اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں، یعنی خانقاہ میں، مثنوی مولانا روم کا درس ہوا کرتا ہے۔
دفتر اول: حکایت: 26
وزیر کا (ایک) اور مکر کرنا اور خلوت میں بیٹھنا اور قوم (نصارٰی) میں شور ڈال دینا
1
جب وزیر ماکرِ و بد اعتقاد
نے دینِ عیسیٰؑ کو بدلا از فساد
جب مکار و بد اعتقاد وزیر نے فساد (ڈالنے) کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی کایا پلٹ دی۔
اس نے 12 بنائے ہوئے تھے نا امیر، اور ہر امیر کو جدا انجیل دے دیا۔ اور امیر کو بتا دیا کہ تو ہی میرا نائب ہے۔ میرے بعد تو ہی ہوگا۔ تو ہر ایک کو الگ الگ story سنا دی، تو ظاہر ہے کہتے ہیں میرے بعد یہ آپس میں لڑ پڑیں گے، تاکہ لوگ ختم ہو جائیں۔
2
ایک مکر کو دل سے اور بھی گھڑ لیا
چھوڑا وعظ خلوت نشین وہ ہوگیا
مطلب ایک مکر اس نے مزید یہ کر دیا کہ اس نے وعظ، نصیحت کو چھوڑ دیا اور خلوت نشین ہو گیا، اندر چلا گیا۔
3
یوں بھڑکایا دل میں مریدوں کا سوز
اور رہا خلوت میں پچاس چالیس روز
مطلب یہ ہے کہ اس نے مریدوں کے دل میں سوز بھڑکا دیا جو ان کے مرید بن گئے تھے اور 40، 50 دن وہ خلوت میں رہا۔
مریدوں میں (اپنے) شوق (دیدار) کی آگ لگا دی۔ چالیس پچاس روز تک خلوت میں رہا۔
4
ہوگئی مخلوق اسکی شوق سے
دیوانہ حال قال اسکی ذوق سے
مطلب یہ ہے کہ مخلوق جو تھی وہ اس کے شوق سے دیوانہ بن گئی۔
اس کے شوق (دیدار) سے اور اس کے حال و قال و ذوق کی جدائی سے مخلوق دیوانی ہو گئی۔
5
لوگ خوشامد اور زاری کرتے رہے
وہ ریاضت سے دبلے ہوتے رہے
مطلب وہ چونکہ اس کے عادی تھے یہ اونچی اونچی باتیں کرتے تھے۔ اب میں آپ کو ایک اور بات بتاؤں۔ بات ویسے آسان تو نہیں ہے کرنا، لیکن مجبوری ہے کہتا ہوں۔ بعض لوگوں کو معرفت حاصل نہیں ہوتی وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ تو لوگ سمجھتے ہیں یہ تو بہت اونچا آدمی ہے۔ ہمارے ساتھ گزری ہے صورتحال۔ اتنی اتنی اونچی باتیں کرتے ہیں، آدمی حیران ہو جاتا ہے، جیسے عرش پہ چل رہا ہو اور پتا نہیں کیا کیا کر رہا ہو، اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ سارا جو ہے نا ڈرامہ بازی ہوتی ہے۔ جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ کہاں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ وہ تو اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ اور جو مامور من اللہ ہوتے ہیں ان کو پھر لوگ جان لیتے ہیں۔ ان کا کام پھر ہوتا ہے، وہ اہل اللہ ان کو پہچان لیتے ہیں، عوام کی بات نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک بات اور سنیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اصل جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ جل شانہ جن کے ساتھ محبت فرماتے ہیں، تو جبرائیل علیہ السلام سے کہتے ہیں یہ میرا محبوب ہے تم بھی اس کے ساتھ محبت کرو تو جبرائیل علیہ السلام اس کے ساتھ محبت کرنے لگتے ہیں۔ تو جبرائیل علیہ السلام کی وجہ سے کہ اس کے ساتھ محبت کرتا ہے اور فرشتے جو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ملتے ہیں ان کو بھی محبت ہو جاتی ہے۔ پھر ان فرشتوں میں جو آسمانِ دنیا پہ ہوتے ہیں، وہ بھی آ جاتے ہیں۔ آسمانِ دنیا کے فرشتے زمین پہ آتے رہتے ہیں، جاتے رہتے ہیں۔ تو زمین کے جو فرشتے ہوتے ہیں ان کو بھی اس طرح ہو جاتا ہے، وہ بھی ان کے ساتھ محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کے قلوب کی، اور اللہ والوں کے قلوب کی آپس میں مناسبت ہوتی ہے نورانیت کی وجہ سے۔ نتیجتاً ان اچھے لوگوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت آ جاتی ہے۔ پھر ان اچھے لوگوں کی محبت کی وجہ سے عام لوگ بھی ان کے ساتھ محبت کرنے لگتے ہیں کہ بھئی فلاں اس کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ فرمایا یہ طریقہ تو صحیح ہے۔ اس طرح اگر کوئی محبوب ہے تو وہ تو ٹھیک ہے کہ پہلے اللہ والے ان کے ساتھ محبت کریں، بعد میں عوام کریں۔ لیکن اگر پہلے عوام کریں، پھر بعد میں اللہ والے کریں، یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں confusion ہے۔ عام لوگ جو ہوتے ہیں وہ تو ان چیزوں کو جانتے نہیں ہیں۔ وہ تو پتا نہیں کس کس قسم کے لوگوں کو بزرگ سمجھتے ہیں، مختلف انداز میں۔ تو ان کی وجہ سے پھر اچھے لوگ بھی حسنِ ظن کر لیتے ہیں کہ اس میں کچھ ہوگا جو اتنے بڑے بڑے لوگ کر لیتے ہیں۔ تو وہ بھی حسنِ ظن کر لیتے ہیں، تو اس طریقے سے اگر ان کے ساتھ لوگ محبت کرتے ہیں وہ اصل نہیں ہے۔ اس طرح جو ڈرامہ بازیاں لوگ کرتے ہیں، عجیب و غریب لوگ ہوتے ہیں، ہمارے ایک، اس میں آیا تھا پنسٹک کالونی میں، کوئی ہنگو کے صاحب ہیں۔ وہ ظالم ایسا تھا کہ اس نے چیلنج کیا تھا کہ میرے ساتھ کوئی بیٹھے اور پھر نماز پڑھ کر دکھائے اور اس کے ساتھ بھی لوگ بیٹھتے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی ان کے ساتھ بیٹھے تھے، تو اس کی تہجد چھوٹ گئی، اور تو کچھ نہیں ہو سکا کیونکہ آخر سلسلے کے ساتھ تعلق تھا۔ تہجد چھوٹ گئی۔ مجھے اس نے بتایا تو میں نے کہا: "تجھے کیا ضرورت تھی اس کے ساتھ بیٹھنے کی؟" بہت مشکل سے پھر بعد میں اس کی تہجد واپس آئی۔
اچھا ایک اور آدمی تھا، وہ آیا تھا میرے پاس، باقاعدہ ملنے کے لیے آیا تھا، اور اس نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتا۔ تو میں اس کو اپنے ساتھ مسجد لے گیا، مغرب کی نماز کا وقت تھا۔ تو ظاہر ہے تین رکعت تو ہم نے امام کے ساتھ پڑھ لیں، پھر میں نے کہا: سنت پڑھو، تو سنت پڑھ لیں۔ میں اوابین پڑھ رہا تھا، تو میں نے کہا کہ دو رکعات آپ صلوۃ التوبہ پڑھیں۔ تو دو رکعات اس نے صلوۃ التوبہ پڑھے۔ میں نے کہا: دو رکعات صلوۃ الشکرانہ پڑھیں۔ پھر میں نے کہا: دو رکعات صلوۃ الحاجات پڑھیں، کہ آئندہ آپ کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ کہا: اب ٹھیک ہے، اچھا۔
مطلب یہ ہے کہ یعنی اتنا اثر ہو جاتا ہے ظالموں کا۔ تو یہ بعض لوگ جو ہوتے ہیں عجیب و غریب لوگ ہوتے ہیں، اور عوام کو کیا۔۔۔ ان کو کیا پتہ؟ ان کو کیا پتہ کہ اہل اللہ کون ہیں؟
وہ شعبدہ بازی کو دیکھتے ہیں، وہ شعبدہ بازی سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی باتوں سے اور اونچی اونچی باتیں کرتے ہیں۔
ایک صاحب نے اس قسم کی بڑی اونچی اونچی باتیں کیں، آڈیو مجھے بھیجا۔ میں نے کسی اللہ والے کو سنائی۔ انہوں نے کہا یہ تو ویسے لاحاصل گفتگو کر رہا ہے۔ اس کا تو کوئی مطلب ہی نہیں بنتا۔ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ میرے ساتھ audio ابھی تک موجود ہے۔ اس نے مجھے بھیجا تھا، میں حیران تھا، میں نے کہا کہہ کیا رہا ہے؟ کون سی چیز کہہ رہا ہے؟ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے، یہ ایسے لوگ جو ہوتے ہیں، یہ اگر چپ رہیں، تو چپ شاہ ہوتے ہیں۔ اور بے تکی بولتے ہیں، تو رموز ہیں۔ رموز و اسرار ہیں! اور اگر اچھی باتیں کریں تو پھر تو ارشادات ہیں۔ تو فرمایا کہ ان کی ہر وقت جیت ہوتی ہے، عوام کے درمیان۔ ایسے لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ اپنے ایمان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
لوگ خوشامد اور زاری کرتے رہے
وہ ریاضت سے دبلے ہوتے رہے
6
تیرے بِن نورِ ہدایت ہے کہاں
لاٹھی بِن اندھے کو راہ ملے کہاں
یعنی وہ زاری کررہے ہیں کہ تیرے بغیر نورِ ہدایت ہمیں کیسے ملے گا کیونکہ اندھا لاٹھی کہ بغیر کیا کر سکتا ہے وہ تو چل ہی نہیں سکتا۔
7
مہربانی کر آپ بہرِ خدا
اپنی خدمت سے نہ کر ہم کو جدا
زاری کر رہے ہیں کہ آپ مہربانی کر کے اللہ کے واسطے اپنی خدمت سے ہم کو جدا نہ کریں۔ مطلب آپ تشریف لائیں اور خلوت میں نہ جائیں۔
8
ہم ہیں بچے اور تو دایہ ہے
اور ہمارے سر پر تو اک سایہ ہے
مطلب ہم تو تیرے بچوں کی طرح ہیں اور تو ہماری پرورش کر رہا ہے، تو کیوں ہم سے جدا ہو رہا ہے؟
9
بولے جان دوستوں سے میری دور نہیں
بے اجازت نکلنا منظور نہیں
اس نے پھر بزرگی کی بات کی۔ اس نے کہا کہ بھئی میں تم سے دور نہیں ہوں، لیکن مجھے چونکہ اجازت نہیں ہے نکلنے کی، لہٰذا میں کیسے باہر آؤں؟ لہذا میں باہر نہیں آ سکتا۔
اس میں یہ اشارہ ہے کہ مرید اگر تربیت و تعلیم پا چکا ہو تو اس کو قربِ جسمانی کی ضرورت نہیں۔ معیتِ روحانی کافی ہے بشرطیکہ اس کو مرشد سے محبتِ کامل ہو اور حدیث "اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ" (صحیح بخاری) اس کی مؤیِّد ہے۔
یہ بات تو خیر بڑی زبردست ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں اکثر آج کل یہ بات کرتا ہوں کہ آج کل دنیا global village ہے۔ تو contact کا کوئی مشکل نہیں ہے آج کل۔ بس صرف اپنے اخلاق کا بیج کو، محبت کا بیج کو اپنے اندر پیدا کرو۔ تو اللہ کے لیے فاصلے کچھ بھی نہیں۔ فاصلے کچھ بھی نہیں ہیں۔
ہاں ٹھیک ہے، کچھ عرصے کے لیے مرشد کی خانقاہ میں رہ لو تاکہ مناسبت ہو جائے۔ مناسبت ہو جائے پھر اس کے بعد آپ کی کہ اپنے گھر پر جا کر معمولات وغیرہ کرتے رہیں، رابطہ رکھتے رہیں۔ تو ماشاءاللہ گھر پر ہی آپ کی اصلاح ہوتی جائے گی۔
Indoor treatment Outdoor treatment ہسپتال میں بھی داخل ہوتے ہیں بعض لوگ، اور بعض دفعہ وہ کہتے ہیں بس ٹھیک ہے جی گھر پر علاج کرواؤ۔ وہ چیزیں بھی support بھی دیتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہے جی، یہ چیز لے لو، یہ چیز لے لو، یہ چیز لے لو۔ تو یہ بات ہے۔
10
وہ امیر بھی در شفاعت آگئے
اور مرید منت بہت کرنے لگے
مطلب ہے جو بارہ امیر تھے وہ بھی شفاعت سفارش کرنے آ گئے کہ بس مان لیجیے نا، اب باہر آ ہی جائیں نا۔ اور مرید بھی منت سماجت کرنے لگے۔
11
کیا ہے بدبختی ہماری اے حضور
تیری صحبت سے ہوئے ہیں اب جو دور
کہ اے بزرگ! یہ ہماری کیا بد نصیبی ہے (کہ) آپ کے بغیر ہم (راحتِ) دل سے اور (ہدایتِ) دین سے بے بہرہ رہ گئے۔
12
آپ نکلنے سے یوں بہانہ کریں
دل فراق سے اپنے جلایا کریں
آپ تو (باہر نکلنے سے) بہانہ کرتے ہیں اور ہم درد (فراق) کے مارے دل کی جلن سے ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہیں۔
13
عادی ہیں ہم آپ کی خوش گفتار کے
شِیرِ حکمت کے اور آپ کے پیار کے
مطلب ہے ہم تو عادی ہیں آپ کے اچھے اچھے وعظ نصیحت کے، اور آپ کی حکمت کی باتوں کے، اور آپ کے پیار کی۔ اس وجہ سے آپ مہربانی کر کے ہمارے پاس آ جائیے۔
14
اللہ اللہ یہ جفا ہم سے نہ کر
مہربانی ہم پہ فرمایا کر
لِلّہ! ہم پر یہ جور و جفا نہ کیجئے۔ مہربانی فرما کر آج کو کل پر نہ ٹالیے۔
15
ٹال مٹول پر آپ کیوں آمادہ ہیں
سب جدائی پر جو فرستادہ ہیں
کیا (یہی بات) آپ کو (اس ٹال مٹول پر) آمادہ کر رہی ہے کہ یہ بے دل آپ کی جدائی میں محروموں میں شامل ہو جائیں؟
16
سب تڑپتے ہیں جو مچھلی کی طرح
دے دیں صحبت ہم کو پانی کی طرح
بس سارے مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں، آپ مہربانی کر کے پانی بن کر آئیے تاکہ ہم سب کو صحت ہو جائے۔
17
آپ طرح اس دور میں کوئی نہیں
اللہ اللہ سن لیں یہ فریاد بھی
اے وہ کہ آپ کے برابر زمانے بھر میں کوئی نہیں۔ خدا کے لیے خلقت کی فریاد سن لیجئے۔
مطلب: پہلے مصرعہ میں بتقاضائے کمالِ محبت و محویت اپنے مرشد کو سب سے برتر تسلیم کیا ہے۔
نکتہ: اس میں یہ اشارہ ہے کہ اپنے شیخ کو سب سے افضل سمجھنا چاہیے جو آدابِ ارادت میں داخل ہے اور قلب کی طمانیت اور توجہِ تام کے لیے لازم ہے۔ مگر اس کے معنٰی یہ ہونے چاہییں کہ موجودہ زمانہ کے جس قدر بزرگوں سے میرے لیے استفاضہ ممکن ہے ان میں سے سب سے زیادہ فیض میں اپنے مرشد ہی سے پا سکتا ہوں۔ اس تفسیر سے وہ اعتراضات وارد نہیں ہوتے جو اپنے مرشد کی مطلق تفضیل سے وارد ہوتے ہیں۔ یعنی ایک تو جمہور اولیاء اللہ کی تخصیص جن میں اوّلین و سابقین بھی شامل ہیں۔ دوسرے موجودہ زمانہ کے بزرگوں میں سے کیا معلوم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون افضل ہے۔
میں آپ سے ایک بات عرض کرتا ہوں۔ اس میں معاملہ بہت سہل ہے۔ دیکھیں! انسان کا جو اپنا باپ ہے، انسان سب کے لیے وہی مفید ہوتا ہے۔ باقی چچا بھی ہوتے ہیں، سب ہوتے ہیں، دوسرے لوگ، رشتہ دار بھی ہوتے ہیں، وہ بھی مفید ہوتے ہیں لیکن باپ سب سے زیادہ مفید ہے، کیوں کہ ان کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی واسطہ ہوتا ہے۔ تو شیخ سے چونکہ تعلق ہوتا ہے استفادے کے لیے لہذا اور استفادہ تب ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ تعلق سب سے زیادہ، سب سے زیادہ ہو۔
لہذا اس کو اپنے لیے سب سے زیادہ مفید سمجھے۔ سب سے زیادہ افضل کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔ سب سے زیادہ افضل کہنے کی ضرورت ہی نہیں، سب سے زیادہ اس کو مفید سمجھو۔ اور جب سب سے زیادہ مفید ہے تو اس کے ساتھ رابطہ بدستور رکھ، اس رابطے میں کوئی سستی نہ کر۔ یہ والی بات ہے۔
دفتر اول: حکایت: 27
وزیر کا اپنے مریدوں اور پیروکاروں کو دُور کرنا
1
بولے گفتگو کے خواہشمند ہو
اور زبان و کان کے پابند ہو
اب ان کو سمجھا رہے ہیں۔ یہ سارا ڈرامہ ہے، لیکن بہرحال یہ ہے کہ مطلب ہو تو یہی رہا ہے۔ (وزیر نے) کہا خبردار! اے (ظاہری) گفتگو کے پابندو! تم جو ظاہری طور پر گفتگو کرتے ہو اس کے پابند ہو (اور اس) وعظ و کلام کے متلاشیو! جو زبان (سے کہنے) اور کان (سے سننے) کا ہے۔
یعنی تم اپنا سارا زور اسی پہ نکالتے ہو، اور انہی کو سب کچھ سمجھتے ہو، حالانکہ یہ نہیں ہے۔ ظاہر کچھ ہے، باطن کچھ ہے۔"
2
ظاہری کان میں ذرا پنبہ رکھیں
باطنی سے ظاہری جدا رکھیں
اس ناچیز (ظاہری) حس کے کان میں روئی دے لو۔ اپنی (باطنی) آنکھ سے (ظاہری) حس کی رکاوٹ دُور کر دو۔
یعنی تم جو ظاہر میں پھنسے ہوئے ہو اور اصل چیز یعنی جو باطنی ہے، اس سے کٹے ہوئے ہو... کیونکہ باطن روح ہے اور ظاہر جسم ہے۔ تو تم جسم میں پھنسے ہوئے ہو اور روح سے نالاں ہو۔ تو یہ جسم کو ذرا کنٹرول کر دو اور پھر روح سے کام لو، اس کے ساتھ تعلق پیدا کرو۔ یہ اصل میں گویا کہ ان کو دھوکہ دے رہا ہے۔ لیکن بہرحال بزرگی کی شان میں دھوکہ دے رہا ہے کہ جیسے یہ کوئی بزرگ ہے۔
3
ظاہری کان جب تلک بہرہ نہ ہو
تو فعال کان باطن کا آپ کا نہ ہو
یعنی ظاہری کان جب تک آپ کا بہرا نہ بنے، یعنی خبردار نہ رہے باز نہ رہے ان تمام environments سے، پھر کیا ہے آپ کا باطن کھل جائے گا۔ بات تو اس کی صحیح تھی۔ بات اس کی اس طرح صحیح ہے، بات عرض کرتا ہوں کہ جب انسان ظاہری چیزوں کو دیکھے گا... اب میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں: Social Media، اب social media یہ کان بھی ہے اور آنکھ بھی ہے آج کل۔ لوگ اس میں دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں اور لوگ اس میں سن بھی رہے ہوتے ہیں۔ اچھا، تو جو information social media سے آتی ہے، انسان اس سے اتنا متأثر ہوتا ہے کہ جو ان لوگوں نے social media کے جو لوگ ہیں انہوں نے جو سوچا ہوتا ہے، وہی ذہن لوگوں کا بنا لیتے ہیں۔ تو حقیقت سے تو disconnect کر لیتے ہیں نا۔ اصل چیز تو وہ نہیں ہوتی، وہ تو ان کی planning کے مطابق ہوتی ہے۔
تو اب اگر کسی کو بچانا ہو تو کیا کریں گے؟ social media سے disconnect کریں گے نا۔ کہ بھئی تھوڑا سا اس سے disconnect ہو جاؤ تاکہ تم پر حقیقت کھل جائے۔ خلوت میں چلے جاؤ، ان چیزوں کی طرف نہ دیکھو، پھر اللہ پاک سے رجوع کرو۔ جب اللہ پاک سے رجوع کرو گے، تو اللہ پاک تمہارے دل پہ صحیح بات ڈالے گا۔ لیکن پہلے ان چیزوں سے اپنے آپ کو disconnect تو کر لو۔ تو بات تو بالکل صحیح ہے، لیکن وہ تو اپنی planning کے مطابق چل رہا ہے، لیکن بہرحال بات بالکل صحیح کر رہا ہے۔وہ یہ ہے کہ:
جب تک محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک رہے گا تب تک مدرکات ِباطنیہ کی طرف توجہ ناممکن ہے
اب ظاہری کیا ہے؟ نفس ہے۔ قلب ہے، عقل ہے۔ اس میں جب تک گند آئے گا، اس وقت تک اصلاح تو نہیں ہو سکتی نا۔ جب تک اصلاح نہیں ہوگی، آپ کو اصل چیز معلوم نہیں ہوگی۔ کیونکہ آپ کے اوپر خواہشات حاوی ہیں۔ خواہشات جب حاوی ہوں گے تو ظاہر ہے آپ اصل چیز کو نہیں پا سکیں گے۔ جیسے اللہ پاک فرماتے ہیں:كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ
"ہرگز نہیں! بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو اور جو بعد میں انے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔"
یہ انسان کی سرشت ہے۔ تو یہ ان کو بتاتے ہیں کہ جب تک محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک رہے گا تب تک مدرکات ِباطنیہ کی طرف توجہ ناممکن ہے۔
4
بے حس و بے گوش بے فکرت بنو
اِرْجِعِی کے اہل سماعت بنو
مطلب: یہ اشارہ ہے اس آیت کی طرف﴿یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ﴾ (الفجر: 27-28)
یعنی" اے جانِ مطمئن! اپنے پروردگار کی طرف خود خوش ہوتی اور اس کو خوش کرتی چلی جا"
مراد یہ ہے کہ اگر حواسِ ظاہری کے شغل کو بند یا کم کر دو اور محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک نہ رکھو تو اپنے گوشِ باطن سے پروردگار کے بلانے کی آواز سن لو۔
مطلب یہ ہے کہ انسان جب تک اپنے نفسانی خواہشات میں منہمک رہتا ہے، تو روحانیت مغلوب ہوتی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر پانچ لوگ ہیں، چھ لوگ ہیں، جو چیخ چیخ کر بول رہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور ایک آدمی آہستہ آہستہ سچ بول رہا ہے۔ تو اس کو سچ کا کیا پتہ چلے گا؟ وہ پانچوں جو جھوٹ ہیں ان کے اوپر غالب آ جائیں گے۔ تو جب تک ان پانچ جھوٹوں سے وہ اپنے آپ کو disconnect نہیں کرے گا، تو وہ ایک محسوس ہوگا؟ وہ ایک محسوس نہیں ہوگا۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ اس کی ایک سرشت یہ ہے کہ نفس کی جب مانو گے تو یہ مزید منواے گا اور روح کی جب مانو گے تو روحانیت بڑھے گی۔ یا اس کو حدیث شریف کے پیرائے میں اگر ہم سمجھنا چاہیں تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ: "جو شخص کوئی نیکی کرتا ہے، اس کا فوری اجر یہ ہے کہ دوسری نیکی آسان ہو جاتی ہے۔ اور گناہ جب کرتا ہے تو اس کی فوری سزا یہ ہوتی ہے کہ دوسرا گناہ آسان ہو جاتا ہے۔"
لہٰذا اگر کوئی نفس کی خواہشات کو پورے کرتا ہے، تو نفس اس کے اوپر مزید غالب آ جائے گا، اس سے مزید غلطیاں کروائے گا۔ اور جب اللہ پاک کی بات مانے گا، تو اس کو اللہ پاک مزید نیکیوں کی توفیق دیتا رہے گا۔
تو یہ والی بات ہے کہ جب تک تم اپنی نفسانیت پر غالب نہیں آؤ گے، اس وقت تک روحانیت وہ مغلوب رہے گی۔
5
جب تلک ہو تم مگن بیداری میں
کب ہو خواب کے دنیائے اسراری میں
مطلب یہ ہے کہ جب تک تم بیداری کے تمام چیزوں کو دیکھ رہے ہو، تو خواب میں اگر کوئی اچھی چیز تمہیں دکھائی جانی ہے، اس سے تم آگاہی نہیں حاصل کر سکتے۔
6
سیرِ بیرونی یہ بول و کام ہیں
سیرِ باطن از بالائے بام ہیں
مطلب یہ جو سیر بیرونی جو ہے، یہ آپ بیرونی چیزوں سے جو اثر لے رہے ہیں، یہ تمہارا فعل اور قال ہے۔ یہ اس کا ہے۔ لیکن جو سیرِ باطن ہے وہ اوپر سے آ رہا ہے۔ اس کا اس سے تعلق کوئی نہیں، بلکہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مزید تشریح فرمائی ہے۔ کہ جب انسان سیر الی اللہ پورا کر لیتا ہے، یعنی قلب کو بھی صاف کر لیتا ہے، نفس کو بھی کنٹرول کر لیتا ہے، عقل کو بھی فہیم السنت کر لیتا ہے۔ تو پھر اللہ پاک دو راستے اور کھول دیتے ہیں۔
ہر شخص کے، ایک راستہ دل سے ملائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔ اور دوسرا راستہ عقل سے، سر کے ذریعے ملائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔
یعنی پہلا قلب سے، روح کے ذریعے سے، اور دوسرا عقل سے سر کے ذریعے سے ملائے اعلیٰ تک۔ تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وارداتِ قلبی ملائے اعلیٰ سے ان پہ وارد ہوتے رہتے ہیں۔ اور جو سر ہے، اس سے فراستِ باطنی اس کو حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ فیصلہ جب کرتا ہے تو اس میں اس فراست کا اثر ہوتا ہے۔
یہ والی بات ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ سیرِ باطن از بالائے بام ہے۔
مطلب: ہم ظاہری اور حسی حالات کی منازل طے کرنے کے لیے اعضاء و جوارح سے کام لیتے ہیں، جن کا میدانِ عمل یہ دنیا ہے۔ لیکن جس سیر و سفر کا کعبہ مقصودِ ذاتِ حق ہے، وہ ماورائے دنیا ہے اور اس کا تعلق ہمارے باطن سے ہے۔
7
حسِ خشکی خشکی سے پیدا ہوئی
بحرِ عرفاں ہاں موسیٰ کی جا ہوئی
(ظاہری) حس نے خشکی (ہی خشکی) دیکھی ہے۔ کیونکہ وہ خشکی سے پیدا ہوئی ہے (مگر) موسائے جان نے پیدا ہوتے ہی دریائے (معرفت) میں پاؤں رکھا۔
مطلب: حواسِ ظاہر چونکہ اعضائے جسمانی کی قوتیں ہیں جو عناصر سے بنے ہیں۔ اس لیے وہ دنیا ہی کی سیر کر سکتے ہیں اور روح چونکہ عالمِ امر سے ہے۔ اس لیے وہ باطن کی سیر کرتی ہے۔ عالمِ دنیا کو خشکی سے اور باطن کو دریا سے تشبیہ دی ہے اور جانِ موسیٰ علیہ السلام کے استعارہ میں یہ مناسبت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہی دریا میں بہا دیے گئے تھے۔ فرماتے ہیں کہ حواس کی حسی سیر محدود اور موجبِ غفلت ہے اور روح کی باطنی سیر جس کا مقام عالمِ امر ہے۔ مایۂ بصیرت اور غیر محدود ہے۔
یعنی ہماری جو دنیا ہے نا، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ اس کی کیا حیثیت ہے۔ یعنی اگر کائنات میں اس کا دیکھا جائے نا وہ ایک clip آئی تھی، جس میں انہوں نے دیکھا کہ دنیا جتنا وہ اس سے rocket اوپر جاتا ہے، تو یہ دنیا چھوٹی ہوتی جاتی ہے، مزید بہت پہلے بہت بڑی ہوتی ہے، پھر چھوٹی، پھر چھوٹی، پھر چھوٹی، پھر ایک نقطہ... پھر وہ نقطہ بھی غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ پورا جو مزید جو اس کے planets ہیں وہ بھی غائب، پھر اس کے بعد سورج اور پھر سورج بھی غائب اور پھر اس کے بعد اور دنیا... وہ آہستہ آہستہ وہ جتنا اوپر جاتا ہے تو اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔
تو یہ بات ہے کہ یہ جو ظاہری چیز ہے، وہ ہمارے حواس پہ جو چھائی ہوئی ہے، یہ اصل میں پورے کائنات کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ اور ہم نے اس کو بہت کچھ سمجھا ہوا ہے۔ وہ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا نا:
قافلہ تھک کر فضائے پیچ و خم میں رہ گیا
مہر و ماہ و مشتری کو میں نہ سمجھاتا میں
مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو بہت پیچھے ہو جاتی ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ جس جو اتنی وسیع کائنات ہے، تو اس کے پیدا کرنے والے کی کیا بات ہوگی؟ اس کے حالات کے بارے میں کیا بات ہوگی؟ تو مطلب یہ ہے کہ جتنی نظر وسیع ہوتی جائے گی، تو اپنی کم مائیگی کا احساس بڑھتا جائے گا۔ اور اپنے حالات کا اعتراف انسان کو نصیب ہوگا۔