عقائدِ اہلِ سنت: رویتِ باری تعالیٰ، بعثتِ انبیاء اور نفس و قلب کا تزکیہ

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 - (حصہ پنجم) - (اشاعتِ اول)، 10 جنوری، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

  • جنت اور جہنم کا ایمان و کفر کے ساتھ تعلق۔
    • آخرت میں رویتِ باری تعالیٰ (دیدارِ الٰہی) کا بے جہت اور بے کیف ہونا (اہل سنت کا عقیدہ)۔
      • انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی اہمیت، ضرورت اور وسیلے کی حقیقت۔
        • انسانی عقل کی محدودیت اور شریعت/وحی پر انحصار کی ضرورت۔
          • نفس کی صفائی (استدراج و جوگ) بمقابلہ قلب کی صفائی (ولایت و کرامت)۔
            • حقوق اللہ، حقوق العباد اور عذابِ قبر کا برحق ہونا۔
              • دین کے معاملے میں "وسعتِ نظری" اور "تنگ نظری" کا حقیقی اسلامی تصور اور فرق

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

                وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

                أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

                بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

                آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ اس کے جملہ برکات، انوارات، فیوضات ہمیں نصیب فرما دے۔

                فرماتے ہیں: جاننا چاہیے کہ بہشت کے داخلے کو ایمان کے ساتھ مربوط کرنا حقیقت میں ایمان کی تعظیم اور تکریم ہے بلکہ "مؤمَن بہ" (جس پر ایمان لایا گیا) کی تعظیم ہے۔ جس پر اس قدر بڑا عظیم الشان اجر مرتب ہوا ہے، اور اسی طرح دوزخ میں داخل ہونے کو کفر کے ساتھ وابستہ کرنے میں کفر کی تحقیر ہے، اور اس ذات کی تعظیم ہے جس کی نسبت یہ کفر وقوع میں آیا اور اس طور پر دائمی عذاب اس پر مترتب ہوا۔ بر خلاف اس بات کے جو بعض مشائخ نے کہی ہے، وہ اس دقیقے سے خالی ہے۔ نیز دوزخ میں داخل ہونا بھی انصاف کے تقاضے پر ہے اور کوئی مثال اس طرح پر جاری نہیں ہے۔ کیونکہ جہنم میں داخل ہونا حقیقت میں کفر کے ساتھ مربوط ہے۔ وَاللّٰہُ سُبْحَانَہّ الْمُلْھِمُ۔ ھٰذَا (اور اللہ سبحانہ ہی الہام فرمانے والا ہے۔ اس کو یاد رکھیں)

                اس میں حضرت نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ بہشت جو ہے، اس میں داخلہ ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ایمان کے ساتھ اس طرح ہے کہ ایمان اگر ہو تو بہشت میں داخلے ممکن ہے۔ کیونکہ جو مسلمان ہو گیا تو پھر اس کے باقی اعمال کو دیکھا جائے گا۔ اگر وہ فوری طور پر اس قابل ہوا کہ اس کو فوری طور پر جنت میں داخل کیا جائے، تو ظاہر ہے یہ بڑے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان میں شامل فرما دے۔ اور اگر جہنم کی سزا بھگتنے کے بعد پھر وہ بعد میں داخل ہوتے ہیں جو ان کے لیے حکم ہے۔ یہ بھی، کفار کے مقابلے میں بہت بڑی بات ہے کیونکہ کفار ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلیں گے۔ اور جو مسلمان ہیں وہ اگر دوزخ چلے بھی جائیں گے تو جتنے عرصے کے لیے ان کے لیے عذاب مقرر ہوا ہے، اتنا عذاب جھیلنے کے بعد پھر وہ بالآخر جنت میں پہنچ جائیں گے۔

                عقیدہ نمبر 11:

                اور حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ کو مومنین آخرت میں بے جہت، بے کیف اور بے شبہ و بے مثال جنت میں دیکھیں گے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس میں اہل سنت کے علاوہ تمام اہل ملت اور غیر اہل ملت سب اس کے منکر ہیں اور بے جہت و بے کیف رویت کو جائز نہیں سمجھتے۔ حتیٰ کہ شیخ محیی الدین ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ بھی آخرت کی رویت کو تجلّی صوری کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس تجلی صوری کے علاوہ کچھ تجویز نہیں کرتے۔ ایک روز ہمارے حضرت (خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ) شیخ سے نقل کرتے تھے کہ اگر معتزلہ رویت کو تنزیہ کے مرتبے میں مقید نہ کرتے اور تشبیہ کے بھی قائل ہو جاتے اور اسی رویت کو تجلی (صوری) سمجھ لیتے تو ہرگز رویت کا انکار نہ کرتے اور محال نہ سمجھتے۔ یعنی ان کا انکار بے جہتی اور بے کیفی کی وجہ سے ہے جو مرتبۂ تنزیہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ بخلاف اس تجلی کے جس میں جہت اور کیف ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

                یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ آخرت کی رویت کو تجلی صوری کی طرح بیان کرنا فی الحقیقت خاص رویت کا انکار کرنا ہے کیونکہ وہ تجلی صوری اگرچہ دنیاوی تجلیات صوریہ سے مختلف ہے لیکن حق تعالیٰ کی رویت نہیں ہے۔

                یَرَاہُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِغَیْرِ کَیْفٍ

                وَ إِدْرَاکٍ وَّ ضَرْبٍ مِّنْ مِّثَالٍ

                جنتی کو دیدِ حق کی ہو گی سیر

                کیف و ادراک اور مثالوں کے بغیر

                یہ جو رویتِ باری تعالیٰ ہے، اس کا جو عقیدہ ہے، یہ ہمارے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ اور اس میں ہم لوگ یہ مانتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کو قیامت میں بالکل جس طرح ہم باقی چیزوں کو دیکھتے ہیں، تو اللہ جل شانہ کا دیدار بھی ہوگا۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ دیدار بے جہت ہوگا۔ اور بے کیف ہوگا۔ کیسے ہوگا؟ یہ یہاں سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہمارے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں۔ نہ ہمارے پاس وہ دیکھنے کا نظام ہے۔ وہ خصوصی طور پر اس وقت عطا کیا جائے گا اہل جنت کو، تو وہ اللہ پاک کا دیدار اس طریقے سے کریں گے۔ جیسے ہم بہت ساری چیزوں کو نہیں دیکھتے، لیکن جس وقت وہ عینک لگا دی جاتی ہے تو ہم اس کو دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ پہلے ہم اس کو دیکھتے ہیں لیکن ہمیں نظر نہیں آتا۔ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ وہاں پر ہمیں ایسی دیکھنے کی قوت عطا فرمائیں گے۔ اور اس طریقے سے اللہ پاک اس کے اسباب فراہم فرمائیں گے کہ جس کے ذریعے سے اللہ پاک کا دیدار ممکن ہو جائے گا۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ اللہ پاک چونکہ وراء الورا ہے، جہت سے اور کیف سے، لہٰذا وہ وہ دیدار جو ہوگا، بے جہت ہوگا اور بے کیف ہوگا۔

                اس میں حضرت فرماتے ہیں کہ شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اس کو تجلی صوری قرار دیتے ہیں۔ تجلی تو تنزل کو کہتے ہیں نا ۔ تنزل سے مراد یہ ہے کہ اصل تو نہیں ہے، وہ اس کی ایک صورت ہے۔ تو اس کے لیے فرماتے ہیں کہ نہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ تنزیہہ اس معنی میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جیسے تم چاند کو دیکھتے ہو، اور چاند کے دیکھنے میں کوئی دوسرا مزاحم نہیں ہوتا، کوئی دوسرا رکاوٹ نہیں بنتا، تو اسی طریقے سے اللہ پاک کے دیدار میں بھی کوئی اور رکاوٹ نہیں بنے گا، اور اللہ پاک کو ہم دیکھ سکیں گے۔ تو چونکہ یہ فرمایا گیا ہے، تو پھر ہمیں آپ ﷺ کی باتوں پر ایسے ہی یقین کرنا چاہیے۔

                عقیدہ نمبر 12:

                انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی بعثت عالم (تمام جہان) کے لئے سرا سر رحمت ہے، اگر ان بزرگواروں کے وجود کا وسیلہ نہ ہوتا تو ہم جیسے گمراہوں کو ذات و صفات واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی معرفت کی طرف کون ہدایت فرماتا؟ اور ہمارے مولا جل شانہٗ کی مرضیات و نا مرضیات والی چیزوں میں کون تمیز کراتا؟ اور ہماری ناقص عقلیں ان (بزرگواروں) کے نور دعوت کی تائید کے بغیر اس کے سمجھنے سے معزول و بے کار ہیں اور ہمارے افہامِ نا تمام ان بزرگواروں کی تقلید کے بغیر اس معاملے میں عاجز و بے بس ہیں۔ بے شک عقل اگرچہ ایک حجت (دلیل) ہے لیکن یہ ایک نا تمام حجت ہے جو مرتبۂ بلوغ تک نہیں پہنچی ہے۔ "حجتِ بالغہ" (دلیلِ کامل) انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی بعثت ہے جس پر آخرت کا دائمی عذاب و ثواب وابستہ ہے۔

                انبیاء علیہم السلام کی جو بعثت پاک ہے، وہ اصل میں ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے، اور رحمت ہے۔ چونکہ اللہ جل شانہ کی ذات وراء الورا ہے۔ تو اگر اس سے لینے کے لیے کوئی وسیلہ ہمارے پاس نہ ہو، تو ہم اس چیز کو حاصل ہی نہیں کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے چونکہ ایسی چیز جو کسی نے کبھی دیکھی نہ ہو، کبھی سنی نہ ہو، تو اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ وہ تو عقل کے ساتھ نہیں انسان معلوم کر سکتا۔ عقل کے ساتھ تو ان چیزوں کو معلوم کیا جا سکتا ہے جس کے لیے کوئی بنیاد موجود ہو۔ تو یہاں تو کسی طرح سے کوئی بنیاد ہمارے پاس تھی ہی نہیں۔ یعنی جائز و ناجائز ہی کو دیکھو۔ اب شادی جو ہے، یہ بھی وہی عمل ہے جو دوسری صورت میں زنا ہوتی ہے۔ اب وہ زنا ہے، وہ حرام ہے اور یہ حلال ہے اور یہ اس پر ثواب ہے۔ اب اس کا فیصلہ کون کرے؟ یہ تو انسان کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ تو یہ ہر چیز کے بارے میں جو چیز بتائی گئی ہے، وہ اللہ پاک کی طرف سے آئی ہے۔ لہٰذا انبیاء علیہم السلام کی باتوں کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف لیتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے بارے میں تو باقاعدہ قرآن پاک میں ہے کہ نہیں فرماتے آپ ﷺ کچھ، مگر وہ جو آپ ﷺ کو وحی کی جاتی ہے۔ تو آپ ﷺ کی ہر چیز کو تو اپنی طرف لیتے ہیں: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللهَ رَمَى۔ تو اس وجہ سے آپ ﷺ جو کچھ لے آئے ہیں، اللہ کی طرف سے، وہ ہم لوگ ویسے حاصل کر ہی نہیں سکتے تھے۔ یہ ناممکن تھا۔ تو جو کچھ ہمیں ملا ہے، آپ ﷺ ہی کے ذریعے سے ملا ہے اور ہمارے لیے وسیلہ ہیں آپ ﷺ۔

                لہٰذا کوئی وسیلے کا انکار کر لے تو کر لے، اپنی مرضی ہے۔ لیکن بہرحال آپ ﷺ کے وسیلے کے بغیر تم کچھ بھی نہیں ہو۔ ہاں، ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ اور آپ حضرات جانتے ہیں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، یہ تو بہت ہی زیادہ بڑے موحدین میں سے تھے، یعنی توحید بنیاد ہے۔ تو یہ حضرت بیان فرماتے ہیں۔ اور باقاعدہ آیتِ نور میں جو اس کے بارے میں مکتوبات شریفہ میں آیا ہے، اس میں حضرت نے فرمایا ہے کہ یہ جو مثال دی گئی ہے یہ جو مثال دی گئی ہے کہ جیسے طاق ہو، طاق کے اندر قندیل ہو، اس کے اندر چراغ ہو ہاں جی فرمایا یہ جو مثال دی گئی ہے، اسی لیے دی گئی ہے کہ لوگوں کو وسیلوں کا پتہ چل جائے، واسطوں کا پتہ چل جائے۔ واسطوں کا پتہ چل جائے۔ ورنہ پھر واسطوں کی اہمیت کا پتہ نہیں چلے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا جو ہمارے پاس نظام ہے، اس کے اللہ پاک نے خود ہی وسیلے مقرر کر دیے ہیں۔ ہاں، خود ہی وسیلے مقرر کر دیے۔ مانگنے والی بات میں نا، کوئی مسئلہ نہیں، اس میں اس کے لیے وہ اللہ پاک سے مانگو: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ لیکن یہ بات ہے جیسے علم ہے۔ علم کے لیے تو وسیلہ ہے۔

                ایک دفعہ ایسا ہوا تھا ہمارے ایک ساتھی عرب ساتھی ہیں، ماشاءاللہ آتے ہیں، ابھی کچھ دن پہلے بھی آئے تھے۔ تو پہلی دفعہ جب ہماری ملاقات ہوئی، تقریباً گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ ڈسکشن ان کے ساتھ ہوئی۔ تو ان کا تصوف کے بارے میں، سبحان اللہ، بہت بہت ماشاءاللہ اس کا علم تھا۔ کئی کتابیں ایسی پڑھی تھیں جو میں نے نہیں پڑھیں۔ اور میرا بس مطالعہ تو ویسے کم ہی ہے۔ لیکن بہرحال وہ یہ ہے کہ وہ تو اس نے تو بہت زیادہ پڑھی تھیں۔ تو ایک عام چیز میں پھنس گئے۔ وہ دیکھو نا، یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کھولتے ہیں۔ تو مجھے کہا کہ میں اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کو نہیں سمجھنا چاہتا۔ یعنی درمیان میں ہمارے کوئی ہو۔ اب یہ بظاہر بڑی اونچی بات ہے۔ لیکن حقیقت کے خلاف ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: نہیں، ایک کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ ﷺ، آپ ﷺ کے بغیر آپ اللہ تعالیٰ سے کیسے لیں گے؟ مجھے بتاؤ ذرا، جواب دو پھر۔ تو فوراً کہا: جی، یہ تو بات آپ کی ٹھیک ہے۔ یہ تو بات آپ کی ٹھیک ہے۔ مان گئے۔ پھر میں نے کہا: بھئی، آپ ﷺ تک بھی پہنچنے کے لیے آپ کو کچھ اوروں کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں: وہ کیسے؟ میں نے کہا: صحابہ کرام کو بغیر صحابہ کرام کے آپ ﷺ تک آپ کیسے پہنچیں گے؟ کہتے ہیں: یہ بھی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا: صحابہ کرام تک پہنچنے کے لیے بھی آپ کو کچھ اور لوگوں کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں: مثلاً؟ وہ کیسے؟ میں نے کہا: فقہاء اور محدثین۔ ظاہر ہے کہ فقہاء اور محدثین کے بغیر تو آپ صحابہ کی بات کو سمجھیں گے ہی نہیں۔ کہتے ہیں ہاں، یہ بات بھی صحیح ہے۔ میں نے کہا: عمل کرنے کے لیے بھی کچھ اور لوگوں کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں: وہ کیسے؟ میں نے کہا: صوفیاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ کہتے ہیں: ہاں، ٹھیک ہے۔ میں نے کہا: اس میں شیخ جو ہوتا ہے، وہ اصل میں ان تمام کا نچوڑ ہوتا ہے۔ تو لہٰذا شیخ کے ذریعے سے آپ، آپ ﷺ تک پہنچیں گے، آپ ﷺ کے ذریعے سے آپ اللہ تعالیٰ تک یہ یہ بات ہے۔ اس پر چپ ہو گئے، کچھ کہا نہیں۔ لیکن ماشاءاللہ کچھ عرصے کے بعد آ گئے اور یہاں پر بیعت بھی ہو گئے۔ ذکر بھی لے لیا، اب تو ماشاءاللہ آیا کرتے ہیں۔ دیکھو نا یہ چیز ہوتی ہے۔ یعنی اب یہ چیزیں کھلی ہوئی باتیں تھیں، کوئی چھپی ہوئی باتیں تو نہیں تھیں۔ صرف لنک کرنے کی بات ہے، بس تھوڑا سا غور کرنے کی بات ہے، لنک کرنے کی بات ہے۔ وہ ہم لوگ بہت ساری چیزوں کو درمیان میں گول کر لیتے ہیں۔ ہم اپنی سوچ سے نکال لیتے ہیں، اس وجہ سے جو ہے نا، اور بظاہر وہ بات اتنی اونچی ہمیں نظر آتی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تو بہت بڑے موحد ہیں۔ بھئی توحید کس نے سکھایا ہمیں؟ آپ ﷺ نے سکھایا ہے۔ اور آپ ﷺ سے ہم نے صحابہ کے ذریعے سے لیا ہے۔ "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"، آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"۔ دونوں باتیں، یعنی میں جس پر ہوں، جس پر میرے صحابہ ہیں۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ واسطے تو رکھنے پڑیں گے، ورنہ پھر تو ہم حق تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ حق تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ بس یہ والی بات ہے، تو حق تک پہنچنے کے لیے ان واسطوں کو لینا پڑتا ہے۔

                سوال:

                جب آخرت کا دائمی عذاب بعثت پر موقوف ہے تو پھر بعثت کو "رحمتِ عالمیان" کہنے کا کیا معنی ہو گا؟

                جواب:

                بعثت (انبیاء علیہم السلام) عین رحمت ہے کیونکہ واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی ذات و صفات کی معرفت کا سبب ہے جس میں دنیا و آخرت کی سعادتیں شامل ہیں۔ بعثت (انبیاء علیہم السلام) کی دولت کی وجہ سے معلوم ہو گیا کہ فلاں چیز حق تعالیٰ کی بارگاہِ قدس کے مناسب ہے اور فلاں نا مناسب۔ کیونکہ ہماری لنگڑی اور اندھی عقل امکان و حدوث کے داغ سے داغ دار ہے، وہ کیا سمجھے کہ اس حضرتِ وجوب کے لئے جس کے واسطے قدم لازم ہے، اس کے اسماء و صفات اور افعال میں سے کون سے مناسب ہیں اور کون سے نا مناسب تاکہ ان مناسب (اسماء و صفات) کا اطلاق کیا جائے اور نا مناسب سے پرہیز کیا جائے۔ بلکہ بسا اوقات (ہماری اندھی عقل) اپنے نقص کی وجہ سے کمال کو نقص جانتی ہے اور نقص کو کمال سمجھنے لگتی ہے۔ فقیر کے نزدیک یہ (مناسب و نا مناسب کا) امتیاز تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد بخت ہے جو نا مناسب امور کو اس تعالیٰ کی پاک بارگاہ کی طرف منسوب کر دے اور نا شائستہ چیزوں کو حضرتِ حق سبحانہٗ و تعالیٰ کے ساتھ نسبت دے۔ یہ بعثتِ (انبیاء) ہی کا کار نامہ ہے جس نے حق کو باطل سے جدا کر دیا۔ بعثت ہی کی وجہ سے غیر مستحقِ عبادت اور مستحقِ عبادت (حق جل و علا) کے درمیان تمیز قائم کی۔ یہ بعثت ہی ہے کہ جس کے ذریعے حق جل و علا کے راستے کی طرف دعوت دی جاتی ہے جو بندوں کو مولیٰ جل سلطانہٗ کے قرب اور وصل کی سعادت تک پہنچاتی ہے، اور بعثت ہی کے وسیلے سے مولیٰ جل شانہٗ کی مرضیات کی اطلاع میسر ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا۔ بعثت ہی کے طفیل اس تعالیٰ کی ملک میں تصرف کے جواز و عدمِ جواز کی تمیز حاصل ہوتی ہے۔ بعثت کے فوائد کی مثالیں بکثرت ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ انبیاء کی بعثت سراپا رحمت ہے۔ جو شخص اس نفسِ امارہ کا مطیع ہو گیا اور شیطان لعین کے حکم سے بعثت کا انکار کرتا ہے اور بعثت کے تقاضوں کے مطابق عمل نہیں کرتا تو اس میں بعثت کا کیا گناہ اور بعثت کس طرح رحمت نہ ہو گی؟


                مطلب یہ جو آپ ﷺ کی بعثت ہے اور تمام انبیاء کرام کی جو بعثت ہے، اصل میں اللہ پاک نے اس نظام کو قائم کیا ہے ہدایت کے لیے۔ اسی وجہ سے ہمیں سورۃ فاتحہ کے اندر بالکل اس کا ابتدا ہی میں تعارف کرایا گیا۔ ابتدا ہی میں۔ دیکھو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے بعد فوراً ہے نا؟ بالکل فوراً۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّينَ۔ اب دیکھو، اللہ پاک سے انتہائی درجے کی توحید یعنی انتہائی درجے کی توحید کا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لیکن فوراً ہی جو اللہ پاک نے ہمارے لیے نمونے بنائے ہیں، نمونے کن کو بنایا؟ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کو بنایا۔ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کون سے ہیں؟ انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ نمونے کے طور پر اللہ پاک نے ہمارے سامنے پیش کر دیا کہ ان کے طریقے پہ چلنا ہے۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ جو باقاعدہ جان بوجھ کر انکار کرنے والے ہیں۔ وہ ہیں مَغْضُوْبُٗ عَلَيْهِمْ اور وَلَا الضَّآلِّينَ۔ وہ جو ناسمجھی کے ساتھ انکار کرنے والے ہیں، گمراہی میں پڑ گئے۔ اب ہمیں تینوں کا باقاعدہ، یعنی تین قسم کے رجال کا تعارف کرایا گیا۔ سورۃ فاتحہ ہی میں۔ فاتحہ کا مطلب کیا ہے؟ جس سے شروع ہوتا ہے، گویا کہ دروازہ کھلتا ہے اس کے ذریعے سے۔ تو اس میں قرآن کا جو دروازہ ہے، وہ سورۃ فاتحہ ہے۔ اور سورۃ فاتحہ ہی میں ہمیں بتایا گیا کہ ہدایت کیا ہے۔ ہدایت کا مطلب کیا ہے۔ بغیر ان نمونوں کے، ہم ہدایت کو پہچان ہی نہیں سکتے کہ ہدایت ہے کیا؟ تو اس وجہ سے بعثتِ پاک، اس کو اللہ کی حکمت کے مطابق اور رحمت کا ذریعہ سمجھنا ہے یعنی آپ ﷺ کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ نہیں بھیجا ہم نے تمہیں بھیجا کا مطلب کیا ہے؟ بعثت ہے نا؟ نہیں بھیجا ہم نے إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ، تجھے مگر رحمت اللعالمین بنا کر۔ تو گویا کہ آپ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں۔ اور یہی رحمت سب سے بڑی ہے کہ اللہ پاک کی معرفت حاصل ہو جائے۔ اور اللہ پاک کے ساتھ ہمارا تعلق ہو جائے۔ یہی سب سے بڑی رحمت ہے۔ اگر یہ کسی کو حاصل ہو گیا، تو باقی تمام رحمتیں اس کے ساتھ شامل ہیں۔

                سوال:

                ہر چند عقل اپنی ذات کی حد تک احکام الٰہی جل شانہٗ کی بجا آوری میں ناقص و نا تمام ہے لیکن ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ تصفیہ اور تزکیہ حاصل ہونے کے بعد عقل کو مرتبۂ وجوب تعالیٰ و تقدس کے ساتھ ایک بے تکیف مناسبت اور اتصال پیدا ہو جائے کہ جس مناسبت اور اتصال کے سبب وہ احکام کو وہاں سے اخذ کر لے اور اس کو اس بعثت کی جو فرشتے کے واسطے سے ہے کوئی حاجت نہ رہے۔

                یہ سوال کیا ہے۔

                جواب:

                اگرچہ عقل یہ مناسبت اور اتصال پیدا کر لے لیکن وہ تعلق جو اس کا جسمانی بدن کے ساتھ ہے وہ بالکل ختم نہیں ہوتا اور کامل طور پر علیحدگی حاصل نہیں ہوتی، لہذا قوتِ واہمہ ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے، اور قوتِ متخیلہ ہرگز اس کا خیال نہیں چھوڑتی اور قوت غضبیہ و شہویہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے اور حرص و لالچ کے رذائل ہر وقت اس کے ہم نشین رہتے ہیں۔ سہو و نسیان جو نوعِ انسانی کے لوازمات میں سے ہیں، اس کی عقل سے مکمل طور پر جدا نہیں ہوتے، اور غلطی و خطا جو اس جہان کا خاصہ ہیں، اس سے جدا نہیں ہوتے۔ لہذا عقل اعتماد کے لائق نہیں ہے اور اس سے ماخوذ احکام وہم اور تصرفِ خیال کے غلبے سے محفوظ نہیں رہتے اور نسیان و خطا کے گمان کی آمیزش سے محفوظ نہیں رہتے۔ بر خلاف فرشتے کے کہ وہ ان اوصاف سے پاک اور ان رذائل سے مبرا ہے تو لازمًا وہ اعتماد کے قابل ہے اور اس سے ماخوذ احکام وہم و خیال کی آمیزش اور نسیان و خطا کے گمان سے محفوظ ہیں۔

                اور بعض اوقات وہ علوم جو تلقئ روحانی (القائے روحانی) سے اخذ کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے متعلق تبلیغ کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قویٰ و حواس کے ساتھ بعض مقدمات مسلمہ غیر صادقہ جو وہم و خیال یا کسی اور ذریعے سے حاصل ہوئے ہیں، بے اختیار ان علوم کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہو جاتے ہیں کہ اس وقت ہرگز تمیز ممکن نہیں رہتی، اور دوسرے وقت میں ایسا ہوتا ہے کہ اس تمیز کا علم دے دیا جاتا ہے اور کبھی نہیں دیا جاتا۔ لہذا لازمی طور پر وہ علوم ان مقدمات کے مل جانے کی وجہ سے کذب کی ہیئت پیدا کر لیتے ہیں اور اعتماد کے قابل نہیں رہتے۔ یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تصفیہ اور تزکیہ کا حاصل ہونا "اعمالِ صالحہ" کے بجا لانے پر موقوف ہے جو "مرضیات مولیٰ سبحانہٗ" ہیں اور یہ معنی بعثت (انبیاء) پر وابستہ ہیں جیسا کہ بیان ہو چکا۔

                بلکہ میں اس کے بارے میں عرض کروں کہ حضرت ہی کی تعلیمات کی برکت سے جو چیز بالکل فوری طور پر ذہن میں آسانی کے ساتھ آتی ہے کہ ہمارے جو تین چیزیں ہیں، یعنی قلب، نفس اور عقل۔ اور سیر الی اللہ کا جو مرتبہ کسی کو جب حاصل ہوتا ہے، یعنی نفس بھی، نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ بن گیا۔ اور قلب، قلبِ سلیم بن گیا۔ اور عقل، عقلِ فہیم بن گیا۔ عقلِ فہیم بن گیا۔ تو عقلِ فہیم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ صحیح بات کو پہچان لیتا ہے۔ تو صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا نا؟ صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا۔ ورنہ کوئی کرے گا ہی نہیں تو خود اپنی طرف سے کیسے لائے گا؟ کیونکہ عقل تو بذاتِ خود ایک سمجھ لیں ایک Software ہے۔ اس کے اندر جو چیز آپ دیتے ہیں اس سے اس کا Output نکلتا ہے۔ تو اس کے سامنے جب وہ کوئی چیز آئے گی تو اب یہ دیکھیں جس وقت یہ حاصل ہو جائے۔ حضرت نے جو فرمایا ہے غیر ضروری نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوال جنہوں نے کیا ہے، وہ ان سسٹم کو مانتے ہی نہیں ہیں۔جن کو میں بیان کر رہا ہوں کیونکہ یہ تو ہم لوگ حضرت ہی کی باتوں سے ہم آپ لوگوں کو سمجھا چکے ہیں کہ اس قسم کا قلب اور روح اور سر اور یہ تمام چیزیں جو آپ کو بتا رہے ہیں، وہ لوگ تو اس کو مانیں گے ہی نہیں۔ لہٰذا ان کو تو ہم اس قسم کے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن چونکہ ہم لوگ Already اس کو چیز کو سمجھتے ہیں، لہٰذا اس وجہ سے میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لیے کوئی مسئلہ اس لیے نہیں ہے، کہ عقل تب کام کرتی ہے جب اس کے ساتھ ایمانی اخبارات مل جاتے ہیں۔ یعنی سر بن جائے۔ ملائکہ سے تعلق رکھے۔ تو ملائکہ کے ساتھ میں جو تعلق رکھتا ہوں، وہ ظنی ہے۔ اگر مجھے سر کا مرتبہ حاصل ہو بھی چکا ہو، تو ہے تو ظن۔ الہام ہے، کشف ہے۔ ٹھیک ہے نا، ظنی ہے نا۔ لیکن وہ اس کے مقابلے میں جو قرآن ہے اور حدیث ہے، وہ جو قطعی ہے۔ تو اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ بلکہ ہمارے لیے تو حکم یہ ہے کہ جب کبھی کسی کا الہام ہو، یا کشف ہو، وہ اس کے اوپر، ان دو گواہوں پہ پیش کر لے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ یعنی دو گواہوں پہ پیش کر لے۔ اگر اس کے مطابق ہے، ٹھیک ہے، اور اس کے مطابق نہیں، تو رد ہے۔ یہی بات ہے نا؟ آپ کو پتہ ہے جب کبھی جب کبھی Kit آتی ہے Testing کا سسٹم جو ہوتا ہے، کیمیکل تو اس کے ساتھ ایک وہ بھی آتے ہیں نا Comparison کے لیے، ایک Standard۔ اس کے ساتھ اس کو Compare کرتے ہیں۔ کہ اپ کا جو رزلٹ ہے، پہلے اس کے مطابق Comparison ہونا چاہیے، اپ کو رزلٹ یہ صحیح دے گا۔ تو اس وجہ سے ہم پہلے اپنے عقل کو ٹیسٹ کرتے ہیں کہ آیا وہ ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد ہم اس کی باتیں مانیں گے۔ جب تک وہ چیز نہیں ہے، تب تک تو اس کے مطابق Qualify کریں گے ہی نہیں۔ ہماری بات Qualify نہیں کرے گی۔ تو اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ ہماری جو عقل کی بات ہے، وہ تو وہ تو ظنی ہے۔ چاہے وہ کیسے ہی مطلب صحیح کیوں نہ ہو۔ صحیح ہوگا تو اس کے مطابق ہو جائے گی۔ قطعی کے مطابق ہو جائے گی نا۔ لیکن قطعی ہوگا، تو پھر پتا چلے گا نا کہ قطعی کے مطابق ہو گیا۔ تو وہ قطعی جو ہے، وہ کہاں سے لایا؟ کہاں سے آیا؟ وہ ظاہر ہے فرشتے کے ذریعے سے آیا ہے۔ تو جب تک ہمارے پاس وہ فرشتے والا نظام نہیں ہو، اس وقت تک ہمارے پاس کوئی ریفرنس نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے ایک ریفرنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

                میں اس کو اگر آج کل کے زمانے کے مطابق ڈسکس کرنا چاہوں حضرت کی بات کو، تو میں یہی کہوں گا کہ جو ریفرنس ہوتا ہے جیسے فیکٹری ہوتی ہے نا، فیکٹری۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہوتا ہے، اس کے ساتھ Comparison کرتے ہیں۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہے، اگر وہ نہیں ہو تو آپ پھر بے بس ہیں۔ پھر آپ ریفرنس پھر آپ اس کو نہیں کر سکتے۔ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں چونکہ آپ کے پاس اس کا ریفرنس نہیں ہوتا، تو وہ Useless ہو جاتا ہے۔ اپ اس کو نہیں استعمال کر سکتے۔ تو اس وجہ سے جو فیکٹری کے جو ریفرنس ہے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے جو ریفرنس بھیجا ہے، اللہ پاک نے دو ریفرنس بھیجے ہیں۔ ایک بھیجا ہے ٹیکسٹ، "قرآن"۔ اور ایک ریفرنس بھیجا ہے "آپ ﷺ" یعنی ساتھ اس کا بتانے والا۔

                نبی اور جو کتاب ہے۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ نبی اگر نہیں ہو، کتاب کون سمجھائے گا؟ کتاب نہیں ہو تو اصول آپ کے سامنے کیسے آئیں گے؟ تو یہی بات ہے کہ اصول کا وہ جس کو ہم کہہ سکتے ہیں Manual جس کو ہم کہہ سکتے ہیں۔ Manual بھی بھیج دیا اور ساتھ ساتھ اس کی Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا۔ اب Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا، Manual بھی بھیج دیا، اب باقی اس کے بعد جتنا کام ہم کریں گے تو اس کے مطابق کریں گے تو، جب تک اس کے مطابق ہم کریں گے تو کام صحیح ہوگا۔بلکہ میں اس کے بارے میں عرض کروں کہ حضرت ہی کی تعلیمات کی برکت سے جو چیز بالکل فوری طور پر ذہن میں آسانی کے ساتھ آتی ہے کہ ہمارے جو تین چیزیں ہیں، یعنی قلب، نفس اور عقل۔ اور سیر الی اللہ کا جو مرتبہ کسی کو جب حاصل ہوتا ہے، یعنی نفس بھی، نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ بن گیا۔ اور قلب، قلبِ سلیم بن گیا۔ اور عقل، عقلِ فہیم بن گیا۔ عقلِ فہیم بن گیا۔ تو عقلِ فہیم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ صحیح بات کو پہچان لیتا ہے۔ تو صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا نا؟ صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا۔ ورنہ کوئی کرے گا ہی نہیں تو خود اپنی طرف سے کیسے لائے گا؟ کیونکہ عقل تو بذاتِ خود ایک سمجھ لیں ایک Software ہے۔ اس کے اندر جو چیز آپ دیتے ہیں اس سے اس کا Output نکلتا ہے۔ تو اس کے سامنے جب وہ کوئی چیز آئے گی تو اب یہ دیکھیں جس وقت یہ حاصل ہو جائے۔ حضرت نے جو فرمایا ہے غیر ضروری نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوال جنہوں نے کیا ہے، وہ ان سسٹم کو مانتے ہی نہیں ہیں جو میں بتا رہا ہوں۔ کیونکہ یہ تو ہم لوگ حضرت ہی کی باتوں سے ہم آپ لوگوں کو سمجھا چکے ہیں کہ اس قسم کا قلب اور روح اور سر اور یہ تمام چیزیں جو آپ کو بتا رہے ہیں، وہ لوگ تو اس کو مانیں گے ہی نہیں۔ لہٰذا ان کو تو ہم اس قسم کے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن چونکہ ہم لوگ Already اس کو چیز کو سمجھتے ہیں، لہٰذا اس وجہ سے میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لیے کوئی مسئلہ اس لیے نہیں ہے، کہ عقل تب کام کرتی ہے جب اس کے ساتھ ایمانی اخبارات مل جاتے ہیں۔ یعنی سر بن جائے۔ ملائکہ سے تعلق رکھے۔ تو ملائکہ کے ساتھ میں جو تعلق رکھتا ہوں، وہ ظنی ہے۔ اگر مجھے سر کا مرتبہ حاصل ہو بھی چکا ہو، تو ہے تو ظن۔ الہام ہے، کشف ہے۔ ٹھیک ہے نا، ظنی ہے نا۔ لیکن وہ اس کے مقابلے میں جو قرآن ہے اور حدیث ہے، وہ جو قطعی ہے۔ تو اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ بلکہ ہمارے لیے تو حکم یہ ہے کہ جب کبھی کسی کا الہام ہو، یا کشف ہو، وہ اس کے اوپر، ان دو گواہوں پہ پیش کر لے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ یعنی دو گواہوں پہ پیش کر لے۔ اگر اس کے مطابق ہے، ٹھیک ہے، اور اس کے مطابق نہیں، تو رد ہے۔ یہی بات ہے نا؟ آپ کو پتہ ہے جب کبھی جب کبھی Kit آتی ہے Testing کا سسٹم جو ہوتا ہے، کیمیکل تو اس کے ساتھ ایک وہ بھی آتے ہیں نا Comparison کے لیے، ایک Standard۔ اس کے ساتھ اس کو Compare کرتے ہیں۔ کہ آپ کا جو رزلٹ ہے، پہلے اس کے مطابق Comparison ہونا چاہیے، آپ کو رزلٹ یہ صحیح دے گا۔ تو اس وجہ سے ہم پہلے اپنے عقل کو ٹیسٹ کرتے ہیں کہ آیا وہ ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد ہم اس کی باتیں مانیں گے۔ جب تک وہ چیز نہیں ہے، تب تک تو اس کے مطابق Qualify کریں گے ہی نہیں۔ ہماری بات Qualify نہیں کرے گی۔ تو اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ ہماری جو عقل کی بات ہے، وہ تو وہ تو ظنی ہے۔ چاہے وہ کیسے ہی مطلب صحیح کیوں نہ ہو۔ صحیح ہوگا تو اس کے مطابق ہو جائے گی۔ قطعی کے مطابق ہو جائے گی نا۔ لیکن قطعی ہوگا، تو پھر پتا چلے گا نا کہ قطعی کے مطابق ہو گیا۔ تو وہ قطعی جو ہے، وہ کہاں سے آیا؟ وہ ظاہر ہے فرشتے کے ذریعے سے آیا ہے۔ تو جب تک ہمارے پاس وہ فرشتے والا نظام نہیں ہو، اس وقت تک ہمارے پاس کوئی ریفرنس نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے ایک ریفرنس کی ضرورت ہوتی ہے۔میں اس کو اگر آج کل کے زمانے کے مطابق ڈسکس کرنا چاہوں حضرت کی بات کو، تو میں یہی کہوں گا کہ جو ریفرنس ہوتا ہے جیسے فیکٹری ہوتی ہے نا، فیکٹری۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہوتا ہے، اس کے ساتھ Comparison کرتے ہیں۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہے، اگر وہ نہیں ہو تو آپ پھر بے بس ہیں۔ پھر آپ ریفرنس پھر آپ اس کو نہیں کر سکتے۔ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں چونکہ آپ کے پاس اس کا ریفرنس نہیں ہوتا، تو وہ Useless ہو جاتا ہے۔ اپ اس کو نہیں استعمال کر سکتے۔ تو اس وجہ سے جو فیکٹری کے جو ریفرنس ہے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے جو ریفرنس بھیجا ہے، اللہ پاک نے دو ریفرنس بھیجے ہیں۔ ایک بھیجا ہے ٹیکسٹ، "قرآن"۔ اور ایک ریفرنس بھیجا ہے "آپ ﷺ" یعنی ساتھ اس کا بتانے والا۔نبی اور جو کتاب ہے۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ نبی اگر نہیں ہو، کتاب کون سمجھائے گا؟ کتاب نہیں ہو تو اصول آپ کے سامنے کیسے آئیں گے؟ تو یہی بات ہے کہ اصول کا وہ جس کو ہم کہہ سکتے ہیں Manual جس کو ہم کہہ سکتے ہیں۔ Manual بھی بھیج دیا اور ساتھ ساتھ اس کی Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا۔ اب Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا، Manual بھی بھیج دیا، اب باقی اس کے بعد جتنا کام ہم کریں گے تو اس کے مطابق کریں گے تو، جب تک اس کے مطابق ہم کریں گے تو کام صحیح ہوگا۔

                کیا خیال ہے کبھی جب باہر سے کوئی چیز آتی ہے تو وہ کہتے ہیں بھئی اس کو کھولنے سے پہلے جو ہمارا Authorized Person اس سے ہی آپ نے کھلوانا ہے، ورنہ ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ہوتے ہیں نا اس طرح؟ اب وہ جو Authorized ہے، وہ یہی بات ہے نا کہ آپ اگر کوئی غلطی کر لیں گے، تو پھر تو وہ ساری چیزیں رہ جائیں گی اس میں، وہ تو پھر Comparison نہیں ہو سکے گی۔ تو یہ چیزیں اس طرح ہیں کہ ہم لوگ اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتے۔ جس نے جو حکم بھیجا ہے، اس حکم کو پرکھنے کے لیے ہمارے پاس جو دو بڑے Sources ہیں، ایک پیغمبر، اور ایک کتاب۔ تو پیغمبر نے سنت چھوڑی ہے۔ اور ساتھ کتاب لے آئے۔ تو کتاب اور سنت، اس کے اوپر ہم ہر چیز کو پیش کریں گے۔ یہ ہمارا Source of Reference ہے۔ اس ریفرنس کے مطابق ہم سارے کام کریں گے۔ تو اس وجہ سے ہمارا جو عقل ہے، وہ کامل نہیں ہے ان چیزوں کو کے لئے

                عقائدِ اہلِ سنت: رویتِ باری تعالیٰ، بعثتِ انبیاء اور نفس و قلب کا تزکیہ - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور