بنی اسرائیل کی تاریخ، نفسیات اور نظامِ ہدایت سے انحراف

درس نمبر 105، سورۃ البقرہ: آیت: 246- (اشاعتِ اول) 07 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآنی واقعہ: سورہ بقرہ کی روشنی میں بنی اسرائیل کا اپنے نبی (حضرت سموئیل علیہ السلام) سے بادشاہ طلب کرنے کا قصہ۔

تاریخی پس منظر: حضرت موسیٰ (ع) سے لے کر حضرت یوشع (ع) اور پھر قاضیوں کے دور (Period of Judges) کی وضاحت۔

بنی اسرائیل کا مزاج: جلد بازی، سرکشی، بزدلی اور دنیا کی محبت۔

صلاحیتوں کا غلط استعمال: جینیاتی برتری (Genetic Strength) اور ذہانت کو حق کے بجائے فساد کے لیے استعمال کرنا۔

مغضوب علیہم کا تصور: مسلسل آسمانی ہدایت کی مخالفت کے نتیجے میں دلوں کا مسخ ہونا۔

موجودہ دور کی مماثلت: یہودیوں میں Racism (نسل پرستی) اور خود کو 'Chosen People' سمجھنے کے زعم کا تجزیہ۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْ بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْ قَالُوْا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا قَالُوْا وَ مَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ اَبْنَآءِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ﴿246﴾

کیا تمہیں موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے گروہ کے اس واقعے کا علم نہیں ہوا جب انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے تاکہ (اس کے جھنڈے تلے) ہم اللہ کے راستے میں جنگ کرسکیں۔ نبی نے کہا: ”کیا تم لوگوں سے یہ بات کچھ بعید ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم نہ لڑو؟“ انہوں نے کہا: ”بھلا ہمیں کیا ہو جائے گا جو ہم اللہ کے راستے میں جنگ نہ کریں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور اپنے بچوں کے پاس سے نکال باہر کیا گیا ہے“۔ پھر (ہوا یہی کہ) جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب پیٹھ پھیر گئے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ﴿246﴾

یہاں نبی سے مراد حضرت سموئیل علیہ السلام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد پیغمبر بنائے گئے تھے۔ سورہٴ مائدہ (5: 24) میں مذکور ہے کہ فرعون سے نجات پانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو ان عمالقہ سے جہاد کرنے کی دعوت دی تھی جو بنی اسرائیل کے وطن فلسطین پر قابض ہو گئے تھے، مگر بنی اسرائیل نے انکار کر دیا جس کی سزا میں انہیں صحرائے سینا میں محصور کر دیا گیا، اور اسی حالت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگئی، بعد میں حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں فلسطین کا ایک بڑا علاقہ فتح ہوا۔ حضرت یوشع علیہ السلام آخر عمر تک ان کی نگرانی کرتے رہے، اور ان کے معاملات کے تصفیے کے لئے قاضی مقرر کئے۔ تقریباً تین سو سال تک نظام اسی طرح چلتا رہا کہ بنی اسرائیل کا کوئی بادشاہ یا حکمران نہیں تھا، بلکہ قبیلوں کے سردار اور حضرت یوشع علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے نظام کے تحت قاضی ہوا کرتے تھے۔ اسی لئے اس دور کو قاضیوں کا زمانہ کہا جاتا تھا۔ بائبل کی کتاب قضاۃ میں اسی زمانے کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ چونکہ اس دور میں پوری قوم کا کوئی متفقہ حکمران نہیں تھا، اس لئے آس پاس کی قومیں ان پر حملہ آور ہوتی رہتی تھیں۔ آخر میں فلسطین کی بت پرست قوم نے ان پر حملہ کر کے انہیں سخت شکست دی اور وہ متبرک صندوق بھی اٹھا کر لے گئے جس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی کچھ یادگاریں، تورات کا نسخہ اور آسمانی غذا ”من“ کا مرتبان محفوظ تھا، اور جسے بنی اسرائیل تبرک کے لئے جنگوں کے موقع پر آگے رکھا کرتے تھے۔ حالات کے اس پسِ منظر میں ایک قاضی حضرت سموئیل علیہ السلام کو نبوت کا منصب عطا ہوا۔ ان کے دور میں بھی فلسطینیوں کا ظلم و ستم جاری رہا تو بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کر دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں طالوت کو بادشاہ بنایا گیا جس کا واقعہ یہاں مذکور ہے۔ بائبل میں دو کتابیں حضرت سموئیل علیہ السلام کی طرف منسوب ہیں، ان میں سے پہلی کتاب میں بنی اسرائیل کی طرف سے بادشاہ مقرر کرنے کی فرمائش بھی ذکر کی گئی ہے، مگر بادشاہ کا نام طالوت کے بجائے ساؤل مذکور ہے۔ نیز بعض تفصیلات میں فرق بھی ہے۔

یہ اصل میں بنی اسرائیل کے جو حالات ہیں وہ چل رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کا جو مزاج بیان کیا گیا ہے قرآن میں وہ ایک طرف تو یہ جلد باز لوگ تھے، جلدی مچاتے تھے۔ اور پھر جب اس کے اثرات ظاہر ہو جاتے ان کے کام کے تو پھر وہ تنگ بھی زیادہ ہو جاتے تھے۔ اور سرکشی پہ بھی بہت جلدی مائل ہو جاتے تھے۔ ان میں چونکہ انبیاء کرام کا سلسلہ مسلسل چل رہا تھا، اس لیے ان کو ہدایتِ آسمانی یہ مسلسل ملتی رہی۔ اور یہ مسلسل باغیانہ کوششوں میں جاری رہے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر جو ہدایت یافتہ تھے باقی سب لوگ بغاوت پہ آمادہ ہو جاتے تھے اور بات نہیں مانتے تھے، سرکشی بہت کرتے تھے۔

تو اس کا نقصان یہ ہوا کہ چونکہ انبیاء کرام کی مسلسل مخالفت اور آسمانی نظامِ ہدایت کی مسلسل مخالفت کی وجہ سے ان کے قلوب مسخ ہو گئے۔ اور تاریخ میں ایک مثال بن گئی مَغْضُوبُٗ عَلَيْهِمْ قرار دیا گیا۔ یہ خصلت ان کی اب بھی ہے، مطلب یہ کہ اب بھی ان کا ایسا انداز ہے۔

لیکن دو باتیں ضرور ہیں۔ ایک تو یہ کہ Genetically چونکہ انبیاء کرام کی اولاد ہیں، تو کچھ خاص صلاحیتیں ان کی ہیں جو یہ اب دنیا کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی ظاہر ہے صلاحیت انسان کے اندر جب ہوتی ہے تو اس کو کسی چیز کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً عقل ہے، اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو وافر دیا ہوا ہے، تو اگر وہ ڈاکو ہے تو ڈاکے کے لیے استعمال کرے گا اور ایسے ایسے طریقوں سے ڈاکے ڈالے گا کہ جس کا توڑ بہت مشکل ہوگا۔ دوسری طرف اگر یہ عقل جو قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں ان کو دی گئی ہو تو پھر وہ اس کے توڑ نکالیں گے۔ تو گویا دونوں طرف ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ذہین لوگ بھی ہوتے ہیں اور کند ذہن لوگ بھی ہوتے ہیں، تو ذہین لوگ ذہین لوگوں کا توڑ کیا کرتے ہیں، مطلب اس طریقے سے یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

اس وجہ سے یہ Genetically اتنے strong ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ Racism بھی ان میں ہے یعنی اپنی قومیت بھی ان میں پائی جاتی ہے بہت زیادہ۔ اور یہ پھر شادیاں بھی باہر نہیں کرتے، مطلب ان کا یہ بھی Racism ہے۔ یعنی جس کو کہتے ہیں برتری کا اصول ان میں پایا جاتا ہے کہ ہم ایک برتر قوم ہیں بلکہ Chosen People اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ ہم تو chosen ہیں۔

تو chosen تھے، اس میں کوئی شک نہیں اس وقت chosen تھے کیونکہ "اصطفیٰ" کی جو بات قرآن میں بھی ان کے لیے فرمائی گئی ہے تو chosen people تھے، لیکن chosen people کس طرح تھے؟ جب وہ اس کو حق کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ پھر جب انہوں نے باطل کے لیے اس چیز کو استعمال کیا تو مَغْضُوبُٗ عَلَيْهِمْ ہو گئے کیونکہ ہر چیز کا جو ضد ہوتا ہے نا وہ اس کے مطابق ہوتا ہے۔ یعنی اب دیکھو نا کوئی بہت اونچا ڈنڈا ہوگا تو وہ جب گرے گا تو بہت کہ نیچے آئے گا اور جبکہ چھوٹا ہوگا تو اس کے حساب سے آئے گا۔ اس وجہ سے ان لوگوں میں جس وقت گراوٹ آ گئی تو بہت حد تک نیچے گر گئے اور اب پورے عالم کے اندر فساد کے سب سے زیادہ ذمہ دار لوگ یہی ہوں گے۔ مطلب ہر جگہ انہوں نے فساد مچایا ہوا ہے۔

تو اللہ جل شانہٗ نے قرآن پاک میں ان کا جو مزاج ہے اور ان کا جو طریقہ کار ہے ان کے تاریخ کے گویا کہ آئینے میں بہت وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ کیا کیا کیا۔ تو دوسروں کے ساتھ کیا نہیں کریں گے، ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کے احوال اس قسم کے ہیں۔ تو اس وجہ سے ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ ان کے مزاج کو سمجھنا چاہیے۔ پھر اس سے پتا چلے کہ وہ کہاں کہاں پر یہ دھوکا دے سکتے ہیں اور کہاں کہاں پر نقصان پہنچا سکتے ہیں، تو ظاہر ان سے بچنے کی پھر صورتیں انسان سوچ سکتا ہے۔

یہاں پر جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ قومِ عمالقہ کے لیے جب ان کو کہا گیا تھا کہ تم جاؤ تمہیں فتح ہوگی، لیکن لیکن یہ ڈرپوک نہیں گئے اور دنیا کے ساتھ محبت کرتے تھے لہذا اس وجہ سے وہ نہیں گئے تو پھر ان پر ذلت مسلط کر دی گئی اور صحرائے سینا کے اندر محصور ہو گئے۔

تو پھر بعد میں سموئیل علیہ السلام جب آ گئے جیسا پورا واقعہ یہاں ذکر ہوا تو قوم نے پھر کہا کہ ہمارے لیے اب بادشاہ مقرر کیجیے۔ تو سموئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اور اللہ پاک نے طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کر دیا۔

تو بعد میں چونکہ اس کی تفصیل آ رہی ہے ان شاء اللہ بعد میں بتا دیں گے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ہدایت پر قائم رکھے اور کسی طریقے سے بھی ہدایت کے نظام کے ساتھ اختلاف کرنے سے ہمیں بچائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔



بنی اسرائیل کی تاریخ، نفسیات اور نظامِ ہدایت سے انحراف - درسِ قرآن - دوسرا دور