سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی تباہ کاریاں: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

درس نمبر 69- باب الصدق (اشاعتِ اول)، 15 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث کا متن اور ترجمہ۔

سچ بولنے کے دنیاوی اور اخروی انعامات (مقامِ صدیقیت اور جنت کا حصول)۔

جھوٹ بولنے کے نقصانات (اللہ کی لعنت، دل کا سیاہ ہونا اور جہنم کا ٹھکانہ)۔

مسلسل جھوٹ بولنے سے دل پر لگنے والے سیاہ نقطے کی حدیثی وعید۔

دنیاوی شرمندگی سے بچنے کے لیے آخرت کی رسوائی مول لینے کی ممانعت۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

(54) ﴿وَ اَمَّا الْاَحَادِیثُ. فَالْاَوَّلُ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَ إِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتّٰی يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ صِدِّيقًا، وَ إِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِی إِلَى الْفُجُورِ، وَ إِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِی إِلَى النَّارِ، وَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ كَذَّابًا﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)


"حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسولِ اکرم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کو "صِدِّیق" لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں "کَذَّاب" لکھ دیا جاتا ہے۔"

تو اس سے پتا چلا، کہ سچائی جو ہے یہ نیکی کی رہنمائی کرتی ہے

"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ" مطلب یہ کہ سچ بولنا بذاتِ خود بھی نیک عادت ہے اور آدمی جب سچائی کو اپناتا ہے تو اس کی خاصیت یہ ہو جاتی ہے کہ پھر وہ آدمی زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بھی نیک کردار اور صالح کردار ادا کرتا ہے، اور سچائی اس کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے پھر اس کو دو انعام ملتے ہیں۔ ایک دنیا میں دوسرا آخرت میں۔ دنیا کا انعام یہ ملتا ہے یہ مقامِ صدیقیت تک پہنچ جاتا ہے۔

اسی طرح جھوٹ بولنا بذاتِ خود ایک خبیث عادت ہے آدمی اگر ہر موقع پر جھوٹ کو اپناتا رہتا ہے تو اس آدمی میں فسق و فجور کا میلان پیدا ہوتا رہتا ہے.

اس کا دنیا میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ کذاب لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی زندگی میں لعنت اور پھٹکار بھی پڑتی رہتی ہے جیسے کہ قرآنِ مجید کا فیصلہ ہے

"لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ"

"جھوٹے آدمی پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔"

آخرت کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کا حشر منافقوں میں ہوگا اور اس کا ٹھکانہ جہنم بن جائے گا۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت زیادہ وضاحت کے ساتھ آئی ہے وہ یہ ہے:

"لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ فَيُنْكَتُ فِي قَلْبِهٖ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهٗ فَيُكْتَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الْكَاذِبِينَ."

ہمیشہ بندہ جھوٹ بولتا ہے اور اسی میں آگے بڑھتا رہتا ہے پھر اس کے دل میں ایک کالا نقطہ لگا دیا جاتا ہے پھر وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔

تخریج حدیث: صحیح البخاری کتاب الادب (باب قول اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین و ما ینہی عن الکذب) صحیح مسلم کتاب البر (باب تحریم النمیمۃ و باب قبح الکذب و حسن الصدق و فضلہ) و اخرجہ امام احمد فی مسندہ 3638/2 و فی الادب المفرد 386، ابوداؤد والترمذی و ابن حبان 272، و مصنف ابن ابی شیبة 590/8 والبیہقی 243/10.

اس حدیث شریف سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ، انسان سچائی کے ذریعے سے، سچ بولنے کے ذریعے سے، صدیقین کے مرتبے تک پہنچ سکتا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے بہت ساری نیکیوں کو حاصل کر سکتا ہے۔ کیونکہ سچ بولنے سے، اس کو ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جس میں پھر جھوٹ بولنا نہ پڑے۔ تو اس وجہ سے وہ تمام چیزوں کا خیال رکھتا ہے۔

جبکہ جب انسان جھوٹ کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے، وہ اس کے ساتھ اور جھوٹ بول کر، اپنے آپ کو، یعنی نیک مشہور کرتا رہتا ہے، یا بچتا رہتا ہے، دنیا کی لعنت سے۔ لیکن اللہ کی لعنت اس پر پڑتی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ دنیا میں بھی نقصان اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی نقصان اٹھاتا ہے۔

تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کسی مرحلے پہ بھی ہم جھوٹ نہ بولیں، اور دنیا کی شرمندگی سے بچنے کے لیے، آخرت کی شرمندگی کو نہ مول لیں۔ اور اگر سچ بولتے رہیں گے، تو ان شاء اللہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرما دے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

تجزیہ اور خلاصہ

سب سے جامع عنوان: سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی تباہ کاریاں: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

متبادل عنوان: مقامِ صدیقیت کا حصول اور جھوٹ کا انجام: ایک اصلاحی بیان

اہم موضوعات:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث کا متن اور ترجمہ۔

سچ بولنے کے دنیاوی اور اخروی انعامات (مقامِ صدیقیت اور جنت کا حصول)۔

جھوٹ بولنے کے نقصانات (اللہ کی لعنت، دل کا سیاہ ہونا اور جہنم کا ٹھکانہ)۔

مسلسل جھوٹ بولنے سے دل پر لگنے والے سیاہ نقطے کی حدیثی وعید۔

دنیاوی شرمندگی سے بچنے کے لیے آخرت کی رسوائی مول لینے کی ممانعت۔

خلاصہ:


سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی تباہ کاریاں: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور