شہادت کی تمنا اور اخلاصِ نیت کی اہمیت

درس نمبر 72- باب الصدق، حدیث نمبر 57، (اشاعتِ اول)، 20 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• شہادت کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کرنا۔

• اخلاصِ نیت کی اہمیت۔

• صحابہ کرام کا اللہ تعالیٰ پر کامل یقین۔

• حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تمنا اور قبولیت۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

والسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النبیین

صدق دل سے شہادت کی تمنا

(57) ﴿الرَّابِعُ: عَنْ أَبِي ثَابِتٍ، وَقِيلَ أَبِي سَعِيدٍ، وَقِيلَ أَبِي الْوَلِيدِ، سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ بَدْرِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَأَلَ اللهَ تَعَالَى الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهٖ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

چوتھی حدیث: ”حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری صحابی روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص صدق دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت طلب کرتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو شہداء کے مراتب کا مستحق ٹھہرائے گا۔“


یہاں پر وھو بدری فرمایا گیا ہے، سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری صحابی ہیں۔ بدری ہونے کو یہاں خصوصیت سے بیان فرمایا گیا کہ یہ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لئے بہت ہی خصوصیت کی بات تھی جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا۔ وہ خصوصیت یہ ہے کہ ”اِطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالُوا اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ.“

اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو اپنی خصوصی نظر کرم اور مغفرت سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فرمایا ہے تم جو چاہو کرو جنت تمہارے لئے واجب ہوگئی ہے۔

اس میں یہ فرمایا گیا: الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاء سچے دل سے شہادت طلب کرنے والا شہداء کے درجہ پر ہوگا

”الشہادۃ بصدق بلغہ اللہ منازل الشہداء“ سچے دل سے شہادت طلب کرنے والا (اگر اپنے بستر پر ہی مر جائے) تب بھی اس کو شہداء کے مراتب کا مستحق ٹھہرایا جائے گا۔

اس حدیث پاک میں اخلاص نیت کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے کہ دل میں اخلاص سے نیت کرنے سے بھی اللہ تعالیٰ لوگوں کو شہداء کے مرتبوں پر فائز کر دیتا ہے۔

یعنی لڑائی کے میدان میں شہید ہوئے بغیر ہی محض صدق و اخلاص کی بناء پر اتنا بلند مرتبہ عطاء فرما دیتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر کسی کی نیت خراب ہو تو میدان جہاد میں بہادری سے لڑائی کرنے کے بعد بھی جہنم میں جائے گا۔

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الامارة (باب استحباب الشهادة في سبيل الله تعالى) و ابوداؤد، ترمذی، والنسائی 3162، ابن ماجہ 2797، ابن حبان 3192، والدارمی 205/2، والبيهقى 169/9۔


تو اس میں ایک تو شہادت کی فضیلت اس سے ثابت ہوتی ہے کہ شہادت کی دعا کرنی چاہیے، سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ: «اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ»۔ اے اللہ! مجھے شہادت کی موت عطا فرما اور مدینہ منورہ کی موت۔

تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب یہ سنا تو پوچھا کہ آپ یہ کیوں اس طرح کہہ رہے ہیں؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں لڑائی ہو؟ کیونکہ شہادت تو ظاہر ہے لڑائی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ یہ کیسے ہوگا لیکن اللہ پاک کر سکتا ہے۔ میں تو اللہ پاک سے مانگتا ہوں۔

پھر اللہ پاک نے ایسے کیا کہ عین مسجد نبوی میں نماز پڑھاتے ہوئے، ان پر حملہ ہوا۔ اسی طرح شہید ہوئے اور آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ کے پاس اللہ تعالیٰ نے اُن کو دفن ہونے کا موقع عطا فرمایا۔

تو یہ اس وجہ سے صدقِ دل سے اللہ پاک سے مانگنے سے اکثر تو قبول ہی ہو جاتا ہے، وہی ہو جاتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو یہاں پر یہ والی بات فرمائی گئی ہے کہ ان کو شہادت کا رتبہ دیا جائے گا۔ کیونکہ رتبہ تو اللہ پاک کے پاس ہے۔ جس کو بھی دینا چاہے تو دے سکتے ہیں۔ تو جن کے دل میں یہ تمنا ہو اور دعا کرتا ہو اور اس کی تمنا ہو اور یہ چاہتا ہو اور اس کے لیے مطلب ہے نا کوشش کرتا ہو، تو اگر وہ اپنی چارپائی پر بھی فوت ہو جائے، پھر بھی اللہ پاک اس کو شہادت کا مرتبہ عطا فرما دے گا۔

اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔

تجزیہ و خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع عنوان: شہادت کی تمنا اور اخلاصِ نیت کی اہمیت

متبادل عنوان: سچے دل سے شہادت کی دعا اور اس کے فوائد

اہم موضوعات:

• شہادت کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کرنا۔

• اخلاصِ نیت کی اہمیت۔

• صحابہ کرام کا اللہ تعالیٰ پر کامل یقین۔

• حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تمنا اور قبولیت۔

خلاص


شہادت کی تمنا اور اخلاصِ نیت کی اہمیت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور