اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمِ
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَكْثِرُوا مِنَ الصَّلَوَاتِ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهٗ يَوْمٌ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهٗ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهَا قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ۔ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ كَذَا فِي التَّرْغِيبِ زَادَ السَّخَاوِيُّ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ فَنَبِيُّ اللهِ حَيٌّ يُرْزَقُ وَبَسَطَ فِي التَّخْرِيجِ وَأَخْرَجَ مَعْنَاهُ عَنْ عِدَّةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَقَالَ الْقَارِي وَلَهٗ طُرُقٌ كَثِيرَةٌ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ میرے اوپر جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ ایسا مبارک دن ہے کہ ملائکہ اس میں حاضر ہوتے ہیں اور جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ درود اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے انتقال کے بعد بھی؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں انتقال کے بعد بھی، اللہ جل شانہ نے زمین پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بدنوں کو کھائے۔ بس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے، رزق دیا جاتا ہے۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے انبیاء علیہم السلام کے اجساد کو زمین پر حرام کر دیا۔ پس کوئی فرق نہیں ان کے لیے دونوں حالتوں میں یعنی زندگی اور موت میں۔ اس حدیث پاک میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ درود روحِ مبارک اور بدنِ مبارک دونوں پر پیش ہوتا ہے اور حضور ﷺ کا ارشاد کہ اللہ کا نبی زندہ ہے، رزق دیا جاتا ہے، اس سے مراد حضور ﷺ کی پاک ذات ہو سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے ہر نبی مراد ہے اس لیے کہ حضور ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں کھڑے ہوتے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اور اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ اور یہ حدیث کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں، صحیح ہے اور رزق سے مراد رزقِ معنوی بھی ہو سکتا ہے اس میں بھی کوئی مانع نہیں کہ رزقِ حسی مراد ہو اور وہی ظاہر اور متبادر ہے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث بہت سے طرق سے نقل کی ہے۔ حضرت اوس رضی اللہ تعالی عنہ کے واسطے سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے: تمہارے افضل ترین ایام میں سے جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اسی دن میں نفخہ اولیٰ صور ہوگا، اسی میں صاعقہ دوسرا صور ہو گا پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ آپ تو قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ جل شانہ نے زمین پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بدنوں کو کھائے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے بھی حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ میرے اوپر ہر جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ میری امت کا درود ہر جمعہ کو پیش کیا جاتا ہے اور جو شخص میرے اوپر درود پڑھنے میں سب سے زیادہ ہو گا وہ مجھ سے قیامت کے دن سب سے زیادہ قریب ہو گا۔ یہ مضمون کہ کثرت سے درود پڑھنے والا قیامت کے دن حضور ﷺ سے سب سے زیادہ قریب ہو گا، فصل اول کے نمبر پانچ میں گزر چکا ہے۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے بھی حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ جو شخص بھی جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ پر فوراً پیش ہوتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی حضور ﷺ کے ارشاد نقل کیا ہے کہ میرے اوپر روشن رات یعنی جمعہ کی رات اور روشن دن یعنی جمعہ کے دن میں کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے تو میں تمہارے لیے دعا اور استغفار کرتا ہوں۔
اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خالد بن معدان وغیرہ سے حضور ﷺ کے ارشادات نقل کیے گئے ہیں کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔
سلیمان بن سحیم کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ کی خدمت میں سلام کرتے ہیں کیا آپ کو اس کا پتہ چلتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اور میں ان کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ابراہیم بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے جب حج کیا اور مدینہ پاک حاضری ہوئی اور میں نے قبر اطہر کی طرف بڑھ کر حضور ﷺ کی خدمت میں سلام پیش کیا تو میں نے روضہ اقدس سے سلام کی آواز سنی۔
"جلاء الافہام" میں حافظ ابن قیم سے نقل کیا ہے کہ جمعہ کے دن درود شریف کی زیادہ فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور حضور ﷺ کی ذاتِ اطہر ساری مخلوق کے سردار، اس لیے اس دن کو حضور ﷺ پر درود کے ساتھ ایک ایسی خصوصیت ہے جو اور دنوں کو نہیں ہے اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ حضور ﷺ اپنی والدہ کے پیٹ میں اس دن تشریف لائے تھے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن درود شریف کی فضیلت حضرت ابوہریرہ، حضرت انس، اوس بن اوس، ابو امامہ، ابو درداء اور ابو مسعود، حضرت عمر، ان کے صاحبزادے عبداللہ وغیرہ حضرات صحابہ سے نقل کی گئی ہے جن کی روایات علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمع کی ہیں۔
یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمِ