اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج جمعرات ہے اور جمعہ کی رات کو ہم ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ مؤلفہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ، اس کی تعلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نماز کی بات شروع ہے
تو یہاں پر ہے قنوت کے بارے میں بات ہوئی، خشوع کے بارے میں بات ہو گئی۔
اب تبتل کے بارے میں بات ہو رہی ہے،
تبتل:
تبتل کے اصلی معنی کٹ جانے کے ہیں اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں خدا کے سوا ہر چیز سے کٹ کر صرف خدا کا ہو جانا، ظاہر ہے کہ یہ ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔ مگر قرآن پاک میں جہاں اس کا حکم ہے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت سے متعلق ہے چنانچہ سورہ مزمل میں ہے۔
﴿يَآ أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ◌ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ◌ نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ◌ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ◌ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ◌ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ◌ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا ◌ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾ (سورة المزمل: 1-8)
"اے کملی اوڑھنے والے! تھوڑی دیر کے سوا تمام رات اٹھ کر نماز پڑھ آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش، اور اس میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تجھ پر ایک بھاری بات اتارنے والے ہیں بے شک رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا نفس کو خوب زیر کرتا ہے اور مؤثر ہوتا ہے تیرے لئے دن کو بڑی فرصت ہے، اپنے پروردگار کا نام لے اور ہر چیز سے کٹ کر اس کی طرف ہو جا"
یہاں ایک بہت زبردست بات ہمیں مل رہی ہے: ’’بے شک رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا نفس کو خوب زیر کرتا ہے‘‘۔ اس کا مطلب اصلاحِ نفس میں اس کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس لیے ہمارے مشائخ فرماتے ہیں تہجد کی نماز جو ہے یہ ولایت کی کنجی ہے۔ جس کو تہجد کی نماز ملنی شروع ہو گئی، تو اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ولایت کا دروازہ کھول لیا۔ جتنا اس میں داخل ہو سکتا ہے تو داخل ہو جائے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ نماز تو انسان پڑھتا ہی ہے، فرض نماز جو ہے وہ تو پڑھے گا۔ یہ بنائے نفل ہے، نفل ہے، فرض نہیں ہے۔ اور پھر اس میں ہے بھی مشقت سب سے زیادہ، اس لیے اس کا نام بھی تہجد ہے۔ مشقت والی نماز ہے۔ اس وقت جب انسان کو میٹھی نیند آتی ہے، یہ صبح کی نیند بڑی میٹھی ہوتی ہے۔ انسان اس کو چھوڑ نہیں سکتا آسانی کے ساتھ، تو میٹھی نیند انسان کو آتی ہے، اس وقت اس کو اپنے نفس کا مقابلہ کر کے اس کو زیر کر کے اٹھنا ہوتا ہے۔ تو نفس کا علاج کس چیز میں ہے؟ مجاہدے میں ہے نا، تو یہ مجاہدہ ہے یا نہیں ہے؟ مجاہدہ ہے۔ تو مجاہدے میں ماشاء اللہ آپ پیش رفت کرتے ہیں۔ اور اس مجاہدے کے ذریعے سے آپ کا جو نفس ہے وہ زیر ہوتا ہے۔ یہی فرمایا گیا ہے، اس مجاہدے کے ذریعے سے نفس زیر ہوتا ہے۔
پھر دوسری بات اس میں بہت بڑی بات ہے، "تبتل" کیا چیز ہے؟ سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ تبتل کٹ کٹا کے اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ بری صحبت سے خلوت اچھی ہے، اور اچھی صحبت خلوت سے اچھی ہے، ہے نا یہ بات؟ اب تبتل بری صحبت سے تو کٹ گئے آپ، سبحان اللہ ایک بات تبتل سے حاصل ہوگئی۔ بری صحبت سے تو کٹ ہی گئے ہیں نا، اس وقت تو اور کوئی ہے ہی نہیں، بری صحبت سے تو آپ کٹ ہی گئے ہیں۔ اور اللہ پاک فرماتے ہیں: ’’فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ‘‘ "پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا"۔ اور فرماتے ہیں اللہ پاک، حدیث شریف میں آتا ہے، کہ جس وقت میرا بندہ ہونٹوں سے میرا نام لیتا ہے اس وقت میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اس وقت میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ تو نماز میں کیا خیال ہے؟ دل میں پڑھتے ہیں؟ دل میں پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے؟ دل میں پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہونٹوں سے ہی پڑھیں گے نا، زبان سے پڑھیں گے۔ اب زبان سے پڑھنے کی بھی شرط پوری ہو گئی۔ ذکر ہے، ’’أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي‘‘ نماز کو قائم کر دو میرے ذکر کے لیے۔ اب نماز ذکر ہے، ہونٹوں سے اس میں قرآن پڑھا جا رہا ہے، لہٰذا وہ شرط بھی پوری ہو گئی ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ اس کا ذکر کر رہے ہیں اپنے ساتھ، دوسری بات یہ کہ اللہ اس کے ساتھ ہیں۔ کیا خیال ہے؟ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ بری صحبت سے یہ کیا کٹا ہے، تبتل کی وجہ سے، بلکہ یہ تو اللہ کی صحبت میں ہے اللہ کے پاس ہے۔ اب یہ بتاؤ یہ نماز کیسی ہوگی؟ یعنی بہترین! اس وقت جو اللہ پاک کی رحمت کی نظر ہوتی ہے وہ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کیسی ہوگی! اس وجہ سے اشاروں کنایوں میں بہت کچھ فرمایا گیا حدیث شریفہ میں اس نماز کے بارے میں، لیکن فرض نہیں کیا گیا، کیونکہ ہر شخص کی اس میں نہیں تھا۔ اشاروں کنایوں میں بہت فرمایا گیا، یہاں تک فرمایا گیا کہ ایک بندہ اٹھتا ہے خود بھی اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو چھینٹا مارتا ہے، بشرطیکہ اس سے پہلے سے بات ہو چکی ہو، ایسا نہ ہو کہ لڑائی ہو جائے۔ تو وہ چھینٹا مارتا ہے وہ بھی جاگ جاتی ہے، پھر یہ دونوں اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں، اللہ پاک کو ان پر بڑا پیار آتا ہے۔ اشارہ ہو گیا نا! اشارہ ہو گیا۔ اس طرح ہے کہ اللہ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ ہے کوئی میرا بندہ جو کوئی چیز مانگتا ہو اس کو دوں؟ کوئی پریشان حال ہے اس کی پریشانی دور کروں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت دور کروں؟ ہے کوئی تکلیف میں اس کی تکلیف دور کروں؟ مسلسل یہ اعلان ہو رہا ہوتا ہے تہجد کے وقت۔ تو یہ وہ نماز ہے جو تبتل کے ساتھ، توجہ الی اللہ سے مزین ہے، توجہ الی اللہ سے مزین ہے اور اللہ کی توجہ کو کھینچنے والی ہے، اللہ تعالیٰ کی محبت کی نظر کو کھینچنے والی ہے، کیا بات ہے! اس وجہ سے ہمارے جو مشائخ، اب دیکھو پوری پڑھ لو یہ ذرا سن لو بھئی پڑھ لو ذرا۔
(یہ مکتوب حضرت شیخ احمد مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے خواجہ شرف الدین حسین رحمۃ اللہ علیہ
کی طرف وعظ و نصیحت کے طور پر صادر فرمایا:)
بس! یہ کس نے فرمایا ہے؟ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرید کو فرمایا ہے۔
تو اس میں کتنے اختصار کے ساتھ پورا ایک نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ تو ہمارے جتنے مشائخ ہیں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نماز جو ہے فرائض کے نمازوں کے ساتھ، ایسا نہ ہو کہ فرائض چھوڑ کے اس پر کرے وہ تو پاگل ہے بے وقوف ہے اگر ایسا کرے گا کوئی۔ فرائض جن کے زندہ ہوں، واجبات ان کے زندہ ہوں، اس کے بعد پھر نوافل کی باری آتی ہے، تو نوافل جو ہیں یہ کیا ہے وہ اس میں سب سے بہترین نماز جو ہے نا وہ کیا ہے تہجد کی، اور اس کو ولایت کی کنجی بتایا گیا ہے۔ یعنی ولایت اس کے ذریعے سے حاصل ہو سکتی ہے سبحان اللہ، اللہ پاک ہمیں نصیب فرمائے۔
یعنی نماز کی حالت میں خدا کا ذکر کرتے وقت اس کی عظمت اور اپنی عاجزی کے سوا ذہن سے تمام خیالات نکل جانے چاہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عمرو بن عبسہ سلمی سے روایت ہے کہ مجھے آنحضرت ﷺ نے جو نماز سکھائی اس کے متعلق یہ فرمایا کہ وضو کر کے جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوا پھر خدا کی حمد کی، ثنا کی، اور خدا کی اس بزرگی کا اظہار کیا جس کا وہ سزاوار ہے اور اپنے دل کو خدا کے لئے ہر چیز سے خالی کر لیا (وَفَرَّغَ قَلْبَهٗ لِلّٰهِ) تو وہ نماز کے بعد ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو اسی وقت پیدا کیا ہو۔ یہ حدیث گویا اسی آیت کی تفسیر ہے۔
تضرع:
تضرع کے معنی زاری اور عاجزی اور عاجزی کے ساتھ درخواست کرنے کے ہیں (لسان العرب) نماز میں بندہ پر عاجزی زاری اور عجز و الحاح کے ساتھ سوال کرنے کی کیفیت طاری ہونی چاہئے ورنہ اس حکم پر عمل نہ ہوگا۔
﴿اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ (سورة الاعراف: 55)
تم اپنے پروردگار کو مسکنت اور زاری کے ساتھ اور دھیمی آواز سے پکارو۔
اخلاص:
نماز کے باطنی سنن و آداب کا اصلی جوہر اخلاص ہے یعنی یہ کہ نماز سے مقصود خدا کے سوا کوئی اور چیز نہ ہو کیوں کہ اگر ایسا نہیں ہے تو نماز نماز نہیں بلکہ ریاء اور نمائش ہوگی اور بعض اہل حق کے نزدیک شرک لازم آئے گا، فرمایا:
﴿وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (سورة الاعراف: 29)
اور تم ہر نماز کے وقت اپنے رخ کو ٹھیک رکھو اور خدا کو اخلاص کے ساتھ پکارو۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اخلاص کا پیدا کرنا اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔
ذکر:
نماز خدا کی یاد کے لئے ہے اگر دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہو تو خدا کی حقیقی یاد نہ ہوگی اس لئے فرمایا:
﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (سورة طه: 14)
"میری یاد کے لئے نماز کھڑی کر"۔
ظاہر ہے کہ یہ یاد صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں ہے اس کے ساتھ دل کی معیت اور قلب کی حضوری ہونا چاہئے اور یہی نماز کی بڑی غرض ہے۔
فہم و تدبر:
نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ ایک بات عرض کر لوں، چیزیں ہمیں یاد رہتی ہیں، بھولنے کی کوشش بھی کرتے نہیں بھولتی، جو ہمارا نفس چاہتا ہے جو چیزیں وہ ہمیں یاد رہتی ہیں۔ بعض دفعہ ہم بھولنا بھی چاہتے ہیں لیکن بھول نہیں سکتے۔ بلکہ یہاں تک کہ بعض لوگ بھولنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بغیر اس کے ہم یہ باتیں بھول نہیں سکتے۔ ہمارے ایک ساتھی ہیں جس نے انگلینڈ میں پی ایچ ڈی کی ہے، تو اس نے بتایا کہ ہمیں وہ اپنے ساتھی کہہ رہے تھے کہ تم لوگ کیسے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہو؟ ہم لوگ تو جب آپس میں گپ شپ لگاتے ہیں اس کے لیے ہمیں شراب پینی پڑتی ہے ورنہ نہیں لگا سکتے ہم گپ شپ۔ یعنی اس حد تک انسان یعنی گویا کہ ایک مشینی پرزہ بن گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فارغ ہی نہیں کر سکتا گپ شپ کے لیے بھی۔ تو وہ یہ کہتے تھے۔ تو یہ جو ہمارے نفس کی پسندیدہ چیزیں ہیں یا جس سے نفس گھبرا رہا ہے، ڈر رہا ہے، وہ ہم بھول نہیں سکتے، بھولنا پڑتا ہے۔ اور دوسری طرف جو ہماری اصل ضرورت ہے، وہ یاد نہیں رہتی اس کو یاد کرنا ہے۔ دنیا یاد ہے آخرت یاد نہیں ہے، دنیا کو پیچھے ڈالنا ہے اور آخرت کو آگے لانا ہے اس کے لیے محنت اور مشقت ہے۔ اس کے لیے محنت اور مشقت ہے، بغیر اس کے نہیں ہے۔ اگر آپ Relax رہیں گے تو Relax رہنے میں دنیا غالب آئے گی۔ کیونکہ دنیا آپ کے اوپر سوار ہے۔ دنیا آپ کے اوپر سوار ہے، دنیا کو قصدًا بھولنا پڑتا ہے، اس کے لیے باقاعدہ نیت کرنی پڑتی ہے، اس کے لیے انسان کو کچھ خواہشیں دبانی پڑتی ہیں اور اللہ کو یاد کرنا پڑتا ہے اس کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے، خود بخود یاد نہیں ہوتا۔ بس ساری محنت اسی میں ہے۔ اگر کسی نے اللہ کو یاد کرنے کی مشق نہ کی ہو اس کو اللہ یاد نہیں رہتا۔ اس کو اللہ یاد نہیں رہتا۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے قصدًا اللہ کو یاد بھی کرنا چاہے لیکن اس نے مشق نہیں کیا، وہ چیزیں جو اس کے ہر وقت اس کے اوپر حاوی ہیں وہ اس کو پھر دوبارہ اللہ سے دور کر دے گا، Disconnect کر دے گا۔
مثال کے طور پر کوئی لاہور جا رہا ہے، اپنی گاڑی میں جا رہا ہے کوئی اور ڈرائیو کر رہا ہے، کوئی اس پہ ٹینشن نہیں ہے۔ وہ اچھا نیک آدمی ہے لیکن اس نے ذکر کرنے کی مشق نہیں کی ہے، وہ چاہتا ہے کہ میں ذکر کروں، وہ ذکر شروع بھی کر لے گا لیکن کیا ہوگا؟ کھڑکی سے باہر دیکھے گا، چیزوں میں مشغول ہو جائے گا، آپس میں باتوں میں لگ جائے گا، کبھی کوئی کتاب پڑھ لے گا، لاہور پہنچ جائے گا پتہ چلے گا اوہ بھئی میں نے تو ذکر ہی نہیں کیا۔ واہ! ایسے ہی ہوتا ہے نا! وقت ایسے ہی گزر جاتا ہے۔ اس کے لیے مسلسل اپنے اوپر Check لگانا پڑتا ہے، میں ذکر کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟ کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟ کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟ پھر آپ ذکر کر سکتے ہیں۔ اور دنیاوی چیزوں کے لیے کوئی محنت کی ضرورت نہیں وہ خود بخود ہے۔ خود بخود ہے، اس لیے فرمایا: ’’قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا‘‘ یقینی کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کے رذائل کو دبا لیا۔ اس میں ایک عملی کام ہے دبانے میں۔ ’’وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا‘‘ یقیناً تباہ و برباد ہوا وہ شخص جس نے ایسا نہیں کیا۔ اس میں نہ کرنا تو کوئی عمل نہیں ہے نا، وہ خود بخود ہے۔ وہ خود بخود ہے۔ بھئی ایک پتھر اپنی جگہ پر پڑا ہوا ہے، بس پڑا ہوا ہے، اس کے لیے اس کی کیا محنت ہے بس اپنی جگہ پڑا ہوا ہے نا، لیکن اگر آپ اس کو اٹھا رہے ہیں تو اس کے لیے محنت ہے۔ پانی آپ چھوڑ دیں نیچے کی طرف خود جائے گا، اوپر کی طرف لے جانے میں محنت ہے۔ بغیر اس کے نہیں جا سکتا۔ اس وجہ سے اچھا بننے کے لیے محنت ہے، برا بننے کے لیے محنت نہیں ہے۔ برا بننے کے لیے چھوڑو اپنے آپ کو بس برا بن جاؤ گے، خود ہی بن جاؤ گے۔ اس کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ تو بس یہی والی بات ہے کہ اس میں ذکر جو ہے اصل میں "یاد" کو کہتے ہیں۔ یاد میں انسان کا ارادہ شامل ہوتا ہے، ورنہ خود سے وہ نہیں ہوتا۔ اگر ہو بھی جاتا ہے پھر بھول جاتا ہے، پھر بھول جاتا ہے کیونکہ بھلانے کے ذرائع بے شمار موجود ہیں۔ اس لیے اپنے آپ کو الرٹ رکھنا پڑتا ہے۔ یہ جو ہم مراقبات کرتے ہیں، الرٹ رکھنے کے لیے کچھ ذرائع ہیں یہ، تاکہ ہم لوگ الرٹ رہ سکیں، اس کے لیے ہے۔ یہ سرور حاصل کرنے کے لیے نہیں ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ ویسے دے دیں تو دے دیں، یہ اس کے لیے نہیں کس چیز کے لیے؟ الرٹ رہنے کے لیے۔ کہ ہمیں معلوم ہو کہ کیا ہونے والا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
آج مورخہ 30 اپریل 2026 بروز جمعرات نماز مغرب کے بعد ہونے والے درسِ سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں عارف باللہ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے انتہائی پرحکمت اور بصیرت افروز حقائق بیان فرمائے۔ درج ذیل تحریر اس مبارک مجلس کے علمی و روحانی نکات کا جامع خلاصہ ہے۔
درس کا سیاق و سباق
آج کے درس میں کتاب "سیرت النبی ﷺ" کے حوالے سے نماز کے باطنی آداب و سنن زیرِ بحث آئے۔ بالخصوص نماز میں تبتل (ماسوی اللہ سے کٹ کر صرف اللہ کا ہو جانا)، تضرع (عاجزی و گریہ زاری)، اخلاص، ذکر اور فہم و تدبر کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح یہ کیفیات ایک ظاہری نماز کو حقیقی اور باطنی کمال تک پہنچاتی ہیں۔
حضرت شیخ دامت برکاتہم کی تشریح اور حکمتیں
تہجد اور مجاہدہِ نفس کے ذریعے ولایت کا حصول
حضرت شیخ نے فرمایا کہ رات کی میٹھی نیند قربان کر کے تہجد کے لیے اٹھنا نفس کو زیر کرنے کا بہترین مجاہدہ ہے اور یہی نماز ولایت کی کنجی ہے۔ جب انسان آرام دہ بستر چھوڑ کر اٹھتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے نفس کا مقابلہ کر کے اسے مغلوب کر رہا ہوتا ہے۔ جس پر تہجد کا دروازہ کھل گیا، گویا اللہ تعالیٰ نے اس پر ولایت کا دروازہ کھول دیا۔
تبتل اور معیتِ الٰہی کا شرف
تبتل کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان بری صحبتوں اور دنیاوی مشاغل سے کٹ کر تنہائی میں اللہ کی صحبت اختیار کر لے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق جب بندے کے ہونٹ اللہ کے ذکر سے ہلتے ہیں تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ رات کے اس پہر جب انسان تمام مخلوق سے کٹ کر نماز میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور زبان سے قرآن پڑھتا ہے، تو وہ براہِ راست اللہ کی معیت اور اس کی خاص رحمت کی نظر کا حقدار بن جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل عطاؤں اور بخششوں کی ندا دی جا رہی ہوتی ہے۔
فرائض کی اہمیت اور دنیا سے بے رغبتی
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اصل کامیابی فرائض کی پابندی، تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز کی ادائیگی اور دل کو غیر اللہ سے آزاد کرنے میں ہے۔ نوافل اور تہجد کی فضیلت اپنی جگہ بہت بلند ہے، لیکن یہ فرائض کی کامل ادائیگی کے بعد ہی کارآمد ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ دنیا کی فانی آسائشوں پر فریفتہ ہونے کے بجائے موت اور آخرت کی فکر کو اپنا نصب العین بنائے۔
ذکرِ الٰہی کے لیے شعوری محنت اور بیداری
حضرت شیخ نے ایک انتہائی عام فہم مثال سے سمجھایا کہ انسان کے نفس کو جو چیزیں پسند ہیں یا جن کی اسے عادت پڑ چکی ہے، وہ اسے خود بخود یاد رہتی ہیں۔ دنیاوی معاملات میں انسان آسانی سے بہہ جاتا ہے (جیسے پانی ڈھلوان کی طرف بغیر کسی محنت کے جاتا ہے)، لیکن ذکر اور نیکی کی طرف جانے کے لیے ارادے، محنت اور نفس کو دبانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ذکر کا مطلب ہی "یاد کرنا" ہے جس میں انسان کا قصد اور ارادہ شامل ہوتا ہے۔ مشائخ کے بتائے ہوئے مراقبات کا اصل مقصد انسان کو غفلت سے نکال کر اللہ کی یاد کے لیے ہمہ وقت الرٹ اور بیدار رکھنا ہے۔
الہامی علوم اور جذب و سلوک کی حقیقت
درس کے اختتام پر حضرت شیخ دامت برکاتہم نے ایک نہایت لطیف اور عمیق حقیقت بیان فرمائی کہ یہ بیانات عام بیانات نہیں بلکہ وہ الہامی علوم ہیں جو اللہ تعالیٰ قلب پر نازل فرماتے ہیں۔ جب انسان کا ظاہر اور باطن (آنکھ، کان، زبان، دل) نماز اور ذکر میں مشغول ہوتا ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی شدید محبت پیدا ہوتی ہے جسے صوفیاء کی اصطلاح میں "جذب" کہتے ہیں۔
حضرت شیخ نے اس کی بہترین تشریح ایک ہوائی جہاز کی مثال سے فرمائی:
جس طرح جہاز اڑنے سے پہلے رن وے پر چلتا ہے، یہ ابتدائی سلوک ہے۔ پھر وہ بلندی کی طرف پرواز کرتا ہے، یہ "جذب اور عروج" ہے۔ لیکن اگر جہاز فضا میں ہی اڑتا رہے اور واپس زمین پر نہ اترے تو وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح روحانی سفر میں جذب کے بعد نفس کی مکمل اصلاح کے لیے دوبارہ "سلوک" کی طرف نزول ضروری ہے۔ اگر انسان صرف جذب کی کیفیت میں گم رہے اور نفس کا تزکیہ نہ کرے، تو تکمیل نہیں ہوتی۔
مجالسِ علم و ذکر کی اہمیت
مذکورہ بالا بصیرت افروز اور علمِ لدنی پر مبنی حقائق اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنی روحانی و باطنی اصلاح کے لیے ان بابرکت مجالس کا باقاعدگی سے حصہ بنیں۔ جو علم، معرفت کے موتی اور دین کی صحیح سمجھ اللہ کے ولی کی زبان اور صحبت سے براہِ راست حاصل ہوتی ہے، وہ محض کتابوں کے مطالعے سے قطعی طور پر نہیں مل سکتی۔ لہٰذا، تمام احباب سے دلی گزارش ہے کہ ان دروسِ اور مجالسِ ذکر کو براہِ راست (لائیو) سننے کا خصوصی اہتمام کریں اور حضرت شیخ دامت برکاتہم کی بابرکت صحبت اختیار کریں تاکہ ہمارے قلوب بھی غفلت کے اندھیروں سے نکل کر اللہ کی محبت، ذکر کی لذت اور حقیقی روحانی بیداری سے آشنا ہو سکیں۔
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی
www.tazkia.org