تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر

(سوال جواب مجلس، 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659-حصہ دوم):اشاعت اول

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور احوال کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔


نوٹ: کسی صاحب نے حضرت والا کو عملیات کے حوالے سے میسج کیا جس پر حضرت نے درج ذیل جواب دیا

جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ماشاء اللہ میں حضرت کو جانتا ہوں، الحمد للہ حضرت ہمارے مخلص دوست ہیں ہمارے وہاں پر چکسواری میں جوڑ بھی ہوا کرتے تھے۔ تو یہ جو انہوں نے نمبر دیا ہے وہ انہوں نے ماشاء اللہ خیر خواہی کے طور پر دیا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ میں آپ کو سمجھاؤں کہ ہمارا جو سلسلہ یا ہماری خانقاہ جو ہے، وہ اصل میں اصلاح کی بات بنیادی حیثیت اس میں رکھتی ہے۔ تو جو اصلاح کے لیے رابطہ کرتے ہیں ان شاء اللہ ان کی خدمت ہم ضرور کرتے ہیں جتنا ہم سے ہو سکے۔ البتہ یہ جو باقی باتیں ہیں جس کو ہم کہتے ہیں عملیات وغیرہ، تو ہم نے عملیات وغیرہ کو تو خانقاہ میں جگہ نہیں دی ہے کیونکہ یہ بالکل ایک علیحدہ شعبہ ہے اور خانقاہیں اس سے ملوث ہو گئی ہیں اس وجہ سے خانقاہوں میں اب صرف یہی کام رہ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے جو اصل کام ہے اصلاح کا اس کو بہت نقصان ہوا ہے۔ لہٰذا اس نقصان میں ہم تو شامل نہیں ہو رہے۔ البتہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہمیں اللہ پاک نے ایک نعمت عطا فرمائی ہے جس کے ذریعے سے یہ کام بھی لوگوں کے ہو جاتے ہیں اور وہ "منزلِ جدید" ہے جو کہ باقاعدہ مغرب کے بعد پڑھنا ہوتا ہے۔ تو آپ کو اگر اس قسم کی مدد کی ضرورت ہے تو وہ تو "منزلِ جدید" میں بھیج دوں گا، لیکن ابھی بھی میں آپ کو بتاؤں کہ اصل چیز اصلاح ہے۔ جب اصلاح ہو جاتی ہے تو شیاطین کا غلبہ انسان پہ نہیں ہو سکتا پھر اور پھر انسان تر نوالہ نہیں بنتا ایسی چیزوں کے لیے۔ تو لہٰذا اس کے اندر استعداد آ جاتی ہے اپنی حفاظت کی۔ اس کی جو عام نمازوں کے بعد کی دعا ہے وہ بھی اتنی ترقی کر لیتی ہے کہ الحمدللہ بہت ساری چیزوں کی بچت ہو جاتی ہے۔ تو آپ کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے باقی چیزیں ساتھ ساتھ ہو جاتی ہیں اسی طریقے سے اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! قرآن کریم کی روزانہ کی خود تلاوت کرتے ہوئے بھی آپ کے روزانہ کے بیانات یا فرضِ عین علم کے اسباق سن لیتی ہوں۔ ورنہ وہ سننے سے رہ جاتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے کہ کہیں قرآن کو غور سے سننے کے حکم کے خلاف تو نہیں ہے؟ ویسے گھر کے کام کاج کرتے ہوئے سنتی ہوں مگر تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے بھی سنتی ہوں، رہنمائی فرما دیں۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: قرآن پاک پڑھتے ہوئے تو آپ یہ نہ سنیں کیونکہ قرآن پاک کے پڑھتے ہوئے اس میں باقاعدہ حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جانے لگے تو اس کی طرف متوجہ ہو جایا کرو اور خاموش رہو تاکہ آپ کے اوپر رحم کیا جائے، یہ قرآن پاک میں ہے۔ تو اب یہ بات ہے کہ اگر آپ قرآن پاک خود پڑھتی ہیں تو پھر اپنے ذہن کو دوسری چیزوں میں نہ لگائیں۔ وہ بھی گویا کہ اس کی خلاف ورزی ہوگی۔ تو اس وقت اپنے ذہن کو دوسری چیزوں میں نہ لگائیں اس وقت صرف قرآن کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ البتہ اس کے لیے اپنا وقت دوسری چیزوں سے نکالیں، بہت سارے اوقات ہم ضائع کرتے رہتے ہیں۔ تو وہ جو ضائع کرتے ہیں اوقات ان سے آپ یہ وقت نکالیں کہ اس دوران آپ یہ چیزیں سن لیا کریں اور ان چیزوں میں اپنا وقت ضائع نہ کیا کریں۔

سوال: السلام علیکم! میری بیگم کا سو بار استغفار، سو بار لا الہ الا اللہ، سو بار تیسرا کلمہ، سو بار درود پاک پورا ہو گیا ہے، آگے رہنمائی فرمائیں۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)

جواب: اس کا میں نے غالباً بتایا ہوگا دس منٹ کے لیے دل پر سوچنے والی بات، تو اگر نہیں بتایا تو آپ اس کو نوٹ کر لیں۔ یہ بھی جاری رکھیں یہ تو عمر بھر جاری رکھیں گے، نماز کے بعد والا ذکر بھی ہوگا، البتہ دس منٹ کے لیے آنکھیں بند، زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر یہ تصور کرنا کہ میرا دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ جیسے زبان پر ہم "اللہ اللہ" کرتے ہیں نا، اس طرح دل میں بھی ایک زبان تصور کریں کہ بن گئی ہے اور وہ "اللہ اللہ" کر رہی ہے اور اس کو میں سن رہی ہوں۔ بس یہ تصور کے ساتھ بیٹھ جائیں، دس منٹ کے لیے روزانہ کر لیا کریں ایک مہینے کے لیے، پھر اس کی اطلاع کر دیں۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی! یہ میرے جنوری کے معمولات کا پرچہ ہے، مراقبے سے پہلے جو ساڑھے چار ہزار دفعہ اسمِ ذات کا لسانی ذکر کرتی ہوں اس دوران دل کی عجیب حالت ہوتی ہے، میں ٹوٹ سی جاتی ہوں اور یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ میں نے ساری زندگی انسانوں کے سہارے ڈھونڈے اور اپنے ہر کام کے لیے میں انسانوں کے سہارے لیتی رہی، وہ جو سب سے بڑا سہارا تھا ان کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ اللہ ہی میرے سارے کام کرتا رہا اور میں انسانوں سے امید لگا بیٹھی تھی۔ دل میں بس ایک ہی احساس ہوتا ہے ذکر کے دوران کہ بس ایک اللہ ہی ہے جو ہر کام کرتا ہے اور کوئی ان کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکا۔ جتنا بھی کوشش کر لیں وہ جو کام اللہ کرنا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا، چاہے کوئی کتنا ہی کوشش کر لے۔ اس کے روکنے کے دو ہفتے کے احساس کے ساتھ ذکر کے دوران مسلسل میرے آنسو جاری تھے، جب بھی ذکر کرنے بیٹھتی احساس ہوتا کہ آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اب زیادہ نہیں روتی بس آنکھ نم ہو جاتی ہے کہ میں ساری زندگی اندھیرے میں تھی اور کیوں دنیا کی محبت میں مبتلا تھی، اب مراقبے کے علاوہ عام حالات میں بھی دل اللہ کی طرف ہوتا ہے اور کسی رکاوٹ سے اب بہت پریشان نہیں ہوتی، دل مطمئن ہو گیا الحمدللہ۔ اس کے بعد پندرہ منٹ مراقبے میں اللہ کے ہونے کا احساس ہوتا ہے اور جگہ کا تعین نہیں کر پاتی کہ دل میں کہاں، بس صرف محسوس ہوتا ہے۔ حرام چیزوں سے خود کو بچاتی ہوں، اب اللہ بھی مجھے بچا دیتا ہے حرام کھانے سے، اللہ کا بہت کرم ہے اس پر، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)

جواب: ماشاء اللہ جل شانہٗ بہت زیادہ عطا فرمائے! آپ نے گویا کہ لسانی ذکر کے ساتھ مراقبہ کر لیا۔ اب دیکھو اکثر ہم یہ بتاتے رہتے ہیں نا تو لوگ نہیں مانتے، تو ابھی کیا چیز ہے؟ لسانی ذکر ہے نا، تو لسانی ذکر کے ساتھ یہ ساری چیزیں ہو جاتی ہیں یا نہیں ہو جاتیں؟ تو یہ ماشاء اللہ اس سے، تو اب آپ اس میں اس کوتھوڑا سا ایک اور رخ دے دیں۔ اور وہ رخ دے دیں کہ اللہ دیکھ رہے ہیں، اللہ سن رہے ہیں، اللہ پاک کی قدرت اصل ہے، اللہ پاک کا ارادہ اصل ہے، اللہ جل شانہٗ ہی حیات ہیں، اور اللہ جل شانہٗ نے ساری چیزوں کو پیدا فرمایا۔ تو یہ جو صفات ہیں جس کو ہم "صفاتِ ثبوتیہ" کہتے ہیں، اس کا تصور کر لیں کہ اس کا جو فیض ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ رہا ہے آپﷺ کی طرف اور آپﷺ کی طرف سے آ رہا ہے شیخ کی طرف اور شیخ کی طرف سے آ رہا ہے آپ کے لطیفہ روح پر۔ اس پر آپ توجہ فرمائیں، ان شاء اللہ آپ کا مراقبہ اور بھی۔۔۔ آپ کو اللہ پاک نے لسانی ذکر کے ساتھ وہ مراقبہ عطا فرما دیا جو لوگ سرّی اذکار کے ساتھ حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ ہمارے سلسلے کی ایک قسم کی روانی کا ثبوت ہے کہ جو بتاتے ہیں الحمدللہ اللہ تعالیٰ اس کی نظیر بھیج دیتے ہیں۔ اللہ اکبر۔

سوال: السلام علیکم حضرت! ذکر 200، 400، 600، 1000 اور مراقبہ شکر ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے، مزید رہنمائی فرمائیں۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ! یہ 200، 400، 600 اور ہزار مرتبہ یہ تو آپ ذکر کر ہی رہے ہیں، لیکن ساتھ آپ نے بتایا نہیں کہ وہ جو لطائف والا جو ذکر ہے وہ آپ کو ساتھ دیا گیا تھا یا نہیں دیا گیا تھا؟ اگر دیا گیا تھا تو اس کی تفصیل بھی بتا دیں، نہیں دیا گیا ہو تو وہ بھی بتائیں تاکہ میں آپ کو آگے اس کے بارے میں بتا دوں۔

سوال: السلام علیکم حضرت جی! میرا نام فلاں ہے اور میں شاہ خالد کالونی راولپنڈی سے ہوں، میرا ذکر لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ہو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، اللہ 800 مرتبہ مکمل ہو گیا ہے، آگے کے لیے کیا ہدایت ہے؟ دعاؤں کی درخواست ہے، اللہ استقامت عطا فرمائے۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: اب آپ ماشاء اللہ "اللہ" ہزار مرتبہ کریں اور باقی یہی رکھیں ایک مہینے کے لیے۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔

نمبر ایک: ذکر الحمدللہ آپ کی برکت سے 200، 400، 600، ساڑھے آٹھ ہزار اور دس منٹ کا مراقبہ قلب تھا جس کو دو مہینے ہو گئے ہیں، ذکر آپ کی برکت سے بلا ناغہ جاری ہے۔ مراقبے میں کبھی کبھی دل کی دھڑکن محسوس ہوتی ہے، دو مرتبہ سوتے ہوئے دل کی دھڑکن واضح محسوس ہوئی، نماز میں یا تلاوت کے دوران بھی دل کی جگہ کا ہلنا محسوس ہوتا ہے۔ بڑے بھائی کے بچوں کی شادی تھی خود بھی اور گھر والوں کو بھی شرکت سے روکا کیونکہ شادی ہالوں میں شادی کے فنکشن تھے، تعلق توڑنے کی دھمکیاں بھی ملیں، دل میں اطمینان تھا کہ اس چیز کی کمی تھی کہ کس کے لیے کر رہا ہوں کیونکہ یہ مدعا بہت بڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کر رہا ہوں۔ اپنے گناہگار ہونے کو جانتا اور مانتا ہوں، ایک سال سے کاروباری حالات کی وجہ سے گھر میں رہ کر کام کر رہا ہوں، جب کسی مال کی ڈیمانڈ (Demand) ملتی ہے تو تیار کر کے دے دیتا ہوں، مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔

نمبر دو: والدہ محترمہ کا ابتدائی ذکر چالیس دن والا مکمل ہو گیا تھا اس وقت وہ عمرے کے لیے مکہ مکرمہ میں تھیں، آپ کے حضور اطلاع کی گئی تو باقی معمولات قرآن پاک کی تلاوت اور نماز کی تاکید فرمائی گئی۔ اب والدہ عمرے سے واپس آ چکی ہیں، مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: ماشاء اللہ ماشاء اللہ بڑی اچھی بات ہے۔ اب ماشاء اللہ 200، 400، 600 اور 9 ہزار مرتبہ کر لیں ذکر، ان شاء اللہ ایک مہینہ اور، تو ان شاء اللہ اس سے قلب والی بات ذکر اور بھی مزید بہتر ہو جائے گا۔ باقی یہ کہ والدہ محترمہ کو اب بتا دیں کہ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار یہ سو سو دفعہ تو عمر بھر، نماز کے بعد والا ذکر بھی عمر بھر اور دس منٹ کے لیے آنکھیں بند، زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر یہ تصور کرنا کہ میرا دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ یہ تصور آپ شروع کر لیں، یہ ایک مہینہ کر کے پھر مجھے بتا دیجیے گا۔

اللہم صل علی سیدنا محمد


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت مراقبہ کر رہی ہوں، کچھ لطائف ناغے کی وجہ سے پھر کمزور ہو جاتے ہیں اس لیے وہ ذکر نہیں لیا اور انہی پانچ لطائف کو ہی صحیح طرح سے کرنے کی کوشش کر رہی ہوں اور پہلے سے بہتر محسوس ہوتا ہے۔ حضرت سوال یہ عرض کرنا تھا کہ تمام لطائف ایک ہی ترتیب سے کرنے چاہئیں؟ لطیفہ قلب سے شروع کرنا چاہیے یا لطیفہ خفی سے بھی شروع کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ حضرت جو پچھلے سال کے شروع میں معمولات کا پرچہ Fill کر کے بھیجتی رہی ہوں اس میں کچھ غلطیاں بھی تھیں، روزانہ Fill نہ کرنے کی وجہ سے یاد نہیں رہتا تھا اور جیسے سمجھ میں آتا Fill کر دیا اور مراقبے میں بہت ناغے ہوئے تھے، اس کی اہمیت کا پتا نہیں تھا اس لیے اتنی توجہ نہیں کرتی تھی۔ حضرت اس کے لیے معذرت چاہتی ہوں، اب روزانہ پرچے پر صحیح Tick اور Cross کرتی ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ ایسا نہیں کروں گی۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)

جواب: ماشاء اللہ یہ بہت اچھی بات ہے، ابھی آپ نے ماشاء اللہ یہ بات سیکھ لی، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا، اب آپ اس کو باقاعدگی کے ساتھ اس طرح کرتی رہیں، ان شاء اللہ العزیز اللہ جل شانہٗ آپ کے معمولات کو اور بھی بہتر فرما دے گا۔ اور یہ دوسری بات ہے کہ یہ جو لطائف ہیں اسی ترتیب سے کرنا چاہیے کیونکہ ہر لطیفہ دوسرے لطیفے کے لیے بنیاد ہے، جیسے سیڑھیاں ہوتی ہیں نا سیڑھیاں، مثلاً پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا پھر دوسری سیڑھی، پھر تیسری، پھر چوتھی سیڑھی۔ تو آپ اس طرح نہیں کر سکتے کہ پہلے پانچویں سیڑھی پہ قدم رکھیں پھر پہلے سیڑھی پہ قدم رکھیں، ایسے تو نہیں ہو سکتا، تو بہر حال یہ کہ آپ جس ترتیب سے بتایا گیا ہے اس ترتیب سے کر لیا کریں، ان شاء اللہ العزیز اسی میں بہتری ہے۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی میں فلاں بات کر رہی ہوں جہلم سے، ان شاء اللہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ حضرت جی آپ نے مجھے ذکر دیا تھا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ 200 مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ 400 مرتبہ، حَق 600 مرتبہ، اللهُ اللهُ 1000 مرتبہ۔ جو کہ ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا، مکمل کیا۔ اس میں دو ناغے ہوئے۔ مزید رہنمائی فرما دیں، آگے کیا کرنا ہے؟

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: ناغے نہ کر لیا کریں اور جو الله الله کا ذکر ہے، وہ 1500 مرتبہ اس کو کر لیا کریں ان شاء اللہ۔ تو ایک مہینے کے بعد پھر مجھے بتا دیں ان شاء اللہ۔

Question:

Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu. I pray that you are in best health Sheikh. I must apologize for not contacting you for such a long time. I was just embarrassed that I kept on missing out days of my ilaji zikr and I have gone back to doing the same sins I told you about when I was in Khanqah. Alhamdulillah for the last month I have been regular with my mamoolat and Insha'Allah next week I will complete my first 40 days of third Kalima. Please make dua that I am able to reach this goal and am able to progress in the process of my islah. I just have one question... when I was in Khanqah I heard you saying that during ilaji zikr you must have tawajjo and intention. Could you please explain this a little further as I struggle to focus when doing my zikr.

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: ماشاءاللہ! اللہ جل شانہٗ آپ کو اپنی اصلاح کے کاموں میں regular ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ [فصلت: 30]

جس نے کہا اللہ ہمارے رب ہیں اور پھر اس پر قائم رہا استقامت اختیار کی عمر بھر، تو اس کے بارے میں بڑی فضیلت کی آیات آئی ہیں قرآن پاک میں۔ تو آپ استقامت اختیار کریں۔ یعنی اس کو اصل سمجھ کر تمام صلاحیتیں آپ اس کی طرف focus کر کے اس کو کر لیا کریں۔ تو پھر آپ کے لیے راستے خود بخود کھلتے جائیں گے کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ [العنكبوت: 69]

تو جو چیز آپ کو دی گئی ہے، وہ آپ کریں اور علاجی ذکر کو بہت اہمیت دیں۔ کیونکہ اصلاح کے لیے علاجی ذکر ہے۔ ثوابی ذکر تو ثواب کمانے کے لیے ہے۔ تو مجھے بتاؤ جس وقت اصلاح ہو جائے گی، تو ثوابی ذکر کا ثواب کتنا بڑھ جائے گا؟ ظاہر ہے خود بخود بڑھ جائے گا۔ کیونکہ اخلاص کے ساتھ ہوگا۔ جب اخلاص کے ساتھ ہوگا تو اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہوگا۔ تو علاجی ذکر کو بہت توجہ دے دیا کریں پھر ان شاء اللہ آپ کو اس کے فوائد و ثمرات نظر آئیں گے۔


Question:

Assalamu Alaikum dear Sheikh, a month has passed and I am writing to you again at your command.

Answer:

Mashallah what were you doing and what is the condition of that? Tell me that, that I should give you the rest.

Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu. I hope and pray my mushfiq, murabbi, sayyidi and sheikh is in good health. Insha'Allah I will update you soon with my progress on ilaji zikr because I had to start again. Please make dua for me that Allah Subhanahu wa Ta'ala grant me istiqamat to complete it. Please make dua that I gain close connection, nisbat with you Hazrat ji. I require your guidance on an issue I am having in my daily work. When studying at school, sometimes I feel in my heart that I want to fit in with everybody else. I know these are whispers from Shaitan, but at times I feel empty that I am missing out on what others have. I want to protect myself from evil habits so I am trying to recite more Quran and wake for qiyam at night. But I still feel like this. I want to get closer to Allah Subhanahu wa Ta'ala and taste the sweetness of Islam without looking at what other people and other Muslims are doing around me. Please guide me on the same matter.

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ اصل بات یہ ہے کہ نظر اللہ پہ ہونی چاہیے، لوگوں پہ نہیں ہونی چاہیے۔ لوگوں پہ اگر نظر ہونی چاہیے تو وہ صرف ایک چیز کے لیے کہ ہم اس کا کوئی حق نہ توڑیں، ہم ان کے حقوق ادا کرتے رہیں، تو حق اور فرض کے لیے تو ہم لوگوں کی طرف توجہ ضرور کریں، کیونکہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے وہ۔ لیکن باقی ان کے پاس کیا ہے اور آپ کے پاس کیا ہے، اس سلسلے میں آپ ان کے بارے میں بالکل نہ سوچیں۔ کیونکہ اللہ جل شانہٗ کا اپنا ایک حکمت کے ساتھ ایک کام ہوتا ہے، کسی کو صبر کا پرچہ دیتے ہیں کسی کو شکر کا پرچہ دیتے ہیں۔ کسی کو چیزیں بہت دے دیتے ہیں تو اس سے شکر چاہتے ہیں، اور کسی کو limited دیتے ہیں اور اس سے صبر چاہتے ہیں۔ تو لہٰذا آپ کو جس طرح بھی اللہ نے رکھا ہے اسی domain میں کام کرنے کی کوشش کر لیں۔ اور اسی کے لیے علاجی ذکر ہوتا ہے۔ تو علاجی ذکر کے اندر آپ بالکل focus کریں، تاکہ آپ کے علاجی ذکر کا اصل ثمرہ مل جائے یعنی سلوک کی تیاری کے لیے آپ fit ہو جائیں۔ جب ایک دفعہ سلوک کی تیاری کے لیے آپ fit ہو جائیں گے ان شاء اللہ، تو پھر اس کے بعد پھر آپ کو سلوک جب طے ہو جائے گا، تو یہ چیزیں ان شاء اللہ خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ اس وقت صرف اتنا سمجھیں کہ لوگوں کے ساتھ میرا کیا کام میرا کام تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ تو لوگوں کی طرف میرا کیا وہ ہے کہ میں ان کی طرف دیکھوں۔ تو بس وہ جو ہے نا حضرت نے ایک دفعہ مجھے فرمایا تھا کہ جب آپ چٹائیوں کو دیکھتے ہیں تو کبھی آپ نے سوچا ہے کہ چٹائیاں آپ کو کچھ کر سکتی ہیں؟ دے سکتی ہیں؟ لے سکتی ہیں آپ سے؟ میں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا بس لوگوں کو بھی چٹائیاں سمجھو۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کی طرف بالکل ہی دھیان نہ رکھیں۔ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان رکھیں۔ ہاں، لوگوں کے ساتھ جو dealing ہے، جو ان کے حقوق یا فرائض ہیں، اس میں ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔


Question: Assalamu Alaikum Sheikh, this is fulan's daughter from China. I received your message from my father and feel very touched about your concern and sorry that I did not do muraqaba for a few months due to a lot of work and my laziness. Please kindly guide me, Jazakallah


(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


Answer: Mashallah, this is your first success that now you understand that you missed something. And once a person understands that he or she is missing anything and he or she has the capability to get it again, so then he or she should try again to get it as early as possible. So I think now you should start from where you have stopped. And you tell me what were you doing and what are difficulties in that? What was the time required for that, that I can consider your busyness and your work that it should be an established way for you.

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی فلاں بات کر رہا ہوں۔ اللہ کے فضل سے میرا ذکر مکمل ہو چکا ہے، 200 مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، 400 مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، 600 مرتبہ حَق اور ساڑھے پانچ ہزار مرتبہ اللهُ، اس کے ساتھ پانچوں لطائف پر دس دس منٹ اور 15 منٹ مراقبہ دعائیہ۔

احوال: آپ نے زبان، کان اور آنکھوں کو کنٹرول کرنے کا سبق دیا تھا۔ تینوں میں کافی بہتری آئی ہے۔ مزید رہنمائی اور دعا کی درخواست ہے۔ اللہ آپ سے راضی ہو، آمین۔ اس کے علاوہ تھوڑا سا مسئلہ درپیش ہے جو کہ درج ذیل ہے: میرے دفتر کے اندر ہی ایک دوسرے سیکشن میں ٹرانسفر ہو گئی ہے۔ پہلے والے سیکشن میں کافی فراغت تھی لیکن اب جس سیکشن میں ٹرانسفر ہو گئی ہے اس میں مصروفیت بہت زیادہ ہے۔ دفتر میں لوگ اس سیکشن کے اندر رات گئے تک کام کرتے ہیں۔ سٹاف بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ ہے جس کے بارے میں مجاز اتھارٹی کو درخواست کی گئی لیکن کوئی favor نہیں کی گئی۔ میں خود اس سلسلے میں کافی پریشان ہوں اور رات کو تہجد میں دعا بھی کر رہا ہوں۔ آپ سے گزارش ہے کہ دعا فرمائیں اللہ پاک آسانی کا معاملہ فرمائے۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: اللہ جل شانہٗ آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ تو جو سبق ہے اس میں تو بس یہی ہے کہ ابھی فی الحال یہی جو کان ،آنکھ، زبان کو کنٹرول کرنے والا سبق ہے، اس کو مزید پکا کرنے کی بات ہے۔ کیونکہ ہمارے بہت سارے گناہ اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ تو اس پہ آپ کوشش جاری رکھیں اگلے مہینے تک بھی۔


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت، تصوف میں حال اور قال کی کیا تعریف ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: سبحان اللہ! میرے خیال میں "قال" کو تو سب لوگ جانتے ہیں۔ "قال" کیا ہے؟ قرآن میں کیا ہے، حدیث میں کیا ہے، یا کسی بزرگ نے کیا کہا ہے۔ یہ قال ہے۔ "حال"، یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو کتنا حاصل ہے؟ یعنی وہ چیز آپ کو مثلاً صبر ہے، اس کا قال ہے۔ لیکن واقعتاً صبر کتنا حاصل ہے؟ شکر ہے وہ جو ہے نا "قال" ہے، اس کا قال ہے۔لیکن آپ کو شکر کتنا حاصل ہے؟ تو مطلب یہ ہے کہ ذکر، آپ وہ ذکر "سبحان الله" زبان سے کہتے ہیں، لیکن اس کے اندر کتنی حقیقت ہے؟ آپ اس کے اندر کتنی depth کے ساتھ اس کو کہہ رہے ہیں اور آپ کا اندر سے اس کے ساتھ کتنا تعلق ہے؟ تو یہ اس کا حال ہے۔ تو قال اور حال مطلب یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو علم ہے، اس سے عمل پہ آنا ہے۔ ہاں البتہ چونکہ حال مستعمل ہے دو معنوں میں۔ ایک یہ بات ہے کہ جو کیفیت ہے، کیفیت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ کبھی اچھی، کبھی کمزور، کبھی کیا... وہ احوال اور ہیں، اس میں گویا کہ عارضی پن ہوتا ہےکہ وہ چیز مستقل نہیں ہوتی۔ جیسے دل کی حالت ہے یہ مستقل نہیں ہوتی، بلکہ قلب بھی اس لیے اس کو کہتے ہیں کہ یہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ حال کا معنی ہے۔ دوسرا حال "استقامت" کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی گویا کہ اس کے اوپر جم جانا، اس چیز کو حاصل کرنا جس کو ہم establish کہتے ہیں۔ تو وہ چیز جو ہے نا وہ حاصل ہو جائے تو اس کو ہم حال کہتے ہیں۔ تو جو حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا تھا:


قال را بگذار مردِ حال شو


وہ اس حال کے لیے تھا۔ یعنی اب قال کی بات کو چھوڑو، یعنی تم عالم تو ہو، لیکن یہ بات نہ سوچو کہ میں عالم ہوں، اس پر عمل کتنا کرتے ہو؟ اس کے لیے کیا کرو!

پیشِ مردِ کاملے پامال شو

یعنی مردِ کامل کے سامنے اپنے آپ کو پامال کر دو تاکہ وہ چیز آپ کو حاصل ہو جائے۔



سوال: السلام علیکم محترم حضرت، زبانی ذکر 5000، مراقبہ 15 منٹ۔ مراقبہ اور ذکر میں اب دھیان رہتا ہے۔ ناغہ بھی بہت کم ہو گیا ہے۔ رپورٹ بھیجنے میں دیر ہو گئی۔ آپ کو خواب میں ناراض دیکھا، سوچا اب میسج کیا کرنا ہے۔

(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024، مجلس نمبر 659)


جواب: ہاں یہ بات صحیح ہے، اصل بات یہ ہے کہ شیخ کو خواب میں دیکھنا، یہ سلسلے کی طرف بات ہوتی ہے۔ تو گویا کہ سلسلے نے آپ کو ڈانٹا ہے۔ آپ نے سستی کی ہوگی تو سلسلے نے ڈانٹا ہے۔ تو اب آپ اس کا بہت care کر لیں۔ دیکھا تو آپ نے مجھے خواب میں، لیکن اصل میں سلسلے کی توجہ آپ کی طرف ہو گئی ہے۔ تو اب آپ اس کو ضائع نہ کریں اور سلسلے کی جو توجہ ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اب توجہ کے ساتھ، دھیان کے ساتھ جو کچھ آپ کو مراقبہ ملا ہے یا جو زبانی ذکر ہے اس کو کر لیا کریں اور باقاعدہ رابطہ بھی رکھا کریں


وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ


جاری ہے ان شاء اللہ




تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر - مجلسِ سوال و جواب