حکمتِ قبلہ اور امتِ مسلمہ کی وحدت

درس (حصہ دوم) -(اشاعت، اول) جمعرات، 3 ستمبر 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      سیرت اور فقہ کا تعلق: احکاماتِ شرعیہ دراصل سیرتِ طیبہ ہی سے مستنبط اور اخذ کیے گئے ہیں۔

·      قبلہ کی اہمیت: ایک خاص سمت کا تعین امتِ مسلمہ کی وحدت اور اجتماعیت کے لیے ہے۔

·      خانہ کعبہ کی تاریخ: یہ دنیا کا پہلا گھر ہے جسے حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ نے بنایا۔

·      تحویلِ قبلہ کی حکمت: امامت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہونے کا عظیم اعلان۔

·      کعبہ کی مرکزیت: ستارہ پرستوں اور بت پرستوں کے برعکس اسلام میں توحید کا حقیقی مرکز۔

·      کفار کے اعتراضات کا جواب: سجدہ کعبہ کی عمارت کو نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر ایک سمت کو ہے۔ (15 الفاظ)

·      فقہی مسائل: عینِ قبلہ، جہتِ قبلہ کا فرق اور دورانِ سفر قبلہ رخ ہونے کا طریقہ۔

·      حرمِ مکی اور صفِ اول: خانہ کعبہ کے گرد صفِ اول کے حصول کا طریقہ اور اس کی فضیلت۔

·      یہود کا حسد: حق جاننے کے باوجود تحویلِ قبلہ پر یہودیوں کا ضد اور شدید حسد کرنا۔

·      دعوت کی حکمت: نصیحت کرتے وقت حضرت تھانویؒ کے واقعے کی روشنی میں مخاطب کے مزاج کی رعایت۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج جمعرات ہے یعنی جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی سے تعلیم ہوتی ہے۔ اس تعلیم میں حضرت نے آپ ﷺ کی سیرت کو بیان کرتے کرتے بہت ساری فقہی باتوں کی بھی تشریحات فرمائی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ سیرت سے ہی مستنبط ہے جیسے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں جب تک ان پہ چلو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ایک قرآن اور دوسرے میری سنت۔

تو ظاہر ہے سنت جو ہے اس کا تعلق سیرت کے ساتھ یقیناً ہے تو سنت کا پتہ بھی سیرت سے ہی چلتا ہے۔ تو یہاں پر ایسے مضامین سارے بیان ہو جاتے ہیں جس کا تعلق فقہ کے ساتھ بھی ہے۔ تو سب سے پہلے عبادات آتے ہیں فقہ میں اور عبادات میں سب سے پہلے نماز آتا ہے۔ تو نماز میں جو بھی شرائط ہیں اور جو بھی فرائض ہیں جو واجبات ہیں ان کے بارے میں بات ہوتی ہے تو ابھی ایک اور شرط اس کے بارے میں بات ہو رہی ہے وہ ہے قبلہ کی طرف رخ کرنا۔


گذشتہ سے پیوستہ درس

(حصہ دوم)

عنوان: قبلہ


معراج میں آنحضرت ﷺ کا بیت المقدس (مسجدِ اقصی) میں نماز ادا کرنا اور اس سے چند سال بعد خانہ کعبہ کا قبلہ بن جانا گویا بنی اسرائیل کے عہد کی شکست اور بنو اسماعیل کے عہد کی ابتداء کا اعلان تھا جیسا کہ اس کتاب کی تیسری جلد میں بسلسلہ معراج

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ (سورہ بنی اسرائیل: 1)

پاک ہے وہ خدا جو اپنے بندہ کو رات کے وقت مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے اس مسجدِ اقصی (بیت المقدس) تک لے گیا جس کے چاروں طرف ہم نے برکت دی ہے۔

کی تفسیر میں لکھا گیا ہے۔

اس تفصیل سے ظاہر ہوگا کہ بیت المقدس جو عہدِ اسرائیل کا نشان تھا اسلام کے بعد اس میں قبلہ ہونے کی شان باقی نہیں رہی بلکہ حضرت ابراہیمؑ کی وہ مسجد قبلہ بنائی گئی جس کا تعلق عہدِ اسماعیل سے تھا (یعنی خانہ کعبہ) وہ عہد کیا تھا؟ اس کی تفصیل یہ ہے۔

﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ (سورہ البقرہ: 124-125)

اور جب خدا نے چند باتوں میں حضرت ابراہیم کو آزمایا تو اس نے ان باتوں کو پورا کیا، خدا نے کہا میں تجھ کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں (ابراہیم نے) کہا اور میری نسل میں سے (خدا نے) فرمایا میرا عہد ظالموں کو شامل نہ ہوگا اور جب ہم نے گھر (کعبہ) کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن بنایا اور تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ سے عہد کیا کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔

غرض یہ رمزِ الہی تھا جو ہزاروں برس پہلے سے خدا کے علم میں تھا اور جس کی بنا پر رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد عالم کا روحانی مرکز بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ قرار پایا جو تاریخی حیثیت سے وہ گھر تھا جہاں کھڑے ہوکر حضرت ابراہیمؑ نے توحید کی آواز بلند کی تھی اور دنیا میں اس لحاظ سے خدا کا سب سے پہلا گھر تھا اور روحانی حیثیت سے وہ گھر قبلہ قرار پایا جو اس دنیا میں عرشِ الہی کا سایہ اور زمین پر حظیرۃ القدس کا عکس تھا اس لئے حکم ہوا۔

﴿وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (سورہ البقرہ: 149)

اور تو جہاں بھی نکلے مسجدِ حرام ہی کی طرف منہ کر۔

در حقیقت ہر مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ بھی اسی طرح کھڑا ہوکر فریضہ عبودیت ادا کرے جہاں حضرت ابراہیمؑ کھڑے ہوئے تھے لیکن چونکہ ہر مسلمان کو ہر جگہ اور ہر وقت ایسا کرنا ممکن نہیں تو کم از کم نماز کے وقت ادھر رخ ہی کرلے ورنہ ظاہر ہے کہ خدا کی رحمت اور اس کی توجہ ہر طرف برابر ہے اسی لئے قبلہ کی تعیین کے موقع پر فرمایا۔

﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ﴾ (سورہ البقرہ: 115)

پس جدھر منہ پھیرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے۔

خانہ کعبہ کی دیواریں اور اس کی چھت کسی مسلمان کا معبود و مسجود نہیں نہ مشرکوں بت پرستوں اور ستارہ پرستوں کی طرح نماز و دعا میں قبلہ سے خطاب ہوتا ہے، نہ اس سے کچھ مانگا جاتا ہے، نہ اس کی دہائی دی جاتی ہے نہ اس کو خدا سمجھا جاتا ہے، اور نہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خدا اس کے اندر بیٹھا ہے۔ خانہ کعبہ کی دیواریں اگر (بالفرض) ٹوٹ جائیں اس کی چھت گر جائے اور صرف فضا باقی رہ جائے تب بھی کعبہ قبلہ رہے گا۔ اسی طرح خود خانہ کعبہ کے اندر جاکر بلکہ اس کی چھت پر کھڑے ہوکر بھی نماز جائز ہے۔ اگر سمتِ قبلہ کا پتہ نہ لگ سکے تو جدھر قبلہ کا گمان ہو، ادھر ہی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ سواری میں نفل نماز ہر سمت جدھر سواری جارہی ہو پڑھ سکتے ہیں۔ گھمسان کی لڑائیوں میں بھی ایسا کیا جاسکتا ہے یہ باتیں ان تمام مشرکانہ غلط فہمیوں کی جو خانہ کعبہ کے قبلہ ہونے سے پیدا ہوسکتی ہیں قطعی تردید کرتی ہیں اور یہی اس باب میں دینِ محمدی کی تکمیلی حیثیت ہے۔

یہ قبلہ گویا مسلمانوں کا ارضی مرکزِ ملتِ ابراہیمی کے پیرو ہونے کا عملی ثبوت دنیا کے قدیم موحدوں کی پہلی یادگار محمد رسول اللہ ﷺ کے پیرو ہونے کا شعار اور مسلمانانِ عالم کی وحدیت کا شیرازہ ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس کی طرف رخ کرنے کو قبولِ اسلام کی علامت قرار دیا اور فرمایا کہ جو ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے اور ہمارے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھائے وہ مسلمان ہے اگر خیال کے پرواز سے اڑ کر اور فضائے آسمانی کی نیلگوں سطح پر کھڑے ہو کر دنیا کے مسلمانوں کو نماز کی حالت میں کوئی شخص دیکھے تو نظر آئے گا کہ قبلہ ایک مرکزی نقطہ ہے جس کے چاروں طرف تمام مسلمانانِ عالم دائرہ کی صورت میں خدا کے آگے صف بستہ اور سر بسجود ہیں۔




یہ اصل میں، گویا کہ قبلہ کے بارے میں بہت (ماشاءاللہ!) تشریحی مضمون ہے۔ ویسے ظاہر ہے، فقہ کی کتابوں میں تو قبلہ کے بارے میں اتنا ہی بتایا جاتا ہے کہ یعنی اس کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؛ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں سمت مراد ہے، عین وہ نقطہ مراد نہیں ہے، کیونکہ مثال کے طور پر: نقطہ اگر مراد ہوتا تو انسان سانس بھی لیتا تو اس سے ہٹ جاتا، مطلب ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ تو اس سے رخ مراد ہے؛ یعنی گویا یوں سمجھ لیجئے کہ جیسے اگر آپ ایک چوکور کمرہ لے لیں اور بالکل اس کے عین وسط میں کھڑا ہوں اور قبلہ ایک دیوار—ان میں سے کسی ایک دیوار—اس کے بالکل وسط کا لائن ہو، تو اس دیوار (جس میں قبلہ ہے) اس کے دائیں کونے سے لے کر بائیں کونے تک سارا قبلہ ہے؛ یعنی یوں سمجھ لیں اگر 45 ڈگری اصل اس لائن سے انحراف بھی ہو جائے، اس سے کم، تو پھر بھی نماز درست ہے؛ یعنی یہ بات بتائی گئی فقہ کی کتابوں میں۔

تو فقہ میں تو ان چیزوں کے بارے میں بتایا گیا۔ یہاں اصل میں حکمت بتائی گئی، تفصیلی حکمت بتائی گئی کہ قبلہ کی حکمت کیا ہے اور پھر اس میں خانہ کعبہ کیسے قبلہ قرار پایا اور اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی تحقیق حضرت نے بیان فرمائی ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ جس وقت لوگ سوال کرتے ہیں تو پھر جواب ہونا چاہیے۔ تو لوگ اس قسم کے سوالات کرتے ہیں مثلاً: بہت سارے لوگ ہیں جو سوال کرتے ہیں، بالخصوص یہ ہندو لوگ کرتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ انسان کا ایک خاصا ہے کہ جس برائی میں یہ مبتلا ہو تو اس کے لیے کوئی بہانہ اس کو چاہیے ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی اس میں مبتلا ثابت کرے تاکہ اس کے اوپر کوئی نکتہ نہ اٹھایا جا سکے۔ تو ہندوؤں کو جب چونکہ وہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ "تم شرک کرتے ہو، بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہو"، تو کہتے: "تم بھی تو خانہ کعبہ کے پتھروں کی طرف سجدہ کرتے ہو" اور اس قسم کی باتیں وہ کرتے ہیں، تو اس کا بھی جواب یہاں پر دیا گیا کہ پتھروں کو سجدہ نہیں کرتے، کیونکہ اگر پتھر نہ بھی ہوں پھر بھی ہمارا قبلہ یہی ہے، مطلب اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بالخصوص جب ہم جہاز میں اوپر چلے جائیں، تو اس وقت جہاز میں نیچے کی طرف تو کیا نہیں جا سکتا، وہ ہو گا تو اس کے اوپر سے گزر جائے گا۔ تو ظاہر وہ تو نہیں ہو سکتا، یا پھر کسی کنویں میں آپ نماز پڑھیں تو ظاہر آپ اوپر نہیں کر سکتے؛ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یعنی ہمارا اس کے ساتھ تعلق نہیں ہے، اس پوائنٹ کے ساتھ تعلق نہیں ہے بلکہ سمت کے ساتھ ہے۔

اس وجہ سے قرآن پاک میں جو الفاظ ہے "شطر المسجد الحرام" ہے۔ اس کے بارے میں کچھ فقہ کی کتابوں میں جو مزید تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ: اگر مسجدِ حرم کے اندر ہو تو عین خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنا، اگر مسجدِ حرم کے باہر ہو تو مسجدِ حرم کی طرف رخ کرنا چاہے اس کا کوئی بھی کونا سامنے آ جائے تو ہو جائے گا، اور اگر مکہ سے باہر ہو تو مکہ کی طرف رخ کرنا۔ مطلب یہ کہ اگر قریب ہو، مطلب ہے تو مکہ کی طرف ہی رخ کرنا ہو جاتا ہے۔ تو یہ جو ہے نا، یعنی آسانی کے لیے نشانیاں بتائی گئی، تو اس میں یہ ہے کہ "شطر المسجد الحرام" چونکہ بنیاد ہے اس وجہ سے اس میں یہ والا نکتہ نہیں کوئی اٹھا سکتا کہ خواہ مخواہ چند پتھروں کو سجدہ کر رہے ہیں، بلکہ پتھروں کو سجدہ نہیں ہے، اللہ کے حکم کے مطابق ایک خاص سمت میں سجدہ کر رہے ہیں۔ چونکہ اس میں حضرت نے بالکل مزید تشریح فرمائی کہ اصل میں مرکزیت اس میں پائی جاتی ہے، کیونکہ اجتماعیت میں مرکزیت کو بہت بڑا دخل ہے؛ جب تک مرکزیت نہ ہو تو اجتماعیت نہیں ہو سکتی۔ مثلاً: ایک امیر نہیں ہو تو اجتماعیت کیسے ہو؟ اور سب کے لیے ایک سمت نہ ہو تو پھر اجتماعیت کیسے ہو؟ دیکھیں۔ مقناطیس ہے نا مقناطیس، یہ کیسے بنتا ہے؟ وہ یہ ہے کہ جو چیزیں وہ مقناطیس بن سکتی ہیں تو ان کے جو poles ہیں (شمال اور جنوب قطب جو اس کے ہوتے ہیں، مطلب poles) اگر وہ منتشر ہے تو مقناطیس نہیں ہے؛ یعنی کوئی اس طرف ہے، کوئی اس طرف ہے، کوئی اس طرف ہے، مطلب یہ پھر وہ مقناطیس نہیں بنے گا؛ لیکن اگر سارے poles align ہو جائیں، یعنی ایک خاص سمت میں ہو جائیں، تو مقناطیس بن جاتا ہے، مطلب یہ کہ اس میں طاقت کھینچنے کی آ جاتی ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ اجتماعیت تبھی پیدا ہوتی ہے جب ایک خاص سمت میں سب لوگ متوجہ ہوں، تو پھر اس میں اجتماعیت آتی ہے۔ تو یہاں پر یہ ہے کہ ایک خاص سمت اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ اب خانہ کعبہ کی طرف رخ کرو، تو اس میں یہ ہے کہ مسجدِ حرم ہے اس میں تو یہ بالکل اس کا نظارہ ہوتا ہے، بالکل ایک دائرے کی صورت میں صفیں ہوتی ہیں۔

حضرت مولانا یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ تقریباً ہر سال حج پہ جایا کرتے تھے۔ اخیر والے سال میں ظاہر ہے ضعیف ہو گئے تھے، رہ گیا تھا، لیکن بہرحال ہر سال حج پہ جایا کرتے تھے۔ تسلیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے کہ جب حضرت حج پہ آ گئے تھے تو ان کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی تھیں؛ تو کہتے فرمایا کہ صفِ اول پہ بات ہوئی کسی وقت کہ صفِ اول کی جو فضیلت ہے، حضرت نے فرمایا: "آج بھی میں نے صفِ اول میں نماز پڑھی ہے، صرف طریقہ آنا چاہیے۔" اب طریقہ کیا ہوتا ہے؟ بڑی عجیب بات ہے! اب یہ ہے کہ یہ مثال کے طور پر خانہ کعبہ ہے اور یہ اس کے ارد گرد صفیں ہیں، تو صفیں جو بنتی ہیں وہ تو ظاہر ہے لوگوں کے جڑنے کے ساتھ ہی بنتی ہے نا؟ تو یہ جو صف بنتی ہے، خانہ کعبہ چونکہ بالکل چوکور نہیں ہے، تھوڑا سا یعنی چوکور سے مختلف ہے، تو اس وجہ سے وہ جو صف پہلی بنتی ہے نا وہ اس طرح باہر آ کے چلی جاتی ہے تو درمیان میں بھی ایک خلا آ جاتا ہے۔ وہ جو خلا آ جاتا ہے اس کو لوگ پر کر لیتے ہیں وہاں بھی صفیں بن جاتی ہیں، تو ٹھیک ہے وہ نماز تو ہوتی ہے لیکن وہ صفِ اول نہیں ہوتا۔ صفِ اول اس continuity کو کہتے ہیں، بیشک وہ دو تین صفوں کے بعد نظر آتا ہے دوسرے سمت میں جا کے لیکن ہوتا وہ صفِ اول ہے۔ اب جس کو یہ طریقہ آتا ہے تو وہ اس کو باقاعدہ دیکھتے ہیں، کہ یہ صف ادھر سے آ رہا ہے، اسی میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو آسانی کے ساتھ۔ کیوں؟ اس میں کوئی مقابلہ نہیں ہوتا، کوئی شور شرابہ نہیں ہوتا۔ مسجدِ نبوی میں صفِ اول پانا بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں متعین ہے، پتہ چلتا ہے کہ یہ صفِ اول ہے۔ وہاں باقاعدہ وہاں بیٹھنا پڑتا ہے، مسلسل بیٹھنا پڑتا ہے، ورنہ پھر یہ کہ موقع نہیں ملتا؛ جبکہ وہاں خانہ کعبہ والی صفیں اسی وقت بنتی ہیں جس وقت اقامت شروع ہو جائے، اور یہ جس وقت حج کے ایام ہوتے ہیں تو اس میں ذرا تھوڑے سے وقت سے پہلے بننی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ بہت ہوتے ہیں، تو وہ تھوڑے سے وقت سے پہلے بننی شروع ہو جاتی ہیں، لوگ کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ بہرحال نماز کے قریب قریب ہی شروع ہوتی ہے، اس وجہ سے جن کو اس چیز کا پتہ ہوتا ہے تو وہ باقاعدہ ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ وہ صفِ اول میں آ جاتے ہیں، عام لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا وہ سمجھتے ہیں جو خانہ کعبہ کے قریب ہے وہ شاید صفِ اول ہے۔ تو عین مقامِ ابراہیم کے سمت میں، وہاں چونکہ امام کھڑا ہوتا ہے تو وہاں تو صفِ اول پانا مشکل ہے کیونکہ وہاں متعین ہوتا ہے، پتہ ہوتا ہے نا کہ یہ صفِ اول ہے، اس سے آگے نہیں کوئی کھڑا ہو سکتا، کیونکہ امام سے آگے تو کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا نا؟ امام کے پیچھے والی صف ہی ہوتی ہے، لیکن اگر دوسرے رخ میں آ جائے تو پھر وہ امام سے آگے والا نہیں سمجھا جاتا، پھر وہ چونکہ وہ سمت ہی بدل گئی تو لہذا وہ ان کا معاملہ پھر الگ ہوتا ہے؛ تو وہ نماز کے ساتھ شامل سمجھے جاتے ہیں لیکن صفِ اول میں نہیں ہوتے۔ صفِ اول میں وہی ہوتا ہے جو امام والے کے پیچھے والی صف ہے، وہ جیسے پوری continuity آتی ہے تو اسی کے مطابق وہ صفِ اول قرار پاتا ہے۔

تو اب یہ ہے کہ باقاعدہ ایک نظم کے ساتھ وہ سارا کچھ ہوتا ہے تو اس میں ایک مرکزیت ہے۔ ایک عجیب (ماشاءاللہ!) نظارہ ہوتا ہے جو ہمیں تو شاید اس کا احساس نہ ہو لیکن کفار اس سے بہت زیادہ مرعوب ہوتے ہیں اور اس چیز کے بہت خلاف ہیں، باقاعدہ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو؛ لیکن مسلمان اس کی قدر نہیں کرتے، مسلمانوں کو اس کا پتہ نہیں ہے۔ تو یہ مطلب ہے کہ آپ جہاں پر بھی ہیں، مصر ہے تو مصر میں وہ مشرق کی طرف منہ کرتے ہیں، ہم لوگ مغرب کی طرف منہ کرتے ہیں۔ ہمارا بھی قبلہ وہی ہے ان کا بھی قبلہ وہی ہے، وہ مشرق کی طرف منہ کر کے قبلہ کی طرف ہوتے ہیں ہم مغرب کی طرف منہ کر کے ہمارا قبلہ ہوتا ہے۔ اس طریقے سے کوئی شمال کی طرف منہ کرتا ہے جیسے یمن ہے، تو یمن میں شمال کی طرف منہ کر کے خانہ کعبہ آتا ہے اور شام میں جنوب کی طرف کر کے قبلہ آتا ہے۔ بالخصوص جب جہاز میں کوئی جاتا ہے تو وہ ایک اچھا خاصا مسئلہ ہوتا ہے، یعنی اس میں جب جدہ سے روانہ ہوتے ہیں تو چونکہ بالکل مکہ مکرمہ قریب ہے تو اس وجہ سے قبلہ کا direction یکدم تبدیل ہوتا ہے چند منٹوں میں۔ صرف ظاہر ہے تقریباً aerial distance تو 40 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، تو 40 کلومیٹر کیا چیز ہوتی ہے جہاز کے لیے؟ لہذا اگر کسی کو یہ معلوم نہ ہو تو وہ بہت جلدی تبدیل ہوتا ہے۔ تو اس وقت ذرا سمت کو درست کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن بعض تھوڑی دیر آرام کر کے، انتظار کر کے جب وہ گزر جائے اس سے تو پھر بڑا ٹائم ملتا ہے، کیونکہ پھر اس وقت پھر پیچھے ہی کی طرف ہو گا، tail کی طرف ہی ہو گا قبلہ ہو گا، پھر بیشک کتنے ہی سفر کر لیں کیونکہ اپنے ملک کی طرف آ گیا ہو گا؛ تو جس وقت یہ کراچی گوادر سے اندر نہ ہو جائے اس وقت تک تو tail کی طرف ہی ہے، اور جس وقت گوادر سے ہمارے اسلام آباد کی طرف مڑتا ہے تو پھر اس کا جہاز کا جو بایاں رخ ہے (مطلب بایاں جو حصہ ہے) اس کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے، یعنی مغرب اس طرف پڑتا ہے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ اس میں اجتماعیت یہاں تک ہے کہ باقاعدہ پوری دنیا کے اندر سب لوگ ایک نقطے پہ متفق ہوتے ہیں۔

اب مسئلہ یہ بتایا گیا کہ یہ دو گھر تھے جو بنیادی تھے اور دونوں ایک ہی صاحب کے ذریعے سے تھے، وہ ابراہیم علیہ السلام تھے؛ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے پہلے گھر جو بنایا ہے وہ تو ابراہیم علیہ السلام نے خانہ مکہ کا بنایا، بیت المقدس تو بعد میں بنا ہے۔ بیت المقدس تو بعد میں داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام نے بنایا، تو اس وقت تک تو خانہ کعبہ ہی تھا، تو چونکہ وہ پیغمبر تھے ان کی وحی کے مطابق بیت المقدس قبلہ قرار پایا، تو اس وقت تک چل رہا تھا۔ تو چونکہ latest وہی تھے، تو آپ ﷺ جب تک مکہ مکرمہ میں تھے تو اس طرح پڑھتے تھے کہ دونوں پہ عمل ہو جائے؛ تو ایسے نماز پڑھتے تھے کہ خانہ کعبہ کی طرف بھی رخ ہو اور بیت المقدس کی طرف بھی رخ ہو۔ لیکن جیسے ہی مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو چونکہ latest انبیا کا تو قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا، تو بیت المقدس کی طرف رخ کرنا پڑتا تھا؛ لیکن دل کی آرزو یہ تھی کہ چونکہ اپنا قبلہ تو یہی رہا تھا (اجداد کا) تو اس کی طرف رخ کرنے کا تھا؛ تو اللہ پاک نے بھی فرمایا کہ ہم جانتے تھے کہ تمہارے دل میں یہ بات ہے کہ اس طرف، تو اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اس طرف رخ کر لو۔

تو یہ گویا کہ بیت المقدس سے پھر، اب ظاہر ہے اس پر بڑے چِیں بَہ جَبِیں ہوئے لوگ۔ مشرکوں کو بھی کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے تھا اعتراض کرنے کا، انہوں نے کہا کہ: "کیوں؟ یہ دیکھو نا! اپنے قبلے تبدیل کر رہے ہیں۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو پہلے والا غلط تھا، اور اگر پہلے والا ٹھیک تھا تو اب یہ غلط ہے۔" مطلب کوئی اس قسم کی logical باتیں پھر کرتے رہے لوگ۔ تو ان کو جواب دیا کہ دونوں ٹھیک ہیں، پہلے بھی اللہ کا حکم تھا اب بھی اللہ کا حکم ہے۔ اصل تو اللہ کا حکم ہے، اصل تو کسی خاص طرف منہ کرنا نہیں ہے، اصل تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے؛ تو پہلے بھی اللہ تعالی کے حکم کے مطابق تھا اب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو ان کو تو جواب یہ دیا گیا۔ یہود بڑے چِیں بَہ جَبِیں ہوئے کیونکہ ظاہر ہے ان کا قبلہ چلا آ رہا تھا، تو ظاہر ہے گویا کہ ایک قسم کا جیسے اس بات پر ان کو حسد تھا کہ بنی اسرائیل (سے نکل کر) بنو اسماعیل میں آ گئی نبوت، تو اب تو حسد اور بڑھ گیا کہ قبلہ بھی ہمارا نہیں رہا؛ تو مقابلے پہ وہ آئے... لیکن ان کو بھی جواب دیا گیا۔ تو اس وجہ سے جو قبلہ ہے، یہ ایک اجتماعیت کی نشانی ہے۔

اب ماشاءاللہ! مسجدِ اقصیٰ جو بیت المقدس میں ہی ہے، اس کا رخ بھی خانہ کعبہ کی طرف ہے؛ ظاہر ہے خانہ کعبہ کی طرف ہی رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا حکم اب یہی ہے، مسلمانوں کے لیے تو یہی حکم ہے۔ اور جانتے تو وہ بھی تھے یہودی لیکن بدبخت حسد میں آ گئے، ورنہ اوس و خزرج کو تو وہ کہتے تھے کہ: "ایک نبی آئے گا، ہم ان کے ساتھ ہوں گے، وہ تمہارے ساتھ پھر لڑیں گے۔" خدا کی شان کہ اوس و خزرج ہی ایمان لے آئے اور وہ ان کے ساتھ مل کے، یہودیوں کے ساتھ لڑ پڑے۔ خدا تعالیٰ کی شان ایسا ہوا تو حسد کی وجہ سے ایسا ہوا۔ حسد ایسی آگ ہے جو انسان کے سوچ اور عقل پر بالکل پردہ ڈال لیتا ہے، اس وقت انسان کا دوسری طرف سوچنے کا بالکل رجحان ہی نہیں ہوتا۔ اب لڑائیوں میں دیکھیں نا! جب آپس میں لڑائیاں ہوتی ہیں تو مخالف فریق کی کسی بات کی طرف انسان کا ذہن جاتا ہے؟ وہ پھر مقابلہ ہی ہوتا ہے۔ اس وقت میں اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، یہ بعض لوگ جو ہوتے ہیں، بعض لوگ جو ہوتے ہیں، بس جس کو کہتے ہیں جذباتی سمجھ لیں یا بیوقوف سمجھ لیں، وہ زبان سے ایسی بات بک لیتے ہیں کہ کفر تک بات چلی جاتی ہے، کفر تک بات چلی جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ: "اگر تم جنت میں جاؤ گے تو میں دوزخ میں جاؤں گا۔" بھئی یہ کیا بات ہے؟ بھئی تمہارا جنت میں جانا، تمہارا دوزخ میں جانا تمہارے اپنی مرضی پہ تھوڑا ہے؟ مطلب وہ تو اللہ تعالی کی طرف سے ہو گا۔ لیکن اس قسم کی باتیں بھی ان کی زبانوں سے نکل جاتی ہیں۔ اور مطلب کوئی اس کو کہہ دے: "بھئی تم کافر تو نہیں ہو؟" تو غصے میں کہہ دے کہ: "ہوں!" یہاں تک کہہ دیتے ہیں؛ یعنی بالکل عقل وغیرہ ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ایسے وقت میں ایسے لوگوں کے ساتھ ایسی بات کرنی نہیں چاہیے جس کے جواب میں کچھ اس قسم کی حرکت ان سے ہو جائے، اس وقت خاموشی بہتر ہے۔

حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ: "پہلے میں سفر میں لوگوں کو نصیحت کیا کرتا تھا، اب نہیں کرتا کیونکہ لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ ان کا مزاج کیسا ہے، کس حالت میں ہے۔" کہتے ہیں: ایک ٹرین میں ایک شخص نے پاجامہ نیچے گرایا ہوا تھا ٹخنوں سے، تو میں نے ان کو کہا کہ: "آپ اس کو اوپر اٹھائیں۔" اس نے کہا: "کیوں؟" میں نے کہا کہ: "شریعت میں ایسا ہی ہے۔" تو اس نے شریعت کو گالی دی (نعوذ باللہ من ذالک)۔ تو کہتے حضرت نے فرمایا کہ: "میں اتنا زیادہ پریشان ہو گیا کہ میری وجہ سے یہ کافر ہو گیا، یعنی مجھے ان سے کچھ نہیں کہنا چاہیے تھا۔" فرمایا: "اب میں نصیحت نہیں کرتا سفر میں کسی کو۔" پتہ ہی نہیں چلتا ہے ظاہر ہے کوئی کس پوزیشن پہ ہے؟ بھئی اگر چلو ایک حرام ہی تھا نا، کافر تو نہ ہوتا نا؟ تو لیکن یہ والی بات ہے کہ مطلب اس قسم کی بات۔ تو یہ جو حسد ہے اور یہ ضد جو ہے، یہ ایسی بلائیں ہیں کہ انسان کو بالکل ہی حق سے برگشتہ کر سکتے ہیں۔

تو یہود کے ساتھ ایسے ہی ہوا، یہ ضد میں آئے اور حسد میں، ورنہ ان کو ساری چیزوں کا پتہ ہے، ایک ایک چیز کا پتہ ہے۔ "يعرفونه كما يعرفون ابناءهم" (اس کو ایسے جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں)، لیکن بس بدبختی آ گئی ان کی؛ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی بدبختی سے بچائے، وآخر دعوانا الحمد للہ رب العالمین۔


حکمتِ قبلہ اور امتِ مسلمہ کی وحدت - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور