الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهَ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ﴿242﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْيَاهُمْ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ ﴿243﴾ وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴿244﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اللہ اپنے احکام اسی طرح وضاحت سے تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ داری سے کام لو۔ ﴿242﴾
یعنی کام کرے گا انسان بغیر سمجھے تو اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ اور جب انسان سمجھداری کے ساتھ کام کرتا ہے تو اس میں غلطیوں کا امکان کم ہوتا ہے۔ تو اللہ پاک وضاحت سے اپنے احکام بیان فرماتے ہیں تاکہ لوگوں کو چیزیں سمجھ آ جائیں۔ تو سمجھ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ اور جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کے ساتھ اللہ پاک بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔ تو یہ سمجھ بہت ضروری ہے۔ اور اللہ پاک نے یہ چیزیں وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی ہیں تاکہ ہم ان چیزوں کو سمجھ جائیں۔
کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت سے بچنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ چنانچہ اللہ نے ان سے کہا: ”مر جاؤ“ پھر انہیں زندہ کیا۔
یہاں سے آیت نمبر 260 تک دو مضمون ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ بنیادی مقصد جہاد کی ترغیب دینا ہے، لیکن بعض منافقین اور کمزور طبیعت کے لوگ جہاد میں جانے سے اس لئے کتراتے تھے کہ انہیں موت کا خوف تھا۔ اس لئے دوسرا مضمون ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ چاہے تو جنگ کے بغیر بھی موت دے دے، اور چاہے تو شدید جنگ کے درمیان بھی انسانوں کی حفاظت کرلے، بلکہ اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی انسانوں کو زندہ کردے۔ اس قدرت کا عمومی مظاہرہ تو آخرت میں ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی چند ایسے نمونے دُنیا کو دکھا دیئے ہیں جن میں بعض لوگوں کو مرنے کے بعد بھی زندہ کیا گیا۔ اس کی ایک مثال اس آیت نمبر 243 میں دی گئی ہے۔ ایک اشارہ آیت نمبر 253 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کئی مردوں کو زندہ کیا۔ تیسرا حوالہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے مکالمے (آیت نمبر 258) میں اللہ تعالیٰ کے موت اور زندگی دینے سے متعلق ہے۔ اور (پانچواں واقعہ) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے، جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔
زیرِ نظر آیت (243) میں جو واقعہ بیان ہوا ہے اس کی تفصیل قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی۔ صرف اتنا بتایا ہے کہ کسی زمانے میں کوئی قوم جو ہزاروں کی تعداد میں تھی، موت سے بچنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑی ہوئی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں موت دے دی، اور پھر زندہ کر کے یہ دکھا دیا کہ اگر موت سے بچنے کے لئے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی تدبیر اختیار کرے تو ضروری نہیں کہ موت سے بچ ہی جائے، اللہ تعالیٰ اسے پھر بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ یہ لوگ کون تھے؟ کس زمانے میں تھے؟ وہ موت کا خوف کیا تھا جس کی بنا پر یہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے؟ یہ تفصیل قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی، کیونکہ قرآن کریم کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے، اس میں جو واقعات بیان ہوتے ہیں، وہ کوئی سبق دینے کے لئے ہوتے ہیں، لہٰذا اکثر ان کا صرف اتنا حصہ بیان کیا جاتا ہے جس سے وہ سبق مل جائے۔ اور اس واقعے سے مذکورہ بالا سبق لینے کے لئے اتنی بات کافی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے۔ البتہ جس انداز سے قرآن کریم نے اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قصہ اس وقت لوگوں میں مشہور و معروف تھا۔ آیت کے شروع میں یہ الفاظ کہ: ”کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا؟“ اس قصے کی شہرت پر دلالت کر رہے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور بعض تابعین سے کئی روایتیں نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بنو اسرائیل کے لوگوں کا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود یا تو کسی دشمن کے مقابلے سے کترا کر اپنا گھر بار چھوڑ گئے تھے یا طاعون کی وبا سے گھبرا کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ جب یہ اس جگہ پہنچے جسے وہ پناہ گاہ سمجھتے تھے تو اللہ کے حکم سے موت نے وہیں ان کو آلیا۔ بعد میں جب وہ بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوگئے تو حضرت حزقیل علیہ السلام کا وہاں سے گزر ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان ہڈیوں سے خطاب کریں، اور ان کے خطاب کے بعد وہ ہڈیاں پھر سے انسانی شکل میں زندہ ہو کر کھڑی ہوگئیں۔ حضرت حزقیل علیہ السلام کا یہ قصہ موجودہ بائبل میں بھی مذکور ہے۔ (دیکھئے: حزقیل 37: 1 تا 15) اس لئے کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کے یہودیوں کے ذریعے مشہور ہوگیا ہو۔
واقعے کی یہ تفصیلات مستند ہوں یا نہ ہوں، لیکن اتنی بات قرآن کریم کے صاف اور صریح الفاظ سے واضح ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی طور پر موت کے بعد زندہ کیا گیا تھا۔ ہمارے زمانے کے بعض مصنفین نے مردوں کے زندہ ہونے کو بعید از قیاس سمجھتے ہوئے اس آیت میں یہ تاویل کی ہے کہ یہاں موت سے مراد سیاسی اور اخلاقی موت ہے، اور دوبارہ زندہ ہونے سے مراد سیاسی غلبہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تاویل قرآن کریم کے صریح الفاظ سے میل نہیں کھاتی، اور عربیت اور قرآن کریم کے اسلوب سے بھی بہت بعید ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہے تو اس قسم کے واقعات میں تعجب کی کیا بات ہے جس کی بنا پر یہ دُور از کار تاویلیں کی جائیں؟ بالخصوص یہاں سے آیت 260 تک جو سلسلہٴ کلام چل رہا ہے، اور جس کی تفصیل اوپر بیان ہوئی ہے، اس کی روشنی میں یہاں موت اور زندگی سے حقیقی معنی مراد ہونا ہی قرینِ قیاس ہے۔
یہ اصل میں ایک بہت بڑی بات ہے جس کا میں ان شاء اللہ ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بعض لوگ قوانینِ فطرت جس کو ہم سائنس کہتے ہیں اس سے اتنے مرعوب ہو جاتے ہیں کہ وہ جو مستند ترین چیز ہے، اس میں بھی اس کے وجہ سے تاویلیں کرنے لگتے ہیں۔ اب جو قوانینِ فطرت ہے، وہ بھی غلط نہیں ہیں۔ لیکن قوانینِ فطرت جو ہوتے ہیں وہ نارمل طریقے سے جو کام ہوتے ہیں ان کے لیے ہوتے ہیں۔ مثلاً آگ میں کوئی ہاتھ ڈالے تو جل جائے گا قانونِ فطرت ہے۔ لیکن دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو چیزوں کے اندر صفات اللہ نے رکھی ہیں، یہ صفات خود مستقل نہیں ہیں بلکہ اللہ کے حکم سے مستقل ہیں۔ جب اللہ چاہے گا تو ان کو تبدیل کر سکتا ہے۔
اس کی وجہ وہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ والی بات ہے کہ ہم عدم سے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تجلیِ وجودی سے ہمارا ظہور ہوا ہے مطلب یہاں پر عالمِ وجود میں۔ جن کو ہم عالمِ وجود سمجھتے ہیں۔ اس میں ہمارا ظہور ہوا ہے۔ اچھا اب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ کی ایک تجلی سے جو وجود میں آئے تو دوسری تجلی سے فنا بھی ہو سکتے ہیں۔ تو یہ چیز جو ہے نا پھر دوبارہ بھی ہو سکتے ہیں یعنی وہ دوبارہ بھی تجلی ہو سکتی ہے۔ تو اب یہ بات ہے کہ ایک چیز ہوتی ہے کہ انسان اس قانون کو جو General ہے اس کو لیتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے یہ بھی تو قانون ہے۔ "اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"، اللہ پاک ساری چیزوں پر قادر ہے۔ یہ بھی سب سے بڑا قانون ہے۔ اب یہ بات ہے کہ اگر کوئی اس قانون سے ٹکراتا ہے تو پھر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
پس پتا یہ ہے کہ اگر ہمیں یقینی طور پر پتا چل جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے تو پھر ہمیں ماننا چاہیے، ایمان کا تقاضا یہ ہے کیونکہ یؤمنون بالغیب ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے۔ اس میں پھر ہمیں وہ جس کو کہتے ہیں حیل و حجت نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ وہ چیز ہمارے عام قوانین میں نہیں آتا۔ معجزہ کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ جس سے جو عام قوانینِ فطرت ہوں وہ عاجز ہوں۔ معجزہ، مطلب جس سے عام قوانینِ فطرت عاجز ہوں۔ اب دیکھیں یعنی انسان آگ میں اگر کوئی ہاتھ ڈالتا ہے تو جلتا ہے۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا اس کے لیے آگ کو گلزار بنایا۔ اب اگر کوئی اس کی تاویل کرتا ہے تو کیا ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کی بھی تاویل کرے گا؟ کیا کرے گا؟ وہ تو بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ تو اس کی بھی تاویل کرے گا؟ تو یہ مطلب ظاہر ہے وہ تو قانونِ فطرت ہے کہ آگ جلاتا ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو اپنے امر سے بچا لیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ اس پر قادر ہیں۔
ایک ہمارے ایک دوست تھے، اس کا بیٹا فوت ہوا ہے۔ تو اس کے چار Valve کی جگہ تین Valve تھے دل میں۔ اور پھیپھڑوں اور دل کے درمیان کوئی کنکشن نہیں تھا۔ کیوں بھئی Medically possible ہے؟ (Medically مطلب وہ مر جاتا ہے فوراً)۔ مر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک ہفتے کے اندر اندر رہے گا۔ وہ آٹھ سال تک زندہ رہا۔ تو وہیں مطلب یوں کیا کہ ڈاکٹروں نے ان سے معافی مانگی کہ ہم غلط تھے۔ یہ ہماری سمجھ کی بات نہیں ہے۔ آٹھ سال تک۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے آپ کے دل کو تکلیف پہنچائی کہ کہا تھا کہ ایک ہفتے میں مر جائے گا۔ تو یہ ذرا مطلب ہے کہ ہم نے غلطی کی تھی آپ صحیح کہتے تھے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ہم مسلمان اس پر Believe نہیں کرتے کہ جو چیز Medically proven ہے تو وہ ایسے ہی ہوگا۔ اگر اللہ چاہے گا تو اس سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ اس وقت اس نے کہا تھا۔
تو اس نے مجھے پورا واقعہ اس کا سنایا تھا۔ مطلب لکھا تھا۔ کہ ایسا ہوا ایسا ہوا ایسا ہوا۔
تو اب دیکھو اللہ پاک اس چیز پر قادر ہے، جس طریقے سے بھی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ اس کے لیے ایسی تاویلات کرنا، یہ اس کو Apologizing Islam کہتے ہیں۔ یعنی یہ معذرت خواہانہ مسلمان۔ یعنی انسان معذرت کرتا ہے کہ ہم مسلمان، جواب نہیں دے سکتا تو مطلب کوئی اپنی طرف سے ایسی چیز بنا لیتے ہیں۔ تو یہ چیزیں ہمیں نہیں کرنی چاہیے، ہمیں اللہ پاک کی قدرت پر یقین ہے۔
اگر وہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ پوری جو قبرستان ہے، ان سارے مردوں کو زندہ کر لیا، تو سب مردے زندہ ہو جائیں گے۔ ماشاءاللہ بالکل واقعہ اس کے اندر بڑے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ وہ گائے والا واقعہ اس میں کہا تھا کہ وہ گائے کا ٹکڑا اس کے اوپر مارو اور وہ زندہ ہو جائے گا۔ وہ سارا موجود ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ بہت سارے واقعات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ جو ہمیں یہ باور کرا رہی ہے کہ جو تم سمجھ رہے ہو ضروری نہیں کہ وہ بالکل اسی طرح واقعہ ہو۔ بلکہ جو اللہ چاہتا ہے اس طرح ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔ اور ہمارے ایمانوں کو مضبوط فرمائے۔ اور کوئی بھی اس قسم کی بات جو کہ ہمارے ایمانوں کو متزلزل کر سکے، اس سے اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔