اللہ کی نعمتیں اور انسان کی آزمائش: بنی اسرائیل کے تین افراد کا واقعہ

درس نمبر 87- باب المراقبہ - حدیث نمبر 65 - (اشاعتِ اول) 12 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• بنی اسرائیل کے تین افراد (کوڑھی، گنجا اور اندھا) کی آزمائش کا واقعہ۔

• ظاہری اسباب (ذہانت اور محنت) کی بجائے اللہ کی عطا اور حکمت پر کامل یقین۔

• مال و دولت اللہ کی امانت ہے اور زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

• سود کی تباہی اور صدقات میں اللہ کی طرف سے رکھی گئی برکت۔

• دنیاوی زندگی کا ہر لمحہ ایک مسلسل امتحان ہے۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ.

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

(بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کا ایمان افروز واقعہ)

(65) ﴿السَّادِسُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ ثَلَاثَةً مِّنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَبْرَصَ وَ أَقْرَعَ وَ أَعْمَى أَرَادَ اللهُ أَنْ يَّبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ وَّ جِلْدٌ حَسَنٌ وَّ يَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، فَمَسَحَهٗ، فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهٗ وَ أُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا فَقَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْإِبِلُ، أَوْ قَالَ: الْبَقَرُ. شَكَّ الرَّاوِي، فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا.

فَأَتَى الْأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: شَعْرٌ حَسَنٌ وَّ يَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَذِرَنِي النَّاسُ فَمَسَحَهٗ فَذَهَبَ عَنْهُ وَ أُعْطِيَ شَعْرًا حَسَنًا. قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا وَّ قَالَ: بَارَکَ اللهُ لَكَ فِيهَا.

فَأَتَى الْأَعْمَى فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ اَنْ يَّرُدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ النَّاسَ فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللهُ إِلَيْهِ بَصَرَهٗ قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا، فَأَنْتَجَ هَذَانِ وَ وَلَّدَ هَذَا فَکَانَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْإِبِلِ، وَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْبَقَرِ، وَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْغَنَمِ.

یہ چونکہ لمبی حدیث شریف ہے تو اس کو حصوں میں ہم اس کو پڑھیں گے۔ بخاری شریف کی یہ حدیث شریف ہے۔ تو اس پہلے حصے کا ترجمہ کر لیتے ہیں، اس کے بعد ان شاء اللہ اگلے دن اس کے بقیہ حصہ بھی ان شاء اللہ اس میں پڑھیں گے۔

یہ چھٹی حدیث: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ سے سنا فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے برص والا، گنجا، اندھا۔ چنانچہ اللہ نے ان کو آزمانا چاہا ایک فرشتہ کو انسان کی شکل میں ان کے پاس بھیجا۔ فرشتہ برص والے کو کہتا ہے کہ تمھیں کون سی چیز محبوب ہے؟ اس نے کہا اچھا رنگ اور خوبصورت جسم اور جس بیماری کی وجہ سے لوگ مجھے برا جانتے ہیں وہ ختم ہو جائے، چنانچہ اس نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور اسے خوبصورت رنگ عطا ہو گیا، فرشتے نے پوچھا کون سا مال زیادہ پسند کرو گے؟

پسند کرو گے؟ اس نے کہا اونٹ یا گائے، راوی کو شک ہے، چنانچہ اس کو دس ماہ کی حاملہ اونٹنی عطا کی گئی فرشتے نے دعا کی اللہ تیرے مال میں برکت فرمائے۔ اس کے بعد فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا تجھے زیادہ کونسی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا خوبصورت بال اور جس عیب کی وجہ سے لوگ مجھے معیوب جانتے ہیں وہ مجھ سے دور ہو جائے، فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، بیماری جاتی رہی اور خوبصورت بال مل گئے۔ فرشتے نے پوچھا کونسا مال زیادہ پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا گائے، چنانچہ اس کو ایک حاملہ گائے عطا کی گئی اور اس کے لئے برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اس سے پوچھا تمھیں کون سی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا اللہ پاک مجھے نظر واپس کر دے میں لوگوں کو دیکھ سکوں، فرشتے نے اس کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا اللہ نے اس کو نظر عطا فرمادی، فرشتے نے پوچھا کونسا مال تجھے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا بکریاں، اس کو بچہ جننے والی ایک بکری دے دی گئی، چنانچہ ان دونوں نے بھی بچے جننے اور بکری نے بھی اپنا بچہ جنا۔


تو آئندہ ان شاء اللہ العزیز اس کا جو بقیہ حصہ ہے... لیکن بہرحال اس کا جو حصہ، یعنی مجھے یاد ہے تاکہ تھوڑا سا اندازہ ہو جائے، وہ یہ ہے کہ پھر ان کی آزمائش کی گئی تھی۔ کہ پھر ان کے پاس وہی فرشتہ آیا اور ان سے کچھ مال مانگا... ان میں سے کچھ چیزیں ان سے مانگیں۔ تو ان میں سے بعض نے دے دی اور بعض نے نہیں دی۔ تو جنہوں نے نہیں دی تو ان کے اوپر عتاب آ گیا، اور جن نے دی تو ان کو ما شاء اللہ اور بھی برکت عطا ہو گئی۔

اب یہ جو چیز ہے، یہ ہمارے یہ تو ایک خلافِ معمول واقعہ ہے۔ اس طرح تو اکثر نہیں ہوتا، یہ تو بس اللہ پاک نے ان کو آزمائش کے لیے ایک خلافِ معمول طریقے سے... لیکن ہمیں معمول کے طور پر یہ چیزیں دی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص ہے، وہ مالدار ہے۔ تو اللہ نے اس کو مال دیا ہے۔ یعنی یہ اس کا اپنا وہ تو نہیں ہے ورنہ کتنے لوگ ہیں جو مالدار ہونا چاہتے ہیں، اور ذہین بھی ہوتے ہیں، اور محنتی بھی ہوتے ہیں۔ نہ محنتی ہونے پر ہے نہ ذہین ہونے پر ہے، کتنے ذہین لوگ ہیں جو در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں! کتنے محنتی لوگ ہیں جو در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں! کتنے خاندانی لوگ ہیں جو در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں! تو اس کا مطلب ہے یہ صرف اس پر نہیں ہے کہ کوئی ذہین ہو، وہ اسباب کے طور پر ہیں، لیکن اللہ کی حکمتیں وہ جاری و ساری ہوتی ہیں۔ لہٰذا ذہین بھی، فطین بھی اور محنتی بھی، یہ سب لوگ اگر اللہ نہ چاہے تو ان کو کچھ بھی نہیں ملتا یا پریشانی ہوتی ہے۔

تو خیر میں عرض کر رہا تھا کہ دیتا تو اللہ ہی ہے۔ اب اللہ پاک مال دے دیں، مثلاً زکوٰۃ کا حکم دیں۔ اور زکوٰۃ چالیس میں سے ایک، اب اگر کوئی کسی شخص کو دے دے کہ بھئی میں تمہیں چالیس ہزار روپے دیتا ہوں، بس ایک سال میں مجھے اس کا چالیسواں دے دے، مطلب اگلے سال مجھے ایک ہزار اس میں سے چاہیے ہوگا۔ مجھے بتاؤ وہ کتنا خوشی خوشی لے گا؟ اگر کسی کو شرط لگا دی جائے نا، کہ میں تمہیں دیتا ہوں لیکن اس میں مجھے پورے سال کے بعد ایک ہزار مطلب دے کے چالیس ہزار پہ۔ تو کوئی انکار کرے گا؟ کوئی انکار نہیں کرے گا۔ لیکن اب کتنے لوگ ہیں جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؟

اس حدیث شریف کے مطابق، جیسے ان کے ساتھ ہوا تھا، جنہوں نے شکر نہیں کیا ان کا تلف ہو گیا، اور جنہوں نے شکر کیا ان کا بڑھا دیا گیا۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں قرآن میں:

يَمْحَقُ اللهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ۔

"اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے"۔ تو اس کا مطلب ہے کہ انسان اگر اپنے حال کو دیکھے کہ جو اللہ نے اس کو دیا ہے، اس پہ شکر کرے اور اس میں اللہ کے حکم کو پورا کرے اور جس سے منع کیا ہے اس سے بچے۔ تو یہی اس کے حق میں اچھا ہے۔

اللہ جل شانہٗ کسی وقت بھی کسی کو آزما سکتا ہے۔ لیکن یہ آزمائش فوری بھی ہو سکتا ہے اور یہ آزمائش ذرا زندگی بھر کا بھی ہو سکتا ہے۔ تو ہم لوگ وہ ظاہر میں، جتنے لوگ ہیں وہ زندگی بھر کی آزمائش میں مبتلا ہیں۔ زندگی کے بعد پھر پتہ چلے گا۔ لیکن جو فوری آزمائش ہے اس کا پتہ ذرا جلدی چل جاتا ہے، تو اللہ پاک نے باقی لوگوں کو یعنی سمجھانے کے لیے ان کا امتحان کر لیا، اور اس میں کچھ کامیاب ہو گئے، کچھ کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن اصل میں ہم سب اسی امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو امتحان میں کامیاب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


اللہ کی نعمتیں اور انسان کی آزمائش: بنی اسرائیل کے تین افراد کا واقعہ - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور