اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کے دن ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "ہمعات" کا درس ہو رہا تھا، اور آج اس کا اختتامی بیان ہے ان شاء اللہ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بخت کا بیان
فقیر کو بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جو حوادث رونما ہوتے ہیں ان کے منجملہ اور اسباب میں سے ایک سبب بخت بھی ہے اور بعض لوگ جو بخت کا سرے سے انکار کرتے ہیں وہ دراصل بخت کی حقیقت نہیں جانتے ہوتے۔
اور نیز مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض دفعہ اہلِ عرفان اور اصحابِ ارشاد سے جو عجیب عجیب آثار و کرامات صادر ہوتے ہیں ان کا حقیقی سبب دراصل یہی بخت ہی ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ ظاہر بین ہوتے ہیں وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے اور وہ ان آثار کو اہلِ عرفان اور اصحابِ ارشاد کی کرامات قرار دے لیتے ہیں۔ بے شک اس سلسلہ میں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اہل عرفان اور اصحاب ارشاد کے یہ آثار نتیجہ ہوتے ہیں بخت کا اور اس کے ساتھ ان بزرگوں کی خصوصی نسبت بھی مخلوط ہوتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں ان آثار کو ان اہلِ عرفان اور اصحابِ ارشاد کے خوارق کرامات کہنا ایک حد تک جائز ہوسکتا ہے۔
اس سلسلے میں مجھے اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقناطیس کی اصل فطرت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ لوہے کے اجزاء کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسی طرح کہربا
یہ جو بجلی ہوتی ہے
گھاس کو اپنی طرف جذب کرتی ہے
Static charge ہوتا ہے
اور پانی کی یہ فطرت ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہے۔ یہ سب خاصیتیں ان چیزوں کے فطری تقاضے ہیں کہ ان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔
حضرت نے اصل میں خوارق کا جو chapter پہلے بیان ہوا ہے، اس میں یہ چیز بہت تفصیل کے ساتھ بتائی ہے کہ لوگ خوارق کو سمجھتے ہیں کہ شاید یہ natural نہیں ہیں، یعنی مطلب یہ ہے کہ یہ جو عمومی قوانین ہیں، اس کے مطابق نہیں۔ فرمایا: نہیں ایسا نہیں ہے، یہ بھی قوانین کے مطابق ہی ہوتے ہیں، البتہ وہ قوانین عام لوگ نہیں جانتے، لہٰذا ہم لوگ اس کو سمجھتے ہیں کہ یہ خرقِ عادت ہے۔ تو اس طریقے سے یہ بخت کی بھی بات ہوگئی۔
ہاں اس ضمن میں بعض خارجی اسباب ایسے پیش آجاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ان چیزوں کے یہ فطری تقاضے مختلف اثرات قبول کرلیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقناطیس کو لیجئے اس میں لوہے کو اپنی طرف کھینچنے کی فطری قوت تو موجود ہے، لیکن فرض کیا جس لوہے کو وہ کھینچ رہا ہے اس کا وزن بہت زیادہ ہے اور پھر وہ مقناطیس سے دور بھی پڑا ہوا ہے۔
Gravitational law، مطلب وہ جو ہے وہ کیا ہے، تو۔
لیکن فرض کیا کہ جس لوہے کو وہ کھینچ رہا ہے اس کا وزن بہت زیادہ ہے اور پھر وہ مقناطیس سے دور پڑا ہے۔ ظاہر ہے لوہے کے وزن اور مقناطیس سے اس کے دور ہونے کا اثر مقناطیس کی قوت جذب پر لازمی طور پر پڑے گا یا مثلاً پانی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہتا ہے لیکن فرض کیا پانی کے بہاؤ کے خلاف ہوا چل رہی ہے یا کوئی اور سبب ہے جو پانی کی روانی کو روک رہا ہے، یقینی بات ہے کہ اسی کا اثر پانی کی اس فطری استعداد پر پڑے گا۔
یہ جو سورج گرہن اور چاند گرہن ہوتا ہے، وہ اس کا اپنا نظام ہے، مطلب یہ ہے کہ درمیان میں آجاتا ہے۔ پہلے لوگ نہیں جانتے تھے اس کو، تو اس کے ساتھ توہمات قائم کیے تھے کہ یہ تو اس وجہ سے ہوتا ہے، اس وجہ سے ہوتا ہے۔ اُس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، ان چیزوں کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس کی نفی کردی۔ ٹھیک ہے نا؟
لیکن بعد میں سائنسدانوں نے جو اس کی وجہ بتا دی کہ یہ تو اس وجہ سے ہوتا ہے، تو اس کی سائنس کھل گیا، پتا چل گیا۔ اب ہم لوگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ چاند گرہن ہوگا، اس کی تفصیلات پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود ہیں، بڑی تفصیل کے ساتھ یہ ساری چیزیں آرہی ہیں۔ سورج گرہن جو ہوا تھا اس کی ساری باتیں پہلے سے معلوم تھیں کہ کہاں پر کتنا ہوگا اور کیا ہوگا، ساری چیزیں وہ بتا دی گئیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے یہ چیزیں مخفی تھیں، اب مخفی نہیں ہیں، اب وہ ظاہر ہوگئی ہیں۔ اس طریقے سے جو مد و جزر ہوتا ہے، یہ مد و جزر بھی پہلے پتا نہیں لوگوں نے اس کے ساتھ کیا کیا چیزیں لگائی ہوئی تھیں۔ بعد میں سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ سورج بھی پانی کو کھینچتا ہے، زمین کے پانی کو۔ اصل بات یہ ہے کہ زمین کو ہی کھینچتا ہے، لیکن زمین چونکہ بھاری ہے، لہٰذا اس کے اوپر اس کا اثر کم ہوتا ہے، یعنی اس کو ہٹا کم سکتے ہیں۔ اور پانی اس کے اوپر ہے بالکل علیحدہ ہے، یعنی پانی چونکہ یعنی وہ تو نہیں ہوتا، وہ تو surface کے اوپر موجود ہوتا ہے ، تو اس کی وجہ سے چونکہ اس کا وزن کم ہے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ علیحدہ بھی ہے، تو اس وجہ سے اس کو کھینچتا ہے تو یہ اوپر کی طرف آجاتا ہے۔ سورج بھی کرتا ہے اور چاند بھی یہ کرتا ہے۔ چاند چھوٹا ہے، اس کی قوتِ جاذبہ کم ہے سورج کے مقابلے میں بہت زیادہ کم، کیونکہ سورج تو 17 لاکھ زمینوں کو جذب کرسکتا ہے، تو اس کا تو بہت ہے، لیکن چونکہ اس کا فاصلہ زیادہ ہے تو اس کا اثر کم ہے، اور چاند چونکہ اس کا فاصلہ کم ہے، لہٰذا اس کا اثر زیادہ ہے۔ اب یہ سائنس ہے، یہ سائنس ہے اور اب ہم اس کو کہتے ہیں کہ بھئی یہ تو جس وقت یہ چیزیں معلوم نہیں تھیں سائنس میں، تو ہم کہتے پتا نہیں یہ کس کس چیز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ توہمات لوگوں نے مشہور کیے تھے۔
اس طرح یہ جو اللہ پاک نے فرمایا:
﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ﴾1
" ہرگز نہیں، بلکہ تم قریب والی جو چیز ہے ان کو پسند کرتے ہو، جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔"
اب اس میں کیا ہے کہ ہماری جو نفسانی خواہشات ہیں وہ ہمارے بہت قریب ہیں، ہماری نفسانی خواہشات، چونکہ ہمارے اندر ہے نفس، تو نفسانی خواہشات ہمارے بہت قریب ہیں، لہٰذا ان کا اثر ہم پر بہت زیادہ ہے، جبکہ آخرت میں جو نعمتیں ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اس کے مقابلے میں، آخرت کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اِس کا اُس کے ساتھ کوئی ذرہ بھر بھی نسبت نہیں ہے، لیکن چونکہ وہ دور ہے، دور سے مراد یہ ہے کہ ابھی ہمارے سامنے نہیں ہے، لہٰذا ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کسی کو کہتا ہے، ایک پیاسا آدمی ہے، اس کو کہتے ہیں جنت لیتے ہو یا پانی؟ تو وہ کیا لے گا؟ بات سمجھ میں آرہی ہے نا ؟ یہ عام چیز ہے کہ لوگ اس کے لیے چھوڑ نہیں دیتے ہیں دین کی بات کو؟ تو یہ جنت کو گویا کہ چھوڑنے والی بات ہے ؟ تو اس کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اللہ پاک نے فرمایا:
﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ﴾2
"ہرگز نہیں، بلکہ تم جو قریب والی چیز ہے اس کو پسند کرتے ہو، جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔"
تو یہ بھی ہمارے اندر قانون ہے اور اس کے مطابق۔ تو یہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو فطری ہوتی ہیں، لیکن یہ ہوتا ہے کہ اس کی فطرت والی بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی ہے۔
اور دوسری بات یہ فرمائی حضرت نے کہ جو فطری چیزیں ہیں وہ کسی اور فطرتی قانون کے مطابق متاثر ہوسکتی ہیں، جیسے ہوا کے چلنے سے پانی کے بہاؤ میں فرق پڑنا۔ تو پانی کا بہاؤ یہ ایک فطری ہے، لیکن کیا ہوا کا اس کو روکنا فطری نہیں ہے؟ وہ بھی فطری ہے۔ تو اسی طریقے سے حضرت نے فرمایا کہ کچھ تبدیلیاں آجاتی ہیں۔
الغرض جب کبھی اس طرح کی کوئی صورت پیش آجائے تو اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک تو نظر اس چیز کی اصل فطرت کی طرف ہو کہ وہ کیا تقاضا کرتی ہے اور پھر ان خارجی اسباب کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اس چیز کی اصل فطرت کے اظہار میں کس حد تک مانع ہیں۔
(حضرت نے یہ ایک عام طریقے سے سمجھایا)
یہ جو کچھ "عالم آفاق" (یعنی پوری کائنات میں) کی چیزوں کی خصوصیات کے متعلق بیان ہوا، بعینہٖ یہی کیفیت "عالمِ انفس" کی بھی ہے۔ (عالم انفس جو ہمارے اندر ہے) چنانچہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوہے، گھاس اور پانی میں فطری خصوصیات رکھی ہیں اسی طرح انسانوں کے نفسِ ناطقہ میں بھی (یہ ہمارا نفس ناطقہ کیا ہے، یہ حضرت نے اس پر پورا chapter باندھا ہے ’’الطاف القدس‘‘ میں کہ روح کے تین اجزاء ہیں، ایک ہے روحِ ہوائی، دوسرا نفسِ ناطقہ اور تیسرا روحِ ملکوتی۔ تو یہ نفسِ ناطقہ، انسانوں کے نفسِ ناطقہ میں بھی) اس نے ایک نقطہ ودیعت کیا ہے۔ اور اس میں اس نے ایک قوت رکھی ہے۔ (فطری بات، قوت رکھی ہے) نفس ناطقہ کے اس نقطے اور اس کی قوت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسرے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
دل سے دل کو راہ ہوتی ہے، کہتے ہیں ؟ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔ تو یہ حضرت نے فرمایا کہ یہ باقاعدہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔
چنانچہ اس نقطے کی وجہ سے اکثر اوقات لوگوں کے دلوں میں بذریعۂ الہام یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ وہ اس نقطے والے کے آرام اور اس کی آسائش کے لیے کوشش کریں۔
مطلب دیکھیں، بعض لوگوں کے ساتھ قدرتی محبت ہوتی ہے، کوئی اس کا reason معلوم نہیں ہوتا، لوگ ان کی قدر کرتے ہیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ وہ ان کے نفسِ ناطقہ میں کوئی ایسی چیز رکھی ہوتی ہے کہ اس سے لوگ اُن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ میں ذرا عام الفاظ میں کہوں: بھئی کہتے ہیں فلاں کے بچے بڑے میٹھے بچے ہیں۔ بھئی بچوں میں کیا میٹھا اور کڑوا ہوگا؟ بچے تو بچے ہوتے ہیں، لیکن ہوگی بات، اللہ تعالیٰ نے بعض میں رکھی ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے ان کی طرف دھیان ہوتا ہے۔ اچھا۔
مثلاً اس کے لیے کسی کے دل میں رحم پیدا کردیا جاتا ہے یا اس شخص کو کسی خزانے کی خبر دی جاتی ہے یا ایسا ہوتا ہے کہ وہ شخص اپنے راستے پر جا رہا ہوتا ہے اور اچانک اسے ٹھوکر لگتی ہے اور اس کا پاؤں کسی دفن شدہ مال پر پڑ جاتا ہے۔
فلاں کی قسمت بڑی اچھی ہے۔ سمجھ میں آگئی ؟ تو یہ مطلب اس کی بات ہوتی ہے۔
اس ضمن میں بارہا یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ ایک سعادت مند شخص اور اس کے نفس ناطقہ میں یہ نقطہ ہے جو چمکتے ہوئے ستارے کی طرح درخشاں ہے اور اس سے ہر جانب کو شعاعیں نکل رہی ہیں۔ اب اس نقطے کی ان شعاعوں کا اثر ایک موقع پہ تو بعض آدمیوں پر ہوتا ہے، لیکن دوسرے موقع پر یہی شعاعیں ان آدمیوں پر بے اثر رہتی ہیں۔ اور نیز ان شعاعوں کا اثر بعض نفوس پر تو بڑی قوت اور شدت سے پڑتا ہے اور بعض پر ان کا اثر محبت و جذب کی راہ سے ہوتا ہے۔
الغرض اس شخص کے نفسِ ناطقہ کے نقطے کا اثر دوسروں پر خواہ قوت و شدت کے ذریعے ہو یا محبت و جذب کی راہ سے، ہر دو حالت میں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس شخص پر یہ اثر پڑتا ہے اس کے دل میں یہ الہام ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ اثر ڈالنے والے شخص کا معتقد اور محب بن جاتا ہے۔
یعنی اس کے ساتھ اس کو محبت ہوجاتی ہے۔
چنانچہ ہر طرح سے کوشش کرتا ہے کہ اس شخص کی کوئی خدمت بجا لائے۔ اثر ڈالنے والے شخص کے مقابلے میں اس اثر لینے والے کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسے کہ ایک شعاع حرارت پیدا کرنے کا واسطہ بنتی ہے اور بعض دفعہ نفس کا یہ نقطہ اس کائنات میں جو غیبی تدابیر کام کررہی ہیں، ان پر بھی اپنا ڈالتا ہے اور اس کی وجہ سے یہ غیبی تدابیر نقطے والے کی بہتری کے کوشاں ہوجاتی ہیں لیکن اس طرح کے امور اکثر کلی مصلحتوں ہی کے ذیل میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، تھوڑا سا اس سے متعلق ہے۔ ایک بادشاہ تھا جو بہت بدصورت تھا، تاریخ میں، مجھے اس کا نام اس وقت بھول گیا ہے۔ تو ایک ناچنے والی تھی، وہ بہت خوبصورت تھی، وہ ناچ رہی تھی۔ چونکہ وہ ناچنے والی بڑی سر چڑھی ہوئی تھی یعنی اس کے لیے۔ اس نے اسے کہا کہ جب خوبصورتی تقسیم ہورہی تھی تو آپ کدھر تھے؟ یعنی اس بادشاہ سے کہا، کوئی اور نہیں کہہ سکتا تھا لیکن ظاہر ہے وہ کہہ سکتی تھی۔ اس نے جواب دیا کہ جہاں قسمت تقسیم ہورہا تھا، وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ جہاں قسمت تقسیم ہورہا تھا، وہاں بیٹھا ہوا تھا، لہٰذا تم میرے سامنے ناچ رہی ہو۔ بے شک تم بڑی خوبصورت ہو، میں خوبصورت نہیں ہوں، لیکن دیکھو میری قسمت میں یہ ہے، تمہاری قسمت میں ایسا نہیں ہے۔ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دے دیا۔ تو اس طرح مطلب یہ ہوتا ہے کہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے اردگرد اسباب بنتے جاتے ہیں، مخفی اسباب کے ذریعے سے کچھ ظاہری اسباب بنتے جاتے ہیں۔
اب ایک شخص ہے جو قوی الاثر سعادت والا ہے اور وہ اولیاء صالحین میں سے ہے (یہ میں نے آپ کو عام مثال دی ہے، اس کا اس کے ساتھ تعلق نہیں ہے، سمجھانے کے لیے میں نے کہا ہے، سمجھانے کے لیے میں نے کہا تاکہ ذرا آپ کو سمجھ آجائے یہ بات) اب ایک شخص ہے جو قوی الاثر سعادت والا ہے اور وہ اولیاء صالحین میں سے ہے اور اس نے نسبتِ سکینہ حاصل کرلی ہے یا وہ نسبتِ یاد داشت سے بہرہ یاب ہے۔
حضرت نے اس پر پورا chapter بیان کیا ہے اس وجہ سے اس کی تشریح نہیں ہوسکتی کیونکہ پورا chapter ہے chapter تو میں دوبارہ نہیں پڑھا سکتا اس وقت۔
اس نے نسبتِ سکینہ حاصل کرلی ہے یا وہ نسبتِ یاد داشت سے بہرہ یاب ہے۔ یہ شخص جب کسی مجلس میں جاتا ہے تو مجلس کا ہر فرد بہ اعتقادِ کمال اس کا مطیع و فرمانبردار ہوجاتا ہے اور جب یہ شخص کوئی بات کرے تو اس کی بات جو کچھ کہ لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے اس کے مطابق ہوتی ہے۔ دراصل یہ شخص اہل مجلس کے دلوں کے اسرار کو کشف کے ذریعے معلوم کرلیتا ہے اور وہ انہی اسرار پر گفتگو کرتا ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک شخص ہلاکت کے گڑھے پر کھڑا ہے لیکن مصلحت کلیہ کا تقاضا یہ ہے کہ یہ شخص ہلاک نہ ہو۔ چنانچہ اس حالت میں اس شخص کے سامنے قوی الاثر سعادت والے بزرگ کی صورت آگئی اور وہ اس کی وجہ سے ہلاک ہونے سے بچ گیا۔ قدرتی طور پر یہ شخص اپنی نجات کو اس بزرگ کی اس صورت کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔
اس میں ایک بات عرض کروں، ایک صورت تو یہ ہے جو حضرت نے بیان فرمائی ہے کہ اس کو کشف کے ذریعے سے معلوم ہو کہ لوگوں کے دلوں میں کس چیز کی طلب ہے، اس کے مطابق بات کرلی۔ ایک بات ایسی بھی ہوجاتی ہے کہ اس کو یہ پتا تو نہیں ہوتا کہ لوگوں کے دلوں میں کیا ہے، لیکن لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا جواب اس کی زبان پر اللہ تعالیٰ ڈال دیتے ہیں اور اس کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ میں کسی کا جواب دے رہا ہوں۔ تو وہ لوگ بھی جن کے جوابات آرہے ہوتے ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو کشف ہوتا ہے، کیونکہ عمومی طور پر یہ کشف کی وجہ سے ہے۔ ظاہر ہے کسی کو کشف ہوتا ہوگا تو پھر وہ اس پر بات کرے گا۔ میرے ساتھ ایسا واقعہ ہوا ہے۔ ہوا یہ کہ ہمارے ایک بہت عزیز دوست تھے، وہ بہت ذہین تھے، لیکن غلط صحبت میں پڑنے کی وجہ سے ان سے متاثر ہوئے اور اولیاء کا انکار کرنے لگے۔ تو ایک دن میرے سامنے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ بات ایسی کی جس پر مجھے کافی غصہ آگیا کہ بھئی حضرت کے بارے میں ایسی عجیب بات۔
تو میں نے جب اس پہ کہا، میں نے کہا کہ کیا کہہ رہے ہو؟ تو کہنے لگے کہ کیا آپ کو اس سے تکلیف ہوگئی؟ میں نے کہا کہ کیا مجھے اس سے خوشی ہوگی؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں! کہتے ہیں اچھا! اگر آپ کو اس سے بھی تکلیف ہورہی ہے تو جو میرے دماغ میں ہے وہ تو پتا نہیں آپ کو پاگل کردے گا۔ اب میں بڑا حیران ہوا، میں نے کہا یا اللہ پتا نہیں اس کے دماغ میں کون سا زہر بھرا ہوا ہے جو اس قسم کی بات کررہا ہے، یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔ اور دوست تھے میرے، اب جتنا مجھ سے ہوسکتا تھا باتوں کو سمجھانے کے ذریعے سے جو کچھ کوشش تھی، لیکن ساری فیل ہوگئی، کیونکہ اس کے پاس ہر چیز کا جواب موجود ہوتا تھا۔ اب ظاہر ہے وہی بخت والی بات، اس کی ضرورت پڑگئی۔ تو میں نے ان سے کہا، میں نے کہا ما شاء اللہ آپ تو محقق ہیں نا؟ کہتے ہیں کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ محقق تو سفر بھی کرسکتا ہے، یعنی کسی تحقیق کے لیے۔ کہتے ہیں: ہاں۔ میں نے کہا آپ ایک سفر کرسکتے ہیں؟ کہتے ہیں کیوں نہیں، بتائیں کس چیز کا؟ میں نے کہا پشاور۔ کہتے ہیں ٹھیک، لیکن شرط یہ ہے کہ مغرب ہو تو پھر فوراً روانہ ہوں گے، مغرب کے بعد ٹھہرنا نہیں ہوگا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ اب حضرت مولانا اشرف صاحب جو ہمارے شیخ تھے، ان کا معمول عصر سے لے کر مغرب تک سوال و جواب ہوتے تھے، تو اس میں بیان بھی ہوجاتا تھا۔ تو میں نے کہا چلو جی اگر حضرت کے پاس لے جاؤں گا تو ان شاء اللہ اس کی اصلاح ہوجائے گی۔ تو میں نے اس کو تیار کیا اور لے گیا۔ لے گیا اس دن پتا نہیں کیا بات ہوگئی، وہ Bus زیادہ تیز رفتاری سے نہیں جارہی تھی تو ہم لیٹ پہنچے اور عصر کی نماز ہوگئی تھی، تو حضرت کا بیان شروع ہوگیا تھا۔ میں نے کہا اوہو، chance تو miss ہوگیا۔ اب ہم تو اپنی بات نہیں بتا سکتے حضرت کو۔ کیوں۔ میں نے کہا چلو اگر بیان کچھ پہلے ختم ہوگیا تو پھر موقع مل جائے گا، لیکن وہ بیان حضرت کا اتنا لمبا ہوگیا کہ مغرب تک کا وقت داخل ہوگیا، اذان ہوگئی۔ میں نے کہا چلو جی اس کی پتا نہیں قسمت ایسی تھی، تو رہ گیا۔ اِدھر جب نماز پڑھ لی مجھےکہتے ہیں اب جاتے ہیں؟ میں نے کہا بالکل چلتے ہیں، کیونکہ وعدہ تھا۔ روانہ ہوگئے لیکن بھاری دل کے ساتھ کہ یہ بیچارہ۔۔۔ وہ نہیں ہوسکا جو ہم چاہتے تھے۔ راستے میں مجھے کہتا ہے شبیر صاحب! یہ مولانا صاحب کی تو آپ نے کوئی تعریف ہی نہیں کی تھی، یہ تو بہت بڑے آدمی ہیں۔ میں نے کہا یہ مجھے چھیڑ رہے ہیں شاید، جو حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نہیں مانتا وہ مولانا اشرف صاحب کو کیا مانے؟ جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو نہیں مانتا وہ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو کیسے مانے گا؟ میرے ذہن میں تو یہ بات تھی۔ میں نے کہا بھئی کیا بات ہے؟ میں نے کہا پہلے تو میں نے کہا بھئی ان باتوں میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں نہیں، نہیں چھیڑ نہیں رہا ہوں، بالکل صحیح کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہا کون سی بات؟ ہمارے لیے تو معمول کی مجلس تھی، آپ کو کوئی خاص بات نظر آئی؟ کہتے ہیں نہیں، معمول کی مجلس نہیں تھی۔ میں نے کہا پھر بتائیں کیا ہوا؟ اب اس کے الفاظ : مجھے کہتے ہیں حضرت نے فلاں بات کرلی، اس پر میرے ذہن میں اشکال ہوگیا۔ ظاہر ہے اشکال تو آنا تھا، وہ آدمی ہی اشکالی تھا۔ تو حضرت نے اس کا جواب دے دیا باقاعدہ۔ میں نے کہا یہ chance کی بات ہے، ایسا ہوسکتا ہے، By chance ہوا ہے۔ کہتے ہیں پھر اس کے بعد اس جواب کے اوپر مجھے اشکال ہوگیا، کہتے ہیں حضرت نے بھی اسی کا جواب دے دیا۔ میں نے کہا کہ یہ کام تو بڑا مشکل ہے لیکن ہورہا ہے، اب میں کیا کروں۔ اب تیسری دفعہ کہتے ہیں جب میرا اس کے بعد اشکال ہوگیا تو اس کا بھی حضرت نے جواب دیا۔ یہاں میں بے بس ہوگیا، میں نے کہا یہ تو ایسا نہیں ہوسکتا، یہ تو impossible ہے، یہ کیسے ہوا؟ تو مجھے کہا کہ یہ کیا بات تھی؟ میں نے کہا چلو، لوہا گرم ہے، اب اس کو چوٹ لگانے کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا بھئی یہ مجھے بتاؤ کہ اللہ جل شانہٗ سب کچھ کرسکتا ہے؟ کہتے ہیں کیوں نہیں، ہمارا عقیدہ ہے اللہ پاک سب کچھ کرسکتا ہے۔ میں نے کہا ایک شخص ہے، اس کے ذہن میں کوئی بھی بات لاسکتا ہے؟ کہتا ہے ہاں بالکل لاسکتا ہے۔ میں نے کہا اس کی زبان پر کوئی بھی بات لاسکتا ہے؟ کہا بالکل، اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کرسکتا ہے۔ میں نے کہا پھر تو آپ نے بات مان لی جو ہم کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کیسے؟ میں نے کہا آپ کرامات پہ ہیں نا ذرا تھوڑا سا پریشان ہیں، کہ کرامات کے بارے میں آپ کو اشکالات ہیں۔ تو میں نے کہا اصل میں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کرامات ولی کا فعل سمجھتے ہیں اور ہم ان کو اللہ کا فعل سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں کوئی اشکال نہیں ہوتا کیونکہ اللہ پاک تو سب کچھ کرسکتا ہے۔ اب اگر اللہ پاک نے آپ کے دماغ کو پڑھ لیا کہ آپ کے دماغ میں یہ اشکال ہے اور مولانا صاحب کی زبان پر اس کا جواب جاری کردیا، تو اس میں کیا مشکل ہے؟ کہتے ہیں کوئی مشکل نہیں۔ تو میں نے کہا یہی تو کرامت ہوتی ہے، اسی کو ہم کرامت کہتے ہیں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اشکال کو پڑھ لیا، ممکن ہے حضرت کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ میں کسی کا جواب دے رہا ہوں۔ حضرت کے لیے معمول کی بات ہو، زبان سے ان کی نکل گئی، معمول کی بات ہو۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ کے جواب کی نیت سے وہ جواب دے رہے ہوں۔ کہتے ہیں ایسا تو ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا پھر یہ ساری کرامات اس طرح ہیں۔ بس الحمد للہ اس کی اصلاح ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ما شاء اللہ اس کا دل بدل گیا۔ اب یہی بخت ہے، ٹھیک ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا نا۔ تو یہ جیسے انہوں نے کہا، کوئی ہلاک ہونے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کسی بزرگ کی صورت میں کوئی لے آتا ہے اور اللہ پاک جو ہے نا اس کو بچا لیتا ہے۔
اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص ہے جس پر آنے والے واقعات کا علم حاصل کرنے کی الہامی استعداد پہلے سے موجود ہے۔ اب اس شخص کو خواب میں اس قوی الاثر سعادت والے بزرگ کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ وہ آنے والے واقعات کے متعلق تمام خوش خبریاں اور وعیدیں اسی بزرگ کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ حصولِ الہام کے جو بھی ذرائع ہیں اس شخص کو ان میں سے کسی نہ کسی ذریعے تک پہلے سے دسترس حاصل ہوتی ہے اور وہ مختلف اشکال و صورتوں کے توسط سے الہام حاصل کرنے کی استعداد بھی رکھتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ یا تو اس قوی الاثر سعادت والے بزرگ کا نقطہ بخت بہت زیادہ درخشاں اور روشن ہوتا ہے یا لوگ عام طور پر اس بزرگ کو پہلے سے جانتے ہوتے ہیں اور انہیں اس بزرگ سے عقیدت ہوتی ہے یا اس قسم کی کرامات اس شخص کے متعلق بہت مشہور ہوتی ہیں یا اسی بزرگ کا نام نامی ملاء اعلیٰ میں راسخ ہوچکا ہوتا ہے۔ یا کوئی اور وجہ ہوتی ہے۔ الغرض یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ شخص باوجود خود اپنے اندر واقعات آئندہ کو الہام کے ذریعے معلوم کرنے کی استعداد رکھتے ہوئے کسی بزرگ کی صورت میں وساطت سے ان واقعات کا علم حاصل کرتا ہے۔
اس کو میں اس طریقے سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اصل میں تو اس کے اندر یہ استعداد موجود ہے جس کو ہم "کشف" کہتے ہیں۔ اس کے اندر یہ استعداد، لیکن کشف جو ہوتا ہے یہ بھی کسی ذریعے سے ہوتا ہے، کسی طریقے سے ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی ایسی چیز سامنے آجاتی ہے جس سے آپ کا ذہن اُس طرف چلا جائے گا کہ یہ چیز اس طرح ہے، یا کوئی شبیہ سامنے آجائے گی، یا کوئی الفاظ سامنے آجائیں گے، یا کوئی نام سامنے آجائے گا۔ مختلف قسم کے طریقے ہوں گے۔ مثلاً حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، ان سے پوچھا گیا۔ حضرت بہت بیمار تھے، حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت بیمار تھے، تو حضرت چونکہ بڑے صاحبِ کشف تھے مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، تو کسی نے کہا حضرت خیریت تو ہوگی نا؟ خیریت تو ہوگی نا؟ کہا: ہاں کوئی بات نہیں ہے، کیونکہ ابھی وقت ہے، دس سال کاوقت درمیان میں موجود ہے۔ حضرت کی زبان سے یہ بات نکل گئی، اور اسی بیماری میں حضرت فوت ہوگئے، انچاس سال کی عمر میں۔ اب لوگ حیران تھے کہ حضرت کا کشف تو بڑا تیز ہے اور کبھی غلط نہیں ہوتا۔ یہ کیا ہوا۔ تو حضرت سے ہی پوچھا گیا کہ حضرت کیا وجہ ہوئی، یہ کیا بات تھی؟ انہوں نے کہا ہاں اصل میں، میں نے جب ان کی طرف توجہ کی تو مجھے مہدی کا نام مکشوف ہوا۔ تو مہدی کے جو الفاظ ہیں اس کے ابجد 59 بنتے ہیں۔ تو اس وقت ان کی عمر انچاس سال تھی، تو میں نے کہا ابھی دس سال باقی ہیں، لیکن وہ ان کی اس وقت کی عمر کی بات تھی۔ ابجد کے حروف کے اعداد کی جمع کی طرف بات نہیں تھی۔ اب یہ دیکھیں کشف صحیح ہوا تھا، لیکن اس سے اندازہ غلط لگایا گیا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے نا ؟ تو کشف بھی ایک اندازہ ہوتا ہے، کشف بھی ایک اندازہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کبھی کبھی غلط ہوجاتا ہے، اندازہ غلط، کشف صحیح ہوتا ہے، لیکن اس کا جو اندازہ ہوتا ہے وہ غلط ہوجاتا ہے۔ تو اس میں یہی والی بات ہے کہ اگر کسی کے اندر وہ صلاحیت موجود ہے تو ایک عین ممکن ہے کہ اس کو کسی ایسے طریقے سے بتایا جارہا ہو، جیسے کسی بزرگ کی صورت میں، یا کسی شعر کے ذریعے سے، یا کسی اور ذریعے سے، اس کو اس کا پتا چل جائے۔
اس ضمن میں اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جب تک زمانے کی یہ دوڑ جاری ہے آنے والے واقعات کے متعلق انداز و بشارت کا یہ سلسلہ برابر جاری رہے گا اور اس ذیل میں خوارق و کرامات بھی ظاہر ہوتی رہیں گی، لیکن ان معاملات میں اب تک یہ ہوتا آیا ہے کہ جب تک مجوسیوں کا دور رہا انداز و بشارت اور خوارق و کرامات کو ستاروں کی طرف منسوب کردیا جاتا تھا (ستاروں کی طرف) لیکن حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد جب حنیفیت کا زمانہ آیا تو ان چیزوں کو ارواحِ کاملہ کی طرف منسوب کیے جانے لگا۔ چنانچہ اس کے بعد ہر حنیفی ملت میں ان حقائق کا عنوان مختلف بزرگوں کی روحیں بنتی چلی آئی ہیں یعنی ان روحوں کی طرف ان حقائق کے انکشاف کو منسوب کردیا جاتا تھا۔
اگر یہ قوی الاثر سعادت والا شخص اولیاء صالحین میں سے نہیں، بلکہ بادشاہ ہے یا امیر یا وزیر ہے تو اس کو امورِ سلطنت کے ضمن میں جو معرکے اور حادثے پیش آتے رہتے ہیں اس کے نفسِ ناطقہ کا یہ نقطہ بخت ان میں کار فرما ہوتا ہے چنانچہ اس کے لشکروں میں اس کے اہل و اقارب میں اور اس کے مال و جاہ میں نت نئی ترقیاں اور بے شمار برکات اس طور پر ظاہر ہوتی ہیں کہ لوگوں کو اس امر میں کوئی شک نہیں رہتا کہ دوسروں کے مقابلے میں اس شخص کو کوئی خاص امتیاز حاصل ہے۔
یہ آج کل کے لوگوں نے ہر چیز کو چونکہ سائنس بنانے کی کوشش کی ہے، تو اس وجہ سے اس چیز کو جو ابھی حضرت بیان فرما رہے ہیں، اس کو "charisma" کہتے ہیں، "Charismatic behaviour"۔ لوگوں کے اندر charisma ہوتی ہے، اور ایسی عجیب عجیب باتیں ان سے صادر ہوتی ہیں، ایسے عجیب کارنامے ان سے ہوتے ہیں کہ لوگ حیران ہوجاتے ہیں کہ یہ کیا کررہے ہیں۔ تو وہی نقطۂ بخت والی بات ہوتی ہے۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس قوی الاثر سعادت والے شخص کا نقطہ اتنا روشن نہیں ہوتا کہ بغیر کسی اور واسطے اور کسی اور کی تائید کے، اس سے یہ تاثیرات صادر ہوسکیں۔ چنانچہ یہ شخص بعض ان اسمائے الہیہ سے وابستہ ہوجاتا ہے جو بلند مرتبہ برکت والے حروف سے مرکب ہیں۔ چنانچہ ان اسمائے الہیہ کی عالم مثال میں جو صورتیں ہیں، یہ مثالی صورتیں کسی نہ کسی لحاظ سے اس شخص کے لیے نقطہ بخت کا کام کرنے لگتی ہیں۔ یا ایسا ہوتا ہے کہ یہ شخص ریاضتیں کرتا ہے اور توجہات میں مشغول ہوتا ہے۔ یا طلسمات اور تعویذات سے مدد لیتا ہے اور اس طرح اس کے نقطہ بخت کو ظلمت کے بعد روشنی اور غبار و کدورت کے بعد جلا نصیب ہوتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ موت کے بعد اس شخص پر نقطہ بخت کے حقائق میں سے ایک حقیقت ظاہر ہوتی ہے اور کبھی جمادات میں سے کوئی چیز لوگوں میں اس شخص کی رفعت شان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ وہ تبرکات جو بعض لوگوں کو خواب میں عطا کیے جاتے ہیں وہ بھی اسی قبیل میں سے ہیں۔
الغرض یہ اور اس طرح کے اور بھی بہت سے آثار ہیں جو بخت کے اس نقطہ نورانی سے صادر ہوتے ہیں اور لوگ ان کو خوارق و کرامات سمجھتے ہیں اور ان کو اس شخص کے کمالات میں سے شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں یہ سب محض اس کے نقطۂ بخت کے نتائج ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ بخت کے ساتھ اس شخص کی نسبت بھی ملی ہوئی ہوتی ہے۔
بعد ازاں میں نے اس امر میں غور و خوض کیا کہ آخر یہ نقطۂ بخت ہے کیا چیز؟ اس ضمن میں مجھے بتایا گیا ہے کہ جہاں تک اس نقطے کی اصل کا تعلق ہے اس کا قریبی سبب تو قوائے ملکی کا اثر ہے (یعنی وہ جو فرشتے ہوتے ہیں خاص) اور ان میں بھی خاص طور پر اس قوت کا جس کا منبع سورج ہے اور نقطۂ بخت کا دور کا سبب وہ تاثیری نقطہ ہے جو مرکز جبروت میں واقع ہے۔ اب اگر میں ان امور کی شرح کرنے لگوں تو یہ بڑی طول طویل بحث ہوجائے گی۔
نقطۂ بخت اور جس شخص میں یہ نقطۂ بخت روشن ہو اس کا حال تو ہم نے بیان کر دیا۔ اسی "صاحب بخت" سے اس شخص کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے جس میں یہ بخت مفقود ہے۔
خداوند کریم جو حکیمِ مطلق ہے اس کے ہاں نہ تو کسی کی بے جا رعایت ہوتی ہے اور نہ بلاوجہ کسی پر زیادتی روا رکھی جاتی ہے۔
اب اس کو حضرت یعنی balance کررہے ہیں، کیونکہ یہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہےنا کہ لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ ہمیں یہ بخت کیوں نہیں ملا، یا کوئی اس طرح مایوسی کی باتیں ہوجاتی ہیں۔ تو اللہ پاک کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، چلو جی آسان سمجھانے کی بات، بنی اسرائیل کو آپ لے لیں۔ قرآن پاک میں جا بجا موجود ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے ان کو چن لیا تھا۔ اللہ پاک نے ان کو چن لیا تھا۔ ان کے اندر اتنی زبردست صلاحیتیں رکھیں کہ آپ کو کیا بتاؤں۔ اب ذرا دیکھو ! کتنی چھوٹی اقلیت ہے پوری دنیا میں، اور پوری دنیا کو نچا رہے ہیں یا نہیں نچا رہے؟ تو یہ وہی تو چیز ہے، ان کے اندر وہ صلاحیت ہے نا، صلاحیتیں تو اب بھی موجود ہیں، لیکن غلط چیز کے لیے استعمال ہورہی ہیں، غلط چیز کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ اگر یہی صلاحیتیں صحیح چیز کے لیے استعمال ہوجاتیں تو سلیمان علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے، داؤد علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے، اور ما شاء اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے، عیسیٰ علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر زبردست صلاحیتیں ہیں۔ اگر یہ صلاحیتیں مثبت انداز میں استعمال کرلیتے تو پتا نہیں کیا سے کیا کرلیتے، کتنا مقام ان کا اونچا ہو جاتا۔ لیکن بدبختی بدبختی ہوتی ہے، کہ اب ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ اس سے صحیح کام لیتے، تو یہ کجی پہ اتر آئے اور انہوں نے مختلف طریقوں سے کجی اختیار کی۔ اور اللہ جل شانہٗ نے ان کو بار بار معاف کیا، بار بار ان کو معاف کیا، ان وجوہات سے جو ان کے ساتھ تھیں، لیکن یہ اس وجہ سے کہ ان کی بار بار کامیابی ہورہی تھی اور معاف کیا جارہا تھا، انہوں نے ایک اور رنگ دے دیا کہ ہم منتخب لوگ ہیں، ہم اگر کچھ بھی کرلیں تو ہمیں کچھ بھی نہیں کہا جائے گا۔ تو جو دنیا میں ان کے ساتھ ہورہا تھا وہ انہوں نے آخرت میں بھی سمجھ لیا، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جو دنیا میں ان کے ساتھ ہورہا تھا انہوں نے آخرت میں بھی سمجھ لیا کہ آخرت میں بھی ایسا ہوگا، ہم سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ حالانکہ اللہ پاک کا قانون بالکل اٹل ہے۔ اچھا، اس مسئلہ میں الحمد للہ ہماری اس امت میں اللہ پاک نے جو رکھا ہوا ہے آپ ﷺ کی برکت سے، کہ جیسے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، کہ "سیدی" کا جو فائدہ ہے وہ دنیا میں ہے۔ آخرت میں تو عمل پر ہی حساب ہوگا، آخرت میں تو عمل کے مطابق ہی دیا جائے گا۔ چونکہ حدیث شریف جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کو عمل پیچھے کرلے اس کو نسب آگے نہیں بڑھا سکتا، جس کو عمل پیچھے کرلے اس کو نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔ اب یہی میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ صحیح نسب والے اگر صحیح کام کرنا چاہیں تو ان میں بڑی potential ہے، بہت آگے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ negative طرف چلے جائیں، تو یہ نسب ان کو نہیں بچائے گا پھر۔ ورنہ اگر نسب بچاتا تو نوح علیہ السلام کے بیٹے کو بچا لیتا۔ قرآن پاک میں صاف اللہ پاک کی طرف سے ہے: ﴿اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ﴾3 "وہ تیری اولاد میں سے نہیں ہے۔" حالانکہ اولاد میں تو تھا، لیکن اولاد سے رشتہ کاٹ دیا۔ تو پتا چلا کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ اس پر بے جا فخر اور مباہات نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں! اس کو استعمال کرنا چاہیے مفید انداز میں، مفید انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک سید ہے، وہ دین پر آنا چاہتا ہے۔ اب جہاں پر بھی کہیں نیک لوگ ہوں گے، جن کے ساتھ بھی اس کا کام ہوگا، چاہے علم حاصل کرنا ہو، چاہے تربیت کے لیے جارہا ہو، چاہے کسی اور دینی کام کے لیے کام کررہا ہو، جیسے سیاست میں کوئی دین کا کام کررہے ہوں، اچھا کام کررہے ہوں، مجھے بتائیں، سارے لوگ جو اچھے لوگ ہیں ان کے ساتھ تعاون کریں گے یا نہیں کریں گے؟ تعاون کریں گے۔ اب یہی اس کا بخت ہے ۔ اگر یہ صحیح اس کو استعمال کرلے تو یہ بہت سارے لوگ ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ لیکن اگر یہ نہیں اس طرح کرتا اور غلط direction میں جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ پھر وہ اپنی چیزوں کو on نہیں کرسکتا۔ تو اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے balance رکھا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ کسی کو بالکل ہی جیسے یہود کہتے تھے کہ بس ہم chosen لوگ ہیں اور ہم جو کچھ بھی کریں تو اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ بھی نہیں کہے گا، نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ عمل کرنا پڑے گا۔ عمل کے لیے آپ ﷺ نے اپنی بیٹی سے فرمایا: بیٹی، خود عمل کرنا پڑے گا، اس وجہ سے تم نہیں بچو گی کہ میری بیٹی ہو،یعنی میں تیرا باپ ہوں۔ یہ نہیں۔ تو یہ فرمایا کہ:
خداوند کریم جو حکیمِ مطلق ہے اس کے ہاں نہ تو کسی کی بے جا رعایت ہوتی ہے اور نہ بلاوجہ کسی پر زیادتی روا رکھی جاتی ہے۔ چنانچہ ایک شخص اگر "صاحب بخت" ہے اور اس لحاظ سے وہ محبوب و پسندیدہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے یہ الہام کیا جائے کہ وہ دنیا سے اعراض کرے اور لوگوں کی صحبت سے متنفر ہو
یعنی اس کا جو حق راستہ ہے اس کو لے۔
اور اس سے خوارق و کرامات ظاہر ہوں اور گوشہ نشینی سے اسے رغبت ہو۔ اس کے بعد جب یہ شخص خود اپنے آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اپنے نفس ناطقہ میں کہ وہ ایک لطیف نورانی ہے، خلا سا محسوس کرتا ہے اور اس خلا کی وجہ سے اس کے سامنے ایک ایسی راہ کھل جاتی ہے جو اسے ان علوم و معارف کی طرف لے جاتی ہے۔ جو تشبیہات اور تمثیلات سے ماوراء سلبی اور تنزیہی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ نفس ناطقہ کے اس خلا کی طفیل عرش باری تعالیٰ کے اسماء و صفات کو پیچھے چھوڑ کر یہ شخص اصل ذات کو اپنا مقصود بنا لیتا ہے۔
اس ضمن میں یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ طلسمات اور تعویذات وغیرہ جن پر کہ غیر انبیاء کا عمل ہوتا ہے اور وہ دعائیں اور اسماء الہیہ جن کی کہ تلقین انبیاء کرتے ہیں، ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ غیر انبیاء کے طلسمات اور تعویذات کا سب سے پہلا مقصد ان قوتوں کو متاثر کرنا ہوتا ہے جو اس عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور انبیاء کی تلقین کردہ دعاؤں اور ان کے بتائے ہوئے اسماء الہیہ سے مقصود ملاء اعلیٰ کی توجہ کا حصول ہوتا ہے اور نیز جو شخص کہ انبیاء کی بتائی ہوئی ان دعاؤں اور اسماء الہیہ کا ذکر کرتا ہے اس پر حظیرۃ القدس کی رحمت کا نزول ہے تاکہ ملاء اعلیٰ کی یہ توجہ اور حظیرۃ القدس کی یہ رحمت اس شخص کے لیے کارساز و مددگار ہو۔ باقی اللہ تعالیٰ ان امور کو بہتر جانتا ہے۔
یہ اصل میں اس کے باریک نکتے کی حضرت نے تفصیل بیان کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دو قسم کے ہیں، ایک یہ ہے کہ اثرات کے ذریعے سے آپ ایک کام کریں اور ایک ہوتا ہے جہاں سے اثرات پر اثرات پڑتے ہیں، وہاں سے آپ کام کریں۔ ٹھیک ہےنا؟ تو اثرات پر کام کرنے والے تو ظاہر ہے کہ جیسے میں لوگوں پر محنت کرلوں کہ لوگ میری قدر کرنے لگیں، یا powerful لوگ میرے مطیع ہوجائیں اور پھر میں ان سے کام لے لوں، اور اس قسم کی کائنات کی کچھ قوتیں ہیں ان کو میں وہ کرلوں اور اس کو اپنے جس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ تسخیر کا عمل، مطلب اس کے ذریعے۔ تو یہ کیا چیزیں ہیں؟ یہ ان لوگوں کا کام ہے جو غیر انبیاء والا کام۔ لیکن جو انبیاء کے ہوتے ہیں وہ اصل میں اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔
’’مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ‘‘، "جو اللہ کا ہوگیا اللہ اس کا ہوگیا۔"
تو جب وہ اس قسم کی بات کرتے ہیں جیسے ملاء اعلیٰ کی طرف جو انسان کو لے جاتا ہے۔ اب ملاء اعلیٰ سے مراد کیا ہے؟ جیسے خانہ کعبہ ہے۔ اب خانہ کعبہ کو اللہ پاک نے بہت ساری چیزوں کا ذریعہ بنایا ہوا ہے نا، بہت سارے خیروں کا ذریعہ بنایا ہے۔ اب وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں، وہاں اعمال قبول ہوتے ہیں، وہاں اور برکتیں ہوتی ہیں۔ تو جو لوگ وہاں جاتے ہیں تو ان برکتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ تو ملاء اعلیٰ اس کی بہت ہی بڑی ایک صورت ہے، جو نیک لوگوں کا مرکز ہے۔ نیک لوگ اس طرف رجوع کرتے ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ جن کا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انبیاء کی دعائیں پڑھتے ہیں۔ اب ایک دعا میری ہے، وہ ایک دعا آپ ﷺ کے الفاظ میں ہے۔ تو دونوں میں فرق تو ہوگا نا۔ البتہ اس میں ایک بات ضرور ہوتی ہے، کیونکہ دو چیزیں ہیں: ایک الفاظ کی برکت ہے، ایک کیفیت کی برکت ہے۔ ایک الفاظ کی برکت ہے، ایک کیفیت کی برکت ہے۔ کیفیت کی برکت مفہوم جاننے میں ہوتی ہے۔ مثلاً آپ مادری زبان میں دعا کرتے ہیں تو اس میں کیفیت زیادہ ہوگی، کیونکہ وہ آپ جان رہے ہیں کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔ ٹھیک ہے نا؟ اور مسنون دعاؤں میں الفاظ کی برکت زیادہ ہے، لیکن وہ کیفیت آپ کو اتنی زیادہ نہیں مل رہی، کیونکہ آپ کو پتا نہیں کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔ اب اگر آپ یہ کوشش کرلیں کہ جو منصوص دعائیں ہیں ان کا مفہوم بھی آپ کو آتا ہو، یعنی آپ اس کو سمجھتے ہوں تو ظاہر ہے پھر تو نور علی نور ہوجائے گا۔ پھر تو مطلب جس وقت آپ وہ دعائیں کریں گے تو اس میں پھر وہ چیز جاذبیت آجائے گی جو کیفیت والی ہے، وہ چیز بھی آپ کو حاصل ہوجائے گی۔ تو ہم دونوں کو جمع کرتے ہیں۔ دونوں کو اس طرح جمع کرتے ہیں کہ کچھ دعائیں ہم مانگتے ہیں منصوص دعائیں، جو قرآن کی ہیں، جو احادیث کی دعائیں ہیں وہ پڑھ لیتے ہیں۔ جن کو آتا ہوتا ہے ان کو تو double فائدہ ہوتا ہے، جن کو آتا نہیں ہوتا ان کو single فائدہ ہوتا ہے، یعنی الفاظ کی برکت والی ان کو تو رہتی ہے۔ ان کو وہ اثر حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ وہ کیفیت والی بات۔ اور کیفیت کے لیے پھر ہم اپنی زبان میں بھی کچھ دعائیں کرلیتے ہیں۔ تو دونوں کا اشتراک ہوجاتا ہے۔ تو یہ حضرت نے جو فرمایا کہ ہم لوگ جو ہیں وہ الحمد للہ وہ جو انبیاء کرام کا بتایا ہوا طریقہ ہے، اس ذریعے سے جب اللہ کو پکارتے ہیں، اس ذریعے سے ہم اللہ پاک کی مدد لیتے ہیں، اس میں بڑا اثر ہے۔ تو اس ذریعے سے ان شاء اللہ اب ہم بھی کوشش کریں گے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
۔ (القیامۃ: 20-21) ترجمہ: ’’خبردار (اے کافرو) اصل بات یہ ہے کہ تم فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔ اور آخرت کو نظر انداز کیے ہوئے ہو۔‘‘
۔ (القیامۃ: 20-21)
۔ (ھود: 46) ترجمہ: ’’یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔‘‘