آنسوؤں کی لڑیوں، شرمندہ نگاہوں کو سلام
﴿مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت﴾
سایۂ جنت مدینے کی فضاؤں کو سلام
ٹھنڈی پر انوار و یخ بستہ ہواؤں کو سلام
گنبد خضرا کے نظارے میں محو ہوگئے
آنسوؤں کی لڑیوں، شرمندہ نگاہوں کو سلام
مسجد نبوی میں جو چند ساعتیں ہم کو ملیں
نور میں ڈوبی ہوئی، ان اپنی یادوں کو سلام
یہ بقیع کی زیارتیں کیا جانیں، ہیں کتنی عظیم
عظمتوں قربانیوں کی یادگاروں کو سلام
مومنوں کی ماؤں کی قبروں پہ بھی ہو السلام
اور نبیﷺ کے کل بقیع میں سارے پیاروں کو سلام
اور نبیﷺ کی بیٹیاں بھی تو یہاں مدفون ہیں
ان کے عالی مرتبوں، اونچے مقاموں کو سلام
سیدہ جنت کی عورتوں کی ہے زہرائے نبیﷺ
وقت مرگ ان کی وصیت اور حیاؤں کو سلام
اور اک کونے میں ہیں سوئی ہوئیں عمات بھی
مختصر سارے نبیﷺ کے رشتہ داروں کو سلام
مسجدیں جو سات ہیں خیمے تھے پیاروں کے وہاں
ان مقدس ہستیوں کے اُن نشانوں کو سلام
وجد میں جبل اُحد آیا نبی کے سامنے
ایسی تکوینی محبت کے پہاڑوں کو سلام
جعفر و باقر، حسن، عباس و زین العابدین
اہل سنت کے بقیع میں ان اماموں کو سلام
یہ اصل میں یہ خاص طور پر یہ اس لیے لایا گیا ہے کہ ہمارے اہلِ سنت کے ناواقف لوگ، ان کے اس مقام کو نہیں جانتے اور ان کو سمجھتے ہیں شاید یہ ان کے امام ہیں... یعنی اہلِ تشیع کے امام ہیں۔ اصل میں ہمارے امام ہیں! یہ بہت ہی غلط فہمی ہے بعض لوگوں کی۔ مجھ سے بھی ایک صاحب نے پوچھا کہ کیا امام حسین رضی الله عنه کو امام ہم کہہ سکتے ہیں؟ تو میں نے کہا بھئی میں تو آپ کی بات پر بڑا حیران ہو گیا۔ کمال کی بات ہے! یعنی جن کی وجہ سے امام ابوحنیفہ، امام ابوحنیفہ تھے! خود فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ: "اگر امام جعفر صادق رحمة الله عليه کے ساتھ میرے دو سال نہ گزرے ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا۔" تو جن کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمة الله عليه امام ابوحنیفہ رحمة الله عليه ہیں، وہ جن کے پڑپوتے ہیں، ان کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہیں کہ ان کو امام کہہ سکتے ہم؟ امام تو وہی تھے! البتہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس کا علم نہیں ہے، ہم لوگوں کو بتایا نہیں گیا، اس چیز پر کام نہیں ہوا۔
اس وجہ سے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ صحابہ کرام رضی الله عنهم کا بہت اونچا مقام ہے، لیکن اہل بیت کو بھول کر نہیں! کیونکہ اہل بیت بھی تو صحابہ ہیں۔ آخر علی رضی الله عنه صحابی ہیں، حضرت فاطمۃ الزهراء رضی الله عنها صحابیہ تھیں، امام حسن رضی الله عنه امام حسین رضی الله عنه صحابی تھے۔ تو ان کو ہم بھولیں گے نہیں بلکہ ان کا ایک الگ درجہ ہے۔
اصل میں صحیح بات یہ ہے کہ جو خلفاء راشدین رضی الله عنهم ہیں نا، ان کی بات تو اور ہے، خلفاء راشدین، ان کی تو ایک ترتیب اللہ پاک نے بنائی ہے، جس ترتیب سے اس ترتیب سے پھر ہیں، لیکن بعد میں جو اہل بیت ہیں نا، ان کا اپنا ایک مقام ہے۔ ان کا اپنا ایک مقام ہے۔ تو اس لحاظ سے اہل بیت کے مقام کو کم نہ سمجھا جائے، بہت بڑے لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ اب بھی...، جن کو اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں، بقول حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کے... یعنی جس کو "روحانیت" کہتے ہیں، وہ ان حضرات کے طفیل ملتی ہے، ان حضرات کی برکت سے ملتی ہے۔ باقاعدہ خود حضرت نے ارشاد فرمایا ہے کہ چاہے غوث ہو، چاہے قطب ہو، چاہے اوتاد ہو، سب کو ان کی برکت سے ملتا ہے۔ یہ چیز حضرت نے فرمائی ہے۔ دفتر سوم میں 123 نمبر مکتوب شریف ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگ بھولے میں ہیں، یعنی ہم لوگ ان چیزوں کو نہیں جانتے۔ یہ میں اس لیے کبھی کبھی اس کے بارے میں عرض کرتے رہتا ہوں تاکہ کم از کم ہم لوگ اپنی غلطیوں کی تلافی کریں۔
اہل سنت کے بقیع میں ان اماموں کو سلام
گنبد خضرا کے بالکل سیدھ میں مدفن جو ہے
ہے وہ ذو النورین کا اس کی شعاؤں کو سلام
آدم و بدر و خلیل و زکریا بھی ہیں یہاں
پاس اہل بیت کے ان کے غلاموں کو سلام
اور امیر حمزہ شہیدوں کے جو ہیں سردار پر
ہو سلام اور ساتھ ان سارے شہیدوں کو سلام
پاک لوگوں کا نشاں ہے مسجدِ قبا یہاں
جن کی تعریف رب نے کی ہے ایسے پاکوں کو سلام
ایک نشان اتباع ہے وہ ہے مسجد قبلتین
یہ بشارت خلد کی ان اتباعوں کو سلام
جو سلام عشق بھی یاں پر کوئی مؤمن پڑھے
حسن کی بارگاہ میں پیش ان سلاموں کو سلام
اف کہاں شبیؔر ان کی بارگاہ میں حاضری
نسبت خواجہ کی ان سارے اشاروں کو سلام
سایۂ جنت مدینے کی فضاؤں کو سلام
ٹھنڈی پر انوار و یخ بستہ ہواؤں کو سلام