ظاہری و جسمانی رفعت کے مقابلے میں حقیقی روحانی رفعت

دفتر اول: حکایت نمبر: 27، 28 اشاعت اول: منگل 3 ستمبر،2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

استعداد اور روحانی پختگی سے قبل منصب و ذمہ داری سونپنے کے خطرات

بے پر پرندے اور کمسن بچے کی تمثیل سے قبل از وقت منصب کی ممانعت

علمِ دین اور افتاء میں پختگی کی اہمیت اور اکابر کا طرزِ عمل

مریدوں کا اپنے مرشد سے خلوت ترک کرکے جلوت میں آنے کا اصرار

آسمان (اجسام) اور جان (روح) کی بلندی اور معنویت کا موازنہ

لذاتِ دنیا کے مقابلے میں حلقہِ ذکر (جنت کی چراگاہوں) کی فضیلت

شاہ ابو سعیدؒ کی روحانی تربیت اور نفس کشی کا عبرت انگیز واقعہ

سجادگی، خاندانی زعم (خو بو) اور تکبر کو ختم کرنے کی کٹھن محنت

فکرِ حسی (انسانی احساسات اور نفسانی قید) سے آزادی اور جامِ معرفت

کثرتِ کلام کے نقصانات (قساوتِ قلب) اور ذکر اللہ کی تاکید

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


معزز خواتین و حضرات! آج منگل ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوتا ہے اور یہ درس ماشاء اللہ بہت سارے حقائق کو سمجھانے والے دروس ہوتے ہیں


دفتر اول: حکایت: 27

گزشتہ سے پیوستہ


8

جسم خشک کی سیر خشکی پر ہی ہے سیرِ باطن بحر کے اوپر ہی ہے

جسمِ خشک (عنصری) کی سیر (عالمِ ظاہری کی) خشکی پر واقع ہوئی ہے (اور) روح کی سیر نے دریائے (باطن) کے وسط میں پاؤں رکھا ہے۔

مطلب: یعنی اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دریائے باطن میں پاؤں رکھے۔

اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دریائے باطن میں پاؤں رکھے۔

مطلب یہ ہے کہ وہ آگے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مگر پھر بھی جو روح دریائے باطن سے غیر مانوس ہے تو اس کے حرمان کی وجہ نیچے بیان فرماتے ہیں:

9

لذاتِ دنیا میں ہم چرتے رہے گاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے

مطلب جو لذتی دنیا ہے اس میں ہم چرتے رہے۔ اب دیکھیں حدیث شریف میں آتا ہے۔ یہ لذاتِ دنیا میں ہم چرتے ہیں نا، وہ اس کا تو یعنی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ تو خود بخود ہمارا ہے۔ مثلاً بازار جاتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ لوگوں سے ملتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ یہ موبائل کھولتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ مطلب ہماری ساری زندگی انہی چیزوں میں پڑی ہوئی ہے۔ تو آپ ﷺ نے اس کے توڑ کے لیے کیا فرمایا؟ "جب تم جنت کی چراگاہوں میں پہنچو، تو اس میں خوب چرو۔" صحابہ کرام نے پوچھا: "جنت کی چراگاہیں کون سی ہیں؟" فرمایا: "ذکر کے حلقے۔"

ذکر کے حلقوں سے مراد کیا ہے؟ جہاں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔ جب اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، تو ہمارا اصل مقصود تو وہی ہے۔ تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم تو اس کے لیے نہیں آئے تھے ان چیزوں کی لذتوں کے لیے۔ ہم تو ان لذتوں کے لیے نہیں آئے تھے۔

میں آپکو ایک واقعہ سناتا ہوں، بہت زبردست واقعہ۔ حضرت شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کا۔ یہ شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ جو تھے، یہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے تھے۔ اور شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ ہندوستان کے بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں، بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں۔

تو ان کے پوتے تھے، ظاہر ہے ان کے باپ بھی سجادہ نشین تھے اور شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ بھی سجادہ نشین تھے۔ لیکن شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کو پتہ چل گیا کہ وہ چیز ہمارے ہاں نہیں رہی جو ہمارے دادا کے وقت میں تھی۔ اس میں وہ چیز رہ گئی، مطلب کمی ہو گئی۔ تو اس کو کیسے حاصل کیا جائے؟ اللہ پاک نے اس کو سعادت بخشی، یہ کہ سوچ ان کو آ گئی۔ ورنہ لوگوں کو خیال نہیں آتا اس چیز کا۔

تو لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے شیخ کا سب سے بڑا خلیفہ کون ہے؟ یعنی جن کا کام بہت پھیلا ہوا ہے اور کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ۔ تو وہ شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلے گئے۔

ان کو جب پتہ چلا کہ صاحبزادے صاحب آئے ہوئے ہیں تو وہ تو پورے جتنے لوگ ان کے تھے مریدین تھے سارا ان لاؤ لشکر کے ساتھ استقبال کے لیے آ گیا۔ کہ ہمارے صاحبزادے صاحب آئے ہوئے ہیں۔ اب پہنچ گئے، ان کا استقبال کیا، ان کی دعوتیں شروع ہو گئیں۔ کبھی ایک دعوت کر رہے ہیں، کبھی دوسرا دعوت کر رہا ہے، تین دن تک دعوتیں چل رہی تھیں۔

انہوں نے کہا: "حضرت میں تو ان دعوتوں کے لیے تو نہیں آیا تھا۔" اب یہاں سے اصل بات شروع ہوتی ہے۔"میں تو ان دعوتوں کے لیے نہیں آیا تھا۔" تو حضرت نے پوچھا: "کس چیز کے لیے آئے تھے؟" انہوں نے کہا: " آپ جو چیز لے آئے ہیں ہمارے دادا کی طرف سے، میں اس چیز کے لیے آیا ہوں۔"

تو انہوں نے پوچھا کہ: "اچھا واقعی آپ اسی کے لیے آئے ہیں؟" انہوں نے کہا: "ہاں۔"انہوں نے کہا: "پھر وہ اس لباس میں حاصل نہیں ہو سکتی جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔" انہوں نے کہا کہ: "ٹھیک ہے۔ یہ لباس ضروری نہیں ہے۔" انہوں نے خادموں کا لباس منگوایا۔ ان سے کہا یہ لباس پہنو۔ انہوں نے پہن لیا۔ انہوں نے جا کر حمام جو تھا نا اس میں پہنچا دیا، آگ جس میں ڈالی جاتی ہے۔ تو فرمایا کہ: "یہ لکڑی ہے، یہ آپ نے کاٹنی ہے۔ اور یہ اس میں آپ نے ڈالنی ہے۔ اس کو حمام کو گرم رکھنا ہے۔ بس آپ کا کام یہی ہے۔ اور آپ دن کے وقت تو یہی کریں گے، رات کو آپ آرام کریں گے، نماز اپنے وقت پہ پڑھیں گے، کھانا اپنے وقت پہ ملے گا، مجھ سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے، بس آپ کا یہی کام ہے۔"

تشکیل ہو گئی، بس وہ شروع ہو گیا۔ اب دیکھیں اصل میں ہوتا کیا ہے؟ اس واقعے میں بہت بڑی عبرتیں ہیں۔ تو اس پر حضرت تو تیار تھے اس کے لیے، شروع کر دیا۔ جس طرح فرمایا اس طرح کرتا رہا، چھ مہینے گزر گئے۔ چھ مہینے کے بعد حضرت نے ایک بھنگن کو بلایا جو وہاں کام کرتی تھی کہ جا کر یہ جو گندگی کا ٹوکرا ہے، وہ اس کو اس طرح غیر محسوس انداز میں اس طرح گرانا ہے کہ کچھ حصہ ان کی طرف بھی آجائے۔ اور دیکھو کہ وہ کیا کرتا ہے۔" تو انہوں نے ایسے ہی کیا، تو انہوں نے اس کو گھور کے دیکھا اور کہا: "نہ ہوا گنگوہ، یعنی گنگوہ ہوتا تو میں تمہیں دیکھ لیتا کہ تو کس طرح کرتی ہے۔"

انہوں نے جا کر رپورٹ دے دی، کہا: "اچھا، ابھی سجادگی کا خو بو باقی ہے۔ خو بو باقی ہے۔ تو خیر ایسا ہوا کہ پھر چلتے رہے، تقریبا چھ مہینے اور گزر گئے۔ پھر ان کو اس طرح، کہا کہ "کچھ اور قریب ان کے گرا دینا۔" (پھر) گرایا اس دفعہ انہوں نے گھور کے دیکھا لیکن کہا کچھ بھی نہیں۔ تو انہوں نے جا کے رپورٹ کی، کہتے ہیں: ماشاءاللہ ترقی ہوئی ہے۔

پھر اگلی دفعہ کچھ عرصہ اس طرح کرتے رہے، اور پھر آخر میں فرمایا کہ: "اس طرح کر لے کہ کچھ اس کے اوپر ہی پڑ جائے۔" اس دفعہ جب انہوں نے کیا، تو وہ بن گئے تھے، تو وہ افسوس کرنے لگے کہ: "میں غلط جگہ پہ بیٹھا ہوا تھا اور آپ کو تکلیف ہو گئی اور اس میں ہاتھ سے اس میں ڈالنے لگے اور یہ اور وہ چیزیں۔ اس پر وہ جو بھنگن گئی تو انہوں نے کہا: حضرت، وہ میاں تو بڑے تبدیل ہو گئے، اب تو اس طرح کہنے لگے۔ کہتے ہیں: "ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، بہت اچھا ہوا، بہت اچھا ہوا، چلو اب آخری طریقہ۔ آخری طریقہ یہ ہوا کہ فرمایا جی: شکار کے لیے چلتے ہیں۔ دو شکاری کتے تھے، ان کے حوالے کیے گئے۔ ان کو کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ اب شکاری کتے تازہ، اور یہ کمزور۔ تو انہوں نے اپنے کمر کے ساتھ ان کو دونوں کو باندھ لیا، رسی ان کی باندھ لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس وقت شکاری کتوں نے شکار دیکھ لیا تو اچھل پڑے۔ اچھل پڑے تو بیچارے گر پڑے۔ اب ان کو کھینچ رہے ہیں، کبھی جھاڑیوں میں، کبھی پتھروں پہ، لہولہان ہوتے جا رہے ہیں۔ اتنے میں حضرت بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کو اونگھ آئی۔ اونگھ آئی تو حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اونگھ میں، گویا کہ خواب میں آئے، فرمایا: "میں نے تو تجھ سے اتنی محنت نہیں لی تھی، جتنی تو نے میرے پوتے سے لی ہے۔

تو ان کو فورا سمجھ میں آ گیا: اوہو، یہ تو اور ہو گیا معاملہ۔ تو خیر بہرحال وہ جاگ گئے، اور انہوں نے بندے دوڑا دیے کہ "جاؤ جاؤ بھئی! اس باؤلے کو پکڑ کے لے آؤ، کہاں پر گیا؟" تو دیکھا کہ جھاڑیوں میں پڑے ہوئے ہیں لیکن چہرہ ہشاش بشاش ہے، تکلیف کا کوئی احساس نہیں۔ بہت خوش ہے۔ بہت خوش ہے۔ تو اس پر پوچھا: بھئی کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: "تجلی ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجلی ہو گئی۔" تو اس تجلی کے شوق میں، انتظار میں تھے کہ پھر تجلی ہو جائے۔ پھر تجلی ہو جائے۔" تو اپنے سانس کو روکے رکھا، کہ میں تب سانس لوں گا جب دوبارہ تجلی ہوگی۔ ظاہر ہے وہ بڑی چیز ہوتی ہے۔

تو کچھ دیر تک تو نہیں ہوئی، لیکن جب ہو گئی، تو یکدم سانس جو کھلا تو اس سے تین پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ تو اوپر سے آواز آئی: "اپنے شیخ کو کہو کہ تمہیں چوزوں کا شوربہ پلائے۔" اور ایک دوائی آسمان سے آ گئی، وہ ان کے منہ میں ڈال دی گئی۔ تو اس طریقے سے حضرت نے ماشاءاللہ ان کا علاج پھر کیا۔ جب بالکل ٹھیک ہو گئے تو ان کو خلعت پہنائی، فرمایا: "تم خوش نصیب ہو کہ ہم جو نعمت تیرے گھر سے لائے تھے، وہ آپ اپنے گھر لے جا رہے ہیں۔"

یہ ہوتی ہے تربیت۔ اب لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں کیوں یہ کرتے ہیں۔ مجھے بتاؤ یہ چیز، یہ سجادگی کا جو خیال ہے، وہ کس طرح آسانی سے جا سکتا ہے کسی کے دماغ سے؟ نہیں جا سکتا۔ تو اس کو لے جانے کے لیے، کہ "میں کچھ ہوں"، وہ اس کو لے جانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ محنت اسی قسم کی ہوتی ہے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ حضرت وہ بتاتے ہیں:

لذاتِ دنیا میں ہم چرتے رہے گاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے

چونکہ عمر (لذّاتِ دنیا کی) خشکی سے راستے میں کٹی۔ کبھی پہاڑ کبھی جنگل اور کبھی بیابان میں (بھٹکتے پھرتے رہے۔)

10

سیرِ باطن کا کہاں آبِ حیات پائے گا کیونکر تو پھر باطن کی بات

(پھر) تو (سیرِ باطن کا) آبِ حیات کہاں پائے (اور) دریائے (باطن) کی موج کو کہاں چیرے۔

یہ تیرے ساتھ کیسے ہوگا؟"

11

خاکی موج ہے فہم و وہم و فکرِ ما موجِ آبی محو و سکر اور فنا

مطلب یہ ہے کہ جو خاکی ہے، جو خشکی والی بات ہے وہ ہماری سمجھ ہے، ہمارا وہم ہے اور ہماری فکر ہے۔ اور جو دریائے معرفت ہے، وہ کیا ہے؟ اس میں محو ہونا ہے، اور اس میں فنا ہونا ہے۔

خاکی موج ہمارا فہم و وہم اور فکر ہے (جو دنیوی امور کے آلاتِ احساس ہیں) آبی موج، محو اور (معرفت) کا نشہ اور فنا ہے۔

12

مستہلک فکرِ حسی میں تم ہو گم معرفت کا جام نہ پی سکتے ہو تم

مطلب یہ ہے کہ تم فکرِ حسی میں جب تک گم ہو گے، تو معرفت کا جام تم کیسے پی سکتے ہو؟ وہ تمہیں کیسے ملے گا؟ مطلب تم اپنے احساسات کی قید میں ہو۔ تم اپنے احساسات کے قید میں ہو۔ لہٰذا تم اس سے باہر نہیں آسکتے۔ جب تک تم اپنے احساسات کے قید میں ہو، اس وقت تک معرفت نہیں تمہیں حاصل ہو سکتی۔

اپنے احساسات میں قید سے باہر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کھائے نہیں، پیے نہیں، سوئے نہیں۔ نہیں، یہ والی بات نہیں! ان کا غلام نہ بنے۔ مثال کے طور پر نیند اچھی طرح آ رہی ہے لیکن نماز کا وقت ہے۔ اس وقت وہ نیند اس کو نماز سے محروم نہ کر سکے۔ اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ۔ وہ اس کے دل کو سمجھے۔ اور اس وقت اٹھے، چاہے کتنی تکلیف ہو، کیونکہ اس وقت اللہ کا حکم ہے۔ اس وقت آپ نے اپنے جسم کا نہیں ماننا، اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کی ماننا ہے۔

اس طرح آپ کو کھانے کو بہت جی چاہتا ہے لیکن روزہ ہے۔ آپ نے اللہ کا ماننا ہے۔ اپنے اپنے جسم کا تو نہیں ماننا۔ اب دیکھ لیں! ہمارے پاکستان میں یہاں (گلاسگو میں) تو وہ چیز نہیں ہوسکتی۔ ہمارے پاکستان و ہندوستان میں یہ جو پتھر کوٹنے والے جو مزدور ہوتے ہیں نا، جون جولائی میں سڑک جو کرتے ہیں، ان کا روزہ ہوتا ہے۔ اور Air conditioned کمروں میں بیٹھنے والوں کا روزہ نہیں ہوتا۔ یہ کیا چیز ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو احساس ہے تو وہ اس حالت میں بھی روزہ رکھتے ہیں۔ اور یہ جو air conditioned کمروں میں بیٹھنے والے ہیں، یہ اپنے احساسات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو ہر وقت اپنی پڑی ہے کہ میرا فلاں چیز نہیں، میری فلاں چیز نہیں، لہٰذا وہ ان چیزوں سے وہ اس طرح ہے۔ اس طرح حج کے موقع پر دیکھا جائے۔ تو اس میں ان احساسات کو توڑا جاتا ہے۔ حج کے جتنے بھی اعمال ہیں اس میں احساسات کو توڑا جاتا ہے، کہ تم جو سمجھتے ہو، وہ ایسا نہیں ہے۔ جو میں کرواتا ہوں، اس طرح کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے مطلب وہ کرنا پڑتا ہے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ:

مستہلک فکرِ حسی میں تم ہو گم معرفت کا جام نہ پی سکتے ہو تم

13

ظاہری گفتار قلب کا ہے حجاب

ہو خموش کچھ ہوش سے ہو باریاب

ہوش سے تھوڑا سا باہر آ جاؤ، پھر تم باریاب بن جاؤ گے

ظاہری گفتگو غبار کی طرح حجابِ قلب ہوتی ہے۔ خبردار! کچھ مدّت خاموش رہو اور ہوش رکھو۔

اس حدیث کے مضمون پر مشتمل ہے۔

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:

لَا تُکْثِرِ الْکَلَامَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ، فَاِنَّ کَثْرَۃَ الْکَلَامِ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ قَسْوَۃٌ لِلْقَلْبِ، وَ اِنَّ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللہِ تَعَالٰی الْقَلْبُ الْقَاسِیُّ" (ترمذی)

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

"اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ گفتگو نہ کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ بولنا دل کی سختی کا موجب ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ سے زیادہ دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہے"۔

اب دیکھ لیں۔۔ تو اب یہ ہماری باتیں کس لیے ہوں؟ وہ صرف اس لیے ہوں کہ اس میں اللہ پاک کا ذکر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے ساتھ ہم بولیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ہماری زبان پہ مطلب جاری ہو۔

جس طرح آپ ﷺ نے بھی فرمایا، پوچھا گیا کہ ہر وقت میں کیا کام کروں؟ صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم اپنی زبان کو ذکر سے تر رکھو۔" رَطْبُ اللِّسَانِ رہو۔ ذکر سے رَطْبُ اللِّسَانِ رہو۔"

تو مطلب یہ چیزیں ہیں۔

دفتر اول: حکایت: 28

"مریدوں کا پھر عرض کرنا کہ خلوت سے نکلئے"

کیوں کہ ہم آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں

1

سارے بولے اے حکیمِ رخنہ جُو یہ جفا کی باتیں ہم سے نہ کریو

یہ اس طرح باتیں تو ہمارے ساتھ نہ کریں نا، مطلب ظاہر ہے کہا کہ مہربانی کر کے ہم پر رحم فرمائیں۔ سب نے عرض کیا اے دانا! (بوجہِ استغناء ہماری حالت کا) خلل گوارا کرنے والے یہ ٹال مٹول اور یہ جفا (کی باتیں) ہم سے نہ کہیے۔

2

ہم اسیرِ شوق ہیں ٹل جائیں گے کب بے دل و بے جان دھوکہ ہم کھائیں گے کب

ہم اسیر (شوق) ہیں کب تک ہم کو ٹالنے کے لیے یہ دھوکا (دوگے)؟ ہم بے دل و بے جان ہیں۔ کب تک یہ عتاب کرو گے؟

بلکہ ایک شکوٰی عتاب آمیز ہے جو غلبۂ عشق کے خاص لوازم سے ہے۔


3

جب کیا قبول ہمیں از ابتدا

"جب تم نے ہمیں عادی کر لیا اس قسم کا، ملائمت کا اور احسان کا اور تعلق کا تو،

مرحمت کر نظر اب تا انتہا

اب اس کو اگے تک بڑھائیے، مطلب اس کو ختم نہ فرمائیے۔"

4

ضعف و عجز و فقرِ ما جانتے ہیں آپ

"ہمارے ضعف کو، عجز کو، فقر کو آپ جانتے ہیں۔

درد ہمارے کی دوا جانتے ہیں آپ

جو ہمارے درد ہیں، اس کی دوا بھی آپ جانتے ہیں۔ لہٰذا آپ ہم پر مہربانی فرمائیں، باہر تشریف لائیں۔"

5

حسبِ طاقت بوجھ چوپائے پہ ڈال حسبِ قوت کام ضعیفوں سے نکال

مطلب: مرید عرض کرتے ہیں کہ آپ گوشہ نشین رہے تو ترویجِ دین اور تنسیقِ مہماتِ مذہب کا بار ہم پر پڑ جائے گا۔ جس کے برداشت کرنے کی اہلیت ہم نہیں رکھتے۔

اس کے ضمن میں سلوک و طریقت کی یہ تعلیم بھی آ گئی کہ طالبوں پر ان کی استعداد سے زیادہ بار نہ ڈالنا چاہیے۔ یعنی تکمیل سے پہلے منصبِ ارشاد بخش دینا اور صلاحیت کے بغیر مسندِ خلافت عطا کرنا مناسب نہیں۔

یہ بہت اہم بات ہے۔ دیکھیں میں آپ کو بتاؤں یہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔ یعنی ایک انسان ہے اگر اس کی وہاں پر selection نہیں ہوئی، یعنی عالمِ بالا میں selection نہیں ہوئی، اور آپ نے اس کو وہ کام دے دیا، تو ادھر سے مدد نہیں ہے۔ تو کیسے کرے گا وہ کام؟ نتیجتاً لوگ بھی پریشان ہو جائیں گے، وہ بھی پریشان ہو جائے گا۔ بظاہر تو خوش ہو جائے گا کہ اس کو آپ نے ایک دے دیا۔ لیکن یہ دنیا کی چیز تو ہے نہیں، یہ تو آخرت کی چیز ہے۔ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ لہٰذا یہ جس وقت کام کرے گا تو وہ کام میں اس کے ساتھ وہ مدد نہیں ہوگی، جس طرح مدد مقبول لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

جیسے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ: "آپ لوگ روزہ اس طرح تواتر سے نہ رکھیں۔" تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ بھی تو اس طرح کرتے ہیں۔ فرمایا: "میری طرح تم میں کون ہے؟ مجھے تو اللہ میاں کھلاتے ہیں، پلاتے ہیں۔"

یہ گویا کہ اشارہ ہے کہ جن کی قبولیت ہو جاتی ہے، ان کے ساتھ پھر اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے۔ وہ چیزیں عام چیزوں سے بالاتر ہوتی ہیں۔ عام لوگ اس کو نہیں سمجھ پاتے کہ یہ کس طرح یہ کام ہو رہا ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسباب کے اندر، جو قدرت کو جو چھپا دیا جاتا ہے، اس طریقے سے کام ہوتے ہیں۔ تو پہلے سے اگر آپ نے ان کو دے دیا کام، تو وہ چیز اس کے ساتھ ہوگی نہیں، نتیجتاً وہ بس کچومر نکلوا دیں گے، پریشان ہو جائے گا۔

6

ہر پرندے کے مناسب کھانا ہو کسی کا انجیر کسی کا دانہ ہو

ہر پرندے کا کھانا اس کے اندازے کے موافق (ہوتا) ہے۔ ہر پرندے کی خوراک انجیر کب ہو سکتی ہے۔

وہ تو ہر ایک کا الگ ہے۔

7

روٹی بچے کو اگر کھلاؤ گے تو اس بے چارے کو مردہ پاؤ گے

ہماری پرنانی تھی، پرنانی تھی۔ یہ نہیں ہوتا یعنی ہم اس کو مینا کہتے ہیں، مینا، وہ جو بولنے والا پرندہ ہوتا ہے۔ تو وہ اس کو کھلا رہی تھی، کھلا رہی تھی، کھلا رہی تھی... ظاہر ہے اس میں اتنا وہ نہیں تھا، وہ تو رحم کر کے کھلا رہی تھی کہ بھوکی ہے۔ اور ظاہر ہے اس کا بھر گیا تو بس وہ مر گئی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس طرح بچے کو اگر روٹی کھلاؤ گے تو وہ تو مر جائے گا۔

8

دانت وہ بچہ اگر نکالے گا روٹی اسکے بعد وہ بھی کھائے گا

مطلب اگر دانت اس کے آ جائیں گے پھر اس کے بعد اس کو روٹی دو گے تو پھر روٹی کھا لے گا۔

9

پر نہ ہوں جس کے اگر اڑنے لگے بلی کا لقمہ وہ پھر بننے لگے

جس کے پر نہیں ہوں، اور آپ نے اس کو اڑنے دے دیا... یہ پرندے اس بارے میں بڑے ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ نہیں نکلنے دیتے اپنے بچوں کو جب تک کہ وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ اس طرح یہ بلی وغیرہ اپنے بچوں کو بھی باہر نہیں نکلنے دیتے۔ اس کو پہلے ٹریننگ دیتے ہیں، ہم نے دیکھا ہے ان کو ٹریننگ دیتے ہوئے۔ باقاعدہ دیوار پہ چڑھنے کی ٹریننگ دیتے ہیں۔ وہ اس قسم کا وہ کرتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ چیز ہوتا ہے۔ تو جب تک ایسا نہ ہو تو اس وقت تک ان کو گویا کہ خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔

اب اگر آپ نے ان کو بنا دیا پیر صاحب بنا دیا، تو شیطان تو طاق میں ہے۔ وہ اپنا لقمہ بنا لے گا۔ وہ اپنا مرید بنا لے گا اس کو۔ تم اس کو پیر بنا لو گے اور وہ اس کو اپنا مرید بنا لے گا، پھر کیا کرو گے؟ تو یہ خطرناک بات ہے۔

10

لیک پر اسکے جب نکلنے لگے بے تکلف خود بخود اڑنے لگے

جس وقت اس کے پر نکل جائیں، پھر اس کے بعد وہ خود بخود اڑنے لگے گا۔

مطلب: ان اشعار کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ طریقت کے مبتدی کی مثال اس بچۂ مرغ کی سی ہے جس کے ابھی پر نہیں نکلے۔ جس طرح بے پر بچہ اڑنے لگے تو بلی کا نوالہ بنتا ہے۔ اسی طرح مبتدی اگر پیر کی صحبت ترک کر کے خود پیری کا دعوٰی کرنے لگے تو اغوائے شیطانی سے روحانی ہلاکت کا شکار ہوتا ہے۔

آپ تو چھوڑیں، پیری مریدی تو دور کی بات ہے، علم کی بات کرتا ہوں۔ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ ایک وقت میں ان کو خیال ہو گیا کہ اب میں دوسروں کے جوابات دے سکتا ہوں۔ تو اپنا ایک الگ مسند بنا لیا۔ الگ مسند بنا لیا تو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع ہو گئی۔ تو حضرت نے ایک آدمی کو سوال دے دیا کہ یہ سوال جا کر ان سے پوچھو۔ اب جا کر اس نے سوال پوچھا، تو اس نے جواب دے دیا۔ وہ حضرت کے پاس آئے، حضرت نے اس پہ مزید اشکال کہا کہ پھر یہ کیا مطلب ہے اس کا؟ تو جس وقت اس کے پاس اشکال گیا تو انہوں نے کہا یہ سوال تو اس کا نہیں، یہ تو پھر کہیں اور سے آ رہا ہے۔ یہ کہیں اور سے آ رہا ہے، لہٰذا انہوں نے اپنا سارا کچھ ختم کر کے پھر دوبارہ حضرت کے پاس آ گئے۔

مطلب وہ حضرات اس چیز کو بھی دیکھتے تھے۔ اب آج کل مفتی بہت آسانی سے بنتے ہیں نا۔ ایک سال میں بس مفتی بن جاتے ہیں۔ تو پھر کیا کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ فتویٰ کا وہ تمام چیز تو نہیں ہوتا نا، مطلب جو اس قسم کی جو ہونا چاہیے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، پہلے وقتوں میں بڑی مشکل سے ہوتی تھیں۔ پتہ نہیں اب بھی دارالعلوم کراچی میں تین سال کی ٹریننگ دیتے ہیں ان کو، افتاء کورس... افتاء کورس تین سال کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ان کو اپنے نام کے ساتھ مفتی نہیں لکھنے دیتے۔

یعنی ابھی تک ان کے دارالافتاء میں صرف تین چار مفتی ہیں۔ باقی سب نائب مفتی ہیں، یا دارالافتاء کے وہ ارکان ہیں۔ مفتی نہیں ہیں۔ کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ مفتی نام سے آگیا...لکھا ہوا ہے کہ: "مجھے خود مولانا محمود اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب دی، تذکرۃ الرشید... تو بڑے لجاجت سے کہا: یہ میرے نام کے ساتھ مفتی میں نے نہیں لکھا، یہ لوگوں نے لکھا ہے۔ میں نے نہیں لکھا!" یہ اس طریقے سے یہ بات ہے۔ اس طرح کوئی شخص گئے جو ان کے شاگرد تھے دارالعلوم سے، انہوں نے افتاء کیا تھا تین سال کا کورس۔ انہوں نے اپنی کوئی کتاب لکھی، اس پر مفتی لکھا تھا۔ انہوں نے حضرت کو پیش کر لیا مفتی رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو۔ حضرت نے اتنا ڈانٹا کہ: "تمہیں کس نے مفتی بنایا ہے؟ کون تجھے مفتی کہتا ہے؟" بجائے اس کو مبارکباد دینے کے ان کو خوب ڈانٹا۔ مطلب یہ چیزیں ضروری ہیں، تربیت میں یہ چیزیں سمجھ میں آتی ہیں۔

لیکن جب استفاضہ تام کے بعد مقامِ تمکین حاصل ہو جائے تو اس کی مثال اس پرندے کی سی ہے جو پَر دار ہو گیا ہے اور اُڑنے پر قادر ہے۔ ایسی حالت میں اس کو ترکِ صحبت مضر نہیں۔

11

آپ کے ملفوظات نفس خاموش کرے اور کلام آپ کا کان کو باہوش کرے

(مرید کہتے ہیں۔ حضرت!) آپ کے ملفوظات (یعنی وہ ان کو کہتے ہیں) (نفس) شیطان کو خاموش کر دیتے ہیں۔ آپ کا کلام ہمارے کان کو (سراپائے) ہوش بنا دیتا ہے۔

مطلب: وزیرِ گوشہ نشین نے باہر نکلنے اور مریدوں سے ہمکلام ہونے کے عذر میں جو باتیں پیش کی تھیں ان میں چار باتیں تھیں:

(1) خاموش رہنا اچھا ہے۔

(2) باطنی کان کو آمادۂ سماع رکھنا چاہیے۔

(3) حسِ خشکی بُری اور دریائے معرفت اچھا ہے۔

(4) باطنی سیر (کا قبلۂ توجہ) بالائے فلک ہے۔

اب مرید ان چاروں عذروں کو صحیح مانتے ہوئے، دوسرے پیرایہ میں خواہشِ دیدار پر اصرار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس شعر میں پہلی دو باتوں کے متعلق گزارش کرتے ہیں کہ بے شک نفس کو خاموش کرنا اور سمعِ باطن سے کام لینا ضروری ہے مگر یہ مقصد بھی آپ کے کلام ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ (آپ باہر آئیں گے تو ہمیں یہ چیز حاصل ہوگی نا) یعنی آپ کا کلام ہی نفس و شیطان کو خاموش اور ہمارے سمع اور باطن کو تیز کر سکتا ہے۔

12

کان آپکے گفت سے باہوش پائیں ہم اپنی خشکی ہو آپ کے دریا سے نم

جب آپ بولتے ہیں تو ہمارے کان (ہمہ تن) ہوش ہوتے ہیں۔ جب آپ دریائے (افاضہ بن کر بہتے) ہیں تو ہماری (صفاتِ جسمانیہ) کی خشکی (صفاتِ روحانیہ کا) دریا (بن جاتی) ہے۔

مطلب: پہلے مصرعہ میں دوسرے عذر کے متعلق عرضِ مکرر ہے اور دوسرے مصرعہ میں تیسرے عذر کے متعلق گذارش ہے کہ بے شک ہم بھی دریائے باطن کے آگے حیات کی خشکی کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ دولت بھی آپ ہی کی صحبت سے میسر ہو سکتی ہے۔

13

ہو طفیل آپ کے منور کل جہاں اور لگے زمین بہتر از آسماں

اے وہ کہ آپ (کی برکات) سے بالائے فلک (سے لے کر) زیرِ زمین تک (سارا عالم) منور ہے۔ آپ کی بدولت ہم کو زمین (بھی) آسمان سے اچھی (لگتی) ہے۔

مطلب: وزیر کے چوتھے عذر کے متعلق گزارش ہے کہ بے شک سیرِ باطن کا قبلۂ توجہ بالائے فلک ہے مگر ہمارے لیے تو آپ کا آستانہ فلک سے بڑھ کر ہے۔

یعنی ہمیں تو فلک سے بھی کچھ ملے گا تو آپ کے ذریعے سے ملے گا۔ لہٰذا آپ باہر تشریف لائیں تاکہ ہم بھی کچھ حصہ پائیں۔)

14

ہو فلک تاریک بنا آپ کے عجب آپ کے ہوتے زمین تاریک ہے کب

(ہم اگر) آسمان پر (بھی جا پہنچیں تو) آپ کے بغیر ہم کو اندھیرا (محسوس ہوتا) ہے۔ اے (افقِ ہدایت کے) چاند! آپ کی موجودگی میں یہ زمین کب تاریک ہے۔

مطلب: آپ کی معیّت حاصل ہے تو زمین بھی ہمارے لیے رشکِ فلک ہے اور اگر معیت نہیں تو فلک اور عجائباتِ فلک سے بھی کوئی لطف و لذت نہیں۔

یہ مجھے ایک اور چیز یاد آگئی۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے ہر دل عزیز خلیفہ تھے، اور شاعر تھے، بہت بڑے۔ ایک دفعہ ایک مشاعرے میں چلے گئے۔ مشاعرے میں آزاد لوگ ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ان مشاعروں کا بڑا رواج تھا۔ تو اچکن پہنے ہوئے ہیں، متشرع ہیں، کراکلی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ آواز بھی بڑی اچھی ہے۔ لیکن لوگ hooting کر رہے ہیں۔ hooting کر رہے ہیں کہ: "یہ کیا ہے، مولوی کہاں سے آ گیا؟ یہ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر مشاعرے میں مولوی کہاں سے آ گیا؟" تو حضرت کو بالکل اثر نہیں ہو رہا۔ hooting کر رہے ہیں، کر رہے ہیں، کر رہے ہیں۔ ایک ظالم نے اذان بھی دینی شروع کی کہ بھئی یہ مسجد تو نہیں ہے کہ یہاں پر مولوی آ گیا ہے۔ حضرت پھر بھی خاموش ہیں۔ جب لوگ جب دب گئے، تو حضرت نے پہلا مصرعہ کہا:

گھٹا اٹھی ہے تو بھی کھول زلف عنبریں ساقی

وہ بہت جو فقرہ سننا تھا کہ لوگ کو سانپ سونگھ گیا! بھئی یہ کیا ہے، یہ تو بہت بڑا زبردست شاعر ہے! اس کے بعد جو دوسرا مصرعہ پڑھا:

ترے ہوتے فلک سے کیوں ہو شرمندہ زمیں ساقی

جب تو موجود ہے، تو زمین فلک سے کیوں شرمندہ ہو؟

تو لوگ سمجھے کوئی مجازی شاعری ہے۔ لیکن دوسرے تیسرے شعر میں جب یہ بات آپ ﷺ کے لیے کہی گئی، بس سب کو پتہ چل گیا کہ تو نعت شریف ہے۔ لیکن پھر بعد میں کسی کو کہنے کی کچھ جرات نہیں ہوئی۔ سب کو اس لائن کے اوپر لے آئے۔ تو یہاں پر بھی یہ بات کی گئی ہے کہ:

تیرے ہوتے زمین بھی ہمارے لیے رشکِ فلک ہے۔

15

آپ کے چاند چہرے سے شب تاریک ہے کب بے بنا نور آپ کے دن تاریک ہے جب

یہ تو میرے خیال میں سمجھ میں آ رہا ہے۔

16

خاک پہ سبقت لے گئے آسمان سے ہم

یعنی ہم زمین پر ہیں، لیکن ہم آسمان سے سبقت لے گئے ہیں۔ اس وجہ سے…

ہوتے گر آسمان پہ بن آپ کے ہوں کم

یعنی اگر آپ کے بغیر ہم آسمان پہ بھی چلے جائیں تو پھر بھی کم ہوں گے۔ یعنی اس وقت ہم بہتر حالت میں ہیں۔ آپ کے طفیل ہم زمین پر (مقیم ہونے کے با وجود) آسمان سے بھی سبقت لے گئے (اور) آپ کے بغیر ہم (اگر) آسمان پر بھی (جا پہنچتے تو) خاک کی طرح پست ہوتے۔

مطلب: یعنی گو ہم زمین پر مقیم ہیں۔ مگر آپ کی تعلیم و تلقین کی برکات سے ہمارا رتبہ آسمان سے بڑھ کر ہے۔

لیکن اگر ان برکات سے محروم ہو کر آسمان پر بھی جا رہتے تو یہ مکانی بلندی اس روحانی رفعت کے مقابلہ میں ہمارے لیے کچھ بھی موجبِ فضیلت نہ ہوتی۔ بلکہ ہم خاک کی طرح نا چیز ہوتے۔

17

صورتِ رفعت ملی آسمان کو اور حقیقت اسکی ملی جان کو

ظاہری بلندی آسمان کو (حاصل) ہے۔ اصلی بلندی پاک روح کو۔

مطلب: اوپر جو کہا تھا کہ آپ کی صحبت میں ہم زمین پر بھی سر بلند ہیں اور اگر صحبت سے محروم ہوں تو آسمان پر جا کر بھی پست رہیں گے۔ اب اس فرق کی وجہ بتاتے ہیں کہ آسمان جسم ہے اور جسم کی بلندی ظاہری و صوری ہوتی ہے اور روح ایک امرِ معنوی ہے۔ اس کی رفعت بھی معنوی و باطنی ہے اور چونکہ روح مقصود ہے اور جسم غیر مقصود اس لیے روح کی بلندی بمقابلہ جسم کی بلندی کے مقصود ہے۔

18

صورتِ رفعت برائے جسمہا پیشِ معنٰی جو ہیں اسماء کی طرح

ظاہری بلندی اجسام کے لیے ہے (اور) اجسام معنٰی کے آگے (بمنزلہ) اسماء (کے) ہیں۔

یعنی معنی کے سامنے الفاظ کیا ہیں اصل چیز تو معنی ہے۔ اجسام تو ایک اس کی ایک ظاہری صورت ہے۔ تو جس طرح کسی چیز کا نام ہو، تو نام تو مطلوب نہیں ہوتا، وہ چیز مطلوب ہوتا ہے۔ نام سے تعارف ہوتا ہے لیکن مقصود تو چیز ہوتا ہے مثلاً آپ کہتے ہیں مجھے امرود دے دو۔ تو کیا امرود کا نام آپ کو چاہیے یا امرود چاہیے؟ تو امرود تو اس کا تعارف ہے۔ لیکن اصل تو امرود کا حقیقت ہے کہ آپ کو مل جائے۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ معنی کے سامنے اسماء کی طرح ہے۔

19

اللہ اللہ یک نظر بر ما فگن لَا تُقَنِّطْنَا فَقَدْ طَالَ الحَزَنْ

برائے خدا! برائے خدا! ایک نظر ہم پر ڈالو۔ ہم کو نا امید نہ کرو۔ کیونکہ غم حد سے بڑھ گیا۔

تو یہ گویا کہ اس کو کہنے کے بدولت حضرت نے تصوف کی بہت ساری چیزیں بیان کر دیں۔ یہی طریقہ مثنوی شریف کا ہے۔

اللہ جل شانہ ہمیں حضرت کے فیوض کے ذریعے سے، اس راستے کے بہت ساری فیوض و برکات نصیب فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی غلطی سے بچا لے۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔

برحمتک یا ارحم الراحمین۔


حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم کی لائیو تشریح و نصائح

بیان کے اختتام پر حضرت نے موجودہ حالات اور رویوں کے تناظر میں درج ذیل انتہائی اہم اور چشم کشا حقائق بیان فرمائے:

ذکرِ الٰہی کی برکات:

حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا۔ حدیث مبارکہ کے مطابق جب انسان کے ہونٹ اللہ کے ذکر سے حرکت کرتے ہیں، تو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔ اسی لیے حضرت کے شیخ حضرت مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ آٹوگراف مانگنے والوں کو فارسی کا یہ جملہ لکھ کر دیا کرتے تھے: "ہر جا کہ باشی باخدا باشی" (یعنی جہاں بھی رہو، اللہ کے ساتھ رہو)۔ انسان کی زبان ہر وقت ذکر سے تر رہنی چاہیے۔

دین کے کاموں میں اخلاص اور دعوتوں سے گریز:

اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی بزرگ یا عالم بیان کے لیے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ بہت سے ایسے لوگ بھی ہولیتے ہیں جن کا مقصد بیان سننا نہیں، بلکہ میزبان کی طرف سے کی جانے والی ضیافتوں کے مزے لوٹنا ہوتا ہے۔ حضرت نے اپنی مثال دی کہ وہ اسی وجہ سے سفر میں صرف ایک یا دو انتہائی ضروری ساتھیوں کو ساتھ رکھتے تھے تاکہ میزبان پر بلاوجہ بوجھ نہ پڑے۔ دین کے راستے میں طلب صادق ہونی چاہیے، جیسا کہ شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ نے دعوتیں کھانے کے بجائے مجاہدے کو ترجیح دی۔ بغیر مجاہدے کے روحانیت کا حصول ناممکن ہے۔

ملازمت، اوقات کی پابندی اور دیانت داری:

حضرت نے دین کا کام کرنے والوں اور تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے ایک انتہائی حساس مسئلے کی نشاندہی فرمائی۔ فرمایا کہ دین کا کام کرنے پر معاوضہ لینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اصل مقصد اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ اگر کسی کی ڈیوٹی دس گھنٹے ہے، تو اس پر ان دس گھنٹوں کا پورا حق ادا کرنا لازم ہے۔ اگر کام میں کمی کی جائے یا وقت ضائع کیا جائے، تو یہ صریح خیانت ہے۔ بہت سے لوگ دنیاوی کمپنیوں اور بیرونِ ملک ملازمتوں میں تو تندہی سے کام کرتے ہیں، لیکن دینی کاموں یا مقامی ملازمتوں میں وقت کی پرواہ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے کام سے دوسروں کو تو شاید فائدہ ہو جائے، لیکن خود انہیں آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔

کام چوری اور قرآنی وعید:

ڈیوٹی کے دوران خود کو بلاوجہ مصروف ظاہر کرنا جھوٹ اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر حضرت نے سورۃ البقرہ کی آیات (9 اور 10) کا حوالہ دیا کہ ایسے لوگ بظاہر اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کی بیماری بڑھا دی جاتی ہے، جس پر ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

ڈیوٹی کے دوران نفلی عبادات سے گریز (ایک قابلِ تقلید مثال):

حضرت نے امانت و دیانت کی ایک عظیم مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت تنظیم الحق حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ (جو پنجاب اسمبلی میں سیکرٹری تھے) نے بتایا کہ ان کے اوقاتِ کار میں ظہر اور عصر کی نمازیں آتی تھیں، لیکن انہوں نے کبھی کام کے وقت میں "تسبیحِ فاطمی" تک نہیں پڑھی اور نہ ہی نفلی اعمال کیے، کیونکہ ان کے نزدیک وہ وقت سرکار کو بیچا ہوا تھا اور اس وقت میں ذاتی یا نفلی عبادت کرنا ڈیوٹی میں خیانت کے مترادف تھا۔


یہ وہ حقیقی مجاہدے ہیں جنہیں اختیار کیے بغیر انسان کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور ان پر خلوصِ دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


ظاہری و جسمانی رفعت کے مقابلے میں حقیقی روحانی رفعت - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور