الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم الانبیاء اما بعد، فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور احوال کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
سوال: السلام علیکم حضرت! میں معذرت چاہتا ہوں مجھے نہیں پتا کہ آڈیو میسج نہیں کر سکتے تھے، میں ان شاء اللہ خیال رکھوں گا، میں آپ کو لکھ کر میسج کر دیا کروں گا میں نے اپنا ذکر اور احوال بتانا ہے، الحمدللہ سے میرا 200، 400، 600 اور 500 کا ذکر مکمل ہو گیا ہے، مجھے آگے کا ذکر بتا دیجیے۔
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: ہاں! 200، 400، 600 اور 100 یہ ذکر کر کے پھر اس کے بعد آپ یہ کریں کہ 10 منٹ کے لیے آنکھیں بند اور زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر یہ تصور کریں کہ میرا دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ یہ جو "اللہ اللہ" آپ پہلے 100 دفعہ کر چکے ہوں گے، وہ تصور کریں کہ میرا دل کہ رہا ہے۔
سوال: میرا سوال دعا سے متعلق ہے وہ یہ کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میں اللہ پاک سے دعا کروں کہ مجھے خانقاہ کے پاس اپنا ذاتی گھر مل جائے تاکہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ یہاں قریب رہ کر اپنی اور ان کی اصلاح بھی کروا لوں اور حضرت کے ساتھ رہوں تو گناہوں سے بچنا آسان ہوگا۔ آپ حضرت کی صحبت بھی میسر رہے گی۔ پھر بعد میں سوچا کہ بظاہر اسباب سے اگرچہ اپنا ذاتی گھر ملنا تقریباً ناممکن لگ رہا ہے، لیکن اللہ پاک کے لیے تو مشکل نہیں، میرے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ تو کیا اس طرح کی دعا بھی کرنی چاہیے جو بظاہر اسباب سے اس کے موافق نہ لگ رہے ہوں؟ جیسے میرا یہ معاملہ ہے۔ جس وقت میں یہ سوال لکھ رہا تھا، اس وقت میرے ذہن میں آپ کی دعا سے متعلق ایک جواب جو آپ نے مجھے بتایا تھا ذہن میں آگیا کہ آپ اللہ پاک سے وہ مانگو جو آپ اپنے لیے بہتر سمجھتے ہو، اللہ پاک وہ کریں گے جو آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ پھر بھی سوال بھیج رہا ہوں تاکہ باقی لوگوں کو بھی اس کے بارے میں رہنمائی مل جائے۔
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: وہ جو آپ کے دل میں آیا بالکل صحیح ہے، یہی ہم بتاتے ہیں کہ آپ اپنے لیے وہی مانگو جو آپ بہتر سمجھتے ہیں اور اللہ پاک آپ کے لیے وہ کر دیں گے جو آپ کے لیے بہتر ہوگا، ٹھیک ہے۔
سوال: ذکر لینا تھا۔ (اچھا بتائیں کون سا ذکر تھا؟)
جو ابھی مہینے کے لیے کیا تھا وہ 200 دفعہ "لا الہ الا اللہ" اور 400 دفعہ "لا الہ الا ہو" اور 400 دفعہ "حق" اور 100 دفعہ "اللہ" کیا تھا۔
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: ماشاء اللہ! اب اس طرح کر لیں 200 دفعہ "لا الہ الا اللہ"، 400 دفعہ "لا الہ الا ہو"، 600 دفعہ "حق" اور "اللہ" 100 دفعہ، ان شاء اللہ۔
سوال: حضرت! جو ہم نے پہلے مراقبات اور ذکر وغیرہ کیے ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ دوبارہ ہم ان کو شروع کریں یا کیا؟
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: جی ہاں! ہو سکتا ہے، اصل میں جس وقت انسان کو ان ساری چیزوں کا پتا چل جائے تو پھر اس میں دیکھے کہ میرے لیے کون سی چیز مفید ہے یعنی اس میں مجھے کون سی چیز سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے، تو اس کا ایک معمول اپنے لیے مقرر کر لے اور اس معمول کو پھر وہ کر لیا کرے، تو اس سے ان شاء اللہ وہ فائدہ چلتا رہے گا۔
حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مشایخ کو چاہیے کہ اپنے لیے ایک معمول تجویز کر کے اس کو باقاعدہ کر لیا کریں کیونکہ اگر یہ چھوڑ دیا تو ایک دن کورے کے کورے رہ جائیں گے۔ حاجی فاروق سکھروی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے فرمایا، وہ ذکر کرا رہے تھے، فرمایا بھائی اس بہانے ہم بھی ذکر کر لیتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعی یعنی یہ کرنا چاہیے، اس کا فائدہ ہوتا ہے۔
سوال: معمول میں حضرت ایک ہی ذکر کر لیں یا وہ پانچ پانچ دن سارے کرتے رہیں یا دس دن اپنی طرف سے مقرر کر لیں؟
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: نہیں! ایک تجویز ایک ہو جائے نا، وہ پھر میں آپ سے بعد میں بات کر لوں گا ان شاء اللہ تو اس پر تجویز کر لیں گے ان شاء اللہ۔
سوال: حضرت! جو ذکر کے بعد مراقبات ہوتے ہیں، کچھ ساتھیوں کو وہ پتا نہیں چلتا کہ یہ مراقبات کا اب پوچھتے ہیں یا مکمل کرتے ہیں کہ اس کا اثر کیا محسوس ہوا۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ٹائم سے ہوا اور جو یقین تھا اس کا وہ یقین اتنا آگیا جو صفاتِ ثبوتیہ ہے یا باقی، لیکن اس کے علاوہ جو ہے نا اثر کا خاص کر خواتین نہیں بتاتی کہتی ہیں ہم نے کر لیا ہے، تو اثر کا ہمیں نہیں پتا، تو اس کا کیا ہوگا؟
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: اصل میں، میں آپ سے ایک بات عرض کروں، یہ جو مراقبات ہیں نا یہ کوئی سیر سپاٹا نہیں ہے۔ یہ باقاعدہ ایک بامقصد "کورس" ہے جس میں کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔ وہ مقاصد اگر حاصل نہ ہوں تو اس کا مطلب ہے جیسے بغیر مطلب کے کوئی، کوئی چیز پڑھ لے، تو اس کا وہ مقصد تو اس کو حاصل نہیں ہوا۔ تو اس مقصد کو اصل میں کہ حاصل ہوا یا نہیں، ہم پوچھتے ہیں، وہ اصل ہوتا ہے۔ یعنی وہ مقصد اس میں حاصل ہوا یا نہیں حاصل ہوا۔
تو ظاہر ہے وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو بتائیں گے اس سے ہمیں پتا چل جاتا ہے نا کہ کس کا فائدہ ہوا کس کا نہیں ہوا۔ یہ اندازہ پھر لگ جاتا ہے نا۔ ویسے تو ظاہر ہے ہم تفصیل سے تو نہیں جانتے لیکن یہ بات ہے کہ اتنا اندازہ ہو جاتا ہے کہ آیا اس کو واقعی فائدہ ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں جی سکون ملا ہے۔ بھائی! سکون کے لیے تو کیا ہی نہیں ہے، سکون تو اس میں مقصد ہی نہیں تھا۔ تو وہ Side effect ہو سکتا ہے لیکن وہ Main effect تو نہیں ہے۔
تو اس وجہ سے جب مجھے کوئی یہ کہتا ہے تو میں کہتا ہوں بھائی اس نے تو سمجھا ہی نہیں ہے، جو اصل چیز ہے وہ تو اس نے سمجھی ہی نہیں ہے۔ اب اگر دیکھا جائے نا، دیکھیں میں آپ کو بتاؤں یہ پورا کورس ہے یعنی پہلے ہم لوگ مردوں کو تو جہری ذکر دیتے ہیں، پھر اس کے بعد سری ذکر بھی ساتھ دیتے ہیں، سری ذکر پانچ لطائف تک لے جاتے ہیں۔ اچھا یہ پانچ لطائف کا جو ذکر ہے اصل میں یہ مراقبے کی تیاری ہے، یہ مراقبہ نہیں ہے، اس کو عام لوگ مراقبہ سمجھتے ہیں لیکن یہ مراقبہ نہیں ہے، یہ مراقبے کی تیاری ہے۔ اس کے بعد پھر مشارب ہیں، اس کو بھی ہم مراقبہ نہیں سمجھتے، یہ مشارب ہیں، مطلب یہ ہے کہ "تجلیاتِ افعالیہ" ہے یا "صفاتِ ثبوتیہ" ہے یا "شئوناتِ ذاتیہ" ہے یا "صفاتِ سلبیہ" ہے اور اس طرح شانِ جامع" ہے۔ مراقبات شروع ہوتے ہیں بعد میں۔
اچھا! اب دیکھو مراقبہ احدیت یہاں سے شروع ہو گیا، ٹھیک ہے نا، اس کو مراقبہ کہتے ہیں، مراقبہ احدیت۔ مراقبہ احدیت بھی فیض کا اجراء ہے یعنی گویا کہ یہ بھی مراقبے کا ابتدائی مرحلہ ہے، فیض کا اجراء ہے۔ پھر اس کے بعد ایک خاص فیض، "تجلیاتِ افعالیہ" اس کا اجراء ہے کہ سب کچھ اللہ ہی کرتے ہیں، یہ راسخ ہو جائے، راسخ ہو جائے، مطلب یہ بات ہے، یہ صرف علم کی بات نہ ہو بلکہ یہ راسخ ہو جائے۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے مراقبہ، یہ جو ہم کراتے ہیں مراقبہ احدیت کے بعد یہ خاص فیض جو ہوتا ہے۔ اچھا! تو اب اس طرح مطلب ہم لوگ ساری چیزیں جب کریں، مشارب ختم ہونے کے بعد پھر مراقبات شروع ہوتے ہیں وہ کیا مراقبہ ہوتا ہے؟ وہ مراقبہ حقیقتِ صلاۃ ہے، مراقبہ معیت ہے، وہ مراقبات ہیں۔
پھر اس کے بعد اور بڑے مراقبات ہیں، مراقبات کی کوئی حد نہیں ہے۔ اب دیکھیں میں کسی کو آیۃ الکرسی کا مراقبہ دیتا ہوں، کسی کو "لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین" کا دیتا ہوں۔ اب قرآن میں جو مراقبہ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: 18) اس کو کیا نام دیں گے آپ؟ تو مراقبات کی کوئی حد نہیں ہے، اس کو حال کے مطابق، جس کا جو حال ہے اس کے مطابق دیا جاتا ہے، تو یہ تو ہو گیا ایک سائیڈ۔
دوسرا سائیڈ اب بتاتا ہوں، دوسرا سائیڈ یہ ہے Limited ہیں۔ کیسے Limited؟ کیونکہ مقصد اس میں کیا ہے؟ مقصد اس میں سلوک کی تیاری ہے۔ تو جیسے ایک خاص حد تک پہنچ کے سلوک کے لیے انسان Capable ہو جاتا ہے، پھر فوراً مجھے مجاہدات پہ لانا ہے، ریاضات پہ لانا ہے، ان چیزوں پہ لانا ہے تاکہ ان کے اندر استعداد پیدا ہو کام کرنے کی۔ اب سارا دن چھ چھ گھنٹے مراقبے کر کے آپ کام کے بالکل قابل نہ ہوں تو کیا فائدہ؟ ابھی دیکھو نا اس میں بعض حضرات کہتے تھے نا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ نقصان پہنچتا ہے لیکن پھر بھی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ کمی ہے نا تو اس کمی کو دور کرنا، تو وہ کمی سلوک سے دور ہوگی۔ ویسے دور نہیں ہوگی۔ تو پھر سلوک طے کرایا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اس میں کہیں سے بھی شروع کیا جا سکتا ہے سلوک، جب انسان کو پتا چل جاتا ہے کہ اب یہ کام کرنے کے قابل ہو گیا تو پھر اس کو سلوک کا کام کراتے ہیں، تو یہ ہے۔
سوال: حضرت جو نماز ہے، تو نماز کا بھی مراقبہ اور، جیسے نماز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس کی نماز صحیح نہیں اس کے سارے معاملات گڑبڑ ہیں۔ اس پر میں نے غور کیا تو نماز میں واقعی سب کچھ ہے صبر بھی ہے، ساری چیزیں نماز کے اندر آتی ہیں۔
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: اس میں، میں ایک بات Add کروں گا باقی باتیں آپ کی صحیح ہیں۔ نماز میں سب کچھ ہے، لیکن نماز نماز ہو جائے۔ دو باتیں، ابھی گزری ہیں نا باتیں، حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے "آسان ترجمہ" میں جو کی ہیں۔ نماز اگر نماز ہو جائے تو نماز میں سب کچھ ہے، اب نماز اگر نماز نہ ہو تو پھر وہ چیز نہیں ملے گی۔ اب اگر وہ چیز آپ کو سلوک کے ذریعے سے ملے گی تو پھر کیا؟ یعنی وہ جو نماز نماز بن جائے وہ سلوک کے ذریعے سے بنے، تو پھر کیا ہے؟
مطلب یہ والی بات ہے، تو اب یہی بات ہے کہ یہ آپس میں جیسے وہی نفس اور قلب آپس میں مسلسل Interact کرتے ہیں نا، یہی چیز اس میں بھی ہے۔ دیکھو قرآن پاک میں ہے:
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ہاں بالکل اب اس کی جو کمی ہے وہ کیا چیز ہے؟ وہ ایمان کی کمی ہے نا، ایمان نہیں ہے۔ منافقین ہیں۔ اس وجہ سے وہ کرتے ہیں یا تو سستی کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے، اب اس میں بات ہے کہ وہ سستی اگر مسلمان کی ہے تو وہ سلوک کے ذریعے سے دور کریں گے اور اگر ایمان کی ہے تو پھر ایمان لانے کے ذریعے سے دور ہوگی۔
تو مطلب یہ ہے کہ یوں جو چیز ہے نماز جو ہے اس میں تو اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِؕ- وَلَذِکْرُ اللّٰهِ اَکْبَرُؕ (العنکبوت: 45) یہ بات تو ہے، لیکن نماز نماز بن تو جائے، اب یہ دیکھیں نا میں آپ کو ایک اور طریقے سے عرض کروں ہمارے دل کا اثر آنکھ پر، کان پر، زبان پر، دماغ پر سب چیزوں پر ہوتا ہے اور ان ساری چیزوں کا دل پہ ہوتا ہے نا اثر۔ اب ایک عجیب بات عرض کروں اس حدیث شریف سے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ بری صحبت سے خلوت اچھی ہے اور اچھی صحبت خلوت سے اچھی ہے۔ اب اگر ہم اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو چونکہ ہمارا دماغ، ہماری آنکھیں، ہمارے کان، ہماری زبان یہ سب غلط استعمال ہو رہے ہیں۔ یعنی ہم معاشرے کے اندر ہیں اور معاشرے سے برائیاں لے رہے ہیں اور وہ ہمارے دل پہ اثر پڑ رہا ہے، اس کے لیے ہمیں کہاں جانا چاہیے؟ خلوت میں جانا چاہیے، تاکہ یہ نہ ہو، پھر خلوت میں تو ہم صرف ان چیزوں سے کٹ جائیں گے، وہ جو بہتری ہے وہ تو ذکر سے آئے گی اور صحبت سے آئے گی۔ ٹھیک ہے نا؟
اب ذکر تو ہم خلوت میں کر سکتے ہیں لیکن صحبت تو خلوت میں نہیں ہو سکتی، اس کے لیے پھر اچھی صحبت میں جائیں گے۔ تو اس لیے اچھی صحبت چاہیے ہوگی۔ تو اچھی صحبت کے ذریعے سے ہمیں وہ مل جائے گی اس کے بعد ہمارا دل اور دماغ جب درست ہو جائے، یعنی اس خلوت اور اس جلوت جو صحبت ہے، پھر ہم جب آئیں گے تو پھر ہماری آنکھ صحیح استعمال ہوگی۔ تو گویا کہ ہم صحیح چیزیں لیں گے Pick کریں گے۔ ہمارے کان صحیح استعمال ہو جائیں گے ہم صحیح چیزیں سنیں گے لوگوں سے، ہمارا دماغ صحیح استعمال ہوگا، ہم صحیح چیزیں سوچیں گے، تو پھر وہ معاشرے سے اچھی چیزیں لیں گے اور معاشرے کو اچھی چیزیں دیں گے۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اس میں بھی وہی والی بات آگئی، کہ آپس میں Interact کر رہے ہیں کہ ہم لوگ خیر اور شر کے درمیان چل رہے ہوتے ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ اگر ہماری نماز خیر کے رخ پر آجائے، یعنی اس میں خشوع خضوع آجائے جو کہ ہماری کچھ سستیوں کی وجہ سے نہیں ہوتا یا ہمارے کچھ دل کے بگاڑ کی وجہ سے نہیں ہوتا، تو سستی کو تو ہم دور کریں گے سلوک سے اور دل کے بگاڑ کو دور کریں گے ذکر سے۔ تو ذکر جو اصلاحی ذکر ہے وہ اس کے لیے ہوتا ہے۔ پس اصلاحی ذکر کے ساتھ جب ہمارا دل درست ہو جائے گا تو نماز بھی ہماری درست ہو جائے گی، نتیجتاً ہم نماز کی برکات بھی حاصل کرنے لگیں گے۔
سوال: اس سے حضرت ایک بات بہت اچھی سمجھ آگئی کہ بعض لوگوں کی نماز بہت اچھی ہوتی ہے یعنی لمبی نماز اور بہت، لیکن اور سارے معاملات گڑبڑ ہوتے ہیں، تو یہ مطلب ہے کہ سلوک کے ذریعے سے ان کی نماز صحیح نہیں ہوئی ہوتی۔ ویسے ہی نماز ان کی عادتاً نماز ایسی ہوتی ہے۔
(سوال جواب مجلس 12 فروری 2024، مجلس نمبر 660)
جواب: عادتاً نماز ان کی درست ہے لیکن ابھی چونکہ ان کی اصلاح نہیں ہوئی ہے، اصلاح چونکہ نہیں ہوئی یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک جُز میں کمال حاصل کر لیا لیکن ابھی باقی اجزاء میں نہیں گیا ہے، تو لہٰذا وہ باقی اجزاء جو رہتے ہیں اس کی وجہ سے بگاڑ ہوگا۔مثال کے طور پر، (یا کریم)! میں نماز پڑھتا ہوں اور ساتھ کھڑے ہوئے آدمی کا خیال نہیں رکھتا تو معاملات میں گڑبڑ ہے۔ مثال کے طور پر میں اپنے ہاتھ اس طرح کر لیتا ہوں اور اس کی پروا نہیں کرتا کہ دوسرے کو اس سے تکلیف ہوتی ہے یا وہ، تو یقیناً میرے معاملات میں گڑبڑ ہے، معاشرت میں گڑبڑ ہے۔ یعنی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں لیکن اس سے پتا چلتا ہے نا۔ امام صاحب اگر پیچھے لوگوں کا خیال نہیں رکھتا مثال کے طور پر دھوپ میں کھڑے ہیں اور ان کو پروا نہیں ہوتی اور بڑی لمبی قرات کر رہے ہیں تو معاملات میں گڑبڑ ہے۔ اس کو یہ احساس نہیں ہے کہ مجھ سے لوگ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ یا تو ان کا انتظام کر لے سائبان اور تمام چیزوں کا انتظام کر لے تاکہ وہ بھی ان کی طرح ہوں، یا پھر یہ ہے کہ ان کے لیے نماز مختصر پڑھے۔ یعنی اس وقت جس کو کہتے ہیں نا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، مقتدیوں میں بھی مسئلہ ہے اور دوسری طرف بھی مسئلہ ہے اور یہ مسائل کا پورا ایک Chain ہے، تو مسائل بہت زیادہ ہیں، اللہ بچائے۔
سوال: السلام علیکم حضرت! میں نے ایک مہینہ ذکر کیا تھا اور پھر چھوڑ دیا۔ اذکار تو ہو جاتے ہیں سارے سوائے بارہ تسبیح ذکر کے اور Third Kalima کے۔ آپ بتا سکتے ہیں کہ ابھی مجھے کیا کرنا ہے؟
(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024 ، مجلس نمبر 659)
جواب: دیکھیں! اللہ جل شانہٗ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (فصلت: 30) "بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے اور پھر اس پر قائم رہے" استقامت اختیار کی، تبدیل نہیں کیا اس کو۔ تو ان کے بارے میں پھر بہت بڑی بشارت ہے۔ ملائکہ اترتے ہیں اور ان سے ملتے ہیں، ان کو جنت کی بشارت دیتے ہیں، بڑی تفصیل ہے اس میں۔ تو اب استقامت پر ہی سب کچھ ملتا ہے۔ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اب کیا کرنا ہے؟ تو میں آپ کو کیا بتاؤں کہ کیا کرنا ہے؟ آپ نے میری بات کو تو ختم کیا تھا، جو میں نے آپ کو بتایا تھا وہ تو آپ نے مانی نہیں۔ تو اس کا مطلب ہے دوسری دفعہ بھی شاید آپ ایسا ہی کریں گے، تو اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ یعنی ظاہر ہے فائدہ نقصان تو آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ استقامت تو آپ نے اختیار کرنی ہے۔ وہ جو دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ پیر ہی سب کچھ کرے گا مرید کے لیے، تو وہ تو ہمارے ہاں نہیں ہے۔ ہم تو صاف صاف بتاتے ہیں بھئی کرنا تو آپ نے خود ہی ہے اور پیر صرف راستہ بتاتا ہے۔ تو راستہ تو بتا دیا تھا اب آپ کو سمجھ نہیں آئی تو میں کیا کروں؟ اگر آپ کو سمجھ آ سکتی ہے تو عرض کروں گا کہ آپ توبہ کریں، آئندہ کے لیے ناغہ نہ کریں اور ابھی سے ارادہ کر لیں کہ ابھی مجھے جو بتایا جائے گا، تو میں من و عن مانوں گا اور اس میں درمیان میں بالکل اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کروں گا۔ ورنہ پھر یہ علاج، علاج نہیں ہوگا صرف علاج کے ساتھ مذاق ہوگا۔ تو آپ مجھے بتا دیں، تو جب آپ کی بات آجائے گی تو پھر اس کے بعد میں آپ کو کچھ عرض کروں گا ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم! کیا حال ہے حضرت؟ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ، "لا الہ الا اللہ" 200، "لا الہ الا ہو" 400، "حق" 600 اور "اللہ" ساڑھے نو ہزار، مہینہ سے زیادہ ہوا ہے، آگے کیا حکم ہے؟
(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024 ، مجلس نمبر 659)
جواب: ماشاء اللہ! بہت اچھی بات ہے، اللہ جل شانہٗ آپ کو استقامت عطا فرمائے۔ اس میں اب دس ہزار مرتبہ اب "اللہ اللہ" کر لیں، باقی سب وہی ہوگا۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت! فقیر مولانا سید عمر فاروق رحمانی کرناٹک ہندوستان سے، مشغلہ درس و تدریس ہے۔ حضرت مفتی مسعود عزیزی صاحب دامت برکاتہم کے واسطے سے حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں اجازت و خلافت حاصل ہے۔ بندہ آپ سے تصوف سلسلے کی اجازت کا متمنی ہے، امید ہے آپ مجھ فقیر پر ضرور شفقت فرمائیں گے، آپ کی دعا کا محتاج ہوں۔
(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024 ، مجلس نمبر 659)
جواب: ماشاء اللہ! اجازت ایک صاحب کی بھی ہو تو کام کرنے کی بات ہوتی ہے۔ ترقی تو کام سے ہوتی ہے، اجازتوں سے نہیں ہوتی۔ بہر حال یہ کہ آپ کو چونکہ اجازت ملی ہوئی ہے تو اب آپ کام کریں۔ میں بھی آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ یہ زیادہ اجازتوں کی بات نہیں ہوتی، ایک اجازت سے بہت کام لیے جاتے ہیں۔ ہمارے کتنے بڑے حضرات ہیں جن کے پاس ایک اجازت ہوتی تھی اور ماشاء اللہ ان کو پھر اللہ پاک نے کتنی برکت عطا فرمائی۔ تو لاکھوں لوگ ان سے مستفید ہوئے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو کتنی اجازتیں حاصل تھیں؟ ایک ہی حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ والی تھی۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ والی بھی ایک ہی اجازت تھی میری معلومات تک۔ اس طریقے سے ماشاء اللہ ہمارے بڑے بڑے اکابر کو۔
تو ماشاء اللہ آپ کا جو سلسلہ جو آپ نے بتایا صحیح سلسلہ ہے اور میرے لیے بھی آپ دعا فرمائیں، آپ کے لیے بھی میں دعا کرتا ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ دعاؤں کے ذریعے سے ہم بہت کچھ Help کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ہو جس کے لیے مثال کے طور پر کوئی چیز سمجھنی ہو، تو اس میں ایک دوسرے سے مدد لی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر میں آپ سے عرض کر سکتا ہوں کہ یہ چیز مجھے سمجھ نہیں آئی تو آپ مجھے بتا دیں، آپ مجھ سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز مجھے سمجھ نہیں آئی تو آپ مجھے بتا دیں۔ مجھے خود پتا ہے حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خط لکھا تھا حضرت مولانا اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ کو جو ہمارے شیخ تھے، ایک خاص سلسلے کے ذکر کے بارے میں پوچھا تھا، تو حضرت نے بتا دیا تھا۔ تو اس طرح مطلب یہ کہ ایک دوسرے سے یہ چیزیں پوچھنے کی بات ہوتی ہے۔ ہاں البتہ نقشبندی سلسلے کے ہاں ایک پہلے سلسلہ چلا آ رہا تھا کہ وہ بتاتے تھے کہ اتنا آپ نے کر لیا اور اگر اس کو بڑھانا ہے تو آپ کسی اور سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں یعنی تربیت کے لیے۔ تو وہ تربیت کے لیے رابطہ ہوتا تھا، اس چیز کے لیے تو رابطے کی میرے خیال میں ضرورت ہی نہیں ہے۔ بہر حال اگر میری بات آپ کی طبیعت پر بوجھ ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں، دعاؤں کی درخواست ہے۔
سوال: حضرت شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے فرمایا تھا کہ پہلا وظیفہ چالیس دن بلا ناغہ پورا کر کے رابطہ کرو، میں نے الحمدللہ چالیس دن وظیفہ پورا کر لیا ہے، آگے آپ کے حکم کا انتظار میں ہوں۔
(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024 ، مجلس نمبر 659)
جواب: ماشاء اللہ! یہ بڑا اچھا کیا آپ نے الحمدللہ چالیس دن والا وظیفہ بلا ناغہ پورا ہو گیا۔ اب آپ اس طرح کر لیں کہ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار یہ آپ سو سو دفعہ کریں گے عمر بھر کے لیے۔ اور آگے آپ ان شاء اللہ العزیز "لا الہ الا اللہ" یہ ضرب کے ساتھ اور جہر کے ساتھ، جیسے اس طرح: "لا الہ الا اللہ" سو دفعہ، "لا الہ الا ہو" سو دفعہ، "حق" سو دفعہ، "اللہ" سو دفعہ۔ یہ آپ سو سو دفعہ روزانہ ایک وقت مقرر کر کے کر لیا کریں، تو ان شاء اللہ العزیز ایک مہینے کے بعد پھر آپ مجھے بتائیں گے۔
سوال: امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ ویب سائٹ کے ذریعے روزانہ کے بیانات اور دروس سنتا ہوں، بہت استفادہ ہوتا ہے۔ ایک مہینے سے لطیفہ قلب پر ذکر مکمل ہو گیا ہے، بہت اچھے اثرات محسوس ہوئے ہیں۔ غفلت دور ہو گئی ہے تاہم شہوت اور غصہ اپنے عروج پر ہے اور ساتھ آزمائشیں بھی بہت آئی ہیں، حضرت آپ سے خصوصی دعا، باطنی توجہ اور رہنمائی کی درخواست ہے۔
(سوال جواب مجلس 5 فروری 2024 ، مجلس نمبر 659)
جواب: ماشاء اللہ! یہ ساری چیزیں تار کی طرح ہیں۔ یعنی جیسے تار ہوتا ہے نا، معمولات۔ تو یہ توجہ اور یہ چیزیں بالکل باقی تار کی طرح کرتی ہیں کام۔ تو اس تار کے اندر جو کرنٹ دوڑ سکتا ہے نا وہ معمولات کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ تو معمولات آپ جاندار رکھیں ان شاء اللہ یہ باقی چیزیں ہوتی رہیں گی ان شاء اللہ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ماشاء اللہ یہ جو آپ نے بات فرمائی ہے کہ بہت اچھے اثرات محسوس ہوئے، تو یہ قلب کے متاثر ہونے کی ہے بات۔ جہاں تک شہوت اور غصہ والی بات ہے وہ نفس کی وجہ سے ہے۔ تو نفس کی اصلاح سلوک کے ذریعے سے ہوتی ہے لیکن ابھی آپ کو اندازہ ہو گیا، پتا چلنا شروع ہو گیا۔ کیونکہ جیسے جیسے دل ٹھیک ہوتا جاتا ہے، بیدار ہوتا جاتا ہے تو اس کو ارد گرد کی تمام غلط چیزوں کا احساس ہونے لگتا ہے۔ تو آپ کو احساس ہونے لگا ہے، تو ان شاء اللہ العزیز وقت پر جب سلوک آپ طے کریں گے تو ان شاء اللہ اس کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔ اللہ جل شانہٗ مزید توفیقات سے نوازے۔