اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن، اَمَّا بَعْد! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
(56) ﴿اَلثَّالِثُ: عَنْ أَبِي سُفْيَانَ صَخْرِ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ الطَّوِيلِ فِي قِصَّةِ هِرَقْلَ، قَالَ هِرَقْلُ: فَمَا ذَا يَأْمُرُكُمْ. يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قُلْتُ: يَقُولُ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُوا بِهٖ شَيْئًا، وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ اٰبَآؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلٰوةِ، وَالصِّدْقِ، وَالْعَفَافِ، وَالصِّلَةِ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
تیسری حدیث: "حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہرقل کے قصہ کی طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہرقل نے سوال کیا کہ وہ پیغمبر تم کو کس بات کا حکم دیتا ہے؟ ابوسفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور جو بات تمہارے آباؤ اجداد کہتے ہیں اس سے باز آجاؤ اور وہ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں، سچائی، پاکدامنی، صلہ رحمی کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔"
تو یہ ابوسفیان نے ظاہر ہے اس حدیث شریف میں جیسا کہ کفر کی حالت میں بھی شریعت کی تعریف کی ہے۔ "وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ اٰبَآؤُكُمْ" اس سے باز آجاؤ جو تمہارے آباؤ اجداد کہتے ہیں۔
اس جملہ میں ابوسفیان نے ہرقل کو آپ ﷺ کے مخالف کرنا چاہا کیونکہ آباؤ اجداد کے خلاف آدمی سننا پسند نہیں کرتا۔
اس حدیثِ پاک میں ایک دشمنِ اسلام کی زبان سے نبی کریم ﷺ اور آپ کی تعلیمات کا اعتراف ہے۔ ابوسفیان نے ان باتوں کا اعتراف اس وقت میں کیا جب کہ وہ مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں صدق کو بھی ابوسفیان نے بیان کیا جس کی وجہ سے ہرقل سمجھ گیا کہ یہ سچے نبی ہیں کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی صفاتِ عالیہ میں سے سچ بولنا بھی تھا۔ یہ وصف تمام انبیائے سابقین میں متفق علیہ کی حیثیت رکھتا ہے، یہ صدق انبیاء کرام علیہم السلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام صلحاء اور علمائے اخلاق بھی صدق کو انسانی کمالات و فضائل میں سب سے اعلیٰ مقام دیتے ہیں۔
تو یہ اصل میں سچائی کی جو تعریف ہے، وہ اس تیسری حدیث شریف میں بھی ہوئی ہے کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ گو اس وقت مسلمان نہیں تھے لیکن اس نے آپ ﷺ کی تعلیمات میں یہ بات ظاہر کر دی کہ وہ ہمیں نماز کے حکم دیتے ہیں، سچائی کا، صدق، سچ بولنے کا حکم دیتے ہیں اور وہ پاکدامنی کا حکم دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرنے کی، اور یہ ساری اچھی عادات ہیں۔
یعنی اگر ایک انسان کے اندر یہ پیدا ہو جائے، نماز یہ تو بہت سارے بے حیائیوں سے اور خراب چیزوں سے روکنے والی ہے، اور سچائی بھی بہت ساری قلبی اور باطنی بیماریوں سے روکنے والی ہے، اور جو پاکدامنی ہے، یہ بھی ماشاء اللہ، اور صلہ رحمی جو ہے، تو آپ ﷺ کی تعریف بھی اس میں ہے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ سچائی یہ ہر پیغمبر کا طریقہ تھا، سچ بولنا اور تمام جتنے بھی نیک لوگ ہیں ان کا ایک پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ بہت عظیم بات ہے، اور کسی بھی طریقے سے بھی جھوٹ بولنا جو ہے اس سے ہمیں محفوظ فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُون، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِين، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِين، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْن۔