اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْد!أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنّٰى لَكِ هٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللهِ ۖ إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿37﴾ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَآءِ ﴿38﴾ فَنَادَتْهُ الْمَلَآئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴿39﴾ قَالَ رَبِّ أَنّٰى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكَ اللهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ ﴿40﴾ قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً ۖ قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ۗ وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ ﴿41﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
چنانچہ اس کے رب نے اس (مریم) کو بطریقِ احسن قبول کیا اور اسے بہترین طریقے سے پروان چڑھایا۔ اور زکریا اس کے سرپرست بنے۔ جب بھی زکریا ان کے پاس ان کی عبادت گاہ میں جاتے، ان کے پاس کوئی رزق پاتے۔ انہوں نے پوچھا: ”مریم! تمہارے پاس یہ چیزیں کہاں سے آئیں؟“ وہ بولیں: ”اللہ کے پاس سے! اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“ ﴿37﴾
یہاں اصل میں چونکہ حضرت مریم علیہا السلام نبیہ نہیں تھیں بلکہ ولیہ تھیں۔ تو یہاں سے اولیاء اللہ کی کرامت ثابت ہو جاتی ہے۔ کہ اولیاء اللہ کے ہاں بھی اس قسم کے کام ہو سکتے ہیں۔ جیسے انبیاء کرام کے ہاں ہوتے ہیں کیونکہ کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ ہے کہ جب نبی کے ہاتھ پہ ہوتا ہے تو معجزہ کہلاتا ہے اور جب ولی کے ہاتھ پہ ہوتا ہے تو کرامت کہلاتی ہے۔
تو اس کے بعد چونکہ اللہ جل شانہٗ نے بغیر کسی سبب کے رزق دیا تھا۔ تو حضرت زکریا علیہ السلام چونکہ نبی تھے فورا ان کا ذہن انتقال کر گیا، کہ مجھے بھی تو اللہ پاک بغیر موسم کے میوہ دے سکتا ہے۔ یعنی چونکہ زکریا علیہ السلام بوڑھے تھے اور ان کی بیوی بانجھ تھی، تو اولاد ان کی نہیں تھی۔ تو اولاد کے بارے میں ان کو فکر تھی۔ کوئی وارث نہیں تھا ان کا پیچھے۔ تو اس پر فورا ان کا ذہن انتقال کر گیا اور انہوں نے بھی اللہ پاک سے وہ چیز مانگ لی۔
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
"اس موقع پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، کہنے لگے یا رب مجھے خاص اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما دے، بیشک تو دعا سننے والا ہے۔"
"تو حضرت مریم علیہا السلام کے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت سے جو بے موسم پھل دیکھا، تو زکریا علیہ السلام نے دیکھا تو انہیں توجہ ہوئی کہ جو خدا ان کو بے موسم کے پھل دیتا ہے وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ پاک سے یہ دعا مانگی۔"
فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ
"چنانچہ ایک دن جب زکریا عبادت گاہ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے تو فرشتوں نے انہیں آواز دی کہ اللہ آپ کو یحییٰ کی پیدائش کی خبر دیتا ہے۔ جو اس شان سے پیدا ہوں گے کہ اللہ کے کلمے کی تصدیق کریں گے۔"
اللہ کے کلمے سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں اوپر واضح کیا گیا ہے۔ انہیں کلمۃ اللہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ باپ کے بغیر اللہ کے کلمہ "کُنْ" سے پیدا ہوئے تھے۔ یحییٰ علیہ السلام ان سے پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی تصدیق فرمائی۔
اور ساتھ یہ بھی فرمایا: "اور لوگوں کے پیشوا ہوں گے، اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے مکمل طور پر روکے ہوئے ہوں گے۔"
تو یحییٰ علیہ السلام جو زکریا علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ تو ان کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات پر پورا قابو رکھنے والے ہوں گے۔
یہ صفت اگرچہ تمام انبیاء علیہم السلام میں پائی جاتی ہے، لیکن ان کا خاص طور سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس درجہ مشغول رہتے تھے کہ ان کو نکاح کرنے کی طرف رغبت نہیں ہوئی۔ اگرچہ عام حالات میں نکاح سنت ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے نفس پر اتنا قابو یافتہ ہو جیسے حضرت یحییٰ علیہ السلام تھے تو اس کے لئے کنوارا رہنا بلا کراہت جائز ہے۔
اصل میں اللہ جل شانہٗ نے نکاح کو عفت کا سامان بنایا ہے۔ اب دیکھیں جیسے انسان کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے، گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ یہ اس کے نفس کے تقاضے ہیں۔ اور اس پہ ممانعت نہیں ہے۔ اگر جائز حلال کھانا کھاتا ہے، جائز حلال پانی پیتا ہے، یا جائز حلال طریقے سے اپنے آپ کو گرمی سردی سے بچاتا ہے، تو یہ کوئی ناجائز نہیں ہے۔ تو اس طرح جو نفسانی خواہش انسان کی بیوی وغیرہ کی ہوتی ہے، وہ بھی ایسی ہی خواہش ہے، نفسانی خواہش ہے، اور اس کا وہ بھی اللہ پاک نے جواز کی صورت پیدا فرمائی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ نکاح کرے۔ اب عمومی طور پر چونکہ اللہ جل شانہٗ نے اِس کو عام لوگوں کے لیے تو ایک حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے لہٰذا یہ سنت قرار دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي" نکاح میری سنت ہے۔ تو باقی عام لوگوں کے لیے، لیکن انبیاء کرام کا معاملہ تو بالکل الگ ہوتا ہے۔ تو اگر اللہ پاک نے ان کو ایسا پیدا کیا کہ اس کو ایک نمونہ بنانا چاہتے تھے کہ وہ اپنے نفس پر زبردست قابو پاتے تھے اور اتنا یہ کہ ان کو اس چیز کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی، تو ان جیسے لوگوں کے لیے بالکل جائز ہے۔
"زکریا نے کہا یارب میرے ہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ مجھے بڑھاپا آ پہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔"
دُعا حضرت زکریا علیہ السلام نے خود مانگی تھی، اس لئے یہ سوال خدانخواستہ کسی بے یقینی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی نعمت کی خبر سن کر تعجب کا اظہار تھا جو درحقیقت شکر کا ایک انداز ہے۔ نیز سوال کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا بچہ اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہو جائے گا یا ہماری جوانی لوٹا دی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ”اسی طرح!“ یعنی لڑکا اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہوگا۔
اصل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت جو ہے اس کے لیے کوئی حدود نہیں ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے۔ "فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيد" ہے۔ اب مثال کے طور پر بادشاہ ہو، وہ سب کچھ کر سکتا ہو، لیکن وہ سب کچھ کرتا تو نہیں ہے نا۔ اس نے اپنے قوانین بنائے ہوتے ہیں، اس قوانین کے مطابق وہ سارا نظام چلاتے ہیں۔ اب ہر آدمی کہہ دے کہ نہیں آپ چونکہ بادشاہ ہیں لہٰذا اب سب کچھ جو میں چاہتا ہوں اس طرح کر لیں۔ بادشاہ کہے گا تم کون ہوتے ہو مجھے کہنے والے؟ یہ تو میرا کام ہے، میں جو چاہوں وہ کروں۔
تو اللہ جل شانہٗ کر سب کچھ سکتا ہے۔ کر سب کچھ سکتا ہے۔ "وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ" مردے سے زندہ نکالتا ہے، زندہ سے مردہ نکالتا ہے۔ لیکن کرتا سب کچھ نہیں ہے۔ اپنے قانون کے مطابق کرتا ہے۔ ہاں البتہ کبھی کبھی اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ قانون مجھ پر لاگو نہیں ہے، اللہ جل شانہٗ ایک ایسا کام کر لیتا ہے جو عام قوانین کے ساتھ ممکن نہیں ہوتا۔ تو یہ یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ بڑھاپے میں اللہ پاک اولاد دینا چاہتے تھے۔ اللہ جل شانہٗ نے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر والد کے پیدا فرمایا۔ تو یہ تو اس سے کم درجے کی چیز تھی۔ کہ والد موجود تو تھے ہاں اگرچہ بوڑھے تھے۔ تو اللہ جل شانہٗ نے ان کو یہ بشارت دلوائی۔
"انہوں نے کہا پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دیجیے، اللہ نے کہا تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا کسی سے کوئی بات نہیں کر سکو گے۔"
یعنی زبان کام نہیں کرے گی۔ وہ اشاروں سے... تو اس کا مطلب ہے ادھر اس وقت یہ بات ہو جائے گی۔
حضرت زکریا علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ کوئی ایسی نشانی معلوم ہو جائے جس سے یہ پتہ چل جائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے، تاکہ وہ اسی وقت سے شکر ادا کرنے میں لگ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتلائی کہ جب حمل قرار پائے گا تو تم پر ایسی حالت طاری ہو جائے گی کہ تم اللہ کے ذکر اور تسبیح کے سوا کسی سے کوئی بات نہیں کر سکو گے، اور بات کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اشاروں سے کرنی ہوگی۔
یہ اللہ پاک نے اس کے لیے نشانی عطا فرمائی۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ جب اللہ سے مانگیں ہم تو اللہ کی شان کے مطابق مانگیں۔ لیکن پھر اللہ پاک جو ہمارے بارے میں فیصلہ کرے، کہ تمہیں عام قانون کے مطابق دیا جائے گا یا exceptional انداز میں دیا جائے گا وہ فیصلہ اللہ پہ چھوڑ دیں۔ وہ اللہ تعالیٰ پہ چھوڑ دیں۔ یہی عبدیت ہے۔ یہی عبدیت ہے۔ کہ فیصلہ اللہ پہ چھوڑنا، اور اسباب مکمل اختیار کرنا۔ اور دعا کرنا۔ یہ تین چیزیں ہیں، ہر انسان کے لیے ضروری ہیں۔ کہ دعا بھی کرے، اسباب مکمل اختیار کر لے، اور پھر جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوتا ہے، کہ کون سے طریقے سے ہوگا، تو پھر اس پر اللہ پاک سے راضی رہے۔
ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہوتا ہے کچھ لوگ تو دعا کرتے نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ جو ہم کر رہے ہیں اسباب، اسی سے ہوتا ہے۔ یہ تو دہریت کی طرف جانے والا راستہ ہے۔ اگرچہ جب تک وہ ایمان پہ رہتے ہیں تو دہریے نہیں ہوتے، لیکن راستہ دہریوں کا ہے۔ جو اس طرح سوچتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہر چیز کو اسباب اختیار نہیں کرتے، اور کہتے ہیں بس اللہ تعالیٰ ہمارے لیے ویسے ہی کر دے۔ جیسے صحابہ کے لیے ہوا تھا، جیسے پیغمبروں کے لیے ہوا تھا۔ تو یہ چونکہ ہماری حالت نہیں ہے اور ہمارا حق بھی نہیں ہے، لہٰذا جو لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ وہ محض دعاؤں پہ رہتے ہیں اور اسباب اختیار نہیں کرتے وہ بھی نقصان میں رہتے ہیں۔ یہ نقصان میں نہیں کہ اس کا کام نہیں ہوا وہ تو کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔ نقصان میں یہ رہتے ہیں کہ-نعوذ باللہ من ذلک-اللہ پاک سے بدگمانی ہو جاتی ہے۔ اور یہ راستہ کفر تک جا سکتا ہے۔ ٹھیک ہے نا! مطلب یہ اس وجہ سے اس راستے پہ چلنے سے پہلے ذرا سوچنا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔
بظاہر بظاہر تو آدمی کہتا ہے او جی! میں تو قرآن سے علاج کر رہا ہوں، میں تو دعاء کر رہا ہوں یہ تو سب منع نہیں ہے۔ تو لوگ کہیں گے بھئی منع نہیں ہے، لیکن پھر اس کا خیال بھی رکھنا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے اسباب اختیار پورے کرو۔ اللہ پاک سے مانگو ضرور، فیصلہ اللہ پہ چھوڑو۔ یہ تین stages ہیں۔ اگر ان stages میں کسی میں غلطی ہو گئی تو معاملہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ معاملہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ والی بات ہے۔
تو میرے خیال میں آج کا جو سبق ہے، اس سے ہمیں یہ بات مل گئی کہ اللہ پاک سب کچھ کر سکتا ہے اگر کرنا چاہے تو۔ اور ہمیں اللہ پاک سے مانگنا چاہیے، بیشک وہ ممکن بھی نہ ہو۔ مانگنا چاہیے۔ مانگنا چاہیے جیسے زکریا علیہ السلام نے مانگ لیا، بوڑھے تھے لیکن مانگ لیا پیغمبر ہیں اس کا مانگنا ہے۔ اب مثال کے طور پر میں کراچی جا رہا ہوں مجھے سیٹ نہیں مل رہی ساری سیٹیں book ہیں۔ پھر بھی میں مانگوں گا۔ مجھے مانگنے میں منع نہیں کیا گیا۔ کیونکہ عین وقت پر کوئی آدمی drop کر سکتا ہے اور میرے لیے جگہ بن سکتی ہے، کوئی بھی واقعہ ہو سکتا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ تو میں مانگوں ضرور، لیکن پھر اللہ پاک نے اگر فیصلہ کیا کہ نہیں جن لوگوں کی booking ہوئی ہے بس یہی جائیں، تو میرے لیے کوئی جگہ نہیں نکلی، کہ پہلے آتے۔ عام قانون۔ تو پھر انسان کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ وہ کیفیتِ رضا بالقضا جاری رہنی چاہیے۔ تو اس طریقے سے جو کام کرتا ہے وہ بالکل صحیح چلے گا ورنہ پھر خطروں میں رہے گا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: توکل، اسباب اور دعا: حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ اور قرآنی تعلیماتمتبادل عنوان: کرامتِ اولیاء، اللہ کی بے پایاں قدرت اور بندگی کا حقیقی تقاضا
اہم موضوعات:• حضرت مریم علیہا السلام کی سرپرستی اور انہیں ملنے والا بے موسم رزق۔• اولیاء اللہ کی کرامات اور انبیاء کرام کے معجزات میں بنیادی فرق۔• حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت۔• حضرت یحییٰ علیہ السلام کا نفس پر کامل ضبط اور نکاح کی شرعی حیثیت۔• اللہ کی قدرتِ کاملہ (وہ جو چاہے اور جب چاہے کر سکتا ہے)۔• دعا اور توکل کے آداب: اسباب اختیار کرنا، دعا مانگنا اور نتیجہ اللہ پر چھوڑنا۔• محض اسباب پر بھروسہ کرنے (دہریت کا راستہ) اور محض دعا پر بیٹھ کر اسباب ترک کرنے کی غلطیوں کی نشاندہی۔