الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد! اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا قَالُوْا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿247﴾ وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖ اَنْ يَّأْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰی وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿248﴾
صدق اللہ العظیم۔
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ: ”اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔“ کہنے لگے: ”بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں۔ اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔“ نبی نے کہا: ”اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے، اور انہیں علم اور جسم میں (تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے۔ اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے“ ﴿247﴾ اور ان سے ان کے نبی نے یہ بھی کہا کہ: ”طالوت کی بادشاہت کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (واپس) آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکینت کا سامان ہے، اور موسیٰ اور ہارون نے جو اشیاء چھوڑی تھیں ان میں سے کچھ باقی ماندہ چیزیں ہیں۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے لائیں گے (166) اگر تم مؤمن ہو تو تمہارے لئے اس میں بڑی نشانی ہے“ ﴿248﴾
کل یہ جو آیتِ مبارکہ تلاوت ہوئی تھی، اس میں بنی اسرائیل نے حضرت سموئیل علیہ السلام جو کہ اس وقت کے نبی تھے، ان سے درخواست کی تھی کہ اللہ پاک ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کر لیں۔ تو بادشاہ اللہ پاک نے طالوت کو مقرر کر لیا یعنی اس پیغمبر کے ذریعے سے ان کو اطلاع ہوئی۔
اب ظاہر ہے ایک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا حکم اور ایک ہوتا ہے نفس کی خواہش۔ تو ان کے نفس کی خواہش اور تھی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اس کو تو کوئی مال نہیں ملا۔ ہم زیادہ مالدار ہیں ان سے تو ہمیں ملنا چاہیے تھا۔ یہ اصل میں بہت بڑا مسئلہ ہے، انسان کا نفس کچھ چاہتا ہے اور اللہ جل شانہ جب حکم فرماتے ہیں تو اس کے سامنے نفس گویا کہ بغاوت پر آمادہ ہوتا ہے۔اب انسان جتنی اس کی تربیت ہو اتنی اس بغاوت کو فرو کرتا ہے۔ یعنی بعض دفعہ تو اتنا ہوتا ہے کہ اس کو بس دبا لیتا ہے کہ بھئی تیری بات نہیں ماننی۔ بعض دفعہ اس کو بالکل Ignore کر لیتا ہے۔ یعنی اس کی پرواہ ہی نہیں کرتا اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پھر اپنے نفس کو زجر کرتا ہے کہ تو نے ایسی بات کیوں کی؟ مختلف لوگ ہوتے ہیں۔
تو جو لوگ ان کے نفس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی تو ایسی صورت میں پھر وہ اس بغاوت کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور اس کی طرح بات کر لیتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ والی بات تھی کہ ان کو اپنے نفس کی وجہ سے یہ خلجان ہوا کہ یہ کیسے ہوا کہ ہم تو زیادہ مالدار ہیں اور ہمیں بادشاہ مقرر نہیں کیا گیا، ان کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔
تو اللہ جل شانہ کی ہر چیز میں حکمت ہوتی ہے، تو یہاں پر اللہ پاک کی طرف سے وہ حکمت بیان فرمائی گئی۔ اور قرآن پاک میں جب یہ واقعہ آ گیا تو اس میں ہمارے لیے بھی ایک مستقل قانون بن گیا، طریقہ کار بن گیا کہ ہم اپنے بڑوں کو کیسے چنیں۔ یعنی ہمیں اس میں کیا چیزیں دیکھنی چاہیے۔
تو یہاں پر دیکھیں
جب بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ ماننے سے انکار کیا اور ان کے بادشاہ مقرر ہونے پر کوئی نشانی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سموئیل علیہ السلام سے یہ کہلوایا کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کی نشانی یہ ہوگی کہ اشدودی قوم کے لوگ جو متبرک صندوق اٹھا کر لے گئے تھے، ان کے زمانے میں اللہ کے فرشتے وہ صندوق تمہارے پاس اٹھا کر لے آئیں گے۔ اسرائیلی روایات کے مطابق اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اشدودیوں نے وہ صندوق ایک مندر میں لے جا کر رکھا، مگر اس کے بعد وہ طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہونا شروع ہو گئے، کبھی ان کے بت اوندھے پڑے ہوئے ملتے، کبھی گلٹیوں کی وبا پھیل جاتی، کبھی چوہوں کی کثرت پریشان کرتی۔ آخرکار ان کے نجومیوں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ یہ ساری آفتیں اس صندوق کی وجہ سے ہیں، چنانچہ انہوں نے وہ صندوق بیل گاڑیوں پر رکھ کر انہیں شہر سے باہر کی طرف ہنکا دیا۔ بائبل میں فرشتوں کے صندوق لانے کا ذکر نہیں ہے، مگر قرآن کریم نے صاف کہا ہے کہ اسے فرشتے لے کر آئیں گے۔ اگر بائبل کی یہ روایت درست مانی جائے کہ ان لوگوں نے خود صندوق کو باہر نکال دیا تھا تو یہ ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں نے اسے شہر سے باہر چھوڑ دیا ہو، اور وہاں سے اسے فرشتے اٹھا کر بنی اسرائیل کے پاس لے آئے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں پر ہنکانے کا قصہ ہی غلط ہو اور فرشتے اسے براہِ راست اٹھا لائے ہوں۔ واللہ اعلم۔
یعنی اللہ کو پتا ہے صحیح بات کیا ہے۔ پس چونکہ بائبل میں تحریف ہو چکی ہے تو اس وجہ سے ان کی کوئی بات مستند نہیں ہے۔ البتہ جس حد تک بھی تفصیل اس سے معلوم ہو جائے اور وہ قرآن کے خلاف نہ ہو اور حدیث کے خلاف نہ ہو، تو اس کے بارے میں ہمارے بزرگ فرماتے ہیں لا نصدق و لا نکذب، مطلب ہم نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں نہ ان کی تکذیب کرتے ہیں۔ بس اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
تو اسی طریقے سے ان میں کوئی واقعہ جیسے بیل گاڑیوں والا واقعہ۔ تو اس کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کو پتا ہے کہ کیا صورتِ حال ہے۔ یعنی اس سے کوئی وہ نہیں کیا کہ یہ غلط ہے یا یہ صحیح ہے اس کے بارے میں۔ بہرحال ہمارے لیے اس میں جو بڑا سبق ہے وہ یہ ہے کہ ہم اگر کسی کو امیر بنائیں گے تو اس کے کچھ دنیاوی فائدے ہیں ،جو ہونے چاہیے، اس میں دنیاوی صلاحیتیں ہونی چاہیے اور کچھ اس میں روحانی صلاحیتیں ہونی چاہیے۔
تو صادق و امین کا تو پتا ہے نا، وہ تو سب پہلے سے معلوم ہے۔ صرف یہ والی بات ہے کہ یہاں پر دنیاوی لحاظ سے یعنی اس کو علم بھی حاصل ہو اور جسم بھی ان کا برداشت کرتا ہو تمام چیزوں کو یعنی اس طرح نہ ہو۔ یہ آپ کے آرمی میں سلیکشن کرتے ہیں تو کیسے کرتے ہیں؟ اس میں بہت ساری چیزیں دیکھتے ہیں نا کہیں یہ راستے میں بیمار نہ پڑ جائے، کہیں وہ نہ ہو جائے، کہیں وہ نہ ہو جائے۔ تو ساری چیزیں ان کو چیک کرتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے جو بادشاہ ہے اس میں بھی ان کچھ چیزوں کو دیکھنا چاہیے کہ ایسا تو نہیں ہے کہ ہر وقت بیمار پڑا ہوگا یا اس کی کمزوری ہے، یا وہ اٹھ نہیں سکے گا یا کوئی اور بات۔ تو ظاہر ہے اس کے اندر یہ چیزیں دیکھنے کی ہوتی ہیں۔ تو یہاں پر اس کے بارے میں ذکر ہو گیا۔
دوسری بات ہے کہ مال یہ کوئی Criteria نہیں ہے۔ کیونکہ مال جو ہے نا وہ تو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مالدار کے اوپر ہونا چاہیے تو اس وقت تو جو ہمارے جتنے بھی بڑے ہیں، مالدار ہیں، ان میں سے مسلمان تو شاید ہی کوئی ہو۔ بہت ہی کم مطلب ہوں گے۔ تو کیا ہم مالداری کے اوپر فیصلہ کریں گے؟ تو مالداری پر تو بالکل نہیں ہے، کیونکہ مال تو استعمال کی چیز ہے۔ مال بذاتِ خود حاکم نہیں ہے۔ کہ وہ کچھ کر سکے۔ بلکہ اس کو استعمال کرنے کے اوپر ہے۔ اس کو صحیح طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، غلط طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی صادق و امین شخص آ گیا تو اس کو صحیح طور پر استعمال کرے گا اس کا بڑا فائدہ ہو گا۔ اور اگر صادق و امین نہیں ہوگا تو اس کو غلط طریقے سے استعمال ہو گا اس کا بڑا نقصان ہو گا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مال بذاتِ خود کوئی چیز نہیں۔ البتہ علم سے چونکہ پتا چلتا ہے، یعنی کونسی چیز صحیح ہے، کونسی چیز غلط ہے۔ ایک بات، کونسا کام کس طرح کرنا ہے، دوسری بات۔ اور تیسری بات ہے جن کو کام دے، ان سے کام لے سکتے ہیں یا نہیں لے سکتے یعنی ان کی غلطیوں کا پتا ہے، نہیں پتا؟ یعنی گویا کہ جس کو ہم مینجمنٹ کہتے ہیں آج کل، یعنی اس قسم کی چیزیں ان کو علم ہو اور ساتھ ساتھ قانون کا علم ہو، یعنی قانون بھی تو ہوتا ہے نا، ہر چیز، کوئی بھی فیصلہ کرے گا تو آیا یہ قانون کے مطابق ہے یا نہیں ہے۔ اب نبی کے زیرِ نگرانی جو بادشاہ ہوگا وہ تو اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ تو اللہ کی کتاب کے مطابق جو فیصلہ کرے تو اللہ کی کتاب کا علم تو ہوگا نا، پھر اس کے بعد تو نہیں ہو سکتا۔
اب تو اس وجہ سے اب وہاں پر افغانستان میں ماشاءاللہ جو حضرات تشریف لائے ہیں، علماء ہیں۔ تو اب اپنے اپنے محکموں کو بھی جاننا ہوگا ان کو کہ اس کے بارے میں ان کو علم حاصل ہوگا، کہ ان کو کیسے چلانا ہے اور ساتھ وہ دین کا جو علم ہے، وہ بھی ان کو حاصل ہوگا۔ تو دونوں علم ان کو حاصل ہونے چاہیے۔ ایک تو یہ بات اور دوسرا یہ ہے کہ کرنے کے لیے جان بھی ہونی چاہیے۔ یہ اصول ہمیں اس سے معلوم ہو گیا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعواناان الحمد للہ رب العالمین