خوفِ خدا اور گناہوں کو حقیر سمجھنے کا انجام

درس نمبر 85- باب المراقبہ - حدیث نمبر 63 - (اشاعتِ اول) 9 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• حضرت انس رضي الله عنه کی روایت کردہ حدیث کی تشریح۔

• خوفِ الٰہی کی اہمیت اور گناہوں پر جسارت سے اس کا تعلق۔

• عہدِ رسالت، صحابہ کرام اور تابعین کے ادوار میں تقویٰ کا موازنہ۔

• مومن اور غیر مومن کے نزدیک گناہ کی حیثیت (پہاڑ اور مکھی کی مثال)۔

• ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچنے کی دعا۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صحابہ کرام کا بال کے برابر کاموں کو مہلک سمجھنا

(63) اَلرَّابِعُ: عَنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا هِيَ اَدَقُّ فِي اَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

چوتھی حدیث: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں تم ایسے کام کر بیٹھتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ معمولی ہیں لیکن ہم عہد نبوی ﷺ میں ان کاموں کو مہلکات میں سے سمجھتے تھے۔"


تشریح: اس حدیث شریف میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ عدمِ خوفِ الٰہی سے گناہوں کی جرات پیدا ہو جاتی ہے

مطلب یہ ہے کہ انسان میں جتنا اللہ کا خوف ہوتا ہے اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہے اور یہ خوف جتنا کم ہوتا ہے اتنا ہی اس کی گناہوں پر جسارت بڑھتی رہتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دلوں میں اللہ کا شدید خوف ہر دم موجود رہتا تھا اس لئے وہ معمولی سے معمولی گناہ پر بھی بہت زیادہ خوف محسوس کرتے تھے اور دوسری بات یہ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے ان کو یہ کیفیت بدرجہ اتم حاصل تھی مگر عہد رسالت کے بعد یہ کیفیت بتدریج کم ہوتی گئی حتیٰ کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہی ساتھیوں کو یعنی جو تابعین تھے ان کو یہ فرما رہے ہیں کہ اب یہ وقت آ گیا ہے کہ وہ گناہ جسے ہم اپنے لئے ہلاکت کا ذریعہ سمجھتے تھے وہ اب لوگوں کی نگاہ میں حقیر اور معمولی بن گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کرے گناہ خود بخود اس سے چھوٹ جائیں گے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا کہ مؤمن گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا اس پر پہاڑ گر رہا ہے اور غیر مؤمن یہ سمجھتا ہے گویا کہ ناک پر مکھی بیٹھی تھی اس کو اڑا دی۔ یعنی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

تخریج حدیث:

صحیح بخاری کتاب الرقاق (باب ما يتقى من محقرات الذنوب)


اللہ جل شانہٗ ہم سب کو بھی وہ خوفِ الٰہی نصیب فرما دے، جس کے ذریعے سے ہم گناہوں سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے ظاہری باطنی گناہوں سے محفوظ فرما دے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔




خوفِ خدا اور گناہوں کو حقیر سمجھنے کا انجام - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور