اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
نورِ محمدی ﷺ کے بیان میں
قال اللہ تعالیٰ: قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتَابٌ مُّبِيْنٌ
نبی خود نور اور قرآن ملا نور
نہ ہوں کیوں مل کے پھر نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ
کائنات کا ظہور۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِيْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ حسین ہے، اس کو حُسن محبوب ہے۔ حُسن کا تقاضا اپنا ظہور اور اپنی معرفت کرانا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ جل شانہ نے اپنی معرفت اور اپنے جمال و کمال کو ظاہر کرنے کے لیے مخلوق پیدا فرمائی۔ روایات اور عارفین کے اقوال سے اس مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ اور سب سے پہلے اپنی صفتِ خلق کو ظاہر کیا، اور حضور ﷺ کا نور پیدا فرمایا، اور اس کو اپنی صفاتِ جمال و کمال کا جامع بنایا۔ پھر مجموعہ کمالات کی تفصیل کے لیے جملہ کائنات کو اسی نور سے پیدا کیا، اور یہ بھی ثابت ہے کہ اپنے حبیب ﷺ ہی کے لیے تمام کائنات کو پیدا فرمایا۔
حضرت نانوتوی رحمة الله عليه جو دیوبند کے مہتمم ہیں اور بانی ہیں، فرماتے ہیں:
طفیل آپ کے ہے کائنات کی ہستی
بجائے کہیے اگر تم کو مبداء الآثار
لگا تھا ہاتھ نہ پتلے کو بوالبشر کے خدا
اگر ظہور نہ ہوتا تمہارا آخر کار
پہلی روایت: عبد الرزاق نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھ کو خبر دیجئے کہ سب اشیاء سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کون سی چیز پیدا فرمائی؟ آپ نے فرمایا اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کہ نورِ الٰہی اس کا مادہ تھا بلکہ اپنے نور کے فیض سے) پیدا کیا پھر وہ نور قدرتِ الٰہیہ سے جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا سیر کرتا رہا اور اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم تھا اور نہ بہشت تھی اور نہ دوزخ تھا اور نہ فرشتہ تھا اور نہ آسمان تھا اور نہ زمین تھی اور نہ سورج تھا اور نہ چاند تھا اور نہ جن تھا اور نہ انسان تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اور مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کئے اور ایک حصہ سے قلم پیدا کیا اور دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش، آگے طویل حدیث ہے۔
ف: اس حدیث سے نورِ محمدی کا اول الخلق ہونا باولیتِ حقیقہ ثابت ہوا کیونکہ جن جن اشیاء کی نسبت روایات میں اولیت کا حکم آیا ہے ان اشیاء کا نورِ محمدی سے متاثر ہونا اس حدیث میں منصوص ہے۔
آپ ﷺ کی نبوت اور ختم الرسل ہونے کی، ختم الرسل ہونے کی اولیت۔
دوسری روایت: حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک میں حق تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (یعنی ان کا پتلا بھی تیار نہ ہوا تھا) روایت کیا اس کو احمد، بیہقی نے اور حاکم نے اس کو صحیح الاسناد بھی کہا ہے۔
ف: اور مشکوٰۃ میں شرح السنہ سے بھی یہ حدیث مذکور ہے
ہنوز آدم اندر گل و آب بود
کہ او قبلۂ ہفت محراب بود
تیسری روایت: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کے لئے نبوة کس وقت ثابت ہو چکی تھی؟ آپ نے فرمایا کہ جس وقت میں کہ آدم علیہ السلام ہنوز روح اور جسد کے درمیان میں تھے (یعنی ان کے تن میں جان بھی نہ آئی تھی) روایت کیا اس کو ترمذی نے اور اس حدیث (2) کو حسن کہا ہے۔
ف: اور ایسے ہی الفاظ میسرہ ضبی کی روایت میں بھی آئے ہیں امام احمد اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں اس کو روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے
جاری ہے