تزکیہ نفس اور بیداریِ دل: فلاحِ دارین کا راستہ

اشاعت اول: 12 مئی، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. موت کی اٹل حقیقت اور برزخی زندگی کا تصور
    1. ضمیر کی بیداری اور دل سے فتویٰ لینے کی اہمیت
      1. علمائے حق کی پہچان اور ان سے رجوع کی ضرورت
        1. اعمال کی قبولیت میں نیتوں کا بنیادی کردار
          1. عقل، معرفت اور جزا کا باہمی تعلق
            1. حجاباتِ نفس: حبِ جاہ، حبِ باہ اور حبِ مال کی حقیقت
              1. نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ذریعے باطنی امراض کا علاج
                1. اصلاحِ نفس کے لیے نگران یا شیخِ کامل کی ضرورت
                  1. مرشدِ برحق کی پہچان کے لیے آٹھ بنیادی شرائط
                    1. تزکیہ نفس کے لیے عملی مجاہدہ اور کوشش

                      اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِالنَّبِيِّينَ،

                      أَمَّا بَعْدُ:

                      فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:

                      إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهٗ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ

                      وَهُوَ شَهِيدٌ

                      وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا

                      وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ،

                      أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ

                      وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِوَابِصَةَ: جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَجَمَعَ أَصَابِعَهٗ، فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَهٗ،

                      وَقَالَ: اسْتَفْتِ نَفْسَكَ، اسْتَفْتِ قَلْبَكَ (ثَلَاثًا)، اَلْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ، وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ.

                      وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

                      وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا، وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهٖ.

                      وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا... يَقُولُ أَهْلُ السَّمَآءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ... وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهٗ... يَقُولُ أَهْلُ السَّمَآءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ...

                      وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: يَقُولُ مَلَكُ الْمَوْتِ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ... وَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ...

                      صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

                      معزز خواتین و حضرات!

                      چند ایسی حقیقتیں ہیں جن سے کوئی کافر بھی انکار نہیں کر سکتا۔ مثلاً یہ حقیقت کہ جو ادھر آیا ہے، زندہ ہے، اس نے مرنا ہے، اس نے جانا ہے۔ کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا، کیونکہ ہم لوگ دیکھتے ہیں۔

                      عجیب و غریب نظام ہے، ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے، اس کو ہم جان تو پورا نہیں سکتے۔ جو لوگ بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں بچنے کی، لیکن جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو کسی ایسی چیز کے ذریعے سے چلے جاتے ہیں جن کا ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اس کے ذریعے سے، کوئی وہم کے ذریعے جاتا ہے تو کوئی بہت بے پرواہی کی وجہ سے جاتا ہے۔ یعنی کوئی اتنی احتیاط کرتا ہے، وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے چلا جاتا ہے اور کوئی بے پرواہی کی وجہ سے چلا جاتا ہے۔ تو الغرض یہ ہے کہ بچنا کسی نے نہیں ہے۔ یہ تو طے شدہ بات ہے۔ اور یہ بھی بات ہے، مسلمان ہونے کے لحاظ سے، مومن ہونے کے لحاظ سے، الحمد للہ ہم مومن ہیں، اللہ کا شکر ہے، کہ یہ زندگی جو ختم ہو جاتی ہے تو ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ جس کا پہلا حصہ برزخ کا ہے اور پھر ظاہر ہے حشر جب واقع ہوگا تو پھر تو ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ تو جو برزخی زندگی ہے اس کے بھی اپنے احوال ہوتے ہیں۔ جو کہ بتائے گئے ہیں کہ ظاہر ہے مطلب وہاں پر کیا کیا ہوگا۔ یعنی قبر جو ہے یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ تو خوش قسمت لوگ جو ہوتے ہیں وہ ماشاءاللہ اس میں بہت ہی اچھی حالت میں ہوتے ہیں۔ اور جو بدقسمت ہوتے ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے، ان کا معاملہ بڑا ہی خراب ہوتا ہے لیکن کر کچھ بھی نہیں سکتے۔

                      اب یہ جو جتنا ہمیں وقت ملا ہے یہاں پر، اس وقت میں ہمیں اختیار دیا گیا ہے۔ اختیار اس معنیٰ میں کہ ہم ذمہ داری کے ساتھ اعمال کریں گے اور ہر عمل کے ہم ذمہ دار ہوں گے۔ اچھا عمل کیا اس کا فائدہ ملے گا، برا عمل کیا اس کا نقصان ہوگا۔ بعض چیزوں کا نقصان یہاں بھی ہوتا ہے اور وہاں بھی ہوتا ہے اور بعض کا نقصان صرف وہاں ہوتا ہے۔ یہاں ڈھیل دی جاتی ہے۔ تو نقصان بہرحال وہاں کا نقصان تو بہت زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

                      اس وجہ سے یہ جو ہمارا دور ہے درمیان والا، یہ ہمارے آگے کی زندگی کے لیے انتہائی اہم دور ہے۔ یہاں ہمارے ایک ایک لمحے پہ بڑے بڑے فیصلے ہو رہے ہیں۔ وہاں کے لحاظ سے۔ تو اس وقت کو ایک طریقے کے ساتھ گزارنا ہے۔ ایسے طریقے سے گزارنا ہے جو کہ ہمیں وہاں کامیابی دلا سکے۔ اب اگر اتنی باتیں اگر سمجھ میں آ گئیں ہماری، تو اگلی بات کے لیے میں عرض کروں گا، وہ یہ ہے کہ یہ معاملات جو میں ابھی بتا رہا ہوں، یہ ہمارے تجربات کے نتیجے میں نہیں ہیں۔ تجربات کے ذریعے سے تو ہم صرف جان رہے ہیں۔ باقی یہ ہے کہ ہمیں جو اخبار اس سلسلے میں چاہیے، وہ اخبارات وہاں کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ کیونکہ پتہ اللہ تعالیٰ کو ہے کہ وہاں کیا ہوگا۔ اور یہاں کے اعمال کون سے صحیح ہیں اور کون سے غلط ہیں، یہ بھی ہمیں نہیں معلوم، یہ بھی اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے۔ لیکن اللہ پاک نے پیغمبروں کے ذریعے سے اور پھر صحابہ کرام کے ذریعے سے، پھر فقہائے کرام کے ذریعے سے، پھر علمائے کرام کے ذریعے سے ہم تک وہ بات پہنچائی ہے۔

                      اب ہمارے درمیان اور اللہ کے درمیان اس وقت، موجودہ دور میں علمائے کرام ہیں۔ یعنی علمائے کرام کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ اللہ کے لیے بات کرتے ہیں تو اللہ ان کو نوازتے ہیں۔ اگر نفس کے لیے بات کرتے ہیں، اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال لیتے ہیں۔ لیکن ہم نے پوچھنا علمائے کرام سے ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس اور راستہ تو ہے نہیں۔ اگر کتاب بھی پڑھتے ہیں تو کسی عالم کی ہی پڑھیں گے نا، کسی عالم نے ہی لکھی ہوگی۔ اور اگر ہم کسی براہِ راست عالم سے پوچھتے ہیں تو وہ بھی ظاہر ہے تو ایک تو اس کا اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے اور وہ کہے جو اس تک پہنچا ہے، قرآن و حدیث سے۔ اور اگر اس میں اگر نفس کو لاتا ہے تو بہت خطرناک بات ہے اس کے لیے۔ باقی لوگوں کے لیے بھی خطرناک ہے، لیکن وہ بالواسطہ ہے اور یہ براہِ راست خطرناک ہے۔اب جب یہ بات سمجھ میں آ گئی، تو ہمیں اگر معلوم ہو گیا کہ علمائے حق بھی ہوتے ہیں علمائے سوء بھی ہوتے ہیں۔ دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ تو علمائے حق کو لینے کی ضرورت ہے کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ صحیح بات کیا ہے۔ وہ ظاہر ہے کوئی عالمِ حق ہی بتائے گا۔ اس کی پہچان کے لیے ہمیں ظاہر ہے کوشش کرنی ہوگی۔ کہ ہم علمائے حق کو پہچانیں۔ اور صرف ان سے پوچھیں۔

                      اور دوسری بات یہ ہے کہ اپنے سینے کا وہ خبردار کرنے والا، اس کو ہم تیار رکھیں۔ یہاں پر حدیث شریف میں اس کا ذکر آیا ہے۔ ، ابھی حدیث شریف گزری ہے۔ میں دوبارہ پڑھ لیتا ہوں:

                      وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِوَابِصَةَ: (یعنی ایک صحابی رضی اللہ عنہ) جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟

                      "آئے ہیں نیکی اور برائی کے بارے میں جاننے کے لیے؟"

                      قَالَ: نَعَمْ.

                      فرمایا، ہاں۔

                      فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَهٗ.

                      "تو اپنی انگلیوں سے اس کے سینے کو مارا"

                      اور فرمایا: قَالَ: اسْتَفْتِ نَفْسَكَ.

                      "اپنے نفس سے استفتٰی کرو، یعنی اپنے نفس سے فتویٰ پوچھو"

                      اسْتَفْتِ قَلْبَكَ

                      "اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔ ثَلَاثًا تین دفعہ فرمایا"

                      اَلْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ.

                      "نیکی وہ ہے جس پر تیرا نفس مطمئن ہو جائے"

                      "وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ"

                      "اور اس پر دل مطمئن ہو"

                      وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ.

                      اور گناہ وہ ہے کہ جس پہ تمہارا نفس جس سے منع کرے اور ساتھ یہ ہے کہ آپ کے سینے میں اس پہ Confusion ہو، تردد ہو۔

                      وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ۔

                      "چاہے بے شک لوگ آپ کو فتوے دینے لگیں۔"

                      اچھا یہ کیا چیز ہے وہ بتاتا ہوں۔ یہ بہت عام چیز ہے۔ ہر شخص کو اپنے حال کا پتہ ہوتا ہے۔ جو کہ مفتی کو پتہ نہیں ہوتا۔ مفتی کے پاس جو لوگ مسئلہ لے جاتے ہیں وہ اپنی مرضی کا استفتاء ہوتا ہے ان کا۔ مفتی کو کیا پتہ اصل صورتحال کیا ہے۔ وہ تو اس طرح کہتا ہے ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا پھر کیا؟ اب اس نے جو واقعہ بتایا ہے مفتی تو اس کے حساب سے جواب دے گا۔ اس کے علاوہ کیا کر سکتا ہے؟ تو آج کل مفتیوں نے بھی طریقہ سیکھا ہے وہ کہتے ہیں "صورتِ مسئولہ میں یہ جواب ہے"۔ اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔ اور بچانا بھی چاہیے۔ لیکن اگر انہوں نے اس وجہ سے فتویٰ دے بھی دیا، تو کیا وہ فتویٰ جائز ہو گا آپ کے لیے؟ اس پر عمل کرنا؟ جب آپ کو خود پتہ ہے کہ آپ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے؟ آپ نے بات ہی غلط پوچھی ہے، وہ ہے ہی نہیں۔ تو اس طرح تو فتویٰ نہیں پوچھا جاتا۔

                      تو انسان کا جو اپنا ضمیر ہے، وہ اس کو آگاہ کرتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے۔ لہٰذا ضمیر کو جگانا پڑے گا۔ دل کو بیدار کرنا پڑے گا۔ نفس کو مطمئنہ بنانا پڑے گا۔ بغیر اس کے کام نہیں ہو سکتا۔ بغیر اس کے کام نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ چیزیں نہیں ہیں، تو آپ کو مفتی نہیں بچا سکتے۔ اگر یہ چیزیں ٹھیک نہیں ہیں۔ مفتیوں کے بس میں نہیں ہے آپ کو بچانا، مفتی چیختے رہ جائیں گے۔

                      ابھی میں آپ کو اس کا مثال دیتا ہوں، بہت زبردست مثال ہے آج کل کے دور کے لحاظ سے۔ دارالعلوم کراچی نے فتویٰ دیا کہ جو تصویر ہے Digital، یہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے۔ انہوں نے فتویٰ کے لحاظ سے اس پہ تحقیق کی۔ اس سے ہوتا کیا ہے؟ اس کو انہوں نے نہیں دیکھا۔

                      تو علمائے کرام میں دو قسم کے علماء ہیں۔ بہت زیادہ ہیں لیکن میں آپ کو دو قسم کے بتاتا ہوں صرف۔ ایک وہ ہے جو فتویٰ دیتے وقت اس بات کو بھی سوچتے ہیں کہ لوگ اس سے کیا مطلب لیں گے۔ اور ایک وہ کہتے ہیں نہیں، جو ہے بس وہ بتا دو پھر وہ مطلب کیا لیں گے وہ ان کو خود ٹھیک کرو پھر۔ یہ ہے مطلب یہ کیوں مفتی صاحب ایسے ہیں نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے ہوتے ہیں بعض حضرات وہ ذمہ داری اس کی بھی لے لیتے ہیں۔ اور اس کو حضرات وہ کہتے ہیں "سدِ باب"۔ پہلے سے دروازہ اس کا بند کرنے کے لیے کہ کوئی غلطی نہ کرے۔ وہ فتویٰ ایسا دیتے ہیں کہ جس میں ان چیزوں کا بھی خیال ہوتا ہے۔ اور وہ فتویٰ محفوظ فتویٰ ہوتا ہے۔

                      میرے سامنے، یہ ویسے مثال کے طور پہ کہہ رہا ہوں، ایسا نہ ہو کہ مجھے مفتی سمجھو۔ مثال کے طور پہ کہہ رہا ہوں کہ حضرت مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب فوت ہوئے تھے، ہم جنازے پہ گئے تھے۔ تو ظاہر ہے اس وقت بڑے بڑے علماء تشریف لائے تھے۔ ہمارے ایک استاذ بھی تھے مولانا مجاہد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو دیوبند کے فاضل تھے۔ وہ بھی تشریف لائے۔ مولانا عبداللہ کاکاخیل صاحب جو یہاں اسلامی یونیورسٹی میں Dean تھے، ظاہر ہے وہ تو حضرت کے بھتیجے تھے، تو وہ بھی تھے۔ علمی بحثیں چل رہی تھیں۔ یہ دفن کے بعد کی باتیں کر رہا ہوں۔ ہم رات ادھر گزار رہے تھے۔ تو علمی باتیں، اب ظاہر ہے علماء اتنے موجود ہوتے ہیں تو علمی باتیں تو ہوں گی۔

                      تو مولانا مجاہد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو دیوبند کے فاضل تھے، اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جو دیوبند کے مفتی تھے، انہوں نے کہا کہ نسوار سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اس کا بتانا نہیں چاہیے۔ اس کا بتانا نہیں چاہیے عوام کو۔

                      اب اس میں کیا باتیں ہیں، وہ بتاتا ہوں۔ نسوار سے روزہ کیوں نہیں ٹوٹتا، وہ بھی بتاتا ہوں۔ کیوں، روزہ ٹوٹتا ہے وہ جو معدے کے اندر کوئی جو راستے ہیں، اس کے ذریعے کوئی چیز پہنچ جائے، چاہے اوپر سے ہو چاہے نیچے سے ہو۔ آنتوں میں پہنچ جائے۔ کان، ناک کے ذریعے سے پہنچ جائے، وہ جو راستے ہیں اس کے ذریعے سے جو پہنچ جائے تو پھر روزہ ٹوٹتا ہے۔ اگر مساموں کے ذریعے سے پہنچے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، مفتی صاحب؟ روزہ نہیں ٹوٹتا جیسے Injection کی بات ہے۔ Injection سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

                      تو اب یہ ہے کہ یہ چونکہ نسوار جو انسان کھاتا ہے، وہ حلق میں نہیں جاتا۔ وہ کہاں رکھتے ہیں؟ ہونٹوں میں رکھتے ہیں۔ تو ہونٹوں میں رکھنے کی وجہ سے وہ پھر کیا ہوتا ہے؟ وہ ان کے جو مسامات ہوتے ہیں اس کے ذریعے سے اس کا اثر جاتا ہے۔ نسوار اپنی جگہ پر موجود ہوتا ہے لیکن اس کا جو اثر ہوتا ہے وہ اس کے ذریعے سے جاتا ہے۔ لہٰذا نشہ تو چھا جاتا ہے لیکن اندر کچھ نہیں جاتا، Material کوئی نہیں جاتا۔

                      اب علماء کی باتیں ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں عوام کو نہیں بتانا چاہیے۔ تو مولانا عبداللہ کاکاخیل صاحب نے فرمایا: کیوں نہیں بتانا چاہیے؟ جب شریعت کا مسئلہ ایسا ہے تو پھر کیوں نہیں بتانا چاہیے؟ اب مولانا مجاہد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ عوام پھر احتیاط نہیں کرتے۔ وہ ایک دفعہ شروع ہو جائے تو پھر اس کے بعد تو کوئی ان کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس وجہ سے عوام کو نہیں بتانا چاہیے۔ اور وہ حضرت فرما رہے ہیں کہ مسئلہ کو ظاہر کرنے کے لیے عوام کو بتانا چاہیے تاکہ کم از کم جو چیز آئی ہے وہ صحیح طور پہ بتائی جائے۔ تو میں نے علمائے کرام کے اندر اس قسم کے دو نقطہ نظر میں اختلاف خود دیکھا ہے۔

                      تو اب یہ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ علمائے کرام میں دو قسمیں ہیں۔ اب جن کی نظر پیچھے، بعد میں آنے والے حالات پر تھی تو انہوں نے سخت مخالفت کی اس فتوے کی۔ کہ اس، اس فتوے کو نہیں دینا چاہیے۔ لیکن میرے خیال میں شاید دارالعلوم کراچی والے حضرات، مولانا عبداللہ کاکاخیل صاحب کے مسلک پہ تھے۔ انہوں نے اس کو بتا دیا۔

                      اب بتایا، تو اب یقین جانیں کہ دارالعلوم کراچی والے سب سے زیادہ پریشان ہیں اس بات سے۔ اتنے پریشان ہیں میں آپ کو کیا بتاؤں۔ کیونکہ جو بتایا گیا تھا، بالکل وہی ہو رہا ہے۔ ابھی قریب ترین میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب کا جو بیان اس پر سنا ہے، اس میں حضرت سے کسی نے استفسار کیا، انہوں نے کہا میں تو ہر Forum پہ اس کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ کہ جو تم کر رہے ہو غلط کر رہے ہو۔ بالخصوص علمائے کرام اور مفتیانِ کرام جو اس میں اس طرح بے محابا چل رہے ہیں آگے بہت خطرناک بات ہے، مسجدوں میں، مدرسوں میں اس کا رکھنا بہت ہی خطرناک بات ہے، ناجائز ہے۔ سب چیزیں بتا رہے ہیں۔ لیکن مجھے بتاؤ اب مفتی صاحب کا کون سنتا ہے؟ مفتی صاحب سے اپنے نفس کے مطابق جو فتویٰ تھا وہ سب نے سن لیا۔ چاہے Direct مفتی صاحب سے سن لیا یا چاہے کسی اور سے سن لیا کہ مفتی صاحب نے یہ کہا ہے۔

                      ایک دفعہ ایسا ہوا، دنگل تھا نوشہرہ میں۔ پہلوانوں کا دنگل تھا۔ اس کے Ticket ظاہر ہے تھے۔ تو اب Ticket والے تو اندر جا رہے تھے اور بے Ticket لوگ باہر کھڑے تھے۔ ان کو اندر نہیں جانے دے رہے تھے۔ تو میرا ایک کزن تھا وہ بہت شرارتی تھا۔ بہت زیادہ شرارتی تھا۔ شرارتوں کو Design کرتا ہے وہ۔ تو اس نے دیوار کے پاس آ کے نعرہ لگایا، کہتے ہیں: آ جاؤ! پشتو میں کہا "راځئ" کہتے ہیں آ جاؤ۔ اب جب سب لوگوں نے Jump لگا دیا، دیوار تو کچھ بھی نہیں رہا درمیان میں۔ وہ ختم! مطلب Ticket والے کم اور بے Ticket والے زیادہ۔ وہ سب اندر۔

                      اب انتظامیہ والے حیران کہ ہم کیا کریں۔ ایک Mob کو Motivate کر لیا نا۔ اس کے بعد پھر کنٹرول تو ختم۔

                      تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر Mob کو ایک دفعہ آپ نے وہ دے دیا راستہ، پھر ان کا کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے۔ یہ اب دیکھتے ہیں نا یہاں پر جو جلوس وغیرہ چلتے ہیں۔ لکھ کے دیتے ہیں کہ ہم پرامن جلوس نکالیں گے۔ لیکن جلوس پھر پرامن رہتا ہے؟ پھر جو نتیجہ ہوتا ہے، پھر وہ ایک دوسرے پہ ڈالتے ہیں، نہیں جی ہم نے تو نہیں کیا فلاں نے کیا، ہم نے تو نہیں کیا یہ... پھر اس کے سب عدالتوں میں اس قسم کے سلسلے چلتے ہیں۔

                      تو جو انتظامیہ ہوتی ہے وہ ان کے پاس یہی Clause ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں یہ پھر اس کے بعد کوئی Control نہیں کر سکتا۔ ایک دفعہ وہ آ گئے، پھر اس کے بعد کون Control کرے گا؟ اور کون ذمہ دار ہو گا؟ تو یہ تجربات کی باتیں ہیں مطلب اس قسم کی باتیں تو ہوتی ہیں۔

                      تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ جب تک نفس مطمئن نہیں ہو جاتا، جب تک دل بیدار نہیں ہو جاتا، اس وقت تک مفتی کی بات کا کوئی Influence نہیں ہوتا۔ وہ ہوا میں جا رہا ہوتا ہے۔ لوگ چیخ رہے ہوتے ہیں مفتیانِ کرام لیکن کوئی بھی اس کو سن نہیں رہا ہوتا۔

                      لیکن اگر مفتی جاگ گیا دل کا، اور نفس مطمئن ہو جائے اس پر، تو پھر مفتی بے شک نہ بھی کہے، وہ خود ڈر رہا ہو، خود مفتی کے پاس جاتا ہے۔ مفتی صاحب کیا یہ چیز جائز ہے؟ ڈر کے مارے وہ کہتا ہے کیا یہ چیز جائز ہے؟ تو پھر مفتی صاحب بعض دفعہ تسلی دیتے ہیں کہ ہاں ہاں جائز ہے۔ اور اس کو سمجھ نہیں آتا کہ جائز کیسے ہے؟ ڈر رہا ہوتا ہے نا۔ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ ، تو یہ دل کی بیداری کے بعد، تقویٰ دل میں پیدا ہونے کے بعد، پھر معاملہ اس کا الٹ ہو جاتا ہے۔ تو یہ فرما رہے ہیں، ٹھیک ہے نا؟

                      پھر یہ بھی فرمایا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، "تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔"

                      بہت سارے کام ایسے ہوتے ہیں، نیت کی وجہ سے اس پر حکم لگتا ہے۔ کام اچھا ہوتا ہے لیکن بری نیت کے ساتھ۔

                      "كَلِمَةُ الْحَقٍّ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ"۔ مطلب یہ ہے کہ صحیح بات ہوتی ہے لیکن اس کے پیچھے نیت غلط ہو۔ اور اِس وقت تو زیادہ تر چیزیں یہی چل رہی ہیں۔ باقاعدہ Planning ہوتی ہے، کوئی ایسا کلمہ Design کرنا جس کو "بیانیہ" کہتے ہیں۔ جیسے نہیں کہتے ہیں مدینہ منورہ کی ریاست۔ اب کلمۃ الحق تھا نا، اس کا مطلب کیا تھا؟ کیا ریاست مدینہ ایسا ہوتا ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ بھئی ریاست مدینہ والے کون سے... کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں؟ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں؟ لیکن ٹھیک ہے چلتا ہے، سب جگہ یہ چلتا ہے۔

                      اور بھی اس قسم کے لوگ ہیں، صرف یہ نہیں۔ اور بھی اس قسم کے لوگ ہیں جو مختلف قسم کے نعرے لگاتے ہیں لیکن مطلب اس نعرے سے وہ نہیں ہوتا جو نظر آتا ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، "تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔" بغیر نیت کے وہ یہ نہیں ہوا کرتا۔ جو بھی چیز ہوتی ہے اس کے پیچھے ایک نیت ہوتی ہے۔ وہ نیت کو دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ آیا وہ حق کے لیے ہے یا اپنے نفس کے لیے ہے؟

                      میں آپ کو اس کا ایک آسان مثال بتاؤں، غیر سیاسی مثال۔ یہ تو پہلے تو سیاسی مثال تھی نا۔ غیر سیاسی مثال بتاتا ہوں۔ دو آدمیوں کے درمیان لڑائی ہے، کسی زمین کے اوپر، کسی اور پر۔ اچھا، اب اس میں ایسا آتا ہے کہ قانون کچھ بتاتا ہے اور شریعت دوسرا بتاتی ہے۔ بعض دفعہ ایسا آ جاتا ہے Clash آ جاتا ہے۔ قانون میں ایک چیز صحیح ہوتی ہے اور شریعت میں وہ چیز ناجائز ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ نہیں ہوتے عدالتوں سے جو خلعے لیے جاتے ہیں اس میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں نا۔ اس طرح معاملہ جیسے پوتے کی میراث ہے اس کے بارے میں قانون ایک ہے اور شریعت کی بات دوسری ہے۔

                      تو یہ ساری باتیں جو ہیں مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب اس قسم کا مسئلہ ہوتا ہے، تو اگر کسی کو شریعت میں فائدہ ہوتا ہے، تو وہ کہتا ہے میں تو شریعت پہ چلوں گا۔ لیکن اگر اُسی آدمی کا معاملہ کوئی شریعت کے مطابق تو حق اس کا حق نہیں بنتا اور قانون کے مطابق بنتا ہو، اس وقت پھر کیا کہتا ہے؟ "قانون کے مطابق، بس جو قانون ہے جی، یہ تو ٹھیک ہے جی، آخر قانون بھی تو مسلمانوں نے بنایا ہوا ہے۔" حالانکہ جانتا ہے کہ کیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں چاہ رہا، وہ اپنے نفس کے مطابق فیصلہ...

                      اگر نفس کو شریعت Support کر رہا ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ اور اگر نفس کو اگر قانون Support کر رہا ہے تو پھر، پھر بھی اچھی بات ہے۔ تو یہاں پر معاملہ ہو گا "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" کا۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیتوں کو دیکھنا پڑے گا۔ بعض دفعہ ایسے ہوتے ہیں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض دفعہ فاسق و فاجر سے بھی اللہ پاک دین کا کام لے لیتے ہیں۔ اس کی نیت وہ نہیں ہوتی، لیکن وہ جو کام کر رہا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوتی ہے اس میں۔ وہ کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی نیت وہ نہیں ہوتی، لیکن ظاہر ہے وہ کام ٹھیک ہو رہا ہوتا ہے۔ تو ایسی باتیں بھی چلتی ہیں۔

                      اب آگے ایک بات زبردست آ رہی ہے۔

                      وَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، حَتّٰى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا، وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهٖ.

                      یہ بہت عجیب حدیث شریف ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ہم ذرا محنت کر لیں تو بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بہت ساری باتیں کھلتی ہیں۔

                      "فرمایا آپ ﷺ نے کہ انسان ہوتا ہے نمازیوں سے، روزے داروں سے اور زکوٰۃ دینے والوں سے اور حج، عمرہ کرنے والوں سے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سب نیکیوں کا حصہ ذکر فرمایا۔ اور پھر فرمایا، قیامت کے دن جزا نہیں دی جائے گی اس کو مگر اس کی عقل کے موافق۔

                      کیونکہ عقل سے معرفت ہوتی ہے، جس سے اخلاص وغیرہ حاصل ہوتا ہے۔

                      یہاں پر ایک بات زبردست ہے۔ اس میں ایک بہت اہم بات ہے جو ہماری خانقاہ کا Main کام ہے۔ الحمد للہ اس پہ ہماری خانقاہ کا عمل ہے۔ جس کو بہت سارے حضرات جانتے بھی نہیں کہ ہم کیوں اس طرح ہم کر رہے ہیں۔ کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے، مثنوی شریف کا درس ہوتا ہے، یا سیرت النبیﷺ کا ہمارے ہاں درس ہوتا ہے، یا ہمارے حضرت شیخ کی جو کتابوں سے درس ہوتا ہے، یا شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا جو تھا، مختلف دروس، اس میں سب چیز میں ایک ہی بات پر زور ہے، وہ کیا ہے؟ Conceptual understanding۔کہ ہم لوگ جان لیں کہ حق کیا ہے۔ صحیح بات کیا ہے، غلط بات کیا ہے۔ اس کو ہم عقلاً مان لیں۔ کیونکہ مفتی صاحب ایسا ہی ہے نا؟ اور اگر Conceptual understanding نہ ہو، تو آپ ایک کام کریں گے، لیکن آپ کو چونکہ اس کا وہ نہیں ہے تو اس وجہ سے اس کے حساب سے آپ کو اجر ملے گا۔ لیکن جب آپ اس کو Conceptual understanding کے ساتھ کریں گے، آپ کو پتہ ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں، تو اخلاص اس میں آئے گا۔ کیونکہ آپ کو پتہ چلے گا کہ اللہ پاک اس سے راضی ہوتے ہیں، تو جب آپ وہ کام کریں گے تو اللہ کی رضا کے لیے ہوگا۔ اور اس میں آپ کے اوپر چیزیں کھلیں گی، کہ اصل چیز کیا ہے۔ جس کو معرفت کہتے ہیں۔ تو اس کے ذریعے سے، تو گویا کہ عارفین کی جو نیکی ہوتی ہے، وہ ان کی معرفت کے بقدر ہوتی ہے۔ آپ اس کو اس کی تشریح کر سکتے ہیں۔ کہ عارفین کی جو نیکی ہوتی ہے وہ ان کی معرفت کے بقدر ہوتی ہے۔

                      اب ذرا تھوڑا سا اس کے بارے میں ایک اور بات عرض کروں۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہے۔ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کے ساتھ جنت میں آپ ﷺ کی ازواج مطہرات جو ہماری مائیں ہیں وہ بھی ہوں گی۔ اور ہماری جو مائیں ہیں وہ صحابیات ہیں۔ انبیاء تو نہیں ہیں۔ اور یہ درجات تو اللہ پاک نے مقرر کیے ہیں کہ جو انبیاء ہیں ان کا درجہ تمام صحابہ سے اوپر ہے۔ اور پھر انبیاء میں آپ ﷺ کا درجہ تو پھر سب سے اوپر ہے۔ تو صحابیات ان کے ساتھ ہوں گی، تو یہ کیا Justification کیسے؟ یعنی ایک ہی جنت مل رہی ہے تو کیسے ہوا ہے مقام کے لحاظ سے؟ تو حضرت نے عجیب نکتہ نکالا ہے۔

                      فرمایا کہ وہاں جو مزے ہوں گے، اس مزوں کے حصول کی جو حس ہے، وہ ایک نبی کی الگ ہوگی، صحابی کی الگ ہوگی اور باقی لوگوں کی الگ ہوگی۔ ایک ہی پھول ہے۔ لیکن نبی اس کو دیکھ کے کتنا مزہ لیتا ہے، صحابی اس کو دیکھ کے کتنا مزہ لیتا ہے، اور عام آدمی اس کو دیکھ کے کتنا مزہ لیتا ہے یہ فرق ہوگا۔ لہٰذا ہر ایک کو اپنے اپنے اس (مقام)کے حساب سے وہ اس کا جائے گا۔ تو لہٰذا وہاں Justification ہو جائے گی۔ کہ جس کا جو مقام ہے اس کے حساب سے مطلب ان کو...

                      کیوں ایسا نہیں ہے ہم، ہمارے جو کھانا کھاتے ہیں کیا سب لوگوں کو کھانے کا ایک قسم کا مزہ آتا ہے؟ ایک ہی Plate ہوتی ہے۔ لیکن ایک کو بہت مزہ آ رہا ہوتا ہے، دوسرے کو عام قسم کی بات اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کھا ہی نہیں سکتے۔ ہمارے گھر میں حسین، چھوٹا سا وہ ہے، وہ کیلے کو بہت پسند کرتا ہے۔ اور اس کی بہن ہے عائشہ، وہ بالکل پسند نہیں کرتی۔ تو حسین تو شرارتی ہے تو کیلے ان کے پیچھے پیچھے بھگا رہا ہوتا ہے۔ اور وہ اس سے بھاگ رہی ہوتی ہے، کہتی ہے مجھے اس کی بو بھی پسند نہیں ہے۔ تو اب دیکھو کیلا ایک ہی ہے۔ لیکن حسین کے لیے اس کا الگ حال ہے اور عائشہ کے لیے اس کا الگ حال ہے۔ ہے تو ظاہر ہے چیز ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے مزاج بنائے ہوتے ہیں، اس کے حساب سے سارا معاملہ چل رہا ہوتا ہے۔

                      تو جنت میں بھی اللہ پاک... اب دیکھیں ایک اور واقعہ بتاتا ہوں۔بہت عجیب واقعہ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے سامنے جب ان کے باپ کو لایا جائے گا، چونکہ وہ تو کافر تھا، تو آخر ویسے بھی ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اوّاب کہا ہے۔ تو وہ تو تھے ہی نرم دل تو پھر باپ کے بارے میں تو یقیناً ایسے ہی ہوگا۔ تو ان کو سخت تکلیف ہو گی ابراہیم علیہ السلام کو کہ میرے باپ کو کیسے عذاب ملے گا۔ تو اللہ جل شانہٗ اس کے باپ کو انتہائی منحوس شکل میں بنا دیں گے۔ جس سے گھن آتی ہو۔ وہ بنا دیں گے تو ابراہیم علیہ السلام کو بھی اس سے نفرت ہو جائے گی۔ اور پھر اب دیکھو۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام کے ایک ذوق جو طبعی ہے، اس کا بھی اللہ پاک نے انتظام کر دیا۔ کہ اس کو ایسا نہیں ہونے دیا کہ جیسے ابراہیم علیہ السلام کو اس پر رحم آئے۔ تو اب دیکھو اللہ پاک تو قادر ہے سب چیزوں پر۔

                      تو اس طرح ہم لوگ جو کام کرتے ہیں وہ کس نیت سے کرتے ہیں؟ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، نیت بمقابلہ معرفت ہوتی ہے۔ کہ معرفت کتنی حاصل ہے؟ اس معرفت کے حساب سے اس کو... یعنی میں آپ کو بتاؤں کہ ایک گلاس ہے، میں نے کہا جی یہ گلاس اس تک پہنچا دو۔ ایک Simple سی بات ہے۔ وہ خدمت کی نیت سے لے جائے گا تو اس کو اس کے حساب سے ثواب۔ لیکن اس کو پتہ چلے کہ اس گلاس کا ادھر لے جانے میں ایک خاص پیغام ہے۔ اور وہ پیغام یہ ہے کہ اس میں پوری امت کا ایک مسئلہ حل ہو رہا ہے کہ اس میں Information ہے دوسرے کو پہنچانے کے لیے تاکہ اپنے آپ کو بچا دے اور اس طرح۔ اس کو اس چیز کا پتہ ہو۔ اب وہ گلاس لے جائے گا کس نیت سے لے جائے گا؟ اور ویسے لے جائے گا تو کیا ہوگا؟ مطلب یہ ہے کہ Code words بھی ہوتے ہیں نا مختلف طریقے سے۔ تو جو لوگ آگاہ ہوتے ہیں کہ یہ چیز ہے کیا، تو ان کی معرفت اس کے مطابق ہوتی ہے۔ تو اس معرفت کے مطابق جب وہ کام کرتا ہے تو اس کو اس کا اجر اس کے حساب سے ملے گا۔

                      تو یہ بات ہے کہ نماز جو انسان پڑھ رہا ہے اس کی معرفت کیا ہے؟ بہت سارے لوگ نماز کو اس لیے پڑھتے ہیں کہ ہمیں خوشی حاصل ہو، اطمینان حاصل ہو۔ بس ان کی معرفت اتنی ہے۔ کیوں ایسا نہیں حضرت؟ بعض لوگ نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں جب ان کو مزہ نہیں آتا۔ تو کیا مطلب وہ نماز کس لیے پڑھ رہے تھے؟ وہ اللہ کے لیے پڑھ رہے تھے؟ وہ تو اپنے نفس کے لیے پڑھ رہے تھے۔ کیونکہ جس وقت نفس کو مزہ نہیں آ رہا تو بس اس وقت چھوڑ دیا۔ اللہ بچائے۔

                      تو اب یہ چیزیں اس کی Correction ضروری ہے نا۔ اور یہ اس کی Correction کیا ہے؟ بھئی نماز پڑھنے میں جو مشقت ہے اس میں تو کوئی فرق نہیں پڑا نا۔ نماز تو وہ بھی پڑھ رہا ہے، یہ بھی پڑھ رہا ہے۔ اٹھنا اس کا بھی ہے، اٹھنا اس کا بھی ہے۔ لیکن نیت کون سی ہے؟ ہر شخص کی نیت اس کی معرفت کے مطابق ہے۔ تو اس کا اجر بھی اس کو اس کی معرفت کے حساب سے ملے گا۔

                      اس طرح روزہ ہوا۔ اب روزے کا میں اس لیے کر لوں کہ اس میں Dieting حاصل ہو جاتی ہے۔ اور میری صحت بڑی اچھی ہو جائے گی۔ تو اب وہ روزہ ہے، وہ سارا کچھ ہے، لیکن وہ کس نیت سے؟ تو بس مسئلہ ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ جتنے بھی اعمال ہیں وہ ہماری جو معرفت ہے اس کے حساب سے اجر ملے گا۔ اور وہ معرفت کیسے ٹھیک ہو گی؟ تو اس کے لیے ہمیں دیکھنا ہے کہ معرفت خراب کس وجہ سے ہے۔

                      تو جس وقت انسان اپنے نفس کا بندہ ہوتا ہے تو اس کی معرفت نفس کے مطابق ہوتی ہے کہ نفس اس کو جو کہتا ہے اس کے حساب سے اس کی معرفت ہوتی ہے۔ وہ اس کے مطابق سوچتا ہے۔ ہر کام اس کے مطابق کرتا ہے۔ جتنا جتنا اس کے اوپر اپنے نفس کا اثر کم ہوتا جائے گا اتنی اتنی اس کی معرفت بہتر ہوتی جائے گی۔ حتی کہ جب بالکل نفس مطمئنہ حاصل ہو جائے گا اس کی معرفت اللہ جل شانہٗ کی مرضی کے مطابق ہو جائے گی۔ پھر اس کے بعد وہ وہی کہے گا جو اللہ چاہے گا۔ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرے گا۔

                      مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا:

                      گفتہ او گفتہ الله بود

                      گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

                      "اس کا کہنا اللہ کا کہنا ہے بے شک وہ ایک بندے کی زبان سے ادا ہو رہا ہو۔" کیونکہ وہ خود اپنے لیے بات کر ہی نہیں رہا۔ اپنے لیے بات نہیں کر رہا۔ تو لہٰذا وہ جو بات کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

                      دو باتیں ہیں، ایک اس کی نیت صحیح ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کی نیت صحیح کر دے، کیونکہ اللہ پاک کا بندہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے تو اس کی نیت صحیح ہے۔

                      دوسرا اللہ پاک کا اس کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ اس کو اب ذریعہ بنا رہے ہیں لوگوں تک پہنچانے کا۔ تو عین اس وقت جس وقت ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں وہ بات ڈال لیتا ہے اور وہ اس کو بیان کر لیتا ہے۔

                      تو اب بتاؤ، دونوں طرف سے راستے کھلے ہیں نا۔ اخلاص کی وجہ سے اس کا اپنا راستہ بند نہیں ہے۔ صحیح بات کے لیے۔ اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ماشاءاللہ اس کی تشکیل ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بات آ رہی ہے وہ بیان کر رہا ہے۔ لہٰذا اب یہ ایک آلہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے لینے کا اور پھر مخلوق کو دینے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔

                      اسی چیز کو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ جو ہوتا ہے یہ برزخ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے لیتا ہے روح کے ذریعے سے، اور مخلوق کو دیتا ہے نفس کے ذریعے سے۔ اس پر بھی بڑی عجیب بات ہوتی ہے کہ بھئی نفس کے ذریعے سے کیسے دیتا ہے؟ نفس کے ذریعے سے کیسے دیتے ہیں؟ نفس کے ذریعے سے ایسے دیتے ہیں کہ دیکھیں جس کو درد کا احساس نہ ہو، جس کو خود درد نہیں ہوتا، اس کو کسی اور کے درد کا کیا احساس ہوگا؟ تو درد کس چیز کو ہوتا ہے؟ نفس کو ہوگا نا۔ تو اب وہ جو لوگوں کو دیتا ہے، ان کے احوال کے مطابق دیتا ہے۔ کہ اس کے ساتھ یہ بات کرنی ہے، اس کے ساتھ یہ بات کرنی ہے، اس کے ساتھ یہ... اس کی Condition یہ ہے، اس کی Condition یہ ہے اس کی Condition یہ ہے جیسے ڈاکٹر۔ ہر ایک کی Condition کے مطابق بات کرتا ہے۔ تو اب وہ Condition کس چیز کی ہے؟ اس کے نفس کی ہے نا۔ تو اس نفس کے مطابق اس کو دیتا ہے۔ تو اس لیے فرماتے ہیں بات تو اللہ کی ہے ایک طرف آئی ہے، لیکن اب ہر ایک کو اس کی حالت کے مطابق دے رہا ہے۔ یہ نفس کے ذریعے سے دینا ہوا۔

                      فرشتے یہ کام نہیں کر سکتے۔ فرشتے یہ کام نہیں کر سکتے۔ فرشتہ Direct... "يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ" ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم آخری حد تک ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر کام جو کروانا ہوتا ہے بس وہ اس کا سارا کچھ بتاتے ہیں کہ اب یہ کرو، اب یہ کرو، اب یہ کرو۔ مطلب یہ اس میں یہ بات نہیں ہوتی کہ وہ اپنی طرف سے سوچے، وہ اپنی طرف سے سوچنے والی بات اس میں ہے ہی نہیں۔ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ والی بات ہے۔ جبکہ انسان کو اللہ جل شانہٗ نے برزخ بنایا ہوتا ہے ایسے انسان کو۔ کہ وہ ان کا اپنا نفس کا نظام بھی ہوتا ہے، روح کا نظام بھی ہوتا ہے تمام چیزوں کا ہوتا ہے۔ اور اللہ جل شانہٗ اس کے دل پہ جو بات اتار لیتے ہیں تو وہ مِن جانب اللہ وہ بات آگے پھر ہر ایک کو اس کی حالت کے مطابق دی جا رہی ہوتی ہے۔ یہ کام صرف انسان ہی کے ذمے ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر انسانوں میں آتے ہیں۔ اور مشائخ بھی ظاہر ہے، ہوتے ہیں۔

                      تو اب یہ جب بات سمجھ میں آ گئی کہ انسان کی جو معرفت ہے، انسان کی جو معرفت ہے، اس کے ذریعے سے ماشاءاللہ وہ بات کرتے ہیں اور وہ دوسروں کو بات پہنچاتے ہیں اور اپنے اعمال کا حساب بھی ان کی معرفت کے حساب سے ہوتا ہے۔ تو یہ مطلب کیسے حاصل کی جائے صحیح؟

                      تو اب دیکھو اس معرفت میں حائل کون سی چیز ہے؟ جیسے سورج کی روشنی ہے، سورج کی روشنی تو مستقل طور پر آ رہی ہے نا، کوئی بھی سورج کی روشنی بند تو نہیں کر سکتا۔ ہاں، حجاب آ سکتا ہے۔ جیسے بادل آ جائیں تو سورج کی روشنی نہیں آتی۔ حالانکہ سورج کی روشنی ابھی بھی آب و تاب سے قائم ہے، لیکن بادلوں کے اوپر۔ ہم جب جہاز میں جاتے ہیں، تو جہاز جب تک بادلوں کے نیچے ہوتا ہے تو کچھ بھی روشنی نظر نہیں آتی، سورج نظر نہیں آتا۔ لیکن جیسے ہی بادلوں کے Range سے اوپر چلا جائے، تو نیچے بے شک بارش برس رہی ہو لیکن اوپر ماشاءاللہ سورج آب و تاب سے ہوتا ہے قائم۔

                      تو اسی طریقے سے، یہ جو حجابات ہیں، یہ حجابات جو ہوتے ہیں وہ انسان کو ان معرفت کی باتوں سے روکتے ہیں۔ وہ حجابات کیا چیزیں ہیں؟

                      1- حبِ جاہ

                      2- حبِ باہ

                      3- حبِ مال

                      یہ تین بڑے حجابات ہیں۔ حبِ جاہ، حبِ باہ، حبِ مال۔ اللہ کا حکم آ گیا، آپ کو مالی نقصان، کچھ اندیشہ ہے، آپ چپ ہو گئے۔ بس حجاب ہو گیا۔ نہیں ہوسکتا۔

                      یہ سود اور رشوت اور یہ ساری چیزیں کیا قرآن میں باقی صاف صاف بتایا نہیں گیا؟ ہر چیز صاف صاف بتائی گئی نا۔ اس کے باوجود جو لوگ سود کھاتے ہیں، آپ ان کو اس پہ convince کر سکتے ہیں؟ وہ اپنی طرف سے کوئی دلیل دیتے ہیں تو اس طرح ہی تو... یہ تو پیسوں کا کرایہ ہے۔ خدا کے بندے! اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے یا تُو زیادہ جانتا ہے؟

                      دیکھیں، اللہ پاک نے سود کے بارے میں کوئی بات ایسی نہیں بتائی کہ اس میں یہ ہے، صرف کیا فرمایا ہے؟ سود کو اللہ نے منع کیا اور تجارت اللہ پاک نے منع نہیں کی... یہی بات ہے نا؟ وہ جو کہتے ہیں ان کو دیوانوں کی طرح اٹھایا جائے گا نا؟ تو اس میں کیا ہے؟ کیونکہ انہوں نے سود اور تجارت کو ایک جیسا کہا ہے، حالانکہ سود کو اللہ پاک نے روکا ہے اور تجارت کو نہیں روکا ہے، یہی بات ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ کے حکم کے ذریعے سے بات ہے۔ آپ اس میں دلائل نہ ڈھونڈیں کہ یہ چیز کیا ہے، یہ چیز کیا ہے۔ یہ دیکھو کہ اللہ کا حکم کیا ہے۔ تو اللہ پاک کا حکم جو ہے بس اس کو ماننا ہوگا۔ اس کو عبدیت کہتے ہیں۔ اللہ کا حکم ماننا۔

                      تو اب یہ بات ہے کہ اگر کوئی شخص ہے، اس کو حجاب ہے اپنے حُبِّ مال کا۔ تو وہ آپ کے بیان سے بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا، مفتیوں کے فتوی سے بھی کوئی بات حاصل نہیں کر سکتا۔ اپنے مطالعے سے بھی کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک اس کو جو حجابات اس کے ہیں دل پہ، وہ دور نہ ہو جائیں۔ تو اس حُبِّ مال کو نکالنا پڑے گا۔

                      پھر حُبِّ جاہ ہے۔ میں ایک حُبِّ جاہ کی مثال دیتا ہوں، باقی تو بہت سارے ہیں حُبِّ جاہ... جاہ نے تو ایسے ایسے لوگوں کو مارا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ اللہ معاف فرمائے، یہ تو تباہی کے دروازے ہیں۔

                      ایک بہت جس کے ساتھ ہمارا تعلق ہے وہ صرف وہی بیان کرتا ہوں۔ مثلاً خلافت کا خیال۔ اگر کسی کو خلافت کا خیال ہو، تو وہ ترقی کر سکتا ہے؟ بہت بڑا حجاب ہے۔ وہ حجاب اس کے درمیان آ جائے گا۔ اب وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے،" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"، خلافت کے لیے کر رہا ہے۔ خلافت کے لیے کر رہا ہے تو اوپر نہیں جا رہا۔ اوپر نہیں جا رہا تو پھر کہاں پر کھڑا ہے؟ اب اس کا تہجد اور اس کا ذکر اور اس کا یہ تمام چیزیں کس Category میں جا رہی ہیں؟ خطرناک بات ہے یا نہیں؟ اب اتنی خطرناک چیز ہے، لیکن لوگ اس کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یہ بہت اہم بات ہے کہ آپ کس چیز کے لیے کر رہے ہیں کام۔

                      تو یہ حبِ جاہ کا وہ ایک ہمارے سامنے جو نمونہ ہے وہ میں عرض کر رہا ہوں۔ باقی حبِ جاہ توبہ، توبہ، توبہ۔ چوہدری بننا، خان بننا، اسمبلی کا ممبر بننا، بادشاہ بننا، وزیراعظم بننا۔ اور پتہ نہیں کیا کیا بننا۔ اور اس میں جو رکاوٹیں آتی ہیں ان رکاوٹوں کے ساتھ کیا کیا کرنا۔ جائز ناجائز کی تمیز نہ ہونا، یہ سارے نظام حبِ جاہ کے ہیں۔ جھوٹ بولنا اس کے لیے، غیبت کرنا، دھوکہ کرنا، لوگوں کو قتل کرنا، پتہ نہیں کیا کیا چیزیں اس میں ہوتی ہیں۔

                      آپ اندازہ کر لیں ہمارے اجداد رحمۃ اللہ علیہم زیادہ تر وہ پہاڑوں میں ہوتے تھے۔ پہاڑوں میں ہوتے تھے۔ وہ Settled area میں آ ہی نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اس وقت جو بھی بادشاہ ہوتے تھے ان کے مخالف ہوتے تھے۔ کیونکہ لوگ ان کا خیال کرتے تھے قدر کرتے تھے۔ ان کو ڈر ہوتا تھا کہ کہیں ان کو بادشاہ نہ بنا لیں۔ اپنے لیے مصیبت بن جائے گی۔ لہٰذا ۔۔۔ یہ ہارون الرشید کتنا خلیفہ اچھا مشہور ہے نا۔ ان کی بیوی زبیدہ رحمۃ اللہ علیہا انہوں نے حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع کی خفیہ...امام اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ کے دو بیٹے تھے علی اور محمد، رے میں تھے۔ اس (محمد) کو یہاں سے نکالو ورنہ ہارون الرشید کا خیال اس کے بارے میں اچھا نہیں ہے۔ اس کی بیوی ہے، وہ بتا رہی ہے۔ اور امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو راتوں رات ان کو نکالنا پڑا اور بلخ بھیجنا پڑا۔ بلخ لے گئے۔ کہ ان کے Range سے باہر چلے جائیں ورنہ ان کو مارنا تھا۔ اب بتاؤ کس لیے مارنا تھا؟ سادات تھے، بچے تھے، معصوم تھے۔

                      اب دیکھو نا غزہ کے لوگوں کی جو اسرائیلی مار رہے ہیں نا، تو ہمیں تکلیف ہے نا۔ تو بچوں کا کیا قصور ہے؟ سب لوگ کہتے ہیں نا بچوں کا کیا قصور ہے؟ عورتوں کا کیا قصور ہے؟ بوڑھوں کا کیا قصور ہے؟ جو جنگ نہیں لڑ سکتے آپ کے تو وہ تو کسی بھی جگہ پر ایسے جائز نہیں ہے۔ تو آپ کیوں اس کو مار رہے ہیں؟ لیکن دیکھو نا وہاں کیا صورتحال تھی؟ بچے تھے نا، اور سادات تھے۔ لیکن اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس نے خطرناک گیم وہ چاہتا تھا۔ تو یہ حبِ جاہ ہے۔ یہ حبِ جاہ ہے۔ بہت خطرناک گیم ہے یہ۔

                      اسی طرح حبِ باہ۔ حبِ باہ کیا چیز ہے؟ مزوں کی طلب۔ لذتوں کی طلب۔ لذتوں کی طلب، لذات۔ لذات میں ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔ ایک عالی شان مکان اس سے آپ کو لذت ملتی ہے، یہ حبِ باہ ہے۔ آپ کو گاڑی کے ساتھ محبت ہے، بڑی اچھی گاڑی آپ کو چاہیے تو یہ حبِ باہ ہے۔ اچھا۔۔ اس طرح اور بہت ساری چیزیں جن کا نام بھی میں نہیں لے سکتا وہ، وہ بھی لوگوں کی طلب ہے تو وہ بھی حبِ باہ ہے۔ تو یہ ساری حبِ باہ کی جو چیزیں ہیں یہ بھی حجابات ہیں۔ اور واقعتاً جو لوگ اس میں پھنسے ہوتے ہیں نا ان کو آپ کسی نصیحت سے نہیں سمجھا سکتے۔ وہ اسی میں پھنسے رہتے ہیں۔

                      تو حبِ باہ کا جو توڑ ہے وہ ہے روزے میں۔ اور حبِ جاہ کا جو توڑ ہے وہ نماز میں ہے۔ اور حبِ مال کا جو توڑ ہے وہ کس چیز میں ہے؟ زکوٰۃ میں ہے۔ ، اللہ پاک نے اس کا انتظام اس طرح کیا ہوا ہے۔ لہٰذا نماز کے اوپر محنت کریں گے تو حبِ جاہ ٹوٹے گی۔



                      ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

                      نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

                      نماز میں کوئی نہیں ہوتا کہ خان کون ہے اور بادشاہ کون ہے اور بڑا کون ہے۔ نہیں یہ نہیں اس میں دیکھا جاتا ہے پہلی صف میں کھڑے ہونے کا حق کس کا ہے۔ جو پہلے آیا اس کا حق ہے۔ ہاں البتہ ضرور یہ بات ہے، کچھ شریعت کی باتیں ہیں ان کو بھی سمجھنا چاہیے جیسے امام کے فوراً پیچھے جو کھڑے ہوتے ہیں وہ لوگ ہونے چاہئیں کہ اگر امام صاحب کو کسی کو وہ بنانا پڑے، اپنا خلیفہ بنانا پڑے تو وہ امامت کر سکے۔ ہر ایک آدمی ان کے پیچھے کھڑا نہ ہو۔ اس کے، یہ بات حضرت میں نے صرف ایک مسجد میں دیکھی جو لکھا ہوا تھا۔ باقی تو تقریباً اس کے بارے میں کوئی Education نہیں ہے۔ کوئی Education نہیں ہے۔

                      اذان کے بارے میں کوئی Education نہیں ہے ہمارے ملک میں کہ اذان کون دے۔ جو بس طاقتور ہے بس وہ اذان دینے کے لیے تیار ہے چاہے وہ Qualified ہو یا نہیں ہو۔ کوئی Control نہیں ہے اذان کے اوپر ہمارا۔ اور یہ پہلی صف میں امام کے پیچھے جو کھڑے ہونے والی جو بات ہے، یہ بھی کوئی Control نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چوہدری ہے وہ پیچھے کھڑا ہو گیا اس کو کون پیچھے کر سکتا ہے؟ بس ٹھیک ہے Education تو ہے نہیں۔ حالانکہ اس کے لیے شرعی احکامات ہیں۔

                      تو بہرحال یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ ہمارے جو ہے حبِ جاہ، حبِ باہ، حبِ مال، ان کو دور کرنا بہت ضروری ہے، ان حجابات کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ معرفت حاصل نہیں ہوگی۔ نفس مطمئنہ حاصل نہیں ہوگا کہ وہ کیفیتِ احسان حاصل نہیں ہوگا۔ اگر ان حجابات کو دور نہیں کیا گیا۔ تو ان تمام باتوں سے ایک نتیجہ نکلتا ہے۔ کہ ہمیں اس کے لیے باقاعدہ کوشش کرنی پڑے گی۔ اس کوشش کا نام کیا ہے؟ اس کوشش کا نام لوگوں نے تصوف رکھا ہے، ہم نے نہیں رکھا۔ ہم نے نہیں رکھا۔ لوگوں نے اس کا نام تصوف رکھا ہے۔ آپ اس کو کچھ اور کہہ دیں بے شک کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن کام یہ ہو، اور وہ کیا ہے؟ اپنے نفس کی اصلاح کریں ہم۔ نفس سے ان تمام چیزوں کو نکالیں۔ ان کے جو شر ہیں،


                      ساقی پلا دے پھول تو کانٹا نکال کے

                      مطلب یہ ہے کہ اگر نفس کی بات ماننا ہے، تو وہ ماننا ہے جو جائز بات ہو۔ جو اس کی ناجائز باتیں ہیں، اس کو ہم مانیں نہیں۔ تو ہمیں ناجائز باتیں معلوم ہوں تو پھر... اس میں ایک تو یہ بات ہے کہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا جائز ہے کون سا ناجائز ہے۔ ایک تو یہ معلوم ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نفس اتنا مطمئن ہونا چاہیے شریعت پر کہ وہ انکار نہ کرے۔ جو صحیح ہو اس کو صحیح کہہ دے، جو غلط ہو اس کو غلط کہہ دے۔ صحیح ملے تو وہ لے، اور جو صحیح نہ ملے تو اس کو نہ لے۔ مطلب ظاہر ہے اس کو یہ والی بات ہے۔

                      ہم جب یورپ وغیرہ جاتے ہیں وہ تو آزاد ماحول ہے۔ وہ تو ہمارے لیے تو نہیں کرتے نا سارا کچھ۔ تو جو لوگ یہاں سے جاتے ہیں ان کے لیے ایک بہت بڑا مجاہدہ ہوتا ہے۔ اور وہ مجاہدہ یہ ہوتا ہے کہ حلال چیزیں کیسے، کہاں سے ملیں گی۔ حلال چیزیں کہاں سے ملیں گی؟ ابتدائی چند دن ان کے لیے بہت ہی پریشان کن ہوتے ہیں، جو بچنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی چیز کیا ہے۔ تو اس کے لیے ان کے پاس معلومات ہونی چاہئیں۔ تو اللہ پاک دیتے ہیں:

                      "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا"، اللہ پاک دیتے ہیں مطلب پہنچا دیتے ہیں اس کو وہاں تک جہاں سے ان کو معلومات پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ کوشش تو کرنی پڑتی ہے۔اور اس کے لئے مجاہدہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ اور اس وقت کا مجاہدہ بڑے کام کا ہوتا ہے۔ اور اس پہ ماشاءاللہ بڑے بڑے فیصلے بھی ہو جاتے ہیں۔ ۔

                      وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا ہمارے ایک دفتر کے ساتھی آئے تھے، ڈاکٹر تھے پی ایچ ڈی۔ تو ظاہر ہے یہ طریقہ ہے نا کہ جو پہلے سے موجود ہوتے ہیں ان سے لوگ معلومات کرتے ہیں، اور وہ بھی ان کو Help کرتے ہیں۔ تو انہوں نے ہم سے پوچھا۔ میں نے ان کو تفصیل بتائی کہ فلاں فلاں چیز فلاں جگہ سے ملے گی۔ گوشت کا میں نے بتایا کہ جرمن Store سے آپ نے نہیں لینا، ترکوں کا جو Store ہوتا ہے فلاں فلاں، وہاں سے آپ کو صحیح گوشت ملے گا، حلال گوشت ملے گا۔ خیر میں کسی کام سے جا رہا تھا۔ میری نظر ویسے پڑی کہ وہ ایک جرمن Store سے نکلنے والا تھا۔ اس کے ہاتھ میں گوشت تھا۔ تو چونکہ میری اس کے ساتھ بات ہو چکی تھی تو میں نے اس سے کہا یہ آپ نے گوشت خریدا ہے، جرمن Store سے لیا ہے؟ کہنے لگا، ہاں۔ میں نے کہا، میں نے تو آپ کو نہیں بتایا تھا کہ یہاں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ کہتے ہیں، نہیں اصل میں بات یہ ہے کہ ترکوں کے Store میں صرف مٹن ملتا ہے۔ اس کی لذت اتنی نہیں ہوتی۔ تو یہ Beef مجھے چاہیے تھا تو میں نے اس وجہ سے یہاں سے لیا۔

                      مجھے اتنا غصہ آیا نا، اتنا غصہ آیا کہ میں کیا کروں۔ میں نے کہاوہان تو تم ہمارا دماغ خراب کرتے ہو کہ پنجابی کہتے ہیں نا پٹھان موٹا گوشت کھاتے ہیں۔ اور خود اس کو نا پسند کرتے ہو۔ یہاں پر موٹے گوشت کے لیے تم حق کو چھوڑ رہے ہو؟ یہ کون سی بات ہے؟ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ یہاں پر پٹھانوں کے بارے میں مشہور ہے کہ موٹا گوشت یہ کھاتے ہیں۔ یہ اگرچہ صحیح بات میں عرض کرتا ہوں موٹے گوشت کی ریسرچ جو ہے وہ بتاتے ہیں کہ سب سے Best گوشت یہ ہوتا ہے۔ یہ شاید پنجابی حضرات والوں کو یہ بات بڑی عجیب لگے لیکن پوچھ لیں۔ انٹرنیٹ پہ Search کر لیں۔ اس کی Quality جو ہوتی ہے پورا مکمل جو ہوتا ہے، وہ اس کا جو گوشت ہوتا ہے اس کی Value بہت ہے۔

                      اس وجہ سے وہاں پر جو موٹا گوشت ہوتا تھا وہ 24 مارک کا کلو ہوتا تھا۔ اور جو مٹن ہوتا تھا وہ 14 مارک کا ہوتا تھا۔ اور مرغی ساڑھے چار مارک کا ہوتا تھا۔ ان دنوں مرغی سب سے زیادہ مہنگی ہوتی تھی ہمارے ہاں۔ سب سے زیادہ مہنگی مرغی ہوتی تھی۔ پھر اس کے بعد چھوٹا گوشت مہنگا ہوتا تھا۔ پھر اس کے بعد موٹا.. تو بالکل الٹ نظام تھا۔ وہاں موٹا گوشت سب سے زیادہ مہنگا ہوتا تھا۔ تو Research کی بنیاد پہ نا کہ موٹے گوشت میں Quality وہ زیادہ ہوتی ہے۔

                      تو خیر بہرحال میں نے اسے... میں نے اس کو تو اکثر اب دیکھو نا نفس سوار ہے نا۔ وہ اس کو نہیں دیکھتا کہ حلال کیا ہے، حرام کیا ہے۔ وہ دیکھتا ہے میرا نفس کس چیز سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔

                      بھئی یہ تو ہے کہ جس کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے وہ بعض دفعہ صرف پانی پہ گزارہ کرتا ہے جب تک پتہ نہ چلے۔ ایسی بھی حالت ہوتی ہے۔ یا پھر مچھلی کہیں مل جائے۔ کئی کئی دن میں نے کیلے کے ساتھ روٹی کھائی ہے اور پھر دودھ پیا ہے۔ کیلے کے ساتھ۔ کیلے کے ساتھ روٹی کوئی کھاتا ہے یہاں پر؟ لیکن کیلا خالص چیز ہے نا اس کے ساتھ کوئی کچھ کر تو نہیں سکتا نا، اس پہ کیا چیز ڈالے گا؟ اور روٹی بھی صحیح ہوتی تھی نا وہ ترکوں کے ہاں ملا کرتی تھی نا وہ روٹی۔ تو روٹی کے ساتھ کیلا کھا کے پھر اس کے بعد دودھ پی لیتا تھا۔ بس یہ بات ٹھیک ہو جاتی تھی۔ تو Diet کے لحاظ سے تو بڑی مفید چیز ہے، مطلب اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ دودھ میں اور روٹی میں ساری چیزیں موجود ہیں۔ لیکن بہرحال وہ مزہ تو اتنا نہیں آتا نا جتنا چیزوں کے ہم لوگ یہاں پر عادی ہیں۔ تو وہ چیز تو نہیں ہے، لیکن بہرحال اللہ کا شکر ہے پھر اللہ نے ایسی آسانی دے دی کہ ساری چیزیں ماشاءاللہ ہمیں پتہ چل گئی اور کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔

                      لیکن ابتدائی چند دن کی بات ہے۔ تو اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ہم اپنے نفس کا وہ نہیں کریں گے، اصلاح، تو اس منجدھار میں ہم رہیں گے۔ اس سے نکلنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ کہ ہم کون سا کام کس نیت سے کریں اور کس طرح کر لیں کہ اللہ پاک کو ہم راضی کر لیں۔ یہ سوچ نہیں ہوگا۔ سوچ کیا ہوگا؟ میرا نفس کس چیز سے خوش ہوگا۔ بس یہی بات ہوگی، تو یہ تباہی ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو۔اب یہ ہوگا کیسے تو میں آپ کو ایک بات بتاوں.

                      ہمارے پشتو میں ایک ضرب المثل ہے۔ میں پشتو کے ضرب المثل اس لیے زیادہ بیان کرتا ہوں کہ ایک تو وہ مجھے آتی ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اس میں بڑی Quality کی چیزیں ہوتی ہیں۔ اب جیسے ایک مثال میں اب بتا رہا ہوں آپ کو۔ وہ کہتے ہیں "خپل بد دَ ولو مينځ وي" جو اپنی برائی ہوتی ہے نا، وہ پیچھے دو ہڈیاں نہیں ہیں کمر میں؟ اس کے درمیان جو جگہ ہے نا، وہ کہتے ہیں وہ اپنی برائی ادھر ہوتی ہے۔ یہ نہیں نظر نہیں آتی۔ کیسے نظر آئے گی آپ کو؟ کوئی اور آپ کو بتائے گا نا۔خود تو آپ کو نظر نہیں آ سکتا۔ کوئی اور آپ کو بتائے گا نا۔ تو اس لیے اپنے اوپر کسی اور کو نگران کرنا پڑتا ہے۔ اپنے اوپر کسی اور کو نگران کرنا پڑتا ہے۔ بغیر اس کے کام نہیں ہوتا۔

                      علاج معالج کے بغیر نہیں ہے۔ بیماری کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ یہ روحانی بیماریاں ہیں روحانی بیماروں کا علاج کرنا ہوگا۔ اور علاج بغیر معالج کے نہیں ہوتا۔ اور معالج کے لیے پھر شرائط ہونی چاہیے۔ کہ آپ کو معلوم ہو کہ صحیح معالج تک میں پہنچ گیا ہوں۔ ورنہ اگر معالج آپ کے نفس نے آپ کے لیے دریافت کیا وہ تو پھر آپ کے نفس کے مطابق بات کرے گا نا۔

                      وہ ایک دفعہ ہمارے دفتر میں ایک صاحب تھے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ House Building Finance Corporation والے مجھے Loan دے رہے ہیں۔ گھر بنانے کے لیے۔ تو میں کیا کروں؟ میں نے کہا بالکل نہ لو یہ تو سود ہے۔ہے سود اس میں ظاہر ہے اس میں سود پر ہوتا ہے۔ یہ تو سود ہے بالکل نہ لو۔ خیر تقریباً دس بارہ سال کے بعد وہ مجھے بات کر رہا ہے۔ یہ بات تو گزر گئی نا کافی عرصہ گزر گیا درمیان میں۔ دس بارہ سال کے بعد مجھے کہتے ہیں جی میرے لیے دعا کرو۔ میں نے کہا کیا؟ کہتے ہیں Loan والے مسئلے نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔ میں نے کہا کون سے Loan والے نے؟ کہتے ہیں وہ House Building Finance کا جو Loan لیا تھا۔ تو میں نے کہا کہ وہ میں نے آپ کو روکا نہیں تھا؟ آپ کو میں نے روکا نہیں تھا؟کہتے ہیں ہاں روکا تو تھا لیکن ہمارے خاندانی پیر جو تھے نا، ان سے ہم نے پوچھا تو اس نے کہا کہ آپ مجبورا لے رہے ہیں نا؟ تو میں نے کہا جی ہاں۔ تو فرمایا پھر کوئی بات نہیں۔ کوئی حرج نہیں اب یہ بھی فتویٰ ہوتا ہے کہ آپ مجبورا لے رہے ہیں، بس ٹھیک ہے جی کوئی بات نہیں۔اب شریعت کی کسی بات کی Value نہیں ہے۔

                      تو میں نے کہا پھر جا کر دعا بھی اس سے کرواؤ مجھ سے دعا کیوں کرواتے ہو۔ میری بات اگر آپ نے مانی ہوتی تو پھر میں کچھ کہتا نا،اب تم نے ان کی بات پہ عمل کیا، شیطان کی بات مان لی ہے تو لہذا اب اس کے پیچھے جاؤ ان سے پوچھو۔ تو اس طرح پھر لوگ کرتے ہیں وہ Selection کرتے ہیں کہ مطلب پوچھتے بے شک ہر ایک سے ہوں لیکن مانتے کس کی ہیں؟ جو ان کے نفس کے مطابق جواب دے۔

                      تو یہ بات میں عرض کرتا ہوں کہ ہمیں Selection ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ جو صحیح نگران ہے اس تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ تو صحیح نگران کون سا ہوگا اس میں کچھ چند شرائط ہیں۔

                      سب سے پہلے تو خود اہلِ سنت والجماعت میں سے ہو۔ تبھی آپ کو یہ صحیح عقائد کی طرف لے جائے گانا۔

                      دوسری بات یہ ہے کہ خود اتنا علم رکھتا ہو کہ شریعت پر عمل کر سکتا ہو۔ یعنی شریعت کا جو بنیادی علم ہے اس کو آتا ہو، جس کو فرضِ عین علم کہتے ہیں۔ اس کو آتا ہو۔

                      تیسری بات یہ ہے کہ پھر اس پر خود عمل کرتا ہو۔ کیونکہ جو خود اس پہ عمل نہیں کرتا وہ کسی اور کو کیا بتائےگا اور بتائے گا بھی تو اس میں برکت کیا ہوگی؟ تو یہ بات ہے کہ یہ،تو یہ بات ہے کہ یہ... وہ کہتے ہیں شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک بڑھیا آئی، اس نے کہا جی میرے پوتے ہیں اس کو کچھ بتا دیں، نصیحت کرلیں، کہ یہ گڑ کھاتا ہے تو ہم اس کو روکتے ہیں مانتا نہیں ہے۔ تو حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، کل لے آنا۔ تو اس کو اپنے وقت پہ کل لے آئی۔ تو انہوں نے کہا بیٹا گڑ نہ کھانا، آپ کے دانت خراب ہو جائیں گے۔ تو انہوں نے کہا لے جاؤ۔ انہوں نے کہا حضرت یہ بات تو آپ کل بھی کہہ سکتے تھے۔ کون سی بات ہے اس میں Research کی بات ہے، یہ تو آپ کل بھی کہہ سکتے تھے؟

                      فرمایا میں نے خود گڑ کھایا تھا۔ کل میں نے خود گڑ کھایا تھا، لہٰذا میں اپنے اگر بچے کو کہتا کہ گڑ نہ کھاؤ تو میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا کہ تو تو خود گڑ کھاتا ہے، اس کو روکتا ہے۔ تو آج میں نے نہیں کھایا تھا تو میں نے اس کو کہہ دیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ عمل کرنا اتنا ہوتا ہے کہ باقاعدہ اثر ہوتا ہے اس کا، جو عمل نہیں کرتا اس کی بات میں اثر نہیں ہوتی۔

                      تو بہرحال تین باتیں ہو گئیں۔

                      چوتھی بات یہ ہے برکت والی، کہ ان کی صحبت کا سلسلہ آپ ﷺ کی صحبت تک پہنچتا ہو۔ کیونکہ صحبت ہی سے تمام فضائل آتے ہیں۔ صحابہ کرام اس لیے سب سے افضل ہیں باقی لوگوں سے کہ وہ آپ ﷺ کی صحبت میں تھے۔ تو پھر اس کے بعد پھر اس کے بعد یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے۔

                      پانچویں بات یہ ہے کہ کسی صاحبِ نسبت نے ان کو اجازت بھی دی ہو۔ یعنی ذمہ داری لی ہو کہ یہ اب کر سکتا ہے کام۔ پانچ باتیں ہو گئیں۔

                      چھٹی بات یہ ہے کہ وقت کے علماء اور مشائخ جو حق ہیں وہ ان کو صحیح کہتے ہوں۔ یعنی اس کے بارے میں کوئی ان کو وہ نہیں ہو۔

                      ساتویں بات یہ ہے کہ مروت نہ کرتا ہو، اصلاح کرتا ہو۔

                      اور آٹھویں اور آخری بات، کہ ان کی صحبت میں اللہ یاد آئے اور دنیا کی محبت کم پڑ جائے۔

                      یہ آٹھ باتیں ہیں جو کہ ضروری ہیں۔ آپ اس میں تلاش کر لیں۔ تو جس میں یہ ہوں، پھر ایک دفعہ آپ اس کی Selection کر لیں، پھر درمیان میں کچھ نہ کریں۔ درمیان میں پھر آپ بس ان کی بات پر عمل کر لیں۔ اپنے نفس کا نگران اگر آپ نے اس کو بنایا ہے، تو پھر نفس کی بات ان کی مخالفت میں نہ مانیں۔ ورنہ پھر کبھی اصلاح نہیں ہوگی۔ جیسے ڈاکٹر کے پاس آپ جاتے ہیں تو ڈاکٹر کی بات پھر ماننی پڑتی ہے نا۔ وہ اگر نہیں مانیں گے تو آپ کو اس کا وہ، علاج ہی نہیں ہوگا۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ جب آپ نے ان کو مان لیا، اپنا شیخ مان لیا اور آپ ان کے سلسلے میں داخل ہو گئے، تو پھر اب ان کی بات مانیں گے۔ اپنی من مانی نہیں کریں گے۔ ورنہ پھر کیا ہوگا؟ وہ آپ کا سارا کچھ ضائع ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔

                      بہرحال اگر کسی نے مزید اس پر وہ دیکھنا ہو، تو الحمد للہ ہماری جو Website ہے tazkia.org، اس میں اگر کوئی اردو میں دیکھنا چاہے اردو میں دیکھے، انگریزی میں دیکھنا چاہے انگریزی میں دیکھے، پشتو میں دیکھنا چاہے پشتو میں دیکھے، اس میں آپ کو الحمد للہ ایک کتاب مل جائے گی "زبدۃ التصوف" یعنی تصوف کا نچوڑ جو ہے ۔ وہ آپ کو مل جائے گا، آپ اس کو پڑھ لیں۔ اس میں تمام چیزیں بہت تفصیل کے ساتھ، کیونکہ اس تھوڑے سے وقت میں تو سارا کچھ نہیں آ سکتا۔ تو اس میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ تفصیل کے ساتھ دیکھیں۔ پھر بھی اگر کوئی Confusion ہو تو "تصوف کا خلاصہ" بھی اس کے اندر موجود ہے۔ اس میں سوال و جواب کے... مطلب انداز میں لکھا ہے۔ تو اس میں سوال جواب کی صورت میں آپ کے سوالوں کے جوابات موجود ہوں گے ان شاءاللہ۔

                      پھر بھی اگر تشفی نہ ہو، تو پھر ماشاءاللہ یہ ہمارے پاس ذریعہ ہے پیر کے دن سوالوں کے جوابات ہوتے ہیں۔ وہ حقیقتِ حال بھی بتائی جاتی ہے۔ تو پھر اس میں WhatsApp کر کے پوچھیں، تو ان شاءاللہ اس کے، آپ کو اس کے بارے میں بتایا جائے گا۔ اس طریقے سے ان شاءاللہ شدہ شدہ علم بھی حاصل ہوتا جائے گا، اور اگر بات مانتے جائیں گے ان شاءاللہ تو اصلاح بھی ہوتی جائے گی۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔

                      وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


                      الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔

                      اللَّهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔

                      يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔

                      اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا۔

                      اللَّهُمَّ اشْفِ مَرْضَانَا وَمَرْضَى الْمُسْلِمِينَ۔

                      يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔

                      یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہم سب مسلمانوں کی یا اللہ بھرپور مدد فرما دے۔ اور اسرائیلیوں کو شکستِ فاش دلوا دے۔ اور یا الہ العالمین، ان مظلوموں کی یا الہ العالمین جو آواز صرف تجھ تک ہی پہنچ رہی ہے، یا الہ العالمین ان کی مدد فرما دے۔ اور یا الہ العالمین، یا الہ العالمین ان کی جو آواز کو، یا اللہ تو یہودی، یہود کے اوپر قہر بن کر نازل کروا دے۔ یا الہ العالمین اپنے حبیب پاک ﷺ کی امت کی یا الہ العالمین بھرپور مدد فرما دے۔ اور یا الہ العالمین اپنے حبیب پاک ﷺ کی پوری امت کو معاف فرما، اور سب کو ہدایت عطا فرما دے۔ صراطِ مستقیم پر چلنا نصیب فرما۔ گمراہ لوگوں کی باتوں اور مغضوب علیہم لوگوں کی باتوں پہ یا اللہ ہمیں گمراہ نہ ہو، اور یا الہ العالمین اپنی حفاظت میں رکھ دے۔

                      سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ (آمین)




                      تزکیہ نفس اور بیداریِ دل: فلاحِ دارین کا راستہ - خواتین کیلئے اصلاحی بیان