اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ اس کے جملہ برکات، انوارات، فیوضات ہمیں نصیب فرما دے۔
گزشتہ سے پیوستہ
سوال:
ہر چند عقل اپنی ذات کی حد تک احکام الٰہی جل شانہٗ کی بجا آوری میں ناقص و نا تمام ہے لیکن ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ تصفیہ اور تزکیہ حاصل ہونے کے بعد عقل کو مرتبۂ وجوب تعالیٰ و تقدس کے ساتھ ایک بے تکیف مناسبت اور اتصال پیدا ہو جائے کہ جس مناسبت اور اتصال کے سبب وہ احکام کو وہاں سے اخذ کر لے اور اس کو اس بعثت کی جو فرشتے کے واسطے سے ہے کوئی حاجت نہ رہے۔
یہ سوال کیا ہے۔
جواب:
اگرچہ عقل یہ مناسبت اور اتصال پیدا کر لے لیکن وہ تعلق جو اس کا جسمانی بدن کے ساتھ ہے وہ بالکل ختم نہیں ہوتا اور کامل طور پر علیحدگی حاصل نہیں ہوتی، لہذا قوتِ واہمہ ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے، اور قوتِ متخیلہ ہرگز اس کا خیال نہیں چھوڑتی اور قوت غضبیہ و شہویہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے اور حرص و لالچ کے رذائل ہر وقت اس کے ہم نشین رہتے ہیں۔ سہو و نسیان جو نوعِ انسانی کے لوازمات میں سے ہیں، اس کی عقل سے مکمل طور پر جدا نہیں ہوتے، اور غلطی و خطا جو اس جہان کا خاصہ ہیں، اس سے جدا نہیں ہوتے۔ لہذا عقل اعتماد کے لائق نہیں ہے اور اس سے ماخوذ احکام وہم اور تصرفِ خیال کے غلبے سے محفوظ نہیں رہتے اور نسیان و خطا کے گمان کی آمیزش سے محفوظ نہیں رہتے۔ بر خلاف فرشتے کے کہ وہ ان اوصاف سے پاک اور ان رذائل سے مبرا ہے تو لازمًا وہ اعتماد کے قابل ہے اور اس سے ماخوذ احکام وہم و خیال کی آمیزش اور نسیان و خطا کے گمان سے محفوظ ہیں۔
اور بعض اوقات وہ علوم جو تلقئ روحانی (القائے روحانی) سے اخذ کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے متعلق تبلیغ کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قویٰ و حواس کے ساتھ بعض مقدمات مسلمہ غیر صادقہ جو وہم و خیال یا کسی اور ذریعے سے حاصل ہوئے ہیں، بے اختیار ان علوم کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہو جاتے ہیں کہ اس وقت ہرگز تمیز ممکن نہیں رہتی، اور دوسرے وقت میں ایسا ہوتا ہے کہ اس تمیز کا علم دے دیا جاتا ہے اور کبھی نہیں دیا جاتا۔ لہذا لازمی طور پر وہ علوم ان مقدمات کے مل جانے کی وجہ سے کذب کی ہیئت پیدا کر لیتے ہیں اور اعتماد کے قابل نہیں رہتے۔ یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تصفیہ اور تزکیہ کا حاصل ہونا "اعمالِ صالحہ" کے بجا لانے پر موقوف ہے جو "مرضیات مولیٰ سبحانہٗ" ہیں اور یہ معنی بعثت (انبیاء) پر وابستہ ہیں جیسا کہ بیان ہو چکا۔
لہذا ثابت ہوا کہ بعثت کے بغیر تصفیہ اور تزکیہ کی حقیقت میسر نہیں ہوتی اور وہ صفائی جو کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہوتی ہے وہ نفس کی صفائی ہے نہ کہ قلب کی صفائی، اور نفس کی صفائی سوائے گمراہی کے کچھ نہیں بڑھاتی، اور سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بعض غیبی امور کا کشف جو صفائی نفس کے وقت کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہو جاتا ہے وہ استدراج ہے جس سے مقصود اس جماعت کی خرابی اور نقصان ہے۔ نَجَّنَا اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ عَنْ ھَذِہِ الْبَلِیَّۃِ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ وَ عَلَیْھِمُ الصَّلَوَاتُ وَ التَّسْلِیْمَاتُ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَ آلِ کُلٍّ (اللہ سبحانہٗ حضرت سید المرسلین علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و علی آلہ و آلھم کے طفیل ہم کو اس بلا سے نجات دے)
اب یہ بہت مشکل بات ہے جو ابھی حضرت نے بیان فرمائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے بہت سوچنے کی ضرورت ہے۔ نفس کی صفائی سے کیا مراد ہے؟ یہ جو لفظ "صفائی" ہے نا، اس کو ذرا صاف کرنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مسئلہ بن سکتا ہے۔ اصل صفائی سے مراد یہاں مجاہدہ ہے۔ صفائی سے کیا مراد ہے؟ مجاہدہ ہے۔ میں آپ کو ایک مثال بتاتا ہوں۔ لوہا لوہا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ لوہے کے ساتھ آپ مقناطیس رگڑیں۔ یا مقناطیس کے ساتھ لوہا رگڑیں۔ لیکن رگڑنے کا ایک انداز ہوتا ہے۔ اس طرح واپس نہیں لانا۔ اس طرح، اس طرح، اس طرح، اس طرح، اس طرح جب آپ رگڑیں گے، کچھ عرصے کے بعد یہ مقناطیس بن جائے گا۔ یہ لوہا مقناطیس بن جائے گا۔
اچھا یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوہے کی صفائی ہے۔ الائنمنٹ۔ الائنمنٹ ہے نا اور تو کچھ نہیں ہے۔ اس کے Positive, Negative یا North, South poles ان کو آپ نے Align کر دیا۔ جب الائن کر دیا، اس کے اندر جو اللہ پاک نے صلاحیت رکھی تھی، وہ صلاحیت ہمارے سامنے ظاہر ہو گئی۔ اب وہ جو صلاحیت کو ظاہر کرنے والی جو صفت ہے نا یہ سمجھ نہیں آتی۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس صلاحیت کو ظاہر کرنے کا جو طریقہ کار ہے وہ کیا کہتے ہیں؟ صفائی کہتے ہیں اس کو۔ یہ نہیں کہ صفائی اس طرح ہے جیسے ہم جھاڑو دیتے ہیں، نہیں۔ مطلب اس میں یہ والی بات ہے کہ جو درمیان میں Misalignment کو اگر آپ گند سمجھ لیں۔ Misalignment کو اگر آپ گند سمجھ لیں، تو صفائی الائنمنٹ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
تو اب یہ والی بات ہے کہ ہر انسان کے اندر کچھ طاقتیں ہوتی ہیں۔ جیسے ہپناٹزم ہے۔ ٹیلی پیتھی ہے، یا اس قسم کی اور چیزیں ہیں۔ یہ ہر انسان کے اندر جیسے کہ لوہا مقناطیس بن سکتا ہے۔ تو اسی طریقے سے مجاہدے اور کوشش سے جو ہمارا جو نفس ہے، اس کے اندر کچھ خفیہ چیزیں اللہ پاک نے طاقتیں رکھی ہوئی ہیں، وہ طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ وہ طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اب وہ جو طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں، اس کو لوگ کمال سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ تو ان کی کچھ Built-in صلاحیتیں ہیں۔ وہ استعمال ہو گئیں۔ آگے جا کر اس پر Depend کرتا ہے کہ وہ صلاحیت استعمال کس چیز کے لیے ہوتی ہے۔ کس چیز کے لیے وہ صلاحیت استعمال ہوتی ہے؟
مثلاً میں کسی کا دل پڑھ لیتا ہوں۔ کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ یہ کمال ضرور ہے، لیکن مطلوب کمال نہیں۔ کمال ضرور ہے، لیکن مطلوب کمال نہیں۔حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے۔ فرمایا: (ایک وعظ میں، میں نے پڑھا تھا)۔ ایک صاحب تھے جو مسلمان تھے، بڑے ذہین تھے۔ ایک دن کتاب پڑھ رہے تھے جزیے کے بارے میں اور اس کے دل میں ایک وسوسہ آ گیا۔ رمضان شریف کا مہینہ تھا روزے سے تھے۔ وسوسہ آ گیا۔ اس وسوسے نے ایسی جڑ پکڑ لی کہ کچھ ہی دیر میں مرتد ہو گئے۔ پھر اس نے کہا کہ اب میں روزے کا کیا کروں، توڑ دیا۔ ظاہر ہے کہ روزہ کھول دیا۔ روزہ رہا ہی نہیں تو کھولنے کی کیا بات ہے۔
اچھا جو اس کے ساتھی تھے، وہ افطاری کے وقت بیٹھے تھے سارے اکٹھے۔ جیسے پیٹی بھائی ہوتے ہیں۔ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ روزہ افطار کر رہے تھے، انہوں نے کہا تم بھی آ جاؤ۔ انہوں نے کہا، بھئی، میری جو حالت ہے، اگر وہ تجھے پتہ چلے، تو تم مجھے اپنے ساتھ بٹھاؤ بھی نہیں۔ یعنی گویا کہ اپنی نظروں میں بھی گر گئے ایک قسم کا۔ وہ بڑے ہوشیار لوگ ان کے ساتھ تھے۔ وہ سمجھ گئے۔ لیکن فوراً ہی پلان بھی بنا لیا۔ انہوں نے گویا کہ یہ فیصلہ کیا کہ ان کو اپنے آپ سے جدا نہیں کرنا۔ کیونکہ اور خراب ہو جائیں گے۔ تو انہوں نے کہا کہ بھئی وہ تمہارا اللہ کے ساتھ معاملہ ہے، ہمارے ساتھ تھوڑا ہے؟ ہمارے تو تم یار ہو۔ آؤ جاؤ، روزہ نہیں ہے تو کھا تو سکتے ہو نا؟ کھانا پینا تو منع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہاں یہ تو ہو سکتا ہے۔ تو آکر ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کھانا پینا کر لیا۔ اس طرح ساتھ افطاری وغیرہ چلتی رہی۔
ایک دن انہوں نے کہا، بھئی، مولانا فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں جاتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا بھئی تم جاؤ، میرا آپ کو پتہ ہے کہ میں ان چیزوں کا معتقد تھوڑا ہوں؟ تو لہٰذا مجھے لے کے کیا جاؤ گے؟ انہوں نے کہا، بھئی، سیر کے لیے بھی تو جایا جا سکتا ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں۔ ساتھ ہمارا ہو جائے گا۔ آپ سیر کے لیے چلیں۔ ہم حضرت کے ساتھ ملنے کے لیے چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہاں یہ تو ٹھیک ہے۔ خیر، راستہ انہوں نے طے کر لیا اور راستے میں یہ سوچ رہا ہے، کہ یہ مجھے اس لیے لے جا رہے ہیں کہ مجھے Convince کرنا چاہتے ہیں۔ تو حضرت یہ کہیں گے تو میں یہ کہوں گا۔ حضرت یہ کہیں گے تو میں یہ کہوں گا۔ اپنے ساتھ خاص خاص سوالوں کا پٹارہ لے کے چلے گئے۔ کہ اگر وہ یہ کہے گا تو میں یہ کہوں گا، وہ یہ کہے گا تو میں یہ کہوں گا۔ اب یہاں پر آپ کو دو چیزیں بالکل واضح آ جائیں گی سامنے۔
حضرت کے پاس پہنچ گئے۔ اب حضرت کے ساتھ باقی لوگوں کے ساتھ تو ملے، اتفاق سے جاننے والے تھے۔ ان کے ساتھ جب ملے، تو حضرت ذرا تیز تیز باتیں کرتے تھے۔ تو ان سے فوراً ہی پوچھ رہے تھے: کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ مسلسل یہی پوچھ رہے ہیں، اور یہ گم سم بالکل کچھ بات نہیں کر رہے۔ کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ آخر میں اس نے کہا: جی میں بیعت ہونے کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: کوئی بات نہیں، بیعت کر لیتا ہوں۔ کلمہ پڑھا لیا۔ اور کلمہ تو ویسے بھی پڑھاتے ہیں بیعت میں۔ کلمہ پڑھا لیا، اور بیعت کر لی۔ اب جب واپس جانے لگے تو ان لوگوں نے کہا، یہ کیا بات ہوئی، تم آ تو نہیں رہے تھے۔ اور یہ ادھر بیعت بھی ہو گئے، یہ کیا مسئلہ ہے؟ کہتے ہیں بس آپ کو کیا پتا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ کہتے ہیں: میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں بہت سارے سوالات لے کے آیا تھا۔ اور جیسے میں حضرت کے سامنے آ گیا تو میرا ذہن بالکل Blank ہو گیا۔ جیسے میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ یعنی میرا دماغ ہی نہیں۔
پھر میں نے دیکھا کہ سامنے ایک اسکرین آئی دماغ میں۔ اب اسکرین کے دائیں طرف سے میرے سوالات آ رہے ہیں، بائیں طرف سے حضرت کے جوابات آ رہے ہیں۔ ادھر سے سوال، ادھر سے جواب، ادھر سے سوال، ادھر سے جواب، ادھر سے سوال، ادھر سے جواب۔ اب میرے جو سوالات میں لے کے آیا تھا اس کے جوابات ادھر ہی سے خود بخود آ رہے ہیں۔ حضرت تو وہی بات کر رہے تھے جو آپ لوگ بھی سنتے تھے۔ کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے کس لیے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ حضرت تو یہی باتیں کر رہے تھے۔ لیکن ادھر سے مسئلہ یہ تھا کہ ادھر سے سوال آرہا ہے ادھر سے جواب آ رہا ہے۔ بس پھر میں بے بس ہو گیا تو میں نے کلمہ پڑھ لیا مسلمان ہو گیا۔
اس کے بعد اس نے پوری کتاب لکھی ہے کفر توڑ۔ اس کے بعد لکھی ہے۔ تھے تو بڑے ذہین۔ جس وقت یہ کافر تھے، حضرت یہ بات سمجھانا چاہتے تھے۔ اس وقت اس نے ولایت، کسی کام کے لیے گئے تھے۔ ظاہر ہے ذہین، فطین آدمی تھے۔ ولایت گئے تھے۔ ان کے پاس ایک کمال تھا۔ وہ کمال یہ تھا کہ یہ جیب میں پڑے ہوئے کاغذ کو پڑھ سکتے تھے۔ اگر آپ کی جیب میں کوئی چیز پڑی ہوئی ہے، تو یہ پڑھ لیتے تھے۔ لیکن اس کے پڑھنے کا انداز یہ ہوتا تھا کہ اس آدمی کو، یا مرد یا عورت جو بھی تھا، اس کی جیب میں جو چیز پڑی ہوتی، اس کو سامنے بٹھا لیتے۔ اور خود کاغذ لے کر قلم سے لکھنا شروع کر لیتا۔ جب تک قلم لکھتا اس کو خود بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں نے کیا لکھا ہے، یا میں کیا لکھ رہا ہوں۔ بس قلم لکھتا رہتا ہے، لکھتا رہتا ہے، لکھتا رہتا ہے۔ جس وقت پورا مکمل ہو جاتا، پہلے خود پڑھتے، پھر ان کو دیتے۔ یہ اس کا طریقہ کار تھا۔ تو اس کی بڑی شہرت ہو گئی، ظاہر ہے وہ لوگ تو ان چیزوں کے بڑے رسیے ہیں۔ تو ایک میم آئی۔ اس نے کہا کہ میری جیب میں جو کچھ ہے، اس کو آپ پڑھ سکتے ہیں؟ کہتے ہیں، ہاں، پڑھ لیتا ہوں۔ تو بس اس نے بس وہ لکھنا شروع کر لیا۔ جب پورا لکھا، تو اس کو پہلے پڑھا اور پھر کہا کہ میں تمہیں سناؤں یا تم خود پڑھنا چاہتی ہو؟ اس کا رنگ فق ہو گیا۔ کہتی ہے، مجھے دے دو۔ اس نے اس سے لے لیا، تو وہ حیران ہو گئی، کہتی، کمال ہے۔ یہ تو میرا ایک ایسا راز ہے جو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اور آپ نے اس کو پڑھ لیا۔
تو حضرت نے فرمایا: دیکھو کفر کی حالت میں اس کا یہ کمال موجود ہے۔ کفر کی حالت میں بھی اس میں یہ کمال موجود ہے، تو گویا یہ کوئی کرامت تو نہیں تھی نا۔ کرامت کس کی تھی؟ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی۔ وہ بھی تو یہی چیز تھی۔ وہ بھی تو یہی چیز تھی۔ کیونکہ وہ حضرت کی برکت سے وہ اس کے ذہن میں اسکرین بن گئی اور ادھر سے سوال آ رہے ہیں ادھر سے جواب ممکن ہے حضرت کو اس کا پتہ بھی نہ ہو کہ میں کسی کے سوالات کے جوابات دے رہا ہوں، یا کوئی اس کے جوابات مل رہے ہیں۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو ذریعہ بنایا حضرت کو۔ یہ تو کرامت ہے۔ یہ تو کرامت ہے۔ لیکن یہ جو دوسرا تھا، اس کو "استدراج" کہتے ہیں۔ یہ جو اس کا کفر کی حالت میں یہ جو حالت تھی، اس کو "استدراج" اب یہ صفائی نفس کی وجہ سے تھا۔ اس نے محنت کی تھی۔ محنت کی تھی۔ مشق کی تھی۔ اور چونکہ اس کے اندر یہ صلاحیت موجود تھی، بعض لوگوں میں کشف کی صلاحیت ہوتی ہے، بعض میں نہیں ہوتی۔ جیسے بعض لوہا مقناطیس بن سکتا ہے، بعض نہیں بن سکتا۔ بے شک آپ اس کو 50 سال مقناطیس کے ساتھ رگڑیں۔ وہ مقناطیس نہیں بنے گا۔ اور بعض جو ہے نا بالکل ایک دو وقت کے بعد مقناطیس بن جائے گا۔ تو اس طریقے سے بعض میں کشف کی صلاحیت ہوتی ہے، بعض میں نہیں ہوتی۔ بعض میں کچھ اور صلاحیت ہوتی ہے نہیں ہوتی جن میں ہوتی ہے، ان کو اس کی الائنمنٹ کے ذریعے سے لے آتے ہیں سامنے۔ اس کو کہتے ہیں نفس کی صفائی۔
اب یہ نفس کی صفائی اگر اس نیت سے کی جائے کہ وہ چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھر آئیں، تو یہ تو جوگ ہے، یوگا۔ یوگا کہتے ہیں نا اس کو؟ ہم لوگ اس کو جوگ کہتے ہیں۔ یہ تو جوگ ہے۔ اور جو ذکر اذکار کے ذریعے سے خود بخود الائنمنٹ ہو جائے اور وہی چیزیں آ جائیں جو آپ کے پاس تھیں، بغیر آپ کی اس نیت کے، تو یہ نفس کی صفائی، یہ ماشاءاللہ اس نفس کی صفائی کے ساتھ، قلب اگر بن چکا ہو، تو قلب پھر روح کے ذریعے سے وہاں سے لیتا ہے، اور اسی صفا شدہ نفس کے ذریعے سے لوگوں کو دیتا ہے۔ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ حضرت کی بات پر اب کافی باتیں میں عرض کر چکا ہوں۔ اب سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟
قلب روح بن جاتا ہے۔ وہ ادھر سے لیتا ہے۔ چینل بن گیا۔ ادھر سے روح کے ذریعے سے، اور یہ جو صاف نفس ہے، جو صفائی ہو چکی ہے، مجاہدے کے ذریعے سے، اس کے ذریعے سے وہ پھر لوگوں میں تقسیم کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب دے رہے تھے۔ دے رہے تھے نا؟ ٹھیک ہے نا۔ وہ جو سکرین بنی تھی کہاں سے بنی تھی؟ یہاں سے بنی تھی، مراد آباد میں بنی ہوئی تھی۔ وہ اوپر ملأِ اعلی سے بنی ہوئی تھی۔ وہ جو سکرین بنی تھی کہاں سے بنی تھی؟ ملأِ اعلی سے بنی ہوئی تھی۔ مراد آباد میں پتہ چل رہا تھا۔ مراد آباد میں ظاہر ہو رہا تھا۔ نفس مراد آباد میں تھا۔ اور اسکرین وہاں سے بنی۔ ٹھیک ہے نا؟ بس یہ چیز ہوتی ہے۔ کہ جو روح ہے، وہ لیتی ہے ملأِ اعلی سے۔ قلب کے ذریعے سے نفس کے پاس آتا ہے۔ قلب کے ذریعے سے نفس کے پاس آتا ہے لیکن اس سے پہلے نفس صاف ہونا چاہیے۔ ورنہ اس کے اندر صلاحیت ہی نہیں ہوگی اس کو Communicate کرنے کی۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ یہ والی بات۔
وہ صفائی جو کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہوتی ہے وہ نفس کی صفائی ہے نہ کہ قلب کی صفائی۔۔۔
کیونکہ قلب کا تعلق ایمان سے ہے، قلب ایمان کے ذریعے سے بنتا ہے۔ قلب ایمان کے ذریعے سے بنتا ہے۔ اس وجہ سے قلب کے اوپر محنت نہ ہو، اور نفس کے اوپر محنت ہو تو جوگ ہے۔جوگی ہوتے ہیں۔اگر قلب کے اوپر محنت نہ ہو نفس کے اوپر صرف محنت ہو تو جوگ ہے اور اگر صرف قلب کے اوپر محنت ہو، اور نفس کے اوپر محنت نہ ہو، تو مجذوب متمکن ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ لہٰذا یہ دونوں محنتیں ایک ہی وقت میں موجود ہونا ضروری ہے۔ ورنہ دونوں میں نقصان ہو جاتا ہے۔
اور صرف نفس کی صفائی سوائے گمراہی کے کچھ نہیں بڑھاتی، اور سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بعض غیبی امور کا کشف جو صفائی نفس کے وقت کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہو جاتا ہے وہ استدراج ہے جس سے مقصود اس جماعت کی خرابی اور نقصان ہے۔
یہی وہ چیز ہے جس سے لوگ جیسے يُضِلُّ بِهٖ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهٖ كَثِيرًا۔ قرآن کے بارے میں ہے، حالانکہ قرآن تو سراپا ہدایت کی کتاب ہے۔ تو نفس کی صفائی اگر يُضِلُّ بِهٖ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهٖ كَثِيرًا ہو جائے، تو کیا ممکن نہیں؟ ظاہر ہے وہ بھی تو ممکن ہے نا۔ لہٰذا نفس کی صفائی ضروری ہے، لیکن بغیر قلب کی صفائی کے نہیں۔ قلب کی صفائی بھی ساتھ ہونی چاہیے۔ نَجَّنَا اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ عَنْ ھَذِہِ الْبَلِیَّۃِ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ وَ عَلَیْھِمُِ الصَّلَوَاتُ وَ التَّسْلِیْمَاتُ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَِ آلِ کُلٍّ۔
یہ اللہ پاک کا ہم کتنا شکر ادا کریں کہ یہ چیزیں اللہ پاک نے ہم تک پہنچا دی ہیں۔ ورنہ ایک دنیا اس میں رگڑی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ نفس کی صفائی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور مجاہدوں پر مجاہدے کر رہے ہیں، اور یہ چیزیں حاصل کر کے مطمئن ہیں کہ ہم کامل ہو گئے ہیں۔ اور کچھ لوگ قلب کے اوپر لگے ہوئے ہیں، اور نفس کو چھوڑا ہوا ہے، اور وہ بھی سمجھے ہوئے ہیں کہ ہم کامل ہیں۔ اور دونوں کا معاملہ خراب ہے۔
تو اللہ پاک کا بہت فضل ہے کہ ہم لوگوں پر کہ اللہ پاک نے ہمیں یہ چیزیں بیک وقت عطا فرمائی ہیں۔
اس تحقیق سے واضح ہو گیا کہ تکلیفِ شرعی۔۔۔
یہ تکلیف کے لفظ سے تنگ نہ ہو جانا، یہ تکلیف ذمہ داری کو کہتے ہیں۔ یہ "تکلیف" ذمہ داری ہے
تکلیفِ شرعی جو بعثت (انبیاء) کی راہ سے ثابت ہوئی ہے وہ بھی رحمت ہی ہے، نہ کہ جس طرح تکلیفِ شرعی کے منکروں یعنی ملحدوں اور زندیقوں نے گمان کیا ہے اور تکلیفِ شرعی کو مصیبت جان کر غیر معقول اور نا پسند قرار دیا ہے
یہ اصل میں حضرت کی یہ باتیں آج کل سمجھ میں نہیں آتیں۔ کیونکہ آج کل ایسے لوگ نہیں ہیں۔ آج کل کبھی اس قسم کی باتیں لوگوں کی سنیں؟ جس نے کہا کہ شریعت کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ باتیں اب لوگ نہیں کرتے۔ اس وقت تو یا مکمل خلاف ہیں، یا مکمل حامی ہیں۔ یہ درمیان والی باتیں آج کل نہیں ہیں۔ لیکن اس وقت تھیں۔ اس وقت یہ باتیں تھیں۔ لوگوں نے یہ باتیں مشہور کی ہوئی تھیں۔ تو یہ ان حضرات کے لیے جواب ہے۔
اور تکلیفِ شرعی کو مصیبت جان کر غیر معقول اور نا پسند قرار دیا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ کون سی مہربانی ہے کہ بندوں کو امورِ شاقہ کی تکلیف دی جائے پھر ان سے کہا جائے کہ اگر تم اس تکلیف کے مطابق عمل کرو گے تو بہشت میں جاؤ گے اور اگر اس کے خلاف کرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ ان کو ایسے امور کی کیوں تکلیف دیتے ہیں اور ان کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے کہ کھائیں پئیں اور سوئیں، اور جس طرح چاہیں اپنے طور پر زندگی بسر کریں۔
اس قسم کے لوگ ہیں۔ اب بھی ہیں۔ جو یہ باتیں کرتے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے جی، بس اللہ پاک کو کیا مطلب کہ بندوں کو تکلیف دے۔ اللہ جل شانہ کو کیا اس سے کم ہوگا۔ اگر ہم لوگ اس پر وہ نہ کریں۔ اللہ بڑے غفور و رحیم ہیں۔ اللہ بڑے غفور و رحیم ہیں، اللہ پاک بڑے کریم ہیں۔ وہ معاف کر دے گا۔ اور مجھے خود ایک صاحب نے کہا ہے۔ یہ میرے بالکل Roommate تھے۔ تو وہ مجھے کہنے لگے، یہ جو تم اللہ کے بارے میں یہ سوچتے ہو نا، کہ بس یہ نہیں کرو گے تو وہ ہو جائے گا، یہ نہیں کرو گے تو یہ ہو جائے گا یہ نئی بات ہے۔ اللہ پاک بہت کریم ہے۔ تو یہ چیزیں اصل میں ذرا ملمع سازی شیطان نے کی ہوتی ہے، اس طرح سمجھایا ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ پاک کی صفات ساری کے ساری ہیں۔ ساری کے ساری صفات ہیں۔ وہ جیسے جبر و اختیار والی بات بہت چلتی تھی نا پہلے، کہ مجبور ہیں یا مختار ہیں۔ تو جو مجبور اپنے آپ کو کہتے تھے، تو اس نے جا کے کسی کے کھیت سے گنے چوسنا شروع کر دیے۔ مالک آگیا۔ مالک نے اس کو پکڑ لیا، اور اپنے خادم کو کہا بھئی اس کو پکڑو، اس کو پکڑ لیا۔ اس نے پوچھا تو نے کیوں میرے گنے چوسے؟ اس نے کہا تو بھی خدا کا، میں بھی خدا کا، کھیت بھی خدا کا، گنے بھی خدا کے۔ میں نے اگر خدا کے گنے کھا لیے تو اس میں تجھے کیا مسئلہ؟ اس نے کہا تو تو واقعی بڑا قابل آدمی ہے۔ تو پھر اس نے جو ہے نا اس کو باندھ لیا اور ڈنڈا منگوایا، اس کو مارنے لگا۔ تو چیخنے لگا، کہتا ہے کیوں چیختا ہے؟ تو بھی خدا کا، میں بھی خدا کا، ڈنڈا بھی خدا کا، رسی بھی خدا کی، تو پھر خدا کا ڈنڈا تجھے مار رہا ہے تو تو کیوں چیختا ہے؟ جب اس کو زیادہ زور سے پڑی نا تو کہتا ہے، بس اختیار است، اختیار است، اختیار، اختیار ٹھیک ہے، مانتا ہوں، مانتا ہوں۔
تو اس قسم کی باتیں لوگ پہلے کرتے تھے۔
(یہ منکرین) بد نصیب اور بے عقل یہ نہیں جانتے کہ از روئے عقل "شکرِ منعم" ادا کرنا واجب ہے اور یہ تکلیفاتِ شرعیہ اس شکر کے بجا لانے کا بیان ہے۔ لہذا تکلیفِ (شرعی) عقل کی رو سے بھی واجب ہے۔ اسی طرح "نظام عالم" "تکلیفات شرعیہ" کے ساتھ وابستہ ہے، اگر ہر ایک کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا تو سوائے شرارت و فساد کے کچھ ظہور میں نہ آتا، اور ہر بو الہوس دوسرے کے جان و مال میں دست درازی کرتا اور خباثت و شرارت سے پیش آتا، اس طرح خود بھی ضائع ہوتا اور دوسروں کو ضائع کرتا۔ عَیَاذًا بِاللّٰہِ سُبْحَانَہٗ اگر سختی اور شرعی موانع حائل نہ ہوتے تو معلوم نہیں کہ کس قدر شرارت و فساد ظاہر ہوتا۔ ﴿وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَّا أُوْلِي الْأَلْبَابِ﴾ (البقرۃ: 179) ترجمہ: ”اور اے عقل رکھنے والو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی (کا سامان ہے)“
اگر چوبِ حاکم نباشد ز پے
کند زنگئے مست در کعبہ قے
ترجمہ:
اگر چوب حاکم کا ہوتا نہ خوف
شرابی تو کعبے میں کر دیتا قے
یا ہم یہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ زمین و آسمان اور ہر چیز کا خود مختار مالک ہے اور (تمام) بندے اس سبحانہٗ کے مملوک اور غلام ہیں، لہذا جو حکم و تصرف وہ ان میں فرماتا ہے وہ عین خیر و اصلاح ہے اور ظلم و فساد کی آمیزش سے منزہ و مبرا ہے۔ ﴿لَا يُسۡـَلُ عَمَّا يَفۡعَلُ﴾ (الأنبیاء: 23) ترجمہ: ”وہ جو کچھ کرتا ہے اس کا کسی کو جواب دہ نہیں ہے“۔
کرا زہرۂ آنکہ از بیم تو
کشاید زباں جزبہ تسلیم تو
ترجمہ:
ترے خوف سے کس کو ہے حوصلہ
کہ تسلیم سے ہٹ کے کھولے زباں
اگر وہ سب کو دوزخ میں ڈال دے اور دائمی عذاب کا حکم فرمائے تو کسی کو اعتراض کی کیا مجال ہے؟ اور یہ غیر کی ملک میں تصرف نہیں ہے کہ اس میں ظلم و ستم کا شائبہ ہو، بر خلاف ہماری املاک کے جو فی الحقیقت اسی سبحانہٗ کی املاک ہیں۔ ان املاک میں تمام تصرفات (سوائے ان کو جو جائز ہیں) عین ستم ہیں۔ کیونکہ صاحب شرع نے بعض مصالح کی بنا پر ان املاک کی نسبت ہماری طرف کر دی ہے لیکن حقیقت میں وہ سب اسی سبحانہٗ کی ملکیت ہیں۔ لہذا ان میں ہمارا تصرف اسی قدر جائز ہے جس قدر مالک علی الاطلاق (بالکلیہ مالک حق تعالیٰ) نے اس میں تصرف کی اجازت دی اور مباح فرمایا۔
دیکھیں ایک بات یاد رکھیے، اللہ جل شانہ نے نظامِ دنیا کو صحیح طور پہ چلانے کے لیے کچھ قوانین ایسے بنائے ہیں جو ہمارے حقوق و فرائض کا تعین کرتے ہیں۔ ان حقوق و فرائض کے تعین میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ واقعی ہماری ہی خیر ہے۔ جیسے ٹریفک کے قوانین ہیں۔ اگر ٹریفک کے قوانین پر کوئی عمل نہ کرے، تو نقصان سب کو ہوتا ہے۔ تو سب لوگ مانتے ہیں کہ واقعی ٹریفک کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے، ورنہ نہیں کریں گے تو نقصان ہوگا۔ تو اسی طریقے سے اللہ پاک نے جو قوانین ہمارے درمیان یعنی ایک نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے ہیں، اس کو تو ہم جانتے ہیں کہ اس میں تو واقعی ہمارا فائدہ ہے۔ اب صرف اس کی بات رہ جاتی ہے کہ اللہ پاک نے وہ جو قوانین اپنے اور ہمارے درمیان بنائے ہیں، یعنی گویا کہ حقوق اللہ جس کو ہم کہتے ہیں۔ اس میں کیا ہے؟ تو اس میں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔
دیکھیے جس وقت ہم کسی کی نوکری کرتے ہیں۔ کسی کی نوکری کرتے ہیں۔ تو جب ہم نوکری کرتے ہیں تو ہمارا ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ کہ ہم ان کے بتائے ہوئے کام کو کریں گے، اور وہ ہمیں تنخواہ دیں گے۔ اچھا وہ کام چاہے نرم ہے، سخت ہے، وہ ہمارا آپس میں معاہدہ ہوتا ہے، ایک قسم کا۔ اس کے مطابق ہم کام کرتے ہیں، اور اس کے مطابق وہ ہمیں تنخواہ دیتا ہے۔ اب وہ جو کام ہم کر رہے ہیں تو کیا اس کے اوپر احسان ہے؟ اگر وہ ہمیں دیتا ہے، تنخواہ، تو کیا اس کے اوپر ہمارا احسان ہے کہ ہم کہیں گے بھئی ہم آپ کے لیے یہ کام کر رہے ہیں، وہ کہے گا میں تمہیں اس کی تنخواہ دے رہا ہوں۔ تو کون سا اس کے اندر ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے؟ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ ہم سے جو کام لے رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ ہمیں اجر دے رہے ہیں۔ اور وہ اجر ادھر Cash ہوگا۔ باقاعدہ Cash ہوگا۔ یعنی وہ باقاعدہ آپ کو وہاں پر ملے گا۔ اور اگر نہیں کریں گے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کی سزا بھی ہے۔ سزا اس لیے ہے کہ ہم لوگ خود نہیں بنے، اس نے ہمیں بنایا ہے۔
خود بنے ہوتے تو پھر بات اور ہو سکتی تھی، لیکن خود تو بنے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنایا، تو جب اللہ پاک نے ہمیں بنایا ہے، تو اس کے طور پر ہمارے اوپر کچھ کام رکھے ہوئے ہیں۔ اب اگر وہ نہیں کرتے اب اگر اس سے ہم بچنا چاہتے ہیں، تو تھوڑی سی محنت کے ذریعے سے ہم وہ اجر بھی لے لیں گے اور اس چیز سے بھی بچ جائیں گے۔ گویا کہ ہمیں ایک چیز کے اجر میں دو چیزیں ملتی ہیں۔ ایک تکلیف سے بچت ہے، اور دوسرا اس کا فائدہ بھی ہے۔
نوکری میں اور غلامی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ نوکری غلامی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ نوکری اور غلامی میں یہی فرق ہوتا ہے، نوکر ایک خاص وقت، خاص Condition پر نوکری کرتا ہے وہ آپ کا مملوک نہیں ہوتا۔ وہ صرف اس کا Time آپ کا Time ہوتا ہے۔ جبکہ غلام مملوک ہوتا ہے۔ اس کا جسم بھی مالک کا ہوتا ہے۔ یعنی ظاہر ہے وہ اس میں تصرف کر سکتا ہے گویا کہ وہ کام کر سکتا ہے۔ اور بندہ غلام سے بھی نیچے ہے۔
غلاموں کے حقوق ہیں، بندوں کے نہیں ہیں۔ تو بندہ تو غلاموں سے بھی نیچے ہے۔ کیونکہ ہم نے غلام کو ہم نے بنایا نہیں ہوتا۔ غلام کو ہم نے خریدا ہوتا ہے۔ تو اس کے ساتھ بھی پیسے وابستہ ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ہمارا ان کے اوپر اتنا ہی حق چل سکتا ہے نا۔ لیکن یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ہم لوگ یعنی وہ اس لیے بھاگ نہیں سکتے کہ اس نے پیسے اس کے لیے دیے ہوئے ہیں۔ تو وہ بیچ تو سکتا ہے یعنی لیکن یہ بات ہے کہ وہ بھاگ نہیں سکتا۔ وہ خدمت کرے گا اس کے پیسوں کے عوض میں، خدمت کرے گا، جس کو ہم Investment کہتے ہیں۔ لیکن جو بندہ ہے، وہ بندہ تو بنایا گیا ہے۔ ابتداء سے بنایا گیا ہے۔ جب ابتداء سے بنایا گیا ہے تو وہ بنانے والے کا جو بھی چیز آپ بناتے ہیں، اپنے استعمال کے لئے اس کا کوئی استعمال کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ اس چیز کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ انکار کرے؟ وہ نہیں کرتا۔ اگر مثال کے طور پر وہ کام وہ نہیں کرتا تو اس کو توڑ دیا جاتا ہے۔ تو یہی والی بات ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بنایا ہوا ہے، لہٰذا ہم پر اللہ پاک کا حق ہے۔ اور اس حق کے لئے جس کو ہم حقوق اللہ کہتے ہیں اور اس حق کے لئے ہمیں کام کرنا ہوگا۔ اور کام نہیں کرتے، تو پھر سزا ہے۔ اور اگر کام کرتے ہیں تو نہ صرف سزا ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس کے اوپر اجر بھی ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اجر نہ ہوتا۔ اجر نہ ہوتا۔ اچھا، کمال کی بات ہے کہ سزا بھی کم اور اجر زیادہ۔ آپ کے گناہ جو ہوتے ہیں، تو ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔ اور آپ کی نیکی دس گنا لکھی جاتی ہے، کم از کم۔ تو آپ کو یہ Advantage بھی ہے۔ اور یہ سب سے بڑا Advantage ہے، جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ آپ نے جتنی غلطیاں کی ہیں، توبہ کر لیا تو سارا معاف۔ اللہ کا حق جو ہے۔ توبہ کیا تو سارا معاف۔ پھر آپ سے پوچھا ہی نہیں جائے گا۔ تو توبہ کرنا کتنا مشکل کام ہے؟
تو یہ اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں، تو عقلی طور پر یہ جو حقوق اللہ ہے، اور حقوق العباد، اس کے نظام کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ باتیں ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ اور جب اللہ نے بنایا ہے، تو ہم اللہ پاک کے حکم کے پابند ہیں۔ ہمیں جو اللہ پاک نے بتایا، بلکہ اگر اللہ پاک حکم نہ بھی دیتا، اس کا تو اگر ہم لوگ صحیح ہوتے، مزاج کے لحاظ سے سمجھدار ہوتے، تو ہمیں خود تلاش ہوتی کہ ہمارے آقا کا ہمارے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور ہمیں اس کی تلاش کرنی پڑتی۔ لیکن اللہ پاک نے فضل فرمایا، بغیر اس کے، انبیاء علیہم السلام بھیج کر اور کتابیں بھیج کر ہمیں بتا دیا کہ ہمارے آقا کا ہمارے بارے میں کیا حکم ہے۔ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہ کرے۔ یہ ساری بات چل رہی ہے۔کیونکہ ان بزرگواروں (یعنی انبیاء) علیہم الصلوات و التسلیمات نے حق جل و علا کے احکام کے بارے میں خبریں دی ہیں اور جو احکام بیان فرمائے ہیں وہ سب سچے اور واقعہ کے مطابق ہیں۔ (علماء نے) احکامِ اجتہادیہ میں ان بزرگوار (پیغمبران) علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات سے اگرچہ خطا کو تجویز کیا ہے لیکن خطا کے بر قرار رکھنے کو ان کے حق میں جائز نہیں رکھا اور فرمایا ہے کہ ان کو ان کی خطا پر جلدی متنبہ کر دیتے ہیں اور ان کی خطا کا تدارک صواب سے کر دیتے ہیں فَلاَ اعْتَدَادَ بِذَلِکَ الخَطَإِ (لہذا یہ خطا کسی گنتی میں نہیں ہے)
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
اس درس کے بعد حضرت شیخ دامت برکاتہم نے انسانی وجود کے تین اہم ترین پہلوؤں یعنی نفس، قلب اور عقل کی حقیقت پر قرآن و حدیث کی روشنی میں انتہائی بصیرت افروز تشریح فرمائی، جو اس بیان کا اصل حاصل ہے۔
نفس اور قلب کی اصلاح
حضرت شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ نفس میں برائی (فجور) اور پرہیزگاری (تقویٰ) دونوں کی صلاحیت موجود ہے، اور اس کا تزکیہ ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔ قلب کے حوالے سے آپ نے آگاہ فرمایا کہ اس میں دو راستے ہیں: ایک رحمانی جس سے الہامات آتے ہیں، اور دوسرا شیطانی جس سے وساوس جنم لیتے ہیں۔ اگر دل ذکرِ الٰہی سے غافل ہو تو وہ شیطان کا ٹھکانہ بن جاتا ہے۔ اس کی عملی مثال دیتے ہوئے آپ نے ہاسٹل کے ایک طالب علم کا چشم دید واقعہ سنایا جو گناہوں اور غفلت کے ماحول میں اس قدر دھنسا ہوا تھا کہ اس کا دل مسجد جانے سے مکمل انکاری تھا، لیکن جب اہل اللہ کی توجہ اور دینی ماحول کی برکت سے وہ مسجد میں آیا تو اسی بے چین دل نے ناقابلِ بیان سکون اور خوشی محسوس کی۔ آپ نے حکمت بیان فرمائی کہ گناہوں کے اندھیرے میں روحانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے، لیکن جب دل ذکر سے مانوس ہو جائے تو پھر گناہ کا معمولی سا خیال بھی انسان کو بے چین کر دیتا ہے۔
عقل، سچی کرامت اور استدراج کا فرق
عقل کے حوالے سے آپ نے ایک انتہائی ذہین شخص کا عبرت ناک واقعہ بیان فرمایا جو جزیہ کے حوالے سے محض ایک عقلی اشکال پر مرتد ہو گیا تھا۔ لیکن جب اسے حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں لے جایا گیا، تو حضرت کی باطنی توجہ سے اس کے تمام سوالات کے جوابات خود بخود اس کے ذہن میں آ گئے اور وہ دوبارہ تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ حضرت شیخ نے واضح فرمایا کہ یہ کوئی ہپناٹزم نہیں تھا، بلکہ ایک سچے ولی کی کرامت تھی جس نے اپنے نفس اور قلب کو اللہ کے لیے خالص کر لیا تھا۔ اس کے برعکس، جو لوگ مجاہدوں اور مشقتوں سے نفس پر محنت کر کے کچھ غیر معمولی کیفیات طاری کرتے ہیں، وہ درحقیقت جوگ (Yoga) اور استدراج ہے، جو شیطان کا دھوکہ ہے اور اس کا اسلامی تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔
تزکیہ کی تکون اور شیخِ کامل کی ضرورت
آپ دامت برکاتہم نے انسانی باطن کو ایک تکون (Triangle) سے تشبیہ دی۔ فرمایا کہ جب ان تینوں کی اصلاح ہوتی ہے تو نفس "مقامِ عبدیت" پر آ کر نفسِ مطمئنہ بن جاتا ہے، قلب "روح" بن کر ملائے اعلیٰ سے الہامات وصول کرتا ہے، اور عقل "سِرّ" بن کر فراست سے منور ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ عظیم انقلاب ایک کامل شیخ کی رہنمائی کے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔ روحانیت کا راستہ "فنا فی الشیخ"، پھر "فنا فی الرسول" اور بالآخر "فنا فی اللہ" سے ہو کر گزرتا ہے۔
اہل اللہ کی بے ادبی کا ہولناک انجام
درس کے آخر میں حضرت شیخ دامت برکاتہم نے انتہائی جلال اور دردمندی کے ساتھ شیخ کی نافرمانی اور گستاخی کے عبرت ناک انجام سے خبردار کیا۔ آپ نے اپنے شیخ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید کا دلخراش واقعہ سنایا جس نے شیطان کے دھوکے میں آ کر نہ صرف خود کو بیعت سے نکلوایا بلکہ بدبختی کی انتہا کرتے ہوئے حضرت کی دعاؤں سے بھی نکلنے کی گستاخانہ درخواست کی۔ محض بارہ سال بعد اس بے ادبی کی ایسی ہولناک سزا ملی کہ اس کا پورا خاندان قتل و غارت کا شکار ہو گیا، جائیدادیں بک گئیں اور وہ خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے معافی مانگنے پر مجبور ہوا۔ اہل اللہ سے کٹ جانا اور ان کی مخالفت کرنا دنیا اور آخرت کی صریح بربادی ہے۔
ان پرفتن حالات میں، جہاں ہر طرف غفلت اور گمراہی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، مجالسِ علم و ذکر اور خانقاہوں کی یہ محافل کسی عظیم نعمت سے کم نہیں۔ روحانی و باطنی امراض سے شفا پانے، اپنے نفس کو شیطانی وساوس سے محفوظ رکھنے اور ذکرِ الٰہی کی سچی حلاوت محسوس کرنے کے لیے ان محافل کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں۔ جو شخص بھی اپنے ایمان کی سلامتی اور دل کا حقیقی سکون چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ ان دروس کو براہ راست (لائیو) سننے کا معمول بنائے اور اہل اللہ کی صحبت اختیار کرے۔ مشائخِ عظام کی صحبت اور ان کی نگاہِ فیض وہ اکسیر ہے جو زنگ آلود دلوں کو منور کر کے انہیں صراطِ مستقیم پر استقامت عطا کرتی ہے۔
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی
www.tazkia.org