تصوف و سلوک میں شیخ کی طاعت و انقیاد، آدابِ طریقت اور نسبت کی حفاظت

انفاسِ عیسیٰ کے دروس سے اقتباس - (اشاعتِ اول) 25 اور 27 جولائی، 2007

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات (Key Topics):

  • طاعت و انقیاد کی اہمیت: طالب (مرید) کے لیے اپنے شیخ کی مکمل اطاعت اور دلی انقیاد (اپنے آپ کو شیخ سے مقید کر لینا) کی ناگزیر ضرورت۔
    • علم اور نسبت میں بنیادی فرق: علم کسی سے بھی (حتیٰ کہ کافر سے بھی) حاصل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اپنا عقیدہ درست ہو، لیکن "نسبتِ باطنی" کافر یا فاسق سے حاصل نہیں ہو سکتی، اور شیخ پر بے اعتمادی سے نسبت سلب ہو جاتی ہے۔
      • ہرجائی پن کے نقصانات: تصوف میں ہرجائی پن (مختلف جگہوں سے فیض کی تلاش میں بھٹکنا) اور جلد بازی (تعجیل) سب سے خطرناک بیماریاں ہیں جو شیخ کے فیض اور نسبت کو کاٹ دیتی ہیں۔
        • آدابِ شیخ اور موازنے کی ممانعت: اپنے شیخ کی موجودگی میں کسی دوسرے زندہ یا وفات یافتہ بزرگ (جیسے حضرت جنید بغدادیؒ یا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ) کی طرف التفات کرنا یا مشائخ کا آپس میں موازنہ کرنا طریقت میں سخت بے ادبی ہے۔
          • مشائخ کی صحبت کے سخت آداب: اہلِ قلوب (مشائخ) کی صحبت کے آداب دنیاوی بادشاہوں (سلاطین) کے دربار سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں، کیونکہ بادشاہ کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جبکہ مشائخ کا تعلق دل اور باطن سے ہوتا ہے۔
            • خلافِ شرع امور میں مؤدبانہ عذر: اگر شیخ کوئی ایسا حکم دے جو مرید کے علم کے مطابق صریح خلافِ شرع ہو، تو اس پر عمل نہ کیا جائے، لیکن بے ادبی اور گستاخی کے بجائے نہایت ادب سے عذر پیش کیا جائے (جیسے حضرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ عبدالعزیزؒ کا واقعہ)۔
              • شریعت اور طریقت کا توازن: دین میں شریعت اور طریقت دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، رویتِ ہلال کے مسئلے پر حضرت شیخ کا اپنا ذاتی واقعہ اس توازن اور مشائخ کی وسعتِ قلبی کی بہترین اور عملی مثال ہے۔

                الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم النبيين، أما بعد! فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔

                حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات، انفاسِ عیسیٰ سے تعلیم جاری ہے۔ حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ

                طالب کو اطاعت و انقیاد کی سخت ضرورت ہے:

                ارشاد: پہلے یہ حالت تھی کہ طالبین مشائخ کی ایسی طاعت و انقیاد کرتے تھے کہ اگر کسی کو کہا جائے کہ تم کسی دوسرے سے تعلیم حاصل کرو تو اس پر راضی ہو جاتے اور سمجھتے تھے کہ ان کی اطاعت سے ہم کو نفع ہو گا اور خواہ ہم کسی سے رجوع کریں ہم کو انہی سے فیض ہو گا اور آج کل یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو دوسرے سے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا جائے تو وہ اطاعت نہیں کرتا اور سمجھتا ہے کہ مجھے ٹال دیا اور غلط مشورہ دیا جب اطاعت و انقیاد کی یہ حالت ہے تو پھر نفع کیونکر ہو۔

                چونکہ حضرت مجدد الملت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے دور کے مجدد تھے، لہذا جہاں جہاں پر بھی کوئی پریشانی ہوتی، مشکل پیش آتی اور لوگوں کے عقائد میں یا لوگوں کے ذوق میں فرق دیکھتے تو اس کی بروقت اصلاح فرماتے۔ اس میں بھی ایک اہم بات کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے دور میں جو طالبین ہوتے تھے ان کی نفسانیت چونکہ شامل نہیں ہوتی تھی اور محض اخلاص کے ساتھ اپنے مشائخ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے تو ان کی اطاعت اور انقیاد میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔

                اطاعت و انقیاد اس کو کہتے ہیں کہ جب کہا جائے تو اس پر عمل کیا جائے اور انقیاد سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو کسی ایک کے ساتھ مقید کر لے۔ قلباً، جسماً نہیں، قلباً اپنے آپ کو ایک کے ساتھ مقید کر لے کہ بس میں نے ان کی بات ماننی ہے۔ اچھا، اب ماننے میں یہ تو نہیں ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ اس کے سر کے اوپر مسلط ہو کہ بس میں نے آپ ہی سے لینا ہے۔ کیونکہ لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ، ہر چیز کے لیے اپنے فن کا ماہر ہوتا ہے۔ اب ظاہر ہے ایک چیز ہے وہ ان کو نہیں آتی، مشائخ ظاہر ہے وہ تو مخلصین ہوتے تھے، وہ ایک چیز ہے کہ بعض دفعہ جیسے ایک صاحب ہیں وہ مفتی نہیں، لیکن شیخ ہیں تو اب کیا وہ فتویٰ دینے بھی شروع کر لیں۔ اس طرح ایک صاحب ہیں جو کہ حکیم نہیں ہیں، تو وہ حکیم تو نہیں بن سکتے ظاہر ہے مطلب وہ تو اپنا ایک فن ہے۔ اس طریقے سے ایک صاحب ہیں جو کہ بعض فنونِ علمی کے ماہر ہوتے ہیں تو ہر ایک تو اس کا ماہر نہیں ہو سکتا۔ تو ایسے حضرات جو تھے وہ دیکھتے تھے کہ تقسیمِ کار ہونا چاہیے۔ مطلب جو شخص جس چیز کا ماہر ہے اس کے پاس لوگوں کو بھیج دیا جائے اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ جیسے ایک شیخ جو ہے یہ فارغ بیٹھا ہوا ہے، ان کے پاس لوگ نہیں ہیں اور دوسرے کے پاس بھیڑ ہو گئی۔ تو دونوں جگہ پر کام خراب ہو جائے گا۔ ایک جگہ پر کام ہو نہیں رہا، دوسری جگہ پر ہو نہیں پا رہا۔ یعنی اتنے زیادہ لوگ ہو گئے کہ اب سب کو تعلیم نہیں دی جا سکتی۔

                اب ایسی صورت میں اگر ہر آدمی یہ زور لگا لے کہ میں نے انہی سے لینا ہے، انہی سے سیکھنا ہے، تو ایسی صورت میں یہ ظاہر ہے نقصان ہو جائے گا پھر وہ تقسیمِ کار نہیں ہو سکے گی۔ تو بعض حضرات پہلے یوں کرتے تھے کہ وہ اپنے اس بوجھ کو ہلکا کر دیتے تھے اور کسی کے پاس لوگوں کو بھیج دیتے تھے جن کے پاس گنجائش ہوتی تھی۔ اور وہ چونکہ یہ قلب کا معاملہ ہے، تو دینے والا تو اللہ ہے، تو اب وہ نا چونکہ اخلاص کی وجہ سے تقسیمِ کار ہو چکا ہوتا تو اللہ پاک ان کا حصہ وہاں پر پہنچا دیتے تھے۔ اور اب بھی کرتے ہیں، اب بھی ایسا ہی ہے۔ اگر آپ کسی کے حکم پر کسی اور جگہ چلے جائیں تو حصہ آپ کا وہاں پہنچ جائے گا۔ اور یہ حصہ ادھر ہی سے جائے گا۔مطلب یہ ہے کہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ کہیں اور کا ہوگا، یہ حصہ ادھر ہی سے جائے گا۔ تو ایسی صورت میں یہ جو ہوتا ہے کہ اس میں پریشانی نہیں ہوتی، اس میں اگر کوئی مان لے تو ان کا حصہ بہت آرام کے ساتھ وہاں پر پہنچ جائے گا، اللہ جل شانہٗ دینے والا ہے۔

                اب اس میں فرق صرف یہ ہے کہ آج کل کے دور میں حضرت نے ایک بات کی طرف اشارہ کیا چونکہ ہم ذرا تھوڑا سا اور بھی آگے آئے ہیں، لہذا ہم میں ایک اور خرابی بھی آئی ہے۔ یہاں حضرت نے تو ایک خرابی کا ذکر کیا، ہم میں دو خرابیاں ہو گئی ہیں۔ اب یہاں پر صورتحال یہ ہے کہ اول تو مانتے نہیں، کہ نہیں ہم نے تو انہی سے لینا ہے۔ اور اگر مان لیں تو پھر وہ جو یہ والا سوچ ہے جو تصوف کی جان ہے کہ مجھے جہاں سے جو کچھ بھی مل رہا ہے اپنے شیخ کا فیض مل رہا ہے۔ یہ انسان کے ذہن کے اندر یہ چیز ہونا چاہیے۔ جتنا اپنے شیخ کے ساتھ قلباً وہ قریب ہوگا تو اس صورت میں ان کو ہر جگہ سے وہ چیز مل جائے گی۔ حتیٰ کہ اگر مثال کے طور پر امریکہ کوئی چلا جائے۔ اب امریکہ میں اپنے شیخ کی صحبت تو نہیں وہ حاصل کر سکتا، لیکن اپنے قلب کا فیض تو حاصل کر سکتا ہے۔ تو ایسا ہے کہ وہاں پر جو بھی ہمارے سلسلے کے اکابر ہیں، ہمارے سلسلے کے اکابر تو ماشاء اللہ ہر جگہ موجود ہیں۔ اب ہمارے سلسلے کے جو اکابر موجود ہیں، اگر یہ اس نیت سے وہاں ان کی مجلس میں بیٹھیں گے کہ مجھے اپنے شیخ سے فیض ادھر ملے، تو ان کو یقیناً حضرت کا فیض ادھر مل جائے گا۔ یعنی اس میں کوئی مطلب ایسی والی بات نہیں، ہم نے الحمد للہ اس کو خود دیکھا ہے۔ میں ایسی چیزوں کو تجربہ ذرا بے ادبی سمجھتا ہوں، کیونکہ ایسی چیزیں تجربے والی بات نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور الحمد للہ ہمیں اللہ پر یقین ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔ لہذا جس کو جو بھی اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے تو اس کے مطابق اللہ پاک ویسا کر لیتے ہیں جیسے حدیثِ قدسی ہے کہ میں بندوں کے گمان جو میرے ساتھ وہ کرتے ہیں ان کے ساتھ ہوں۔ تو اللہ جل شانہٗ کے ساتھ اگر کسی کا یہی گمان ہو کہ میں جس کے پاس بھی جاؤں گا میرے شیخ کا فیض مجھے وہاں مل جائے گا تو ایسے ہی ہوتا ہے۔

                تو یہاں پر یوں صورتحال ہے کہ اگر وہاں ملنا شروع ہو جائے تو اس کو پھر وہاں کا سمجھتے ہیں اور یہاں سے کٹ جاتے ہیں۔ تو یہ آدمی ہو جاتے ہیں ہرجائی۔ اس سے ہو جاتا ہے نقصان۔ ایسے لوگوں کو روکا جاتا ہے۔ جن میں ہرجائی پن ہو ان کو روکا جاتا ہے کہ وہ نہ جائیں کسی کے پاس۔ اس کی وجہ ہے کہ ہرجائی پن یہاں پر بہت زیادہ نقصان والی چیز ہے۔ یعنی تصوف کے اندر تعجیل اور ہرجائی پن سے زیادہ خطرناک چیز کوئی نہیں۔ ہاں انسان اگر تعجیل کرے کہ مجھے جلد جلد ساری چیزیں مل جائیں، اس میں اپنے شیخ کے اوپر بے اعتمادی ہو جاتی ہے۔ اور اپنے شیخ کے اوپر بے اعتمادی تو ظاہر ہے کاٹنے والی چیز ہے اپنے آپ کو اس چیز سے۔

                ایک بات میں یہاں پر عرض کر لوں کہ ایک ہوتا ہے علم اور ایک ہوتی ہے نسبت، ان دونوں میں فرق ہے۔ علم جو ہے یہ تو آپ کہیں سے، کافر سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ علم کافر سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، آپ کا اپنا عقیدہ صحیح ہونا چاہیے۔ آپ کا اپنا عقیدہ صحیح ہو تو کافر سے بھی آپ صحیح بات حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کافر آپ کو نماز کا صحیح طریقہ بتا دے تو کیا اس کے ذریعے سے آپ کی نماز نہیں ہوگی؟ اگر صحیح طریقہ آپ کو بتا دے تو نماز تو آپ کی ہو جائے گی کیونکہ ظاہر ہے آپ کا اپنا عقیدہ تو صحیح ہے اس کا عقیدہ غلط ہے، وہ اس کا مسئلہ ہوگا لیکن نماز تو آپ کی ہو جائے گی، یہ میں بالفرض بات کرتا ہوں تاکہ مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہ آئے۔ لیکن نسبت جو ہے یہ کافر کے ساتھ جمع نہیں ہوتی، فاسق کے ساتھ جمع نہیں ہوتی۔ تو نسبت والی بات جو ہے نا الگ ہے۔ تو یہ نسبت والی بات جو ہوتی ہے یہ علم کی تعریف میں نہیں آتی۔ اس وجہ سے اگر خدانخواستہ کسی کا اپنے شیخ کے ساتھ اعتقاد کمزور ہو جاتا ہے، نسبت سلب ہو جاتی ہے۔ یہ نسبت سلب ہو جاتی ہے، علم سلب نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ فن بھی ضروری نہیں کہ سلب ہو۔ فن بھی سلب نہیں ہوگا، فن بھی موجود رہے گا، علم بھی موجود رہے گا، نسبت سلب ہو جائے گی۔ تو یہ جو نسبت ہے یہ اس کی حفاظت جو ہے نا وہ طریقے سے کی جاتی ہے کہ اس میں انقیاد بہت ضروری ہے۔ وہ جو حضرت نے فرمایا تھا:

                چار حق مرشد کے ہیں، رکھ ان کو یاد

                اطلاع، اتباع، اعتقاد و انقیاد

                یعنی اطلاع: اپنے حالت کی اطلاع دینا، اتباع: ان کی اتباع کرنا جیسے بھی حضرت فرمائیں۔ اس میں اپنی رائے کو دخل نہیں دینا، اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں سوچنا۔ ذرہ بھر بھی کسی کے ذہن میں اگر یہ بات آئی کہ میرے شیخ کو یہ بات سمجھ نہیں آئی، سمجھ لو اس بیچارے کا پتہ کٹنے والا ہے۔ ذرہ بھر بھی! ذرہ بھر بھی اگر کسی کے دل میں ذرہ بھر بھی آئے، کیونکہ شیخ خود تو دیتا نہیں، نہ وہ دے سکتا ہے، وہ تو انسان ہے، انسان کیا دے گا؟ انسان تو نہیں دے سکتا، وہ تو اللہ جل شانہٗ دیتا ہے۔ اور اللہ جل شانہٗ کو ہر چیز کا پتہ ہے۔ اب اللہ جل شانہٗ نے جس کو ذریعہ اس کے لیے بنایا ہے، اگر یہ اس کے ساتھ مخلص نہیں ہے اور اس کو ذرہ بھر بھی یہ خیال ہو کہ میرے شیخ کو یہ بات سمجھ نہیں آئی، یا وہ یہ بات نہیں سمجھ رہا، تو اس کو اس پورے Procedure کے اوپر بے اعتمادی ہو گئی جو اللہ کی طرف سے ان کو ملتا ہے اس کے لیے۔ وہ سارے Procedure کے اوپر بے اعتمادی ہو گئی، لہذا پتہ کٹ جائے گا۔ خالی رہ جائے گا حالانکہ بظاہر تو خالی نہیں ہوگا لیکن اندر سے خالی ہو جائے گا۔ ایسے لوگوں کا پتہ کٹ جاتا ہے۔

                ہمارے حضرت مولانا اشرف شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک دفعہ حالات آ گئے تھے، پتا نہیں آپ کو اندازہ ہے یا نہیں، پشاور یونیورسٹی میں بہت زیادہ مشکل حالات آ گئے تھے حضرت کے اوپر۔ بہت سارے لوگوں نے مخالفت کی تھی مولانا صاحب کی، کسی وجہ سے بڑی مخالفت کی تھی۔ تو ایک مجذوب آئے تھے تو ایک صاحب بیٹھے ہوئے تعلیم کر رہے تھے۔ تو تعلیم سے وہ اٹھ گئے، کہتے ہیں اس کا اوپر کا پتہ تو کٹا ہوا ہے، میں ان کی بات کیوں سنوں؟ تو یہ بات وہاں کے چند ارد گرد کے لوگوں نے سن لی کہ یہ کیا کہہ دیا، مطلب یہ تو بہت بڑی جرات کی بات ہے کسی کے بارے میں یہ بات کرنا۔ حیرت کی بات ہے کہ جس وقت معافی مانگنے کا وقت آ گیا، تو دوسرے لوگوں نے معافی مانگی، دو لوگوں نے نہیں مانگی اور ان میں سے ایک یہ تھا جس نے نہیں معافی مانگی۔ حالانکہ ان کے بارے میں ہم ذہن میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ ان جیسا Rigid ہوگا۔ ان کو ہم زیادہ Reasonable سمجھتے تھے۔ اس مجذوب نے اس وقت کہا تھا کہ میں کیا ان کی بات سنوں، ان کا اوپر کا پتہ تو کٹا ہوا ہے۔ اب یہ جو باتیں ہیں یہ ظاہر ہے دل والے کر سکتے ہیں، جو ان چیزوں کو جانتے ہیں وہی ان باتوں کو کر سکتے ہیں۔

                اسی طرح اس ایک صاحب جس کے بارے میں، (میں نے کہا دو آدمیوں کی بات ہوئی تھی نا، ایک تو یہ تھا)، دوسرے کی یہ بات تھی کہ ہمارے ساتھی تھے تو انہوں نے خواب اپنا سنایا حضرت مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو۔ تو خواب میں انہوں نے یہ بات سنائی کہ ایک صاحب تھے جو کہ بہت مخالف تھے مولانا صاحب کے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے ٹیپ ریکارڈر کے بٹن کے اوپر ہاتھ رکھا ہے اور وہاں سے گانا نشر ہو رہا ہے۔ لاؤڈ سپیکر سے گانا نشر ہو رہا ہے۔ تو مولانا صاحب تشریف لائے تو اس کی انگلی کو ہٹا کے وہاں اپنی انگلی رکھ دی تو تلاوتِ قرآنِ پاک شروع ہو جاتا ہے۔ تو جس دوسرے صاحب کا میں ذکر کر رہا ہوں کہتے ہیں وہ اٹھ گیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ جاؤ جاؤ اب ہم چلتے ہیں، اب یہاں ہماری کوئی بات نہیں چلے گی۔ تو وہ چلے گئے۔ تو وہ دوسرے آدمی وہی تھے جس نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ یہی دو آدمی محروم ہو گئے باقی دوسرے لوگوں نے معافی مانگ لی۔

                اب اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں بظاہر وہ بڑے صوفی، بڑے بزرگ، داڑھی والے اور اکرام کرنے والے سب چیزیں تھیں لیکن حقیقت اندر کٹی ہوئی تھی، اندر کچھ نہیں تھا۔ ہاں تو اس قسم کی باتوں سے پھر ڈرنا چاہیے، اس وجہ سے میں کہتا ہوں یہ جو اعتقاد اور انقیاد والی جو بات ہے، یہ اس کا عین وقت پہ پتہ چلتا ہے۔ اس سے پہلے پتہ نہیں چلتا۔ لہذا جس طرح بھی ہو اپنے مشائخ کے ساتھ جڑا رہے۔ چاہے سمجھے نہ سمجھے، سب سے بڑی سمجھ یہی ہے کہ اپنے شیخ کے ساتھ جڑا رہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی بات سمجھ ہی نہیں ہے۔ بہر حال یہ تو حضرت ہی کا فیض ہے جو میں عرض کر رہا ہوں۔

                تو فرماتے ہیں کہ وہاں پر صورتحال یہ تھی کہ لوگ جاتے نہیں تھے۔ اب اگر چلے جائیں تو پھر اپنے شیخ کے ساتھ ان کا اعتقاد اور انقیاد ختم ہو جاتا ہے، تو وہ دوسری مصیبت۔ تو ہمارے پروفیسر جلیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آخری جو بیان کیا ہے جس کے بعد وہ حضرت فوت ہوئے، پورا ریکارڈ میں نے سنا ہے، اس میں حضرت نے یہ بات فرمائی: خدا کے لیے میں مشائخ سے استدعا کرتا ہوں خدا کے لیے اپنے مریدوں کو کسی اور کے پاس نہ بھیجیں۔ آج کل کے دور میں اپنے مریدوں کو کسی اور کے پاس نہ بھیجیں اس سے مصیبت بن جاتی ہے۔ اور وہ مصیبت یہی ہے، لوگوں کو سمجھ ہی نہیں۔ لوگ اس کو علمی چیزیں سمجھتے ہیں۔ اب علمی چیزیں تو ہیں نہیں، جس کے منہ سے بات نکل رہی ہے تو آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ مجھے یہ بتا رہا ہے، حالانکہ وہ نہیں بتا رہا۔ وہ تو آپ کا حصہ ہے جو اللہ کی طرف سے آ رہا ہے۔ اب اگر آپ کے شیخ کے ساتھ آپ کا شیخ کے ساتھ حصہ ہے اور آپ کسی اور جگہ چلے گئے اور اس نے آپ کو کسی اور جگہ بھیج دیا، ان کے منہ سے جو نکل رہا ہے وہ اصل میں وہ ادھر سے ہو کے آ رہا ہے۔ لہذا اگر آپ کا ادھر کے ساتھ کنکشن ہوگا تو پھر ملے گا، نہیں ہوگا تو ختم ہو جائے گی وہ چیز۔ تو اب یہ والی بات ہے کہ وہ وہاں جا کر جو آدمی۔۔۔۔ ہمارے ایک ساتھی تھے وہ یہاں سے گئے تھے ایک صاحب کے ہاں میں نے ان کو بھیجا تھا۔ تو انہوں نے مجھے ٹیلیفون کیا کہ میرے ساتھ اس طرح ہو رہا ہے، میں نے کہا پھر آپ نہ جایا کریں۔ ظاہر ہے مجبوری ہے کیا کریں، اگر کسی کو نقصان ہو رہا ہے تو نقصان تو اپنے ہاتھ سے تو کسی کو اپنی اولاد کو تو ذبح نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے اگر کسی کو نقصان ہو رہا ہے تو بے شک آدمی کچھ بھی ان کے بارے میں کہا جائے لیکن بہر حال انسان کو وہی کہنا چاہیے جو کہ مناسب بات ہے۔


                آداب شیخ کی رعایت کی تعلیم:

                ارشاد: جس طرح اپنے شیخ کے ہوتے ہوئے دوسرے شیوخ احیاء کی طرف التفات خلافِ ادب ہے اسی طرح شیوخ اموات کی طرف التفات بھی مُضر ہے، اور اپنے شیخ کے حالات کو ان کے حالات سے موازنہ کرنا تو سخت حماقت ہے۔ بزرگوں میں چونکہ لطافت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اُن کی صحبت کے آداب سلاطین کی صحبت کے آداب سے بھی زیادہ سخت ہیں۔

                یہ واقعی بڑا ہی سخت ملفوظ ہے۔ وہ اصل میں حضرت نے یہ بات اس میں بتائی ہے کہ اپنے شیخ کے ہوتے ہوئے دوسرے شیخ کی طرف التفات خلافِ ادبِ طریقت ہے اور اس سے انسان کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر فدا صاحب مدظلہ العالی ایک دفعہ فرما رہے تھے کہ ایک بڑے شیخ آئے ہوئے تھے، تو راستے پہ چل رہے تھے اور حضرت بھی وہیل چیئر میں ان کو لے جا رہے تھے، تو وہ تھوڑا سا آگے جا رہے تھے تو میں بغیر کسی خیال کے وہ ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جا رہا تھا آگے آگے۔ حضرت پیچھے پیچھے آ رہے تھے، اچانک مجھے تنبیہ ہوئی، اوہو یہ تو نے کیا کر دیا! حضرت کے دل میں کہیں یہ نہ آئے کہ ان کی طرف زیادہ ملتفت ہوں۔ کہتے میں فوراً پیچھے ہو گیا اور حضرت کے ساتھ ہو گیا، ان کو چھوڑ دیا۔ ان کو چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے حضرت کے دل میں اگر یہ بات آ جائے تو میرے لیے مصیبت ہے۔ تو یہ بات بالکل واقعی اس طرح ہوتی ہے کہ اگر کسی اور کی طرف التفات ہو جائے تو اس میں پھر وہ نقصان آ جاتا ہے، اس میں پھر نقصان ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی طرف سے وہ والی چیز پھر نہیں رہتی وہ ہرجائی لوگوں میں شمار ہو جاتا ہے اور ہرجائی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، ہرجائی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ تو ایسے حالت میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے امداد السلوک میں اور دوسری جگہوں پہ اس کے بارے میں تفصیل سے فرمایا ہے۔ ایک موقع پہ ارشاد فرمایا ہے عجیب بات۔ فرمایا: اگر آپ کو اپنے شیخ سے کوئی شخص دوسرے شیخ کی طرف متوجہ کروا رہا ہے، تو شیطان آپ کے اندر تصرف کر رہا ہے اور آپ کو عمدہ جگہ سے نکال کر خطرناک جگہ پہ لے جا رہا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ شیخ غلط ہے، یہ اصول غلط ہے، طریقہ غلط ہے، وہ شیخ تو ٹھیک ہوگا اس نے تھوڑا کہا ہے آپ کو کہ آپ آ جائیں، اچھا وہ غلط ہے، تو اب اس پہ اور فرمایا کہ ایسی صورت میں جو ہے اللہ جل شانہٗ بھی اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ کون سی گھاٹی میں ہلاک ہو جائے۔ اللہ جل شانہٗ بھی اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ کون سی گھاٹی میں ہلاک ہو جائے۔ اب یہ بڑی سخت بات ہے۔

                خود حضرت نے اپنا حال بیان فرمایا، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر ایک مجلس میں ہمارے حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ موجود ہوں اور اسی مجلس میں جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود ہوں، ہم تو جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک آنکھ بھی نہیں اٹھا کے دیکھیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت ان کی طرف متوجہ کیونکہ ان کے تو شیخ ہیں، لیکن ہم لوگ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف نہیں دیکھیں گے، ہم اپنے شیخ حاجی صاحب کی طرف دیکھیں گے۔ یہ حضرت نے خود اپنا وہ بتا دیا۔ اس وجہ سے انسان کو اسی میں رکھنا چاہیے، ہمارے حضرت مولانا احمد خان صاحب جو خانقاہ سراجیہ والے ہیں، کندیاں شریف، تو یہ جا رہے تھے اپنے شیخ کے پاس جا رہے تھے وہ کچھ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ۔ راستے میں ایک صاحب نے روکا کہ مجھ سے مل کے جاؤ میں خضر ہوں، میں خضر ہوں، مجھ سے مل کے جاؤ۔ انہوں نے سنی ہی نہیں بات آگے چلے گئے، انہوں نے پیچھے سے آواز دی کہ مجھ سے تو ملنے کے لیے لوگ بڑے بے تاب ہوتے ہیں۔ فرمایا میرے خضر ادھر ہیں، میرے خضر ادھر ہیں اور اپنے شیخ کے پاس چلے گئے۔ ادھر حضرت کو پتہ چل گیا تھا کہ یہ بات اس طرح ہے تو ماشاء اللہ بہت اللہ پاک نے ان کو نوازا، تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو بات ہوتی ہے کہ امتحان کے طور پر کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ اب کوئی بڑا شیخ آ گیا اس نے بڑی اچھی تقریر کی یا اس کے بڑے اچھے احوال آپ کو نظر آ گئے۔ ایسی صورت میں امتحان ہو جاتا ہے، آیا آپ اس طرف مائل ہیں یا اپنے شیخ کی طرف مائل ہیں؟

                تو ایک دفعہ میں گیا تھا ہمارے میخبند بابا جی جو تھے بہت بزرگ تھے، حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میں جاتا تھا۔ تو ان کی مجلس میں بیٹھا حضرت میری طرف متوجہ تھے اور مجھے کشف نہیں ہوتا، مجھے کشف کی طرح چیزیں نہیں ہوتیں، مطلب یہ والی بات مزاج کی مناسبت ہوتی ہے اس میں بعض کو ہوتی ہے بعض کو نہیں ہوتی، مجھے تو بالکل نہیں ہوتی۔ لیکن اس وقت میں نے محسوس کیا کہ میرے ارد گرد کوئی ہالہ سا ہے اور وہ مولانا اشرف شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور میں اس سے نکل نہیں سکتا۔ مطلب یہ کہ اس سے میں باہر نہیں جا سکتا۔ اب اس کو آپ وہم سمجھ لیں، اس کو آپ خیال سمجھ لیں، جو بھی سمجھ لیں لیکن چیز وہی تھی۔ وہ میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ جو ہالہ ہے اس سے میں اگر نکلوں گا تو بس سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ تو میں اسی وجہ سے ذرا بہت ہی منقبض قسم کا بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر حضرت جو ہے نا میری طرف متوجہ تھے تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ حیران ہو رہے تھے کہ حضرت ان کی طرف متوجہ ہے اور ان کی حالت انقباض کی ہے یہ کیا وجہ ہے؟ تو مجھ سے تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ آپ کے اوپر انقباض کیوں طاری ہوئی؟ میں نے کہا حضرت یہ ویسے کوئی بات تھی۔ میں نے تو نہیں کہا کیونکہ حضرت کے تو شیخ تھے نا اب ظاہر ہے حضرت کے تو شیخ تھے۔ اب میں ان کے سامنے تو یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ میرے ساتھ یہ وجہ معاملہ ہوا حالانکہ حضرت ناراض نہ ہوتے کیونکہ حضرت کو ان تمام چیزوں کا پتہ تھا پھر بھی ادب بھی کوئی چیز ہوتی ہے، ہم لوگوں کو بھی تو خیال رکھنا چاہیے ہمارے بڑے ہیں تو ایسے لوگوں کے دلوں کو تکلیف تو امکان بھی اگر ہو تو نہیں دینا چاہیے تو میں نے یہ تو نہیں کہا، لیکن بہر حال خود مجھے پتہ چل گیا اس کے بعد میں نے اپنے کسی جاننے والے پیر بھائی کے ساتھ بات کی کہ یہ بات میرے ساتھ ہو گئی۔ انہوں نے کہا آپ اس ہالے سے نکلے تو نہیں، میں نے کہا نہیں نکلا، کہتے بس بچ گئے۔ اللہ نے بچا لیا۔

                تو یہ ہوتا ہے بعض دفعہ اصل میں چونکہ یہ تربیت ہے، اب تربیت میں بڑے اور چھوٹے کی بات نہیں ہے کیونکہ دینے والا تو اللہ ہے۔ اب دیکھئیے یہ جو ٹیوب ہے یہ آپ تربیلا میں بھی لگا دیں تو اتنا ہی جلے گا نا؟ اور ادھر بھی اتنا ہی جل رہا ہے۔ اب آپ جو ہے نا وہ کہہ دیں کہ اوہو تربیلا میں تو لگے گا تو پھر بڑا مزہ آئے گا، تربیلا میں لگے گا تو اتنا ہی جلے گا، یہ تو استعداد پر ہے کہ وہ لے کتنا سکتے ہیں۔ اس پر نہیں ہے کہ ہے وہ ادھر پیچھے سٹور میں کتنا ہے۔ آپ بہت بڑی ٹینکی کے ساتھ نل لگا دیں اس کی ٹونٹی اتنی سی لگا دیں تو کتنا آئے گا؟ اور آپ بڑا لگا دیں چھوٹے کے ساتھ لگا دیں لیکن بڑا لگا دیں تو فوراً پانی بہت زیادہ آئے گا۔ تو یہ چیز جو ہے نا یہ آپ کے اوپر ہے کہ آپ کی طلب اور استعداد کتنی ہے، دینے والا اللہ ہے۔

                تو یہ بات میں عرض کر رہا ہوں کہ اگر کسی کو یہ چیز معلوم ہو تو پھر اس کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کہ میرا شیخ چھوٹا ہے میرا شیخ بڑا ہے، اس چیز کو، چیپٹر ہی کو کلوز کر دے۔ میرا شیخ بڑا ہے میرا شیخ چھوٹا ہے یہ بھی خلافِ طریقت ہے۔ کیوں مشائخ کا مقابلہ کرتے رہتے ہو تم؟ تمہیں حق کس نے دیا ہے؟ اور تم فیصلہ کب کر سکتے ہو؟ یہ فضیلت تو عند اللہ ہوتی ہے، فضیلت عند الانسان تھوڑی ہوتی ہے۔ اب اللہ کو پتہ ہے کہ کون بڑا ہے کون چھوٹا ہے، اور بڑا بھی ہے اللہ جل شانہٗ کا ان کے مریدوں کے ساتھ وہ معاملہ نہیں ہوتا کہ یہ بڑے ہیں تو ان کے ساتھ میں ان کو زیادہ دے دوں۔ اور جو چھوٹے ہیں، وہ جو ہے نا وہ بلکہ ہمارے بزرگوں نے تو یہاں تک فرمایا:

                پیر خسس مرید را بسس

                پیر اگر خس بھی ہو مرید کے لیے کافی ہے، اگر پیر خس بھی ہو مرید کے لیے کافی ہے اور واقعتاً یہ اپنی طاقت استعداد کے مطابق ہوتا ہے۔ تو یہاں فرمایا کہ اس طرح جو ہے نا مشائخِ احیاء اس کا تو خیر بہت ہی زیادہ سخت بات ہے، جو احیاء ہیں۔ اب احیاء میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں اور حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں اور کون کون سے بڑے ہیں، ان کے ساتھ بھی مقابلہ نہ کرو۔ حضرت نے بہت بڑی بات فرمائی ہے، ان کے ساتھ بھی مقابلہ نہ کرو۔ اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جو بات فرمائی تھی جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ وہ ہمارے بڑے تھے نا، وہ تو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی بڑے ہیں، وہ سب کے بڑے ہیں، حضرت نے مثال ان کی دی کہ اگر وہ مجلس میں بیٹھے ہوں، مثال کے طور پر مجلس میں بیٹھے ہونے کی مثال کیا ہے؟ حضرت کے مزار پر، ہاں بیٹھے ہوں دو، تو ان کا معاملہ شیخ کے ساتھ ہوگا۔ کہ شیخ کے قلب میں جو ادھر سے فیض آ رہا ہے وہ میرے دل میں آ رہا ہے، یہ ادب ہوگا اور یہ اگر براہِ راست کچھ تھوڑا سا بننا چاہے گا تو بس ٹھیک ہے جی، وہ معاملہ تو گڑبڑ ہو جائے گا۔ تو ان کا تو معاملہ یہی ہوگا کہ مجھے اپنے شیخ کا فیض آ رہا ہے اور یہ یقین کرے کہ اس کے اندر ذرہ بھر بھی الحمد للہ ہمارے ہاں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اگر کسی کا یہ مراقبہ پکا ہو کہ میرے شیخ کے قلب کے اوپر جو اللہ کی طرف سے فیضان آ رہا ہے وہ اس سے میرے دل میں بھی آ رہا ہے۔ چاہے آپ امریکہ میں ہیں، چاہے آپ جرمنی میں ہیں، چاہے آپ ماسکو میں ہیں، وہ ملے گا آپ کو، کیونکہ اللہ جل شانہٗ کے لیے زمان بھی کوئی چیز نہیں، مکان بھی کوئی چیز نہیں۔ اللہ پاک کے لیے یہ چیزیں کچھ بھی نہیں، زمان و مکان تو ہمارے لیے ہیں اللہ کے لیے تو نہیں ہیں۔ تو جب اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بات ہو رہی ہے تو پھر اس میں کیا بات ہے؟ کون امریکہ میں بیٹھا ہے اور کون افریقہ میں بیٹھا ہوا ہے؟ یہ والی باتیں نہیں ہوتیں، تو جن حضرات کا یہ پکا ہوتا ہے وہ ایسا ہوتا ہے اتنا ہو جاتا ہے بعض دفعہ کہ وہ ایک، کچھ ابتداء میں تو ٹیلی گراف کی طرح ہوتا ہے، یعنی ٹیلی گراف یہ اشارے جیسے ہوتے ہیں سگنل اشارے اشارے مطلب سمجھ میں آ جاتے ہیں، اور پھر بعد میں تو اتنی انسان ترقی کر سکتا ہے اگر اللہ چاہے تو، بالکل جیسے ٹیلیفون جیسی بات ہوتی ہے وہ ایسے بھی ہو سکتا ہے۔ مطلب اگر اللہ چاہے، ظاہر ہے اس میں یہ والی بات ہے، تو جس کے ساتھ بھی ہو تو ان کے ساتھ ایسی بات ہو سکتی ہے۔

                حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی بات فرمائی ہے اسی کے مطابق فرمائی، فرمایا تین سال تک میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو میں نے حاجی صاحب سے پوچھ کے نہ کی ہو۔ اب مجھے بتا دیں حاجی صاحب کہاں تھے؟ اور حضرت کہاں تھے؟ تین سال میں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جو میں نے حاجی صاحب سے پوچھ کے نہ کیا ہو۔ پھر فرمایا تین سال میں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کے نہ کیا ہو۔ یہ فرمایا۔ پھر فرمایا اس کے بعد پھر اس کے بعد خاموش ہو گئے، لوگوں نے بہت زیادہ پوچھا حضرت پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر ذرا توقف کے ساتھ فرمایا پھر اس کے بعد مرتبہ احسان رہا، پھر اس کے بعد مرتبہ احسان رہا۔ تو مطلب یہ ہے کہ دیکھیے اللہ کے ساتھ بھی پھر ہاٹ لائن الہام کا جو ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے نا کہ بس وہ یہ کرو یہ نہ کرو یہ کرو یہ نہ کرو باقاعدہ وہ جیسے یہ قلب آپ نے متوجہ کر لیا بس ادھر سے اشارہ آ گیا۔ اور کہتے ہیں:

                دل کے میخانے میں ہے تصویرِ یار

                جب ذرا گردن جھکالی دیکھ لی

                مطلب جس کا لگ جائے۔ کہتے ہیں لگے رہو لگے رہو لگے رہو لگ جائے گی۔ لیکن لگے رہو گے تو لگے گی نا؟ لگے نہیں رہو گے تو کیسے لگے گی؟ تو یہی بات ہوتی ہے کہ وہ جو ہے نا جن کے ساتھ جن سے آپ کا تعلق ہے اگر لگیں گے تو ان شاء اللہ۔ پھر یہ آخری بات جو فرمائی بزرگوں میں چونکہ لطافت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان کی صحبت کے آداب سلاطین کی صحبت کے آداب سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔

                جاننے والوں نے، وہ کیا کہتے ہیں سیانوں نے، سیانوں نے، سیانوں نے کہا ہے: علماء کے سامنے بیٹھو اپنی زبان کا خیال کرو۔ علماء کے سامنے بیٹھو اپنی زبان کا خیال کرو۔ اب جیسے مثال کے طور پر علماء کے سامنے آپ بیٹھے ہوئے ہو بڑا ہی آپکا پر جلال چہرہ ہے اور اور علمی باتیں آپ کر رہے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں ماشاء اللہ آپ تو بڑے عالم ہیں، اور آپ نے کسی عالم کے سامنے کہا "عمرو" (Amru)۔ بس عمرو کہہ دو تو اس عالم کو پتہ چل گیا کہ کہاں ہے۔ پتہ چل گیا نا؟ پتہ چل گیا، تو اب یہ جو ہے نا یہ یہ کیا ہوتا ہے کیونکہ ہم لوگ پڑھتے ہیں کتابوں سے اور علم جو ہے وہ تو باقاعدہ اس کے اپنے اصول ہیں۔ تو اعراب نہیں لگے ہوتے اور اس میں انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ اسی طریقے سے جو ہے نا مطلب یہ کہتے علماء کے سامنے رہو تو اپنی زبان کو سنبھال کے بات کرو۔ اور کہتے ہیں سلاطین کے سامنے رہو تو ذرا اپنی سر کو سنبھال کے ہلے جلے، اور مشائخ اور اہلِ قلوب کے سامنے رہو تو اپنے دل کو سنبھال کے بیٹھو۔ ذرہ بھر بھی کوئی دل آگے پیچھے ہو گیا بس! وہاں پر معاملہ ہی دل کا ہوتا ہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ ظاہری وجہ جو بنتی ہے وہ بالکل ایک عام قسم کی چیز ہوتی ہے۔ ظاہری وجہ بالکل ایک عام قسم کی چیز ہوتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں یہ تو کوئی چیز ہی نہیں تھی، یہ کیوں اس طرح ہو گیا؟ ان کو اتنی چھوٹی سی بات پہ نکال دیا گیا یا اتنی چھوٹی سی بات پہ رہ گئے، یہ کیا وجہ ہو گیا؟ چھوٹی سی بات نہیں ہوتی چونکہ معاملہ ہوتا ہے قلب کا، صرف وہ چھوٹی سی بات پہ ظاہر ہو گیا۔ باقی چیز تو بڑی تھی۔ حضرت فرماتے ہیں مجھ سے لوگ ناراض ہوتے ہیں کہ چھوٹی سی بات پر اتنا ڈانٹتے ہیں، فرمایا میں اس کے پیچھے کی چیز کو دیکھتا ہوں کہ پیچھے کیا ہے۔ تو یہاں پر یہ فرمایا کہ جو حضرات ہوتے ہیں ان کے آداب سلاطین کی صحبت کے آداب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ کیوں؟ سلاطین کا معاملہ تو ظاہر کے ساتھ ہوتا ہے، لہذا ظاہر کا تو آپ زیادہ خیال رکھ سکتے ہیں لیکن جو اہلِ قلوب ہیں ان کے دل پہ نظر ہوتی ہے اور دل کے ساتھ وہ تو بڑا مشکل ہے، لہذا ایسے جگہ پر انسان کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔

                خلاف شرع امور میں مخالفت شیخ لازم ہے مگر ادب کے ساتھ:

                ارشاد: اگر مرید کے نزدیک شیخ کا قول خلافِ شرع ہو تو مخالفت جائز، بلکہ لازم ہے۔ مگر ادب کے ساتھ، گو واقع میں وہ قول خلاف شریعت نہ ہو مگر یہ تو اپنے علم کا مکلّف ہے۔ جیسے حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ بریلوی کو شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تصوّرِ شیخ تعلیم فرمایا۔ سید صاحب نے اس سے عذر کیا کہ مجھے اس سے معاف فرمایا جائے۔ شاہ صاحب نے فرمایا:

                بمے سجاده رنگین کن گرت پیر مغاں گوید

                سالک بے خبر بنووز رسم و راہ منزلہا

                سید صاحبؒ نے عرض کیا کہ مے خواری تو ایک گناہ ہے آپ کے حکم سے میں اس کا ارتکاب کر لوں گا۔ پھر توبہ کرلوں گا مگر تصوّرِ شیخ میرے نزدیک شرک ہے اس کی کسی حال میں اجازت نہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے یہ جواب سن کر سید صاحب کو سینہ سے لگا لیا کہ شاباش! جَزَاکَ اللہُ، تم پر مذاقِ توحید و اتباعِ سنت غالب ہے اب ہم تم کو دوسرے راستہ سے لے چلیں گے۔

                بات بالکل صاف ہو گئی، اس کو سلوکِ نبوت کہتے ہیں۔ اس میں ایک بات یہ ہے کہ جس صاحب کا جن چیزوں میں جو رائے ہو، اور اس میں علمی رخ سے ایک بات ان کے اوپر واضح ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں وہ اپنے شیخ کی تعلیم سے عذر کر سکتا ہے۔ یہاں دیکھ لیں انہوں نے بے ادبی نہیں کی، بات کی لیکن بے ادبی نہیں کی۔ شیخ نے بھی اس کو مان لیا، حالانکہ وہ شیخ کے نزدیک صحیح بات تھی۔ شیخ کے نزدیک صحیح بات تھی، ان کے نزدیک صحیح بات نہیں تھی، تو انہوں نے عذر کر لیا اور حضرت نے اس عذر کو مان لیا۔ لیکن اس میں ایک الگ بات نظر آ رہی ہے حضرت ہی کے ملفوظات میں، فرمایا کہ اگر گناہ ہو تو وہ میں کر لوں گا، شرک نہیں کر سکتا، کیونکہ شرک تو اللہ معاف نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہ شرک تھا۔ لیکن اتنی بات تو پکی ہے کہ باوجود اس کو شرک سمجھنے کے اپنے شیخ کو مشرک نہیں سمجھا، پھر آپ اس کی مجھے خود تفصیل بتا دیں کہ یہ کیا چیز ہے۔ خود اس کو شرک سمجھا نا، لیکن شیخ کو مشرک نہیں سمجھا، اب بتاؤ یہ کیا چیز ہے؟ ایک تو اتنا ظرف ہو کسی میں، ایک تو اتنا ظرف ہو کسی میں سید صاحب جیسا تو وہ یہ بات کر سکتا ہے کہ دیکھو ایک چیز کو شرک کہہ رہا ہے لیکن شیخ کو مشرک نہیں کہہ رہا۔ اور یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کے کہنے پہ میں گناہ کر لیتا، ہاں اس سے توبہ کر لیتا۔ یہ دو چیزیں یہ ہیں کہ آپ کو اپنی سمجھ تو اپنے شیخ کے سامنے سرنڈر کرنا ہی ہے۔ لیکن ایسی چیز ہو جس پر بعد میں کوئی گنجائش ہی نہ نکلے تو اس میں انسان عذر کر لے، ٹھیک ہے نا؟ اب چونکہ ان دونوں دو چیزوں کو جمع کر دیا؛ ادب کو اور شریعت کے تقاضے کو، دونوں کو جمع کر لیا تو شیخ نے اسی وجہ سے ان کو سینے سے لگا لیا۔ یہ وہ چیز تھی کمال کی جو حضرت کو پسند آئی، ان کو اپنے سینے سے لگایا کہ ہاں میں آپ کو اب اس راستے سے لے کر چلوں گا۔ آپ کو اب سلوکِ نبوت پر چلائیں گے۔ ان دو چیزوں کو نہیں جمع کر سکتے ہر آسانی کے ساتھ۔ اب اگر ہم کہہ دیں کہ ہر ایک اس طرح کر لے، تو پھر ہر ایک اس طرح بن جائے۔ جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا کہ جی فلاں کہتا ہے کہ ہم لوگ مہرِ فاطمی مقرر کریں گے، فرمایا پھر علیؓ بن جائے، پھر علیؓ بن جائے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ تو پھر ظاہر ہے اس کے جو تقاضے وہ بھی تو پورے کرنے ہیں۔ ایک انسان اپنے نفس کی وجہ سے مہرِ فاطمی کر رہا ہے، دوسرا بلکہ اس کا وہ مستحق ہے اس کی شان ہے، تو دونوں میں فرق ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ جو حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے چونکہ وہ مجدد تھے اپنے دور کے، تو مجدد جو ہوتے ہیں ان کو کچھ خصوصی چیزیں عطا فرما دی جاتی ہیں، جو ان میں سے یہ بھی تھی۔ حضرت ایسے مجدد رہے ہیں کہ جو بالکل اُمی محض تھے، ہمارے جو سید صاحب تھے، وہ درسیات سے فارغ نہیں تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت جو ہے نا یہ بھی ان کا واقعہ ہے، کہ ایک دن آئے اپنے شیخ سے کہا کہ حضرت مجھے حروف نظر نہیں آتے۔ تو انہوں نے باریک باریک جالیاں منگوا لیں، ان سے کہا کہ ان کو گنو تاروں کو، سارے تار گن کر بتا دیئے، وہ صحیح، لیکن حروف نظر نہیں آ رہے۔ حضرت نے ان سے پوچھا جاؤ مجھے بتاؤ آج کیا کیا؟ عمل کون سا کیا ہے؟ تو حضرت اور تو کچھ نہیں پڑھنے کے لیے گیا تھا تو جنگل میں ایک مسجد تھی وہ بڑی ویران تھی، اس کے اندر بڑے جو ہے نا پتے وغیرہ پڑے ہوئے تھے، میں نے اس میں جھاڑو دے دیا، صاف کر دیا، اس میں اذان دے دی اور پھر نماز پڑھ لی۔ انہیں مبارکباد دے دی فرمایا ماشاء اللہ آپ کا یہ عمل قبول ہو چکا ہے، اب آپ کو ایک اور طرح سے یہ سب کچھ دیا جائے گا، اب آپ کتابیں چھوڑ دیں، کتابیں آپ کے لیے بند۔ کتابیں ان سے اپنے شیخ نے رکوا دیں، اب یہ اس کی خصوصیت تھی کسی کی ہو تو وہ تو پھر الگ بات ہے نا؟ وہ معاملہ تو الگ ہے نا، مطلب ان کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے، دوسرا معاملہ ان کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ لیلۃ القدر، وہ ایک رات حضرت نے پوچھا اپنے شیخ سے کہ حضرت لوگ لیلۃ القدر کے لیے رات جگاتے ہیں تو کیا میں جاگوں؟ فرمایا نہیں جتنی رات آپ کا جاگنے کا معمول ہے اتنا جاگ لو، باقی سو جاؤ اگر لیلۃ القدر ہوئی آپ کو جگا دیا جائے گا۔ تو وہ سوئے ہوئے تھے تو اتنے میں دیکھا کہ آپ ﷺ خلفائے راشدین کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایا اٹھو غسل کر لو لیلۃ القدر ہے۔ تو اب جن کی یہ خصوصیت ہو تو ظاہر ہے ان کے لیے معاملات اور ہوتے ہیں نا، وہ تو "نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند"، مطلب یہ تو نہیں ہے کہ بس وہ جو ہر جو آدمی جو ہے نا بال صاف کر لے وہ قلندر بن گیا۔ یعنی یہ تو ظاہر ہے ہر چیز کا اپنا اپنا انداز ہے، میں نے ساری چیزیں اس لیے بتا دیں کہ آج کل چونکہ اعتراض تو بہت آسان ہے، اور اعتراض کو لوگ پسند بھی بہت کرتے ہیں، تو اچھا خاصا غل نکل آئے گا، بھئی بس ٹھیک ہے جی اب تو ہم بھی کریں گے سلوکِ نبوت ہے، تو سلوکِ نبوت خصوصی چیز ہے اور اس کے پیچھے بڑی خصوصیات ہوتی ہیں، ان چیزوں کے بغیر صرف اعتراض کو سلوکِ نبوت نہیں کہتے۔

                شیخ کے صریح شرعی خلاف پر مرید کو کیا معاملہ کرنا چاہئے:

                ارشاد: اہلِ طریق کی وصیت ہے کہ اول طلبِ شیخ میں پوری احتیاط لازم ہے پھر جب تفتیش و تجربہ سے اس کا متبع شریعت و محقِّق ہونا ثابت ہو گیا تو اب اجتہادی مسائل میں بات بات پر اس سے بدظن نہ ہو، البتہ اگر بیعت کے بعد اس سے کوئی بات ایسی دیکھی جائے جو کہ صریحاً خلاف شریعت ہو جس میں اجتہاد کی بالکل مجال نہ ہو اس کے متعلق تین قسم کا معاملہ کرنے والے لوگ ہیں: بعض تو اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور یہ خلاف اصولِ طریقت ہے اور بعض اس کے فعل میں بھی تاویل کر لیتے ہیں اور اگر وہ ان کو بھی اس فعل کا امر کرے تو اس کو بھی کر لیتے ہیں۔ اور یہ خلافِ طریقت بھی ہے اور خلافِ شریعت بھی ہے، اور سب سے اچھا تیسری قسم کا معاملہ کرنے والا ہے وہ یہ کہ اگر امر نہ کرے تو بدظن بھی نہ ہو

                جس انہوں (سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ) نے... بدظن نہیں ہوئے، مشرک تو نہیں کہا

                تو بدظن بھی نہ ہو اور اس کے فعل میں یقیناً یا ابہاماً تاویل کرلے اور اگر تاویل پر قدرت نہ ہو تو سمجھ لے کہ شیخ کے لئے عصمت لازم نہیں آخر وہ بھی بشر ہے اور بشر سے کبھی غلطی ہو جانا ممکن ہے اور اگر اس کو بھی امر کرے تو اتباع نہ کرے، بلکہ ادب سے عذر کر دے اگر وہ اس عذر کو قبول کر لے اور پھر اس کو مجبور نہ کرے تو اس شیخ کو نہ چھوڑے اور اگر وہ اس عذر پر مرید سے خفا ہو جائے تو سمجھ لے کہ یہ شیخ کامل نہیں، اس کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے اور اس دوسرے سے جا کر صاف کہہ دے کہ میں پہلے وہاں بیعت تھا اور اس وجہ سے الگ ہوا، اگر وہ سن کر ناخوش ہو تو اس کو چھوڑ دے، اگر ناخوش نہ ہو تو اس سے تعلق پیدا کرے، مگر اس حالت میں بھی پہلے شیخ کے ساتھ گستاخی نہ کرے کیونکہ اس طریق کا مدار ادب پر ہے۔

                یعنی اس میں یہی والی بات ہے کہ حضرت اکثر اس پر شعر فرمایا کرتے تھے:

                در کفے جامِ شریعت در کفے سندانِ عشق

                ہر ہوسناکے نداند جام و سنداں باختن

                ایک ہاتھ میں جامِ شریعت ہو دوسرے میں عشق کا سندان ہو، تو ہر ہوس کرنے والے شخص کو یہ دونوں چیزیں نہیں ملا کرتیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہے نا یہ والی بات ہے کہ اس میں بین بین والا مسئلہ ہے کہ نہ تو شریعت پر حرف آئے نہ طریقت سندان پر۔ طریقت اصل میں شریعت کی تکمیل کو کہتے ہیں، تو ان دونوں کے اندر جدائی تو نہیں ہو سکتی، ہاں البتہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ شریعت کے وہ جو باطنی تقاضے ہیں ان کو دل سے مان لینا اور دل کے اندر ان چیزوں کو پیدا کرنا یہ طریقت ہے، تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ادب چونکہ اس کا بنیاد ہے اور ادب کا تعلق دل کے ساتھ ہے، لہٰذا اس کے اوپر حرف نہیں آنا چاہیے، اور ساتھ ساتھ شریعت کی والی بات بھی ہو۔

                میرے ساتھ یہ بات ہو گئی تھی، لیکن میں اس کو زیادہ اس لیے بیان نہیں کر سکتا پھر وہی والی بات کہ وہ، مطلب لوگ جو ہے نا آج اعتراض کو بہت خوش مطلب وہ سمجھتے ہیں نا، حالانکہ اعتراض ضروری نہیں ہے کہ وہ جو ہے نا ہر جگہ ایسا ہی ہو۔ ہماری رویتِ ہلال کا جو مسئلہ تھا، رویتِ ہلال کا، تو ہمارے پشاور کے علماء کرام کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے۔ تو ان کو میں ناحق میں نہیں سمجھتا ہوں، صرف ایک اختلاف ہے، اجتہادی اختلاف ہے تو ان کا ادب میرے دل میں ہے، یقیناً ہم تو ساتھ میں بات چیت بھی کرتے رہتے ہیں۔ تو کچھ لوگ تو ان کے مکمل اختلاف ہیں، ان کی گستاخیاں کرتے ہیں، اور کچھ لوگ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ ان کو مکمل ساتھ ہیں، اور ہم جیسے لوگ ساتھ نہیں ہیں لیکن ادب کرتے ہیں۔ بہرحال یہ ہے کہ وہ حضرت بھی ان میں سے تھے کہ وہ بھی رویتِ ہلال کے مسئلے میں ان علماء کے ساتھ تھے۔ اب میرا سارا پروگرام یہ تھا، اور شیخ جو ہے نا ہمارے اس طرف، تو معاملہ تو مشکل تھا، اب شرح صدر سے اس کے خلاف کر بھی نہیں سکتا تھا اب شیخ کے ساتھ وہ بھی نہیں کر سکتا، تو اس وجہ سے میں نے کہا کہ حضرت مجھے روک دے تو میں رک جاؤں گا، کیونکہ میرے اوپر کوئی فرض تو ہے نہیں، ظاہر ہے فرض تو نہیں ہے نا، تو اگر حضرت روکتے تو حضرت کے حکم کے مطابق میں رک جاتا۔ تو میرا ارادہ تھا کہ حضرت مجھے روکتے تو میں رک جاؤں گا، لیکن خود سے نہیں رکوں گا۔ تو میں نے پھر اس کے لیے طریقہ جو بنایا کہ وہاں جو جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ، ان کے چیئرمین سے کہا کہ آپ ایک مجلس بنا دیں، جس میں علماء کرام اور اس میں سائنسدان وغیرہ سب بلائیں، صدارتِ جلسہ حضرت کو بنائیں اور مجھے مقرر بنا دیں۔ میں ساری بات کر لوں گا تو حضرت کے سامنے میری پوری بات آ جائے گی، ویسے تو میں نہیں کر سکتا ہوں حضرت سے، تو اگر حضرت نے میرا رد کر لیا، تو میں رک جاؤں گا، اور اگر رد نہیں کیا تو ظاہر ہے پھر تو دیکھیں گے۔ تو انہوں نے بات مان لی، انہوں نے واقعی بہت زبردست جلسہ کیا اور علماء کرام کو بھی بلایا، ساتھ سائنسدان بھی تھے، سخت بارش تھی اس دن، بارش میں بھی مولانا صاحب تشریف لائے، اس وقت مجھے اپنی تجویز پہ شرمندگی بھی ہو رہی تھی کہ حضرت کو بارش میں تکلیف دی، بہرحال یہ کہ حضرت تشریف لائے میں نے پورا لیکچر دیا، سوال و جوابات ہوئے، اور جو میرا نکتہ نظر تھا سب میں نے پیش کر دیا۔ اب جب حضرت کا صدارتی خطبہ آ گیا، تو حضرت نے مجھ پہ ذرہ بھر بھی رد کیے بغیر اپنا پورا نکتہ نظر بیان کیا۔ یہ بھی نہیں کہا کہ یہ غلط کہہ رہا ہے۔ ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ میں نے کہا پھر مسئلہ ہو گیا۔ بہرحال پھر میں گیا حضرت کے پاس شام کو، کہ یہ حضرات کا انداز ہوتا ہے کہ جو زیادہ بولتا اولتا ہے تو تھوڑی ان کی شنٹنگ ونٹنگ کرتے ہیں کہ ذرا وہ تکبر نہ آئے، عجب نہ آئے نا؟ خوب مجھے ڈانٹا، بڑا بولتے ہو، یہ کرتے ہو، وہ کرتے ہو، جیسے مشائخ کا طریقہ ہوتا ہے، خوب ڈانٹا، اس کے بعد پھر ظاہر ہے جیسے حضرت کا پیار کا انداز تو وہ تو چلتا رہا، تو میں نے کہا حضرت اب تو آپ کے سامنے میری ساری بات آ گئی، تو فرمایا ہاں۔ تو میں نے کہا آپ اگر فرما دیں گے تو میں اب اپنے اس سے رک جاؤں گا، میں اس کے بعد نہیں کروں گا اس پر، اگر آپ مجھے حکم دے دیں۔ تو حضرت تھوڑی دیر کے لیے مراقب ہوئے، مراقبے سے سر اٹھایا تو فرمایا آپ تحقیق کر رہے ہیں نا؟ میں نے کہا جی ہاں، فرمایا کرتے رہیں کیا حرج ہے؟ چلیں۔ اب اس کے بعد پھر میں نے یہ کیا کہ پورا مضمون لکھ دیا اس کا اپنی تحقیق کا، حضرت سے میں نے عرض کیا حضرت اس کی اصلاح فرما دیں۔ اب اس میں تو ساری بات، اس کے بعد وہ کوئی بات نہ رہی، حضرت نے اس کی کا کے کی درست کی، ذرہ بھر بھی متن تبدیل نہیں کی۔ اب اس کے بعد پھر کیا کر سکتا تھا۔... کا کے کی تو درستگی کی کیونکہ ظاہر ہے کا کے کی غلطیاں تو ہمارا پیدائش حق ہے، وہ تو ہماری غلطیاں ہوتی ہیں تو حضرت نے درست کر لیں، باقی جو ہے نا وہ جو حضرت نے اس کو ذرہ بھر بھی تبدیل نہیں کیا۔ اس کو سن کر بعد میں مفتی مختار الدین شاہ صاحب رونے لگے، کہتے ہیں ایسے لوگ اب کہاں ملیں گے؟ اتنا وسیع دل کہ ایک مرید چاہ رہا ہے کہ مطلب یہ کہ اس کو کہا جائے لیکن بالکل کچھ نہیں کیا۔ ایسے طریقے سے یہاں پر معاملہ چلتا ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر جو ہے نا پھر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

                اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

                وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

                تصوف و سلوک میں شیخ کی طاعت و انقیاد، آدابِ طریقت اور نسبت کی حفاظت - اصلاحی جوڑ