سورۃ آل عمران کا آغاز: تخلیقِ انسانی، عقیدہ توحید کی حقانیت اور ضعیف الاعتقادی کا رد

درس نمبر 121 - سورۃ آل عمران: آیات 1 تا 6 - (اشاعتِ اول) 23 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

سورۃ آل عمران کا بنیادی تعارف (مدنی سورت، 200 آیات، 20 رکوع)

لفظ "فرقان" کی جامع تشریح اور حق و باطل کے درمیان امتیاز۔

رحمِ مادر میں انسانی صورت گری اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حکمت کا بیان

نجران کے عیسائیوں کے وفد کا واقعہ اور حضرت عیسیٰ عليه السلام کی بغیر باپ پیدائش کی بنیاد پر گھڑے گئے عقیدے کا رد

انسانی گمراہی اور ضعیف الاعتقادی کی وجوہات


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الٓمّٓ ۝1 اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۝2 نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ ۝3 مِنْ قَبْلُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۝4 اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰی عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۝5 هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ ؕ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۝6

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

معزز خواتین و حضرات! آج الحمدللہ ہم سورۃ آل عمران شروع کر رہے ہیں۔ جو مدنی سورت ہے اور اس میں دو سو آیتیں ہیں اور بیس رکوع ہیں۔

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے بہت مہربان ہے۔ آلٓمٓ ﴿1﴾

(یہ تو حروف مقطعات میں سے ہے اس کا ترجمہ تو نہیں ہو سکتا)

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے؛ ﴿2﴾ اس نے تم پر وہ کتاب نازل کی ہے جو حق پر مشتمل ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اسی نے تورات اور انجیل اتاریں ﴿3﴾ جو اس سے پہلے لوگوں کے لیے مجسم ہدایت بن کر آئی تھیں، اور اسی نے حق و باطل کو پرکھنے کا معیار نازل کیا۔

یہاں قرآن کریم نے لفظ "فرقان" استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو۔ قرآن کریم کا ایک نام "فرقان" بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے۔ چنانچه بعض مفسرین نے یہاں "فرقان" سے قرآن ہی مراد لیا ہے۔ دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو انبیائے کرام کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا۔ نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں

بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست اقتدار کا مالک اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے ﴿4﴾ یقین رکھو کہ اللہ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، نہ زمین میں نہ آسمان میں ﴿5﴾

وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلیٰ درجے کی حکمت کا بھی ﴿6﴾

یہاں پر دو باتیں ایسی کی گئی ہیں جن کی تشریح کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے اعلیٰ درجے کی حکمت کا بھی۔

اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے، اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سو فیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہو رہا ہے۔ اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی۔ سورۂ آل عمران کی کئی آیات اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہیں۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ یہ آیت اس دلیل کی تردید بھی کر رہی ہے۔ اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی تخلیق اور صورت گری اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے۔ اگرچہ اس نے معمول کا طریقہ یہ بنایا ہے کہ ہر بچہ کسی باپ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اس طریقے کا نہ پابند ہے نہ محتاج۔ لہٰذا وہ جب چاہے جس کو چاہے بغیر باپ کے پیدا کر سکتا ہے، اور اس سے کسی کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔

اصل میں واقعی لوگ مختلف وجوہات سے شیطان کی وجہ سے گمراہی کے گڑھے میں پڑ جاتے ہیں۔ کچھ زیادہ کچھ کم۔ مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کا جو وجود مبارک ہے وہ اللہ جل شانہٗ نے معجزاتی طور پر، جبرائیل علیہ السلام کے نفخ سے بنایا۔ تو اس کا جواب قرآن میں دیا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام تو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا ہوئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی تو ماں تھی۔ لیکن آدم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگ تو یہ نہیں کہتے ہو؟ تو یہ کیا وجہ ہے؟

تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ذرا بھی عجیب بات ہو جائے نا، تو اس کو مافوق الفطرت قرار دے کر اس کو پوجنے لگتے ہیں۔ یہ ہندو لوگ تو یہی کرتے ہیں۔ اب Corona ہے، Corona کے بھی انہوں نے بت بنا لیے۔ اور اس کو بھی پوجتے ہیں۔ وہ جس چیز سے ڈرتے ہیں، اس کو بھی خدا سمجھ لیتے ہیں۔ اور جس چیز کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے، جیسے گائے۔ تو اس کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہیں، پوجنے کے لائق ہوتی ہے۔ تو یہ ان کے ہاں یہ ضعیف الاعتقادی بہت زیادہ ہے۔

جبکہ یہود و نصاریٰ میں بھی یہ چیز تھی۔ اب یہود وہ بچھڑے والی بات میں جو پھنس گئے تھے۔ بھئی اس میں کون سی بات تھی؟ مطلب مثال کے طور پر وہ بچھڑا جو تھا وہ کیا کرتا تھا؟ اس سے ایک آواز نکلتی تھی۔ تو آواز نکلنا کوئی ایسی بات تو نہیں ہے نا جس کو خدا بنا۔۔ وہ تو بات بھی نہیں کر سکتا تھا۔ صرف ایک آواز نکلتی تھی تو اس کو خدا بنا لیا۔ تو وہ اس میں پھنس گئے تھے اور عیسائی جو ہیں، وہ اس میں پھنس گئے کہ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو خدائے یا خدا کا بیٹا۔ یہ اصل میں شیطان لوگوں کو اس طرح ورغلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو یہ اس تناظر میں یہ آیت مبارکہ بعض مفسرین کے نزدیک نازل ہوئی ہے۔

سورۃ آل عمران کا آغاز: تخلیقِ انسانی، عقیدہ توحید کی حقانیت اور ضعیف الاعتقادی کا رد - درسِ قرآن - دوسرا دور