اللہ کے حقوق کی حفاظت اور تقدیر پر کامل یقین

درس نمبر 83- باب المراقبہ - حدیث نمبر 62 - (اشاعتِ اول) 6 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حدیثِ مبارکہ "احفظ اللہ یحفظک" کی تشریح۔

صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی اہمیت اور غیر اللہ سے استغنا۔

عقیدۂ تقدیر اور لوحِ محفوظ کے فیصلوں کی قطعیت۔

حلال رزق پر قناعت اور دوسروں کے مال و صحت پر حسد کی نفی۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا مومن کو مشورہ۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

ہر کام تقدیر کے موافق ہوتا ہے

(62) اَلثَّالِثُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: يَا غُلَامُ اِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ وَ إِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ، وَ إِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَ فِي رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ اَمَامَكَ، تَعَرَّفْ اِلَى اللّٰهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ وَاعْلَمْ اَنَّ مَا اَخْطَاَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَكَ، وَ مَا اَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَاعْلَمْ اَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَ اَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَ اَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا.


تیسری حدیث: "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لڑکے! میں تجھ کو چند کلمات بتاتا ہوں۔ اللہ کے احکام کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ کے حقوق کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا، تو جب مانگے بس اللہ سے مانگ اور جب مدد کا طلب گار ہو تو اللہ سے مدد طلب کر اور یقین رکھ اگر تمام دنیا تجھے فائدہ پہنچانے پر جمع ہو جائے تو تجھے صرف وہی فائدہ دے سکتا ہے جو تیرے مقدر میں ہے اور اگر تمام کے تمام تجھے نقصان دینے پر اکٹھا ہو جائیں تو تجھے کچھ نقصان نہیں دے سکتے مگر جس قدر اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں تیرے لئے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا دیئے گئے اور تقدیر کے دفاتر خشک ہو چکے ہیں۔" (ترمذی)

ترمذی کے علاوہ بعض کتابوں میں ہے اللہ کے حقوق کی حفاظت کر تو اس کو اپنے آگے پائے گا، خوش حالی میں اللہ کے حقوق کا خیال رکھو وہ تنگ حالی میں تمہارا خیال رکھے گا اور یقین کرو جو مصیبت تجھ سے خطا کر گئی ہے اس نے تجھے پہنچنا ہی نہیں تھا اور جس مصیبت میں تم گرفتار ہو گئے اس نے تمہیں چھوڑنا ہی نہیں تھا اور سمجھ لو صبر کرنے کے ساتھ اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور مصیبت کے بعد کشادگی حاصل ہوتی ہے اور جہاں تنگی ہے وہاں آسانی بھی آئے گی۔


اس حدیثِ شریف میں چند باتیں قابلِ ذکر ہیں، تو ایک ایک کر کے ان شاء اللہ بات ہوگی۔ آج ایک بات ہوگی پھر ان شاء اللہ اگلے دن دوسری بات۔

"اللہ کے حقوق کا خیال رکھو تو اللہ کو ہمیشہ اپنے سامنے پاؤ گے"۔

محدثین نے اس جملہ کے کئی مطلب بیان کئے ہیں اور سب ہی مراد ہو سکتے ہیں مثلاً تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو یعنی جن امور کے کرنے کا حکم دیا ہے اس کو کرو اور جس سے اجتناب کا حکم ہے اس سے بچو تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ بھی تمہارا خیال رکھے گا کہ تم کو دنیا میں بھی ہر قسم کی آفات اور مصیبتوں سے بچائے گا اور آخرت میں بھی عذاب سے محفوظ رکھے گا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا:

"إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ"

یا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے احکامات کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے گا اور تمہارے مقاصد اور عزائم میں کامیاب کرتا رہے گا۔

یا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور رضا میں مشغول رہو گے تو گویا کہ اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ اس صورت میں تم ایمان کے کامل درجہ اور احسان کے درجہ پر فائز ہو جاؤ گے، ہر دم اللہ ہی تمہاری نگاہ میں رہے گا اللہ کے ماسوا ہر چیز معدوم اور فنا ہو جائے گی۔

غیر سے اٹھ جائے بالکل ہی نظر

تو ہی تو آئے نظر دیکھوں جدھر

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو یہ کیفیت نصیب فرما دے۔

وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔

وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰی عَلٰی خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ أَجْمَعِيْنَ۔




اللہ کے حقوق کی حفاظت اور تقدیر پر کامل یقین - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور