اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج جمعرات ہے اور جمعہ کی رات کو ہم ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ مؤلفہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ، اس کی تعلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نماز کی بات شروع ہے
خشوع:
تیسری چیز خشوع ہے چنانچہ قرآن پاک میں نمازیوں کی یہ صفت آئی ہے۔
﴿اَلَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ (المؤمنون: 2)
"(وہ مؤمنین کامیاب ہیں) جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرتے ہیں۔"
خشوع کے لغوی معنی یہ ہیں بدن جھکا ہونا، آواز پست ہونا، آنکھیں نیچی ہونا یعنی ہر ادا سے مسکنت عاجزی اور تواضع ظاہر ہونا (لسان العرب) اس لئے نماز خدا کے سامنے اپنی مسکینی بیچارگی اور افتادگی کا اظہار ہے۔ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو گویا نماز کی اصلی غرض فوت ہوگئی۔
اصل میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے:
يَآ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي (30)
(الفجر: 27 تا 30)
فرمایا "اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے وہ تجھ سے راضی ہے، پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"
اب ذرا تھوڑا سا غور کر لیں، بندگی کا لفظ کن چیزوں کے بعد آیا ہے؟ نفسِ مطمئنہ کو خطاب ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نفسِ مطمئنہ ہوگا تو بندگی کر سکے گا۔ دوسری بات "نفسِ مطمئنہ" اس کو کہتے ہیں جب وہ انسان اللہ پاک سے راضی ہوتا ہے۔ اور اللہ بھی اس سے راضی ہوتا ہے جواب میں۔ ٹھیک ہے؟ تو یہ دو باتیں، نفسِ مطمئن کا حصول اور اللہ پاک سے راضی، اور اللہ کا اس سے راضی ہونے کے بعد پھر بندگی کی کیفیت آتی ہے۔ اچھا بندگی کی کیفیت کیا چیز ہے؟ بندگی کہتے ہیں فرمانبرداری کو، دل و جان سے فرمانبرداری کو اس کو "بندگی" کہتے ہیں۔ دل و جان سے فرمانبرداری۔ مطلب یہ ہے کہ ایک شخص تنخواہ پہ ملازم ہے وہ ملازم ہے، وہ بندہ نہیں ہے۔ وہ ہم کہتے ہیں میں اپنے بندے کو بھیج رہا ہوں، یہ جہالت ہے۔ بندے تو سب اللہ کے ہیں، کوئی کسی کا بندہ نہیں۔ کوئی کسی اور کا بندہ نہیں ہے۔ عبد اللہ، اللہ کا بندہ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے پنگوڑے میں کیا کہا تھا؟ میں عبد اللہ ہوں۔ تو اللہ کا بندہ ہونا کا مطلب ہے اللہ کا فرمانبردار ہونا دل و جان سے۔ اب فرمانبرداری میں اللہ جل شانہٗ جس حالت کو چاہتا ہے اس حالت کو بنانا، یہ فرمانبرداری ہے۔ جس میں بات کو ماننا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ جس چیز کو پسند کرتا ہے۔۔۔ مجھے آپ بتائیں سب سے زیادہ جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور سب سے زیادہ جو اللہ پاک کو ناپسند ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں نا، کیونکہ اضداد سے چیزیں پہچانی جاتی ہیں۔ تو جو سب سے زیادہ ناپسند ہے وہ تکبر ہے، وہ تکبر ہے۔ "اَلْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي" "بڑائی میری چادر ہے اور کوئی مجھ سے اس کو لینا چاہے گا تو میں اس کو ریزہ ریزہ کر دوں گا"۔ تو یہ بڑائی سب سے ناپسند ہے اللہ تعالیٰ کو کسی کا بڑائی اختیار کرنا۔ اس کا جو ضد ہے عاجزی، وہ سب سے زیادہ پسند ہے، سمجھ میں آگئی نا بات؟ سب سے زیادہ پسند ہے۔ تو اب یہ جو اللہ کو پسند ہے اور فرمانبرداری میں یہ چیز ہے کہ جو چیز اللہ کو پسند ہے وہی اختیار کرنا، تو کون سی چیز اختیار کرے گا؟ عاجزی اختیار کرے گا۔ اور نماز میں انسان سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے، تو لہٰذا سب سے زیادہ نماز میں یہ چیز ہونی چاہیے۔ اور نماز میں پھر سب سے زیادہ سجدے میں انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، تو سجدے میں یہ بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اس وجہ سے سجدے کی جو تسبیح ہے وہ کیا ہے؟ "سبحان ربی الاعلیٰ"، "سبحان ربی الاعلیٰ"۔ اعلیٰ! اونچی شان والا۔ تو اس کے مقابلے میں ہم کیا ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔ تو سجدے کی حالت میں اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھنا، اللہ کے سامنے گر جانا یہ اللہ کو پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑے بڑے فیصلے کر لیتے ہیں لوگوں کے اپنے سامنے گرنے پر، بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں۔
یہ ہمارے "الغزالی" میں یہ بات آئی ہے، آج کل کی بات بتا رہا ہوں۔ مولانا خیال محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں جو تکوینی بزرگوں میں سے تھے۔ تکوینی بزرگ ان کو کہتے ہیں نا جن کے ذمہ جیسے خضر علیہ السلام کے کام تھے نا، اس قسم کے کام ہوتے ہیں۔ تکوینی بزرگ ان کو کہتے ہیں۔ تو اس نے فرمایا کہ پشاور میں ایسا زلزلہ آنے والا تھا جو کوئٹہ میں آیا تھا 1935ء میں۔ لیکن فلاں بزرگ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا، اس کی برکت سے اللہ نے وہ حکم واپس لے لیا۔ یہ مولانا خیال محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا شام کو۔ رات کے ڈیڑھ بجے غالباً ایک جھٹکا لگا زور کا پشاور میں زلزلے کا، اور فوراً رک گیا۔ Just few seconds۔ جھٹکا بڑے زور کا تھا، لیکن بہت ہی زیادہ کم وقت کے لیے۔ صبح ظاہر ہے سب کو پتہ چل گیا تھا اور اخباروں میں بھی آیا۔ تو کہتے ہیں ڈاکٹر فدا صاحب نے کہا کہ میں نے فلاں صاحب جو اس وقت موجود تھے، بعد میں میں نے کہا کہ حضرت نے یہ بات کی تھی نا؟ حضرت نے یہ بات کی تھی نا؟ کہتے ہیں :ہاں! اس کا مطلب ہے کہ اگر اللہ پاک حکم واپس نہ لیتے تو اس کا دورانیہ صرف بڑھانا تھا۔ جھٹکا تو زبردست تھا۔ اگر یہ دو سیکنڈ کا جھٹکا دس سیکنڈ کا ہو جاتا تو پشاور میں کچھ بھی نہیں تھا۔ اگر یہ دو سیکنڈ کی جگہ یہ دس سیکنڈ ہو جاتا تو پھر پشاور میں کچھ بھی نہیں تھا۔ گیا تھا سارا کچھ۔ اور جیسے بالاکوٹ کا اور یہ کشمیر میں جو زلزلہ آیا تھا، وہ تھا سارا، کیا کیا باتیں ہوئیں اس میں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سجدے میں پڑنا بہت بڑی چیز ہے، اس کی ہم قدر نہیں کرتے۔ اس کی ہم قدر نہیں کرتے۔ ہمیں اس کے برکات کا اندازہ نہیں ہے، لہٰذا تعویذوں کی برکت کا تو اندازہ ہے، وظیفوں کا تو ہے، دم کا ہے، نہیں ہے تو سجدے کا نہیں ہے۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ آپ تعویذوں والوں کے پیچھے بھاگیں گے، آپ دم والوں کے پیچھے بھاگیں گے، آپ بڑے بڑے افسروں کے پیچھے بھاگیں گے، آپ بڑے بڑے چوہدریوں، خانوں کے پیچھے بھاگیں گے، آپ لوگوں کی منتیں سماجتیں کریں گے ہر جگہ سجدے کرنے ہوتے ہیں پھر۔ لیکن اگر وہ ایک سجدہ تجھے آگیا جو اللہ کو کیا جاتا ہے، ان تمام سجدوں سے اللہ تعالیٰ تجھے بچا دے گا اور اپنا بنا دے گا۔ اور اللہ سے لینا نصیب ہو جائے گا۔ نماز میں کھڑے ہو کر ہم کیا کہتے ہیں؟ "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں" اور سجدے میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔ نماز میں سورہ فاتحہ میں اس کا اقرار کرتے ہیں "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" اور سجدے میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔ اب جس کے اقرار کا اظہار جتنا اچھا ہوگا، حقیقت کے قریب ہوگا وہ کام بنا دے گا، سمجھ میں آگئی نا بات؟ اس کا کام بن جائے گا۔ تو اس وجہ سے اس پر محنت کی ضرورت ہے۔ یہ محنت کا میدان ہے۔ اپنی نمازوں کو درست کرنا، اپنے روزوں کو درست کرنا، اپنے حج کو درست کرنا، اپنی زکوۃ کو درست کرنا، اپنے معاملات کو درست کرنا، اپنی معاشرت کو درست کرنا، اپنے اخلاق کو درست کرنا، یہ سب ہمیں کرنے پڑیں گے، اسی سے ہماری آخرت بنتی ہے اور دنیا بھی بنتی ہے۔
دنیا بھی بنتی ہے۔ دنیا کیسے بنتی ہے؟ بھئی دو چیزیں ہیں، کمانا اور خرچ کرنا۔ اسی پر سب کچھ انحصار ہے۔ آپ کماتے کتنے ہیں اور خرچ کتنا کرتے ہیں۔ اگر آپ بہت زیادہ کمائیں اور اس سے زیادہ خرچ کر لیں، کتنا بچا لو گے؟ اگر آپ بہت زیادہ کما لو اور اس سے زیادہ خرچ تو کیا بچے گا؟ ۔میرے سامنے ادھر بیٹھے تھے، یہ نہیں ہے ایزی پیسہ، اس کے ڈائریکٹر جنرل جو تھے میرے بالکل ادھر سامنے بیٹھے تھے۔ مجھ سے کہتے ہیں: شاہ صاحب، میری تنخواہ اور facilities کو ملا کر تقریباً تین لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اور دس تاریخ کے آگے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا، کریڈٹ پر چلتا ہوں۔ سوچیے ذرا، دس تاریخ کے بعد میرے پاس کچھ نہیں ہوتا اور پھر کریڈٹ پر چلتا ہوں، اور تین لاکھ روپے تنخواہ ہے، تصور کر لیں کیا ہوگا؟ یہ کیا چیز ہے؟ الحمدللہ اس کو اللہ پاک نے پھر ہدایت دی اور اس کو چھوڑ دیا۔ مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو بات ہوتی ہے حرام پیسہ جو ہوتا ہے، "مالِ حرام آمد بجائے حرام رفت"۔ "حرام مال جس طریقے سے آتا ہے اسی طریقے سے جاتا ہے" اس میں برکت نہیں ہوتی۔ تو یہ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ ایک ہے آمد اور ایک ہے خرچ۔ اب آمد کو آپ نہیں بڑھا سکتے، خرچ کو آپ کم کر سکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کم خرچ میں آپ کا کام بنا دے، تو بس آپ کا تو کام ہو گیا نا۔ دوسرا شخص ہے اس کا بہت زیادہ آمد ہے، لیکن خرچ اس سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر کسی نے بڑا اچھا مکان بنا لیا، بہت عمدہ مکان بنا لیا، لوگ کہتے ہیں واہ واہ کیا بات ہے! اور کوئی ایسی بیماری لگ گئی کہ اس پر اتنا خرچ کرنا پڑا کہ اس مکان کو بیچنا پڑا۔ کیا کریں گے آپ؟ کیا کریں گے آپ؟ روتے روتے بیچو گے۔ روتے روتے بیچو گے۔ یہ کوئی انہونی بات تو نہیں ہے، ہمارے آنکھوں کے سامنے بھی واقعات ہو رہے ہیں۔ تو اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق بنانا کہ اللہ ہی مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ اور مسائل کو حل کرنے کا سب سے بڑا Source نماز ہے۔ "وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ"۔ جس میں ہم کہتے ہیں "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ"۔ اور پھر اللہ کی طرف سے مدد آتی ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
جاری ہے ان شاءاللہ