نفع و نقصان کا حقیقی مالک: حضرت ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) کی جامع حدیث کی تشریح

درس نمبر 84- باب المراقبہ - حدیث نمبر 62 - (اشاعتِ اول) 8 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنهما کی مشہور حدیثِ مبارکہ کی تشریح۔

• حاجات اور سوال صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے کی تاکید۔

• نفع اور نقصان کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

• تقدیر کے لکھے جانے اور صحیفے خشک ہونے کا مفہوم۔

• رزقِ حلال پر قناعت اور حرام ذرائع و حسد سے بچنے کی تلقین۔

• سورۃ المائدہ کی روشنی میں دینِ اسلام کی تکمیل۔

• حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة الله عليه کا اس حدیث کے متعلق سنہری فرمان۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ.

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لڑکے! میں تجھ کو چند کلمات بتاتا ہوں۔ اللہ کے احکام کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ کے حقوق کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا، تو جب مانگے بس اللہ سے مانگ اور جب مدد کا طلب گار ہو تو اللہ سے مدد طلب کر اور یقین رکھ اگر تمام دنیا تجھے فائدہ پہنچانے پر جمع ہو جائے تو تجھے صرف وہی فائدہ دے سکتا ہے جو تیرے مقدر میں ہے اور اگر تمام کے تمام تجھے نقصان دینے پر اکٹھا ہو جائیں تو تجھے کچھ نقصان نہیں دے سکتے مگر جس قدر اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں تیرے لئے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا دیئے گئے اور تقدیر کے دفاتر خشک ہو چکے ہیں۔"

اس کے جو فوائد ہیں کل اس میں سے یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ کے حقوق کا خیال رکھو تو اللہ کو ہمیشہ اپنے سامنے پاؤ گے۔ آج ان شاءاللہ دوسرا فائدہ،

جب بھی سوال کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے کرو

"وَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ" جب بھی کسی چیز کا سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کرو۔

جس سے اللہ خوش ہوں گے کبھی دنیا والوں کے سامنے ہاتھ مت پھیلاؤ، ما احسن من قال:

اللّٰهُ يَغْضَبُ إِنْ تَرَكْتَ سُؤَالَهٗ

وَ ابْنَاءُ آدَمَ حِيْنَ تُسْأَلُ تَغْضَبُ

اللہ تعالیٰ اس وقت ناراض ہوتے ہیں جب تم اس سے سوال نہ کرو اور آدم کے بیٹے اس وقت ناراض ہوتے ہیں جب ان سے سوال کیا جاتا ہے۔⁽⁵⁾

قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا: "وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ" تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ (سورہ غافر، آیت 60)

"وَاعْلَمْ اَنَّ الْاُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی اَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَنْفَعُوْکَ اِلَّا بِشَیْءٍ" الخ

جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ایک اللہ ہے اسی کی طرف ہر حال میں رجوع کرو۔ اگر وہ نہ دے تو ایک فرد بشر کیا تمام مخلوق بھی مل کر خدا کی مرضی و حکم کے خلاف کسی شخص کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

قلم اٹھا کر رکھ دیئے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے

"رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ" قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔


اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ

جو احکام صادر ہونے تھے وہ سب کچھ لکھے جا چکے، قیامت تک تقدیر و قسمت کے فیصلے لوح محفوظ میں لکھے جا چکے ہیں اور اب لوح محفوظ کو لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے اب اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو گا۔

دو کاموں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ: 03)

قرآن پاک کی آیت ہے کہ

آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تمہارے اوپر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور اسلام کو تمہارے لیے پسند کر لیا، دین کے طور پر۔

اب، ایک تو یہ ہے، اور دوسرا یہ ہے بات ہے کہ جو فیصلے ہونے تھے وہ ہو چکے، اب ایسے ہی ہوگا جیسے کہ لکھے جا چکے ہیں۔ تو جب ہم لوگ اس بات کو جانتے ہوں، تو پھر ہم غلط کام کیوں کریں؟ مثلاً حلال کے ذریعے سے کوئی کمانا چاہے حرام، ملے گا تو اتنا جتنا کہ لکھا جا چکا ہے تو پھر حرام آدمی کیوں کرے؟ کسی کے مال کے اوپر اپنی بری نظر کیوں رکھے؟ جتنا تجھے ملنا تھا وہ ملنا ہوگا، جتنا اس کو ملنا تھا وہ ملنا ہوگا۔ کیا ضرورت ہے کہ آپ اس کے مال پر نظر رکھو، اس کی صحت پر نظر رکھو، اس کی کسی اور چیز پر نظر رکھو۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا فیصلہ ہو چکا ہے، جب ہو چکا ہے تو بس پھر اس کے مطابق تم صرف حکم کے مطابق عمل کر لو۔ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ اس پر عمل کر لو کہ جو دین مکمل ہو چکا ہے اس کے مطابق عمل کر لو، جو تمہارے لیے لکھا جا چکا ہے وہ اپنے وقت پر مل جائے گا۔

صحیفے خشک ہو گئے کا مطلب یہ ہے کہ کاتب جب لکھ کر فارغ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے قلم کو اٹھا کر رکھ دیتا ہے اور اپنے کاغذات کو لپیٹ کر رکھ دیتا ہے، اسی طرح اللہ نے بھی قلم اٹھا کر رکھ دیا اور صحف کو لپیٹ دیا، اب اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ لوح محفوظ میں تو کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آتی ہاں وہ کتاب جس میں فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اس میں کمی و بیشی ہوتی ہے مثلاً کسی نے کوئی گناہ کیا فرشتوں نے لکھ لیا جب توبہ کیا تو اس کو مٹا دیا۔

وہ اصل میں وہ بھی پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے کہ فلاں توبہ کرے گا تو اس طرح ہوگا۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہر چیز لکھی جا چکی ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس پر یقین کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ ہر مؤمن کے لئے لازم ہے کہ وہ اس حدیث کو سامنے رکھے اور اپنی تمام حرکات و سکنات میں اس کے مطابق عمل کرے تاکہ دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت اور سرفرازی سے نوازا جائے۔⁽⁸⁾

تخریج حدیث: ترمذی ابواب صفة القيامة اخرجہ امام احمد فی مسندہ 280/1، والبيهقی فی شعب الایمان 1074۔

ترمذی نے اس کو ابواب صفۃ القیامۃ میں لکھا ہے اور اس کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نوٹ کیا ہے، اور بیہقی نے شعب الایمان میں۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو شریعت پر استقامت نصیب فرمائے اور تقدیر پر یقین نصیب فرما دے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ،

وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔



نفع و نقصان کا حقیقی مالک: حضرت ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) کی جامع حدیث کی تشریح - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور