اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
معزز خواتین و حضرات! یہ مہینہ ذی القعدہ کا مہینہ کہلاتا ہے، اور ذی القعدہ کا مہینہ شوال اور ذی الحج کے ساتھ مل کر یہ ایامِ حج کہلاتے ہیں۔ یعنی ان ایام میں حج ہوتا ہے۔ تو جیسے میں نے آیت کریمہ تلاوت کی ہے: اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (البقرۃ: 197)۔ کہ حج جو ہے معلوم مہینے ہیں حج کے۔ ان میں اگر کسی پر حج فرض ہو جائے، تو اس کو چاہیے کہ حج میں رفث سے یعنی بد نظری سے اور ایسی باتوں سے جو بے حیائی کی طرف لے جا رہی ہوں، ان سے بچے۔ اور گناہوں سے بچے۔ اور جدال سے بچے۔ جدال سے مراد لڑائی جھگڑے، اس سے بچے۔
یہ حج جو ہے یہ کیا ہے؟ ایک تو اس کا فقہی حکم ہے کہ فرض ہے۔ اور ایسا فرض ہے کہ پوری عمر میں صاحبِ استطاعت کے اوپر ایک دفعہ فرض ہے۔ صاحبِ استطاعت سے کیا مراد ہے؟ صاحبِ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ اتنا اس کے پاس مال ہو کہ وہ حج پہ جائے اور آئے اور نان نفقہ جو گھر والوں کا ہے وہ بھی اس کے پاس ہو، تو وہ حج کرے گا۔ لیکن اگر وہ جانے کے قابل نہیں ہے یعنی صحت کے لحاظ سے، عمر کے لحاظ سے، وہ ایسا ہے کہ وہ جانے کے قابل نہیں ہے تو پھر وہ حجِ بدل کرے گا، کسی اور کو حج پہ بھیجے گا، اس کی طرف سے وہ حج کرے گا۔ اور عورت کے اوپر محرم کے ساتھ حج فرض ہے۔ پس اگر اس کو محرم نہیں مل رہا ہو تو پھر وہ محرم کے اخراجات بھی اگر اس کے پاس ہوں تو پھر اس پہ حج فرض ہوتا ہے، ویسے اس کے اوپر حج پھر فرض نہیں ہوگا۔
یہ تو اس کی فقہی تفصیل ہے اور اس کے ارکان ہیں اس میں کچھ فرض ہیں، کچھ واجب ہیں، کچھ سنتیں ہیں، تو وہ تو اس کی فقہی تفصیل ہے۔ لیکن حج اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس میں کیا ملتا ہے اور وہ کن چیزوں سے لیا گیا ہے۔تو حج میں کچھ اللہ کے محبوبوں کے وہ اعمال ہیں جو اللہ کو بہت پسند آئے اور اللہ جل شانہٗ نے اتنا ان کو قبول فرمایا کہ آئندہ لوگوں کے لیے وہ حج کے اندر لازمی جزو بنائے گئے ہیں۔ مثلاً: ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ اپنی بیوی اور شیر خوار بچے کو (جہاں پر خانہ کعبہ ہے وہاں پر) لے جاؤ۔ وہ ان کو لے جاتے ہیں، ساتھ توشہ ہے۔ ان کو نہیں بتایا کہ میں ان کو کیوں لے جا رہا ہوں۔ تو جس وقت ان کو وہاں بٹھا دیا تو اونٹ پر سوار ہوئے اور جانے لگے۔ توشہ ان کو دے دیا۔ یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ کو کیوں چھوڑ رہا ہوں۔ایسا امتحان۔
تو ہاجرہ بی بی عليہا السلام نے خود ہی پوچھا چونکہ ان کو پتہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام پیغمبر ہیں اور پیغمبر اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرتے۔ پوچھا کہ کیا اللہ کا حکم ہے کہ آپ ہمیں چھوڑ کے جا رہے ہیں؟ ابراہیم علیہ السلام نے اشارے سے جواب دیا اتنی اجازت تھی اور روانہ ہو گئے۔ ہاجرہ بی بی عليها السلام نے ایک کلمہ کہا، ایک بات کی، وہ بات قبول ہو گئی۔ وہ بات کی کہ اگر آپ ہمیں اللہ پاک کے حکم سے ہمیں چھوڑ رہے ہیں تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا، آپ جا سکتے ہیں۔
اللہ پہ توکل! قرآن پاک میں ہے: وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ (الطلاق: 3)۔ "جو اللہ تعالیٰ پہ بھروسہ کرتے ہیں، اللہ ان کے لیے کافی ہو جاتا ہے"۔ اَللهُ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ۔ "اللہ پاک کو توکل کرنے والے پسند ہیں"۔ تو یہ بات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ اب وہاں جو ان کا رہنا سہنا ہے وہ اگرچہ عام لوگوں کی طرح ہے، ظاہر ہے وہاں پر وہ کیا کر رہے تھے، اس وقت تو حج نہیں تھا۔لیکن وہاں تھے۔ وہاں خانہ کعبہ بھی نہیں تھا، طواف بھی نہیں تھا، لیکن وہاں بالکل عام لوگوں کی طرح رہ رہے تھے۔اب جو توشہ تھا وہ ختم ہو گیا، پانی ختم ہو گیا۔ پانی کے بغیر انسان زندہ نہیں رہتا۔ تو پانی کی تلاش میں اپنے بچے کے لیے، شیر خوار بچے کے لیے کہ پانی تلاش کر رہی تھیں، تو دو پہاڑیاں تھیں، ایک صفا اور ایک مروہ، پاس ہی۔ صفا پہ چڑھی کہ دیکھتی ہوں کوئی قافلہ اگر آ رہا ہو تو ان سے پانی لے لوں گی۔ نہیں ملا۔ اب مروہ کی طرف جا رہی ہیں۔ درمیان میں Depression ہے، گویا کہ وہ جگہ جہاں پر اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا تھا وہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ لہٰذا وہ دوڑی، تاکہ میں جلدی پہنچ جاؤں کہ اسماعیل علیہ السلام مجھے نظر آنے شروع ہو جائیں کوئی جانور اس کو نقصان نہ پہنچائے۔ تو وہاں تھوڑی سی جگہ جو تھی وہاں Depression میں دوڑی۔ پھر مروہ پہاڑی کے اوپر چڑھی، دیکھا تو وہاں بھی نظر نہیں آیا، قافلہ۔ پھر واپس، صفا کی طرف، ممکن ہے اب اس طرف آ گیا ہو۔ تو درمیان میں پھر Depression آیا، وہاں پھر دوڑی۔ اس طرح سات چکر اُن کے لگے۔
اس وقت اللہ پاک کی رحمت کا دریا جوش میں آ گیا۔ جبرائیل علیہ السلام آئے اور اسماعیل علیہ السلام کے پیروں کی جگہ پہ پر مارا اور وہاں سے چشمہ ابل پڑا۔ تو جب مروہ پہ گئی تو وہاں جب نظر آیا کہ کچھ آثار پانی کے نظر آئے تو وہ دوڑی دوڑی آئی۔ پانی بہنا شروع ہو گیا ہے، چشمے کا پانی بہنا شروع ہو گیا ہے۔ تو وہاں کی زبان کے مطابق ”زم زم“، "رک جا"، "رک جا"۔ وہ کہنا شروع کر لیا، رکاوٹ بنا لی۔ علماء فرماتے ہیں: اگر یہ رکاوٹ اس وقت نہ ڈالتیں تو یہ پانی اتنا زیادہ ہوتا کہ پوری دنیا میں پہنچ جاتا۔ تو اب بھی تو یہ حال ہے کہ زم زم کا پانی کہاں نہیں پہنچا؟ ہر جگہ پہنچتا ہے۔ ہاں لوگ لے جاتے ہیں۔ تھوڑا سا غور کر لیں۔ مکہ مکرمہ اب بھی موجود ہے، ارد گرد کسی علاقے میں پانی موجود نہیں ہے۔ اگر پانی وہاں پر تھا وہ بھی نہر کی صورت میں باہر سے لایا جا رہا تھا، نہر زبیدہ۔ اب بھی اگر پانی آ رہا ہے تو ٹینکروں میں آ رہا ہے۔ دور دور سے ٹینکروں پہ آ رہا ہے۔ سارے حاجیوں کو جو پانی دیا جاتا ہے ہوٹلوں میں وہ ٹینکروں پہ لایا جاتا ہے، آپ لوگ دیکھتے ہیں جو حج پہ گئے ہیں۔ وہاں پانی نہیں ہے۔
لیکن زم زم کا پانی ایسا ہے کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہاں پر ہمارے ساتھی ہیں میرے پیر بھائی ہیں، وہ 35، 40 سال سے وہاں رہتے ہیں وہ انجینئر تھے اسی شعبے پہ کام کر رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حج کے موسم میں اور رمضان شریف میں زم زم کا پانی اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ ہمیں بڑے بڑے موٹر لگا کر اس کو نکالنا ہوتا ہے ورنہ خانہ کعبہ ڈوب جائے گا اس میں۔ اتنا زیادہ پانی اس میں سے نکل آتا ہے۔ اب ذرا غور سے دیکھیں، رمضان شریف کا مہینہ اور حج کا مہینہ یہ قمری مہینہ ہے، یہ شمسی نہیں ہے۔ یہ ایک موسم میں نہیں آتا۔ کبھی گرمی میں، کبھی سردی میں، کبھی بہار میں، کبھی خزاں میں۔ لیکن ہر وقت پانی زیادہ ہو جاتا ہے۔ تو یہ کیا مطلب ہے اس کا؟ بس اللہ پاک حاجیوں کے لیے اور زائرین کے لیے اس کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہ معجزانہ پانی ہے۔ پھر اس کے اندر جو صفات ہیں، اس پہ تفصیل سے میں گفتگو نہیں کر سکتا ورنہ صرف اسی پہ بات ہوگی۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ اسماعیل علیہ السلام اور ہاجرہ بی بی عليها السلام کی قربانی سے زم زم کا پانی ملا۔ اور اللہ پاک نے ہاجرہ بی بی عليها السلام کی وہ دوڑیں اتنی قبول فرمائی حالانکہ وہ پانی کے لیے دوڑی تھیں، کہ اب جتنے بھی حاجی اُدھر جاتے ہیں سب کو دوڑنا ہوتا ہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ دوڑی عورت ہے، لیکن دوڑنا کس پر لازم ہے؟ مردوں پر۔ اور ان میں آپ ﷺ بھی دوڑے ہیں۔ اس کے بعد آنے والے سارے پیغمبر دوڑے ہیں۔ اور صحابہ کرام سارے دوڑے ہیں، اور جتنے اولیاء اللہ وہاں گئے ہیں، سب وہاں پر دوڑے ہیں۔ اب بتا دیں، کیا چیز ہے؟ اگر اللہ پاک کسی چیز کو قبول فرما دے، اس کی بات ہی اور ہے۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہاجرہ بی بی عليها السلام کا ایک عمل... پھر اب خانہ کعبہ کی تعمیر الحمدللہ، ہونی ہے۔ لیکن اس سے پہلے اسماعیل علیہ السلام ابھی بس چلنا پھرنا شروع کر چکے ہیں اور اس وقت بچے بڑے پیارے ہو جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب کی صورت میں حکم آتا ہے ابراہیم علیہ السلام کو کہ بیٹے کو ذبح کرو۔ قربانی کرو۔ ابراہیم علیہ السلام چونکہ پیغمبر تھے اور پیغمبروں کا خواب جو ہوتا ہے وہ وحی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسماعیل علیہ السلام کو لے جا رہے ہیں۔ شیطان ہاجرہ بی بی عليها السلام کے پاس بھی آتا ہے اور اسماعیل علیہ السلام کے پاس بھی آتا ہے۔ ہاجرہ بی بی عليها السلام اس کو دھتکارتی ہیں کہ باپ بھی کوئی اس طرح کر سکتا ہے، جاؤ! اور اسماعیل علیہ السلام کے پاس ۔۔اسماعیل علیہ السلام نے کنکریاں لے کے اس کو مارا۔ پہلی دفعہ جب آیا۔ تو وہ غائب ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد تھوڑا سفر طے کرنے کے بعد پھر آیا، اور یہی بات کی۔ پھر اسماعیل علیہ السلام نے اس کے اوپر کنکریاں پھینکی اور غائب ہو گیا۔ تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا۔ تو اللہ پاک نے یہ پھینکنا ایسا قبول فرما لیا کہ اب ہمارے لیے واجب ہے۔ جو بھی حج پہ جاتا ہے اس کے لیے وہ کنکریاں مارنا (رمی جمار اس کو کہتے ہیں) مارنا واجب ہوتا ہے۔ نہیں مارے گا تو دم دینا پڑے گا۔
اور پھر اسماعیل علیہ السلام سے پوچھ رہے ہیں ابراہیم علیہ السلام، اے بیٹے میں نے آپ کو اس طرح دیکھا خواب میں، آپ کی کیا رائے ہے؟ اب چھوٹا بچہ وہ کیا خواب کی تعبیر جانتا ہوگا؟ لیکن وہ کہتا ہے، ”اے میرے ابو! آپ وہ کر گزریں جو آپ کو حکم ہے، مجھے آپ صابرین میں سے پائیں گے“، سبحان اللہ! اور پھر وصیت کرتے ہیں، ابا جان مجھے اوندھے منہ لٹا دیں، اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لیں، اور تیز چھری سے مجھے ذبح کر دیں، تاکہ اللہ کے حکم میں تاخیر نہ ہو جائے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ چھری چلائی۔ چھری نے ذبح نہیں کیا۔ چھری کو حکم نہیں تھا ذبح کرنے کا اور ابراہیم علیہ السلام حیران تھے کہ چھری تو میں نے بڑی تیز رکھی تھی، کیوں نہیں کر رہی؟ پھر دوبارہ زور سے ذبح کرتے ہیں ۔اس دوران میں جبرائیل علیہ السلام کو اللہ پاک نے حکم دیا، فوراً جنت سے مینڈھا لے کر ابراہیم علیہ السلام کے سامنے ڈالو، اسماعیل علیہ السلام کو Side پہ کر دو۔
یہ جبرائیل علیہ السلام کے وہ تین کاموں میں سے ایک کام ہے جس میں بہت ہی زیادہ Urgency تھی۔ بہت جلدی میں اس کو کرنا تھا۔ تو خیر جبرائیل علیہ السلام نے ایسے ہی کیا۔ اب مینڈھا پڑا ہوا ہے، اب جو ذبح کر دیا تو چل پڑا، ذبح ہو گیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ بس کام ہو گیا۔ آنکھ سے پٹی اتاری، دیکھا تو مینڈھا ذبح ہو چکا ہے، اور اسماعیل علیہ السلام ایک Side پہ محفوظ کھڑے ہیں۔ حیران ہو گئے، یہ کیا ہوا؟ اتنے میں وحی آئی، فرمایا اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا۔ اس سے پتہ چلا کہ بعض دفعہ اللہ پاک قربانی دیکھتے ہیں، لیتے نہیں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کسی میں... مطلب اتنی ہے کہ وہ قربانی دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ تو پھر لیتے نہیں ہیں۔ اور اس کو اسی قربانی کے طور پر قبول فرما لیتے ہیں۔تو اب دیکھ لیں ذرا! ہماری ریاضی کا ایک کلیہ ہے، 'الف" "ب" کے برابر ہے، اور "ب" "ث" کے برابر ہے، تو "الف" "ث" کے برابر ہے۔ قانون ہے ریاضی کا۔ تو ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اسماعیل علیہ السلام کی جو تھی وہ مینڈھے سے بدل گئی، مینڈھے کی قربانی سے۔ اب وہ مینڈھے کی قربانی کو اللہ پاک نے فرمایا، تو نے اپنے خواب کو سچا کر کے دکھایا، یعنی وہ قربانی ہو گئی۔ اب ہم کسی اور جانور کو ذبح کرتے ہیں، یہ اسی طرح ہے جس طرح اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھی۔ تو گویا کہ اس قربانی کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔
اب بعض لوگ جو اس کا پیسوں کے ساتھ تعلق بتاتے ہیں نا، وہ بیچارے بے وقوف ہیں۔ پیسے درمیان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ پیسوں کی کیا بات ہے؟ اس کی مماثلت کس چیز کے ساتھ ہے؟ وہ اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ہے۔ لہٰذا اگر کسی سے قربانی رہ گئی، قربانی اس نے نہیں کی، اور پوری دنیا کے برابر جتنا مال ہے اس کے پاس سارا خیرات کر دے، پھر بھی اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتا۔ بس وہ گئی بات! اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ معاملہ پیسوں کا نہیں ہے، یہ معاملہ تو مماثلت کا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے،پوچھا گیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا یہ تمہارے ابا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ "سُنَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ"۔ تو یہ سنتِ فعلی ہے، ورنہ حکم اس کا واجب کا ہے۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ یہ قربانی قبول ہو گئی۔ اب پوری امت کے اوپر ماشاءاللہ صاحبِ استطاعت کے اوپر قربانی واجب ہے۔ اور حاجیوں پر شکر کی قربانی واجب ہے۔ جو حجِ تمتع کرتے ہیں اور حجِ قِران کرتے ہیں، ان پہ قربانی واجب ہے۔
پھر دیکھیں، سبحان اللہ! وہاں پھر خانہ کعبہ کی تعمیر ہو گئی۔ دونوں نے کی، ماشاءاللہ! ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام۔ اور پھر اس کے بعد حکم ہوا، اب اعلان کر دو حج کے لیے کہ حج کے لیے آؤ۔ ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہیں، یا اللہ! میری آواز کتنی دور جائے گی؟ یہ تو بس۔۔ ارد گرد پہاڑ تھے سارے، کہاں تک جائے گی؟ اللہ پاک نے فرمایا، تیرا کام ہے آواز دینا، پہنچانا میرا کام ہے۔ پھر کیسے پہنچایا؟ ارواح تک پہنچا دیا۔ یہاں تک فرماتے ہیں علمائے کرام: جس روح نے ایک دفعہ لبیک کہا ہے وہ ایک دفعہ حج کرے گا، جس نے نہیں کہا وہ نہیں کرے گا، جس نے دس دفعہ کیا وہ دس دفعہ حج کرے گا۔ بس ظاہر ہے اللہ پاک نے پہنچا دیا۔تو اب حج کے بارے میں عرض کرتا ہوں، دیکھو اب بھی Chance ہے، جو کوشش کرنا کم از کم لازم ہے، جس پر فرض ہو۔ کیونکہ جس پر حج فرض ہوتا ہے حدیث شریف میں آتا ہے، اگر وہ حج کے لیے نہیں جاتا، اور (اس کو) کوئی خاص بیماری یعنی جو جان لیوا ہو، ایسی بیماری یا کوئی ظالم کی رکاوٹ، یا کوئی بہت بڑی ضرورت جس کے بغیر کام نہ ہو سکتا ہو، (درپیش نہ ہوں) تو ایسی صورت میں اگر اس نے حج نہیں کیا تو اللہ کو کوئی پروا نہیں اگر وہ مر گیا، کہ وہ یہودی مرتا ہے یا عیسائی مرتا ہے۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں۔بہت سارے لوگ مالدار ہوتے ہیں لیکن وہ انتظار میں ہوتے ہیں پتہ نہیں جب بوڑھے ہو جائیں گے پھر حج کریں گے۔ خدا کے بندو! حج تو جوانی کی عبادت ہے۔ جا کر دیکھو وہاں جوانوں کے مزے ہوتے ہیں۔ بڑھاپے میں حج تو وہ تو انسان بوجھ بن جاتا ہے دوسروں پر۔ اگر حج کے مزے لینا چاہتے ہو، صحیح حج کرنا چاہتے ہو، جوانی میں کر لو۔ یہ ملائشیا اور انڈونیشیا والے جوانی میں کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ ہم سے زیادہ دور ہیں، ان کے پیسے زیادہ لگتے ہیں لیکن وہ جوانی میں کرتے ہیں۔ تو ہمیں حج جوانی میں کرنا چاہیے اگر کسی پر فرض ہے۔اور انتظار نہیں کریں کیونکہ ایک اور حدیث بھی ہے، اس میں فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ جو لوگ حج فرض ہو، اور کسی وجہ سے (یعنی جو اس کے لیے رکاوٹ نہیں ہے اصل)، ویسے ان کا ایک مزعومہ وہ ہے جس کی وجہ سے وہ رہ جاتے ہیں، تو لوگ حج کر کے واپس آ بھی جائیں گے اور ان کا وہ کام ابھی تک نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذا بعض لوگ بیٹیوں کی شادی کے لیے رکے ہوتے ہیں کہ بیٹی گھر میں بیٹھی ہوتی ہے اور لوگ حج کر کے واپس آ جائیں گے۔ پھر کسی نے اگر کہا کہ میں حج کروں گا تو میرے پیسے۔۔۔ (آج کل (جون، 2022) پیسے زیادہ ہیں نا سات لاکھ یا کچھ اس سے زیادہ ہیں)، ٹھیک ہے، مان لیا۔ غلط ہے لیکن بہرحال حج تو فرض ہے۔ اگر کسی کے پاس سات لاکھ یا اس سے زیادہ کے پیسے ہوں اس پہ تو فرض ہو ہی جائے گا ۔ اس پہ کم والے پہ نہیں ہوگا۔ لیکن جس پہ حج فرض ہے تو جو حج نہیں کرے گا اور اپنے پیسوں کو رکھے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حج اور عمرے کر لیا کرو، سبحان اللہ! یہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بھٹی میل کو دور کرتی ہے، اس طرح یہ فقر اور گناہوں کو دور کرتے ہیں۔ فقیری کو دور کرتے ہیں، مالدار بناتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ماشاءاللہ یہ حج کی برکات!
اس وجہ سے جس نے حج نہیں کیا اور حج اس پہ فرض ہے کم از کم وہ کوشش کر لے، کیونکہ کوشش کرے گا اور نہ کر سکے گا وہ ان شاءاللہ ان میں ہوگا جنہوں نے کر لیا۔ اس دفعہ اگر نہیں کر سکا اور فوت ہو گیا۔ لیکن اگر کوشش ہی نہیں کی، پھر چاہے یہودی مرے، چاہے نصرانی مرے، اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہیں ہوگی۔ تو اس وجہ سے کوشش کرنا چاہیے۔حج جو ہے جس طرح میں نے عرض کیا کہ اس میں اللہ پاک نے فرمایا ہے تین چیزوں کا، تین چیزوں کا منع فرمایا ہے: رفث، فسوق، اور جدال۔ یعنی بے حیائی کی چیزیں، اور گناہوں کی باتیں، اور لڑائی جھگڑے کی چیزیں، ان سے خصوصی طور پر منع کیا ہے۔ اور یہ بات بھی مسلّمہ ہے کہ حج میں ان تین چیزوں کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ عورتیں بھی ہمارے ساتھ حج کر رہی ہوتی ہیں۔ طواف کی جگہ ایک ہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر خدانخواستہ کوئی بے حیائی کرتا ہے تو بہت آسان ہے اس کے لیے عملی لحاظ سے۔ لیکن جب نہیں کرے گا، سبحان اللہ! وہ اس کے لیے ایک مجاہدہ ہوگا۔ اس مجاہدے کی وجہ سے اس کی اصلاح ہوگی۔ یہاں پر تصوف کا ایک فارمولا سامنے آتا ہے کہ جب کوئی کام مشکل ہو، اور اس کو ایک انسان اللہ کے لیے کرے، تو اس سے اس کے نفس کی اصلاح ہوتی ہے۔ چونکہ عام طور پر ایسا انسان نہیں کر سکتا، تو اس کے لیے اگر کوئی جذب کا ماحول بن جائے، یعنی محبت کی وجہ سے، اور اللہ تعالیٰ کے عشق کی وجہ سے، وہ کام پھر آسان ہو جاتا ہے۔تو اللہ پاک نے حج کے موقع پر خانہ کعبہ کو جذب کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ اس کے اندر اتنی کشش ہے، کہ اس کشش کی وجہ سے انسان کی تمام چیزیں دب جاتی ہیں۔ نتیجتاً انسان کو اس چیز پر عمل کرنے کی توفیق ہو جاتی ہے، گویا کہ اصلاح ہو جاتی ہے۔ اور اگر وہاں پر بھی اصلاح نہ ہو تو پھر بہت خطرناک بات ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ حجرِ اسود کے اندر یہ خاصیت اللہ نے رکھی ہے کہ اس کے سامنے جو بھی پھرے گا، جس کیفیت میں بھی پھرے گا، اس پر مہر لگ جائے گی۔ یعنی وہ وہی بن جائے گا۔تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کی حج کے بعد برائیاں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کا خیال نہیں کیا ہوتا۔ پہلے چھپی ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے وہاں بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ جس وقت حجرِ اسود کے سامنے جائے، آدمی استغفار کر لے۔ "رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ مَعَ الْأَبْرَارِ، يَا عَزِيزُ يَا غَفَّارُ، يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ"۔
اس طریقے سے کہتے ہوئے ان کے سامنے سے گزریں، تو ان شاءاللہ اگر اس حالت میں گزرے گا تو ان شاءاللہ وہی حالت اس کے لیے پکی ہو جائے گی۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ یہ تین چیزیں جو ہیں اگرچہ مشکل ہیں کیوں، وجہ کیا ہے؟ فسوق کا بھی، چیزیں بکھری ہوئی ہوتی ہیں، ایک کی چیز دوسرے استعمال کرے، دوسرے کا تیسرا، گناہ ہے۔ بغیر اجازت کے آپ کسی کی چیز استعمال نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر کر رہے ہیں تو گناہ کر رہے ہیں۔ تو جاننا چاہیے کہ وہاں یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ سیکھنا چاہیے۔ اگر آپ کو ضرورت ہے تو کسی سے کہہ دو کہ یہ چیز مجھے چاہیے، اگر اس کے پاس ہوگا تو دے دے گا۔ لیکن یہ والی بات کہ انسان بغیر اجازت کہ وہ چیز لے لے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے، یہ گناہ ہے۔ مثلاً دیکھو میں یہاں پر جوتے نکال دوں، اور کوئی آدمی وضو کے لیے جائے اور بغیر مجھ سے پوچھے وہ جوتے (اٹھالے) اس نے اگرچہ وضو کر لیا، وضو اچھا کام ہے، لیکن گناہ کر لیا، گناہ کر لیا۔ کیونکہ عین اس وقت میں جوتے نہیں ملیں گے، پریشانی ہوگی۔ تو اس کے لیے آپ کچھ اور انتظام کر لیں لیکن یہ نہیں کرنا۔ کسی کی چیز کو بغیر اجازت کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ گناہ ہے۔اس طریقے سے یہ جو "جدال" ہے، وہاں لڑائی جھگڑے کا سامان بھی بہت ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ جرمنی میں جب میں تھا تو میرے نو مسلم بھائی تھے، الفریڈ۔ اس سے میں نے پوچھا، اس نے حج کیا ہوا تھا۔ میں نے کہا، آپ کا حج کا کیا Experience ہے؟ تو اس نے مجھے بڑی عجیب بات بتائی۔ جس شہر میں تھے وہ کالسروئے ہے اس کا نام تھا، اس کی تقریباً دو لاکھ کی آبادی تھی۔ اور اس وقت مکہ مکرمہ کی آبادی بھی دو لاکھ تھی۔ تو اس نے کہا کہ دو لاکھ کی آبادی پر بیس لاکھ بٹھا دو نا یہاں پر، تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں گے۔ لیکن وہاں ہر سال بیس لاکھ ان کے اوپر سوار ہو جاتے ہیں، لیکن وہ کچھ نہیں کہتے۔ وہ برداشت کر لیتے ہیں۔تو مقصد یہ ہے کہ وہاں پر اب جو جگہ جتنی بھی ہیں، ظاہر ہے آپ مکہ اور تو نہیں بنا سکتے نا، مکہ تو اتنا ہی ہے نا۔ تو جتنا بھی ہے اس میں سارے لوگ رہ لیتے ہیں۔ ایک ایک کمرے میں چھ چھ، سات سات، آٹھ آٹھ لوگ اگر رہتے ہیں تو پھر مسائل تو ہوں گے۔ تو لڑائی جھگڑے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن وہاں حوصلہ رکھیں، حوصلہ! آدمی سمجھے کہ بھئی یہ میں تو ٹریننگ کے لیے آیا ہوں۔ میں تو یہاں پر اس چیز کو سیکھنے کے لیے آیا ہوں۔ میں نے اگر لڑائی جھگڑا کر لیا تو میرا حج خراب ہو جائے گا۔ تو میں نے ایسا نہیں کرنا۔ لہٰذا آدمی اپنے آپ کو بچائے رکھے۔
تو فرمایا یہ تین کام جو کرے گا، یہ تین کام جو کرے گا اور حج کر لے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایسا واپس ہوگا حج سے جیسے اس کی ماں نے اسی دن اس کو جنا ہے۔ ایسا اس کو پاک و صاف کر لے گا۔وہاں عرفات، سبحان اللہ! کیا بات ہے! عرفات کا میدان جو ہے نا ایسا ہے کہ ایک دن پہلے آؤ، کچھ بھی نہیں ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ ایک دن پہلے آؤ، کچھ بھی نہیں۔ اور ایک دن بعد آؤ، تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ ایسی حالت ہے۔ اور وہاں پر کیا حالت ہے؟ سبحان اللہ! فرماتے ہیں: شیطان یومِ بدر کے بعد سب سے زیادہ جو ذلیل ہوتا ہے ، رسوا ہوتا ہے، وہ اس عرفات کے دن ہوتا ہے۔ کیونکہ جب دیکھتا ہے کہ اتنے معمولی معمولی باتوں پر اللہ پاک بڑی بڑی مغفرتیں فرماتے ہیں، بڑے بڑے اجر عطا فرماتے ہیں، وہ اپنے سر پہ خاک ڈالتا ہے کہ میرا کیا ہو گیا؟ میں نے ساری محنت کی، ساری رائیگاں چلی گئی۔ وہ اپنے سر پہ خاک ڈالتا ہے۔ تو شیطان رسوا ہوتا ہے۔ یہ عرفات کا میدان۔
مزدلفہ، سبحان اللہ! مزدلفہ بھی ایک میدان ہے۔ لیکن وہاں انسان رات کے لیے آتا ہے۔ وہاں مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچ کر... عرفات میں وقت داخل ہو جاتا ہے، لیکن نماز نہیں پڑھنی۔ نماز کہاں پڑھنی ہے؟ مزدلفہ آ کے پڑھنی ہے۔ حاجی کا وقت مزدلفہ میں داخل ہوتا ہے۔ مزدلفہ سے باہر داخل نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ مزدلفہ میں داخل ہوگا تو پہلے مغرب پڑھے گا پھر اس کے بعد عشاء پڑھے گا۔ اور جو باقی رات ہے آرام بھی کر لے، لیکن آرام کے ساتھ کام بھی کر لے۔ اور کام کیا ہے؟ حاجی کے لیے مزدلفہ کی رات لیلۃ القدر کی طرح ہے۔ حاجی کے لیے جو مزدلفہ کی رات ہے، وہ لیلۃ القدر کی طرح ہے۔ لیلۃ القدر چھپی ہوئی ہے، مزدلفہ ظاہر ہے۔ لہٰذا موقع ہے۔ بھئی کچھ کر لو! کچھ کر لو! تو مزدلفہ کی رات میں اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ آپ ﷺ کی ایک دعا جو عرفات میں قبول نہیں ہوئی تھی وہ مزدلفہ میں قبول ہوئی تھی۔ تو قبولیت کی جگہ ہے۔ تو بہرحال مزدلفہ میں ہے۔
پھر اس کے بعد مزدلفہ سے پھر ماشاءاللہ منیٰ آتے ہیں۔ منیٰ میں کیا ہوتا ہے؟ منیٰ بھی میدان ہے۔ یہ ایسا میدان ہے کہ جہاں پر پکا مکان بنانا منع ہے۔ پکا مکان بنانا منع ہے۔ کیونکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے وقف ہے۔ جو پہلے پہنچ گیا وہ جگہ اس کی ہے۔ یہ نہیں کہ بادشاہ بعد میں پہنچے گا تو اس کی جگہ ہے، نہیں۔ بادشاہ، فقیر سب برابر۔ منیٰ میں، یہ جو میدان ہے، اس پر سب کا حق ہے۔تو وہاں منیٰ کے اندر سبحان اللہ، وہ اس میدان کے اندر بس دو چادروں میں انسان ماشاء اللہ وہاں پہنچتا ہے ابھی اس نے رمی نہیں کی ہوتی اور قربانی نہیں کی ہوتی۔ الحمدللہ، وہی صحابہ والا دور واپس آ جاتا ہے۔ جیسے صحابہ کرام آپ ﷺ کے ساتھ ارد گرد اسی طرح بے سروسامانی میں بیٹھے ہوئے تھے، اس طرح آپ بھی اسی طریقے سے ہیں۔ ماشاءاللہ! تو منیٰ میں الحمدللہ کیا کرنا ہے؟ بھئی نمازیں پڑھنی ہیں۔ دعائیں کرنی ہیں۔ ذکر کرنا ہے۔ اور رمی جمار۔ رمی جمار، یہ دیکھیں، جیسے پہلے میں نے عرض کیا یہ شیطان کو کنکریاں مارنا، یہ اصل میں شیطان کو ذلیل اور رسوا کرنے والی بات ہے۔ "رَغْماً لِلشَّیْطَانِ وَ رِضاً لِلرَّحْمٰنِ"۔ یعنی اللہ کو راضی کرنے کے لیے اور شیطان کو ذلیل کرنے کے لیے یہ پتھر مارے جا رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پتھر، بڑے بڑے پتھر نہیں۔ کیونکہ یہ روحانیت والی مار ہے، جسمانیت والی مار نہیں ہے۔ روحانیت والی مار کے لیے اشارہ چاہیے۔ اشارہ چاہیے۔ تو اشارہ بس کافی ہے، اتنا معمولی سا پتھر، کہ مارو کہ شیطان کے دل پہ لگے گا۔ اور اگر تم نے ساتھ گالی دی، شیطان خوش ہوگا، واہ واہ واہ، اب میرے طریقے پہ چل رہا ہے، دیکھو نا میری بات مان رہا ہے۔ وہ خوش ہو جائے گا۔ گالی نہیں دینی، چپل نہیں مارنے، بڑے بڑے پتھر نہیں مارنے۔ کیونکہ شیطان آپ کے سامنے جسم کے طور پہ نہیں بیٹھا، وہ تو روحانیت کے طور پر ہے۔ لہٰذا اس کو روحانی مار مارو۔ شریعت پہ عمل کرو، یہ اس کو مارنا ہے۔
تو بہرحال یہ وہاں پر رمی جمار، پھر اس کے بعد قربانی ہے۔ پھر اس کے بعد حلق ہے۔ اور پھر ماشاءاللہ جانا ہے دوبارہ طوافِ زیارت کے لیے جانا ہے۔ طوافِ زیارت، سبحان اللہ! کیا بات ہے! یعنی وہ گھر جو اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے، اور اس کی یہ نشانی ہے۔ اب وہاں پر حج کے یہ بڑے اعمال کر کے، وہاں پر زیارت کے لیے جاؤ۔ زیارت کے لیے جاؤ۔ اور وہ طوافِ زیارت کرو۔ اور پھر اس کے بعد عام لوگوں کی طرح رہو۔ جب واپس جاؤ تو اس وقت طوافِ وداع کر لو، اب حج مکمل ہو جائے گا۔
اور اس کے بعد ایک بات ہے جس کے بارے میں عرض کرنا چاہوں گا۔ وہ ہے آپ ﷺ کی قبر شریف کی زیارت۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو حج کرنے کے لیے آیا، اور میرے پاس نہیں آیا، تو اس نے میرے ساتھ جفا کی۔ اس نے میرے ساتھ جفا کی۔ اس کی مثال آپ یوں کہہ دیں، کہ جیسے کسی کا باپ فیصل آباد میں ہے اور وہ انگلینڈ میں کام کر رہا ہے۔ اور کسی سرکاری کام سے وہ لاہور آ گیا۔ اور لاہور میں اپنا کام کر کے واپس چلا گیا اور فیصل آباد اپنے باپ کے ساتھ ملنے نہیں گیا، بتاؤ کیا کیا اس نے؟ کچھ تو ہے نا مسئلہ؟ باپ کے دل پہ کیا گزرے گی؟ تو بس یہی بات ہے کہ جو حج پہ چلا گیا، تو یہ تو ایک سرکاری کام ہے۔ اس کے بعد وہ آپ ﷺ کے ساتھ ملے بغیر چلا گیا، تو آپ ﷺ فرماتے ہیں اس نے میرے ساتھ جفا کی۔ ایک تو یہ بات ہے۔
دوسری بات فرمایا: جو میری قبر کی زیارت کرے گا، اس کے لیے میں شفاعت کروں گا۔ اس کے لیے میں شفاعت کروں گا۔ اب بعض نادان آج کل کہتے ہیں، مسجدِ نبوی کی نیت کرو اور قبر شریف کی نیت نہ کرو۔ خدا کے بندو! کیا بات کر رہے ہو؟ پھر حدیث شریف کو کہاں جگہ دو گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میری قبر کی زیارت نہیں کی... اس میں یہ نہیں فرمایا کہ جس نے مسجدِ نبوی کی زیارت نہیں کی۔ یہ فرمایا ہے! قبر کے بارے میں فرمایا ہے اور پھر صحابی کا عمل ہے! حضرت بلال رضی الله تعالى عنہ شام تشریف لے گئے تھے کیونکہ آپ ﷺ جب دنیا سے تشریف لے گئے پھر اس کے بعد برداشت نہیں تھا۔ تو شام چلے گئے، شام میں شادی کی، اولاد ہو گئی، رہنے لگے۔ خواب میں آپ ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: بلال! ہمارے پاس کیوں نہیں آتے ہو؟ اب صبح اٹھے تو بس ایک تیز رفتار اونٹنی کا انتظام کیا اور دوڑے... دوڑے... دوڑے... دوڑے... دوڑے... دوڑے وہاں پہنچ گئے مدینہ منورہ، اور سیدھے قبر شریف پر گئے۔ اور وہاں پر ماشاءاللہ رو رہے تھے۔ صحابہ کرام کو پتہ چلا، ان کی تو عید ہو گئی۔ ہاں! تو بہرحال نماز کا جب وقت آ گیا تو درخواست کی، حضرت آپ اذان دے دیں۔ظاہر ہے آپ ﷺ کے وقت کے مؤذن تھے۔ انہوں نے کہا، اب مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا، اب نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام بھی جانتے تھے، حسنین کریمین رضوان الله اجمعين کو کہا کہ سفارش کریں کہ اذان دے دیں۔ انہوں نے جب کہا تو انہوں نے کہا :شہزادوں کی بات نہیں ٹالی جاتی۔ شہزادوں کی بات نہیں ٹالی جاتی۔ اور پھر اذان کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ" سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ بے ہوش ہو گئے۔
اور دوسری طرف صحابہ کرام جہاں بھی آواز سن رہے تھے، وہ سارے امڈ آئے کہ یہ تو بلال رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ حتی کہ عورتیں اپنی چھتوں پہ چڑھ گئیں کہ یہ تو بلال کی آواز ہے۔ ایسی حالت تھی۔ بہرحال یہ آپﷺ کی محبت کی باتیں ہیں۔ جن کے دل میں آپ ﷺ کی محبت ہے وہ ان باتوں کو جانتا ہوگا۔ اور جن کے دل میں محبت نہیں ان کو ہم کیا نصیحت کریں؟معاملہ اِن کا دوسرا ہے، لیکن یاد رکھو آپ ﷺ کی محبت عام لوگوں کی محبت کی طرح نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ جس کو میں ان کے والدین سے زیادہ، اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں، اس وقت تک ان کا ایمان کامل نہیں ہے۔ بلکہ یہ "ایمان کامل نہیں ہے" یہ بھی علمائے کرام کا ترجمہ ہے۔ ورنہ اصل میں کیا ہے؟ "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ۔۔۔"۔ تم میں سے کسی کو اس وقت تک ایمان حاصل نہیں ہے۔ براہِ راست ترجمہ اس کا کیا ہے؟ تمہیں ایمان حاصل نہیں ہے۔ لیکن علمائے کرام نے اور احادیث شریفہ اور قرآنی آیات کو سامنے رکھ کر اس کا محتاط ترجمہ کیا ہے کہ وہ کیا ہے؟ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں تمہارے لیے والدین سے زیادہ، اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ، بلکہ ایک روایت کے مطابق اپنے آپ سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔عمر رضی الله عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے آپ بہت محبوب ہیں، لیکن اپنے آپ سے زیادہ نہیں۔ فرمایا: یاد رکھو عمر! جب تک میں تمہیں اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوگا۔ فوراً ان کی اصلاح ہو گئی، کہ تو میری غلط فہمی ہے۔ فرمایا: اب تو مجھے آپ اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ فرمایا: اَلْآنَ يَا عُمَرُ! اب بات بن گئی، اب بات بن گئی۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو آپ ﷺ کی جو محبت کا معاملہ ہے نا، اس پہ دوسری بات نہیں چل سکتی۔ جس کو نہیں ہے اللہ اس کو نصیب فرمائے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اور یقین جانیے کہ ہم لوگوں سے زیادہ کافروں کو اس کا پتہ ہے۔ جو خبیث کافر ہیں، ان کو یہ بات زیادہ پتہ ہے کہ مسلمان کے پاس اگر کوئی چیز ہے تو حضور ﷺ کی محبت ہے۔ اس سے یہ دور کر لو۔ اس وجہ سے وہ اپنے لٹریچر میں بھی، اور اخباروں میں بھی، اور انٹرنیٹ پر بھی، اور پتہ نہیں کہاں کہاں پر یہ بکواسیات کرتا رہتا ہے، کہ حضور ﷺ کی محبت سے مسلمان کٹ جائیں۔تو یہ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کی محبت وہ تو ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے۔ اور ایسا ہونا چاہیے جیسا آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ تو اگر ایسی محبت ہے، تو میں جب مدینہ منورہ جاؤں گا تو کس نیت سے جاؤں گا؟ ہاں! یہ والی بات۔ کیونکہ وہاں پر ایک چیز ہے۔ وہ کیا چیز ہے؟ جو دوسری جگہ پہ نہیں ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہاں میں درود شریف پڑھتا ہوں، سب درود شریف پڑھ لیں۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔
سب کا درود شریف پہنچ گیا جی، پہنچا دیا گیا۔ پہنچا دیا گیا، پہنچا دیا گیا، الحمدللہ۔ فرشتے مقرر ہیں۔ لیکن جو وہاں پر مسجدِ نبوی میں روضۂ اقدس کے پاس درود شریف پڑھتا ہے، اور سلام پڑھتا ہے، وہ آپﷺ خود سنتے ہیں۔ آپ ﷺ خود سنتے ہیں۔ اور آپ ﷺ جواب دیتے ہیں۔
اسی راولپنڈی کی ایک خاتون نے مجھے فون کیا۔ شاہ صاحب میں عمرے کے لیے گئی تھی۔ عورتوں کے لیے ذرا رکاوٹ ہوتی ہے، دور نہیں جا سکتی، آگے تک نہیں آ سکتی۔ تو کہتی ہے میرے دل پہ بڑا بوجھ تھا کہ میں اتنی دور سے آئی ہوں، لیکن مجھے راستہ نہیں مل رہا، میں آگے نہیں جا سکتی۔ کہتی ہے مجھ پہ اونگھ طاری ہو گئی۔ اور آپ ﷺ کی زیارت ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ادھر سے پڑھ لو، میں ادھر سے بھی سن لیتا ہوں! سبحان اللہ! ادھر ہی سے پڑھ لو، ادھر سے بھی سن لیتا ہوں۔ یہ والی بات ہے۔تو آپ ﷺ پہ درود و سلام تو ہم پڑھتے ہی رہتے ہیں، اللہ کرے کہ ہم پڑھتے رہیں۔ بہت بڑا کام ہے۔ لیکن وہاں جب پڑھتے ہیں تو آپ ﷺ خود سنتے ہیں، یہ بڑی بات ہے۔ اسی لیے تو لوگ وہاں جاتے ہیں۔ اسی لیے تو لوگ وہاں جاتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بار بار وہاں لے جائے۔ اگرچہ اس وقت مسائل ہیں، اللہ کرے وہ مسائل دور ہو جائیں، کچھ عمر کی حد بھی لگ گئی، لیکن بہرحال اللہ، اللہ ہے۔ وہ ساری چیزیں ٹھیک کر سکتا ہے۔ ہم تو اللہ پاک سے دعا کریں گے کہ اللہ پاک ان حالات کو درست کر لیں۔ بہت سارے حالات درست ہو گئے، وہ ماشاءاللہ عمرے کے لیے اب لوگ جا سکتے ہیں، اور وہی پابندیاں کورونا وغیرہ کی ختم ہو گئی ہیں۔ اس دفعہ حج پہ بھی لوگ جا رہے ہیں۔ تو جن پہ فرض ہے وہ کوشش کر لیں کہ چلے جائیں۔ اور ہمیں بھی دعاؤں میں وہاں یاد رکھیں۔ہماری طرف سے بھی سلام کہیں۔ سبحان اللہ! ہماری طرف سے بھی سلام کہیں۔ پہلے سے درخواست ہےکہ جو بھی جائے وہ ہماری طرف سے بھی سلام کہے، ان شاءاللہ۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی نصیب فرمائے، آپ کو بھی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ،
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔