرف تھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح فہم عطا فرمائے قرآن و حدیث کا۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔




دین میں یکسوئی، جہاد اور مالِ غنیمت کے احکام - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور