نماز کی حفاظت اور معاشرتی حقوق: سورہ بقرہ کی روشنی میں

درس نمبر 102، سورۃ البقرہ: آیت: 238 تا 242- (اشاعتِ اول) 04 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

نماز کی ہمہ وقت محافظت اور کامل پابندی کی تاکید

صلاۃِ وسطیٰ: عصر کی نماز کی خصوصی اہمیت اور فضیلت

نماز کی حقیقت: مالکِ الملک کے دربار میں شاہانہ حاضری کا اعزاز

صلاۃ الخوف: انتہائی اضطراری اور جنگی حالات میں نماز کی ادائیگی کا طریقہ

بیوہ عورتوں کے حقوق اور ان کی کفالت کے ابتدائی و موجودہ احکام

متاعِ بالمعروف: مطلقہ خواتین کو رخصت کرتے وقت مالی فائدہ پہنچانے کا حکم

احکامِ میراث کی آمد اور بیواؤں کے لیے سابقہ وصیتی احکامات کی تبدیلی

خوشگوار اختتام: طلاق کی صورت میں شرافت اور فراخدلی کا باوقار اسلامی طریقہ


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ﴿238﴾ فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ﴿239﴾ وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿240﴾ وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ ﴿241﴾ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهَ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ﴿242﴾

صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔

تمام نمازوں کا پورا پورا خیال رکھو، اور (159) (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا

آیت نمبر 153 سے اسلامی عقائد اور احکام کا جو بیان شروع ہوا تھا وہ اب ختم ہورہا ہے۔ آیت نمبر 153 میں یہ بیان نماز کی تاکید سے شروع ہوا تھا، اب آخر میں دوبارہ نماز کی یہ اہمیت بیان کی جارہی ہے کہ جنگ کے شدید حالات میں بھی امکان کی آخری حد تک اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اور ”بیچ کی نماز“ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور سے اس وقت لوگ اپنا کاروبار سمیٹنے میں مشغول ہوتے ہیں، اور اس مشغولیت میں بے پروائی ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

یہ جو نمازوں کے بارے میں ہے نا بات، صحیح بات یہ ہے کہ ہم لوگ اس کا ادراک شاید پورا کر بھی نہیں سکتے۔ اس وجہ سے اس میں یہ بات جو فرمائی جاتی ہے نا، تو وہ سمجھ میں پورے طور پہ نہیں آتی۔ نماز جو ہے یہ اصل میں اللہ کے دربار میں حاضری ہے۔ اور اللہ کے دربار میں جو حاضری ہوتی ہے یعنی یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

اگر کسی کو بادشاہ کہہ دے کہ میرے پاس پانچ دفعہ آیا کرو، تو وہ پھر خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ تو میرے لیے بہت بڑا Honour ہے کہ مجھے بلایا جا رہا ہے اور پانچ دفعہ۔ تو یہ ہمارے ریکٹر صاحب جو تھے نا، اس وقت پرویز مشرف صاحب کا دور تھا، تو ان سے PIEAS کے Function میں ملاقات ہوئی۔ تو اس نے ہمارے ریکٹر سے کہا کہ "عبد اللہ! کبھی کبھی مل لیا کرو"۔ تو وہ ظاہر ہے اس پہ بڑے خوش تھے کہ مطلب جو ہے نا بتایا گیا ہے کہ کبھی کبھی مل لیا کرو۔

تو یہ بات ہے کہ جو لوگ یعنی ایسے ہوتے ہیں نا کہ... خیر یہ دنیا کی چیز اور آخرت کی چیز اس کو تو ہم ملا نہیں سکتے لیکن صرف مثال دے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو یہاں تو مطلب کی دنیا ہے۔ مطلب وہ بادشاہ جب تک طاقت میں ہے تو اس وقت سب لوگ اس کے ہاتھ چومتے ہیں، سب لوگ اس کے سامنے Surrender کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ چلا جاتا ہے پھر اس کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ لیکن اللہ جل شانہٗ کا جو سلطنت ہے وہ تو لازوال ہے، مالک الملک ہے۔

تو جب وہ فرما دیتے ہیں کہ میرے پاس پانچ دفعہ حاضر ہو جایا کرو، تو کتنی بڑی بات ہے۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی لوگ اس کو پورا کر سکتے ہیں۔ اور بیچ کی نماز کا یہ بتایا کہ اس میں ممکن ہے کہ جو فوری تقاضے ہیں ان کی وجہ سے یہ بڑی چیز ذرا پیچھے چلی جائے، تو اس کے لیے Special فرمایا۔

اور اللہ کے سامنے باادب فرماں بردار بن کر کھڑے ہوا کرو ﴿238﴾

وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ۔

اور اللہ کے سامنے باادب فرماں بردار بن کر کھڑے ہوا کرو ﴿238﴾

اور (160) اگر تمہیں (دشمن کا) خوف لاحق ہو تو کھڑے کھڑے یا سوار ہونے کی حالت ہی میں (نماز پڑھ لو)

یہ اصل میں صلاۃ الخوف ہے۔

جنگ کی حالت میں جب باقاعدہ نماز پڑھنے کا موقع نہ ہو اس بات کی اجازت ہے کہ انسان کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھ لے۔ البتہ چلتے ہوئے پڑھنا جائز نہیں۔ اگر کھڑا ہونے کا بھی موقع نہ ہو تو نماز قضا کرنا بھی جائز ہے۔

یہ مطلب مشکل حالات ہوتے ہیں نا۔

پھر جب تم امن کی حالت میں آجاؤ تو اللہ کا ذکر اس طریقے سے کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے جس سے تم پہلے ناواقف تھے ﴿239﴾ اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جایا کریں کہ ایک سال تک وہ (ترکے سے نفقہ وصول کرنے کا) فائدہ اٹھائیں گی اور ان کو (شوہر کے گھر سے) نکالا نہیں جائے گا۔

تو آخر میں طلاق کے جو مسائل چل رہے تھے ان کا ایک جملہ ضمنی طور پر بیان ہوا ہے جو مطلقہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بیوہ عورت کی عدت ایک سال ہوتی تھی، لیکن اسلام نے پچھلے آیت نمبر 234 میں عدت کی مدت گھٹا کر چار مہینے دس دن مقرر کردی۔ جس وقت زیرِ نظر آیت نازل ہوئی ہے اُس وقت تک میراث کے احکام نہیں آئے تھے، اور جیسا کہ اوپر آیت نمبر 180 میں گزرا، لوگوں پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے حق میں وصیت کیا کریں کہ ان کے ترکے سے کس کو کتنا دیا جائے۔ لہٰذا اس آیت میں اسی اصول کے تحت یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگرچہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے لیکن اس کے شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے حق میں یہ وصیت کر جایا کرے کہ اسے سال بھر تک اس کے ترکے سے نفقہ بھی دیا جائے اور اس کے گھر میں رہائش بھی فراہم کی جائے۔ البتہ اگر وہ خود اپنا یہ حق چھوڑ دے اور چار مہینے دس دن کے بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے تو کچھ حرج نہیں۔ ہاں چار مہینے دس دن سے پہلے اس کے لئے بھی شوہر کے گھر سے نکلنا جائز نہیں۔ اگلے جملے میں جو کہا گیا ہے کہ ”ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا“ اس میں قاعدے سے مراد یہی ہے کہ وہ عدت پوری کرنے کے بعد نکلیں، پہلے نہیں۔ لیکن یہ سارا حکم میراث کے احکام آنے سے پہلے پہلے تھا۔ جب سورہ نساء میں میراث کے احکام آگئے، اور بیوی کا حصہ ترکے میں مقرر کردیا گیا تو سال بھر کے نفقے اور رہائش کا یہ حق ختم ہوگیا۔

یہ بات ہے۔

اور مطلقہ عورتوں کو قاعدے کے مطابق فائدہ پہنچانا متقیوں پر ان کا حق ہے ﴿241﴾

یہ بات جو ہے نا وہ مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے۔ اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے، اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے، نیز اوپر آیت نمبر 236 میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں تو واجب ہے جب کوئی مہر مقرر نہ ہوا ہو، اور خلوت سے پہلے طلاق ہوگئی ہو، لیکن جب مہر مقرر ہوا ہو تو اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے۔ ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اوّل تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہئے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تو نکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت، فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہئے، دشمنی کے ماحول میں نہیں۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو شریعت کے تمام احکامات پر پورے پورے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔




نماز کی حفاظت اور معاشرتی حقوق: سورہ بقرہ کی روشنی میں - درسِ قرآن - دوسرا دور