محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور عقائد کی درستگی

نشر الطیب فی ذکر الحبیب ﷺ، فصل اول، نور محمدی کا بیان، حصہ سوم، (اشاعت اول 7 اگست، 2015)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

ہم موضوعات:• عالمِ ارواح میں نبی کریم ﷺ کا تقدم• مسئلہ نور و بشر کی حقیقت اور اعتدال• علمِ غیب کا صحیح مفہوم (ذاتی اور عطائی کا فرق)• محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا لازمی امتزاج• شفاعتِ رسول ﷺ اور اس کے شرعی قوانین

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

گزشتہ سے پیوستہ

سب انبیاء عليه السلام پر تقدم کی وجہ۔

چھٹی روایت: حضرت سہل بن سعد نے امام باقر رضي الله عنه سے پوچھا کہ رسولِ کریم ﷺ کو سب انبیاء سے تقدم کیسے ہو گیا حالانکہ آپ سب سے آخر میں مبعوث ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد عالمِ میثاق میں نکالا اور ان سب سے ان کی ذات پر ایک یہ اقرار لیا، کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب سے اول جواب میں بَلٰى یعنی کیوں نہیں محمد ﷺ نے کہا۔ اور اس لیے آپ کو سب انبیاء سے تقدم ہے گو آپ سب سے آخر میں مبعوث ہوئے ہیں۔ اگر میثاق لینے کے وقت ارواح کو بدن سے تلبس بھی ہو گیا ہو تا ہم احکام روحی کے غالب ہیں۔ اس لیے اس روایت کو کیفیاتِ نور میں لانا مناسب سمجھا، اور اوپر شعبی کی روایت میں آپ سے قبل از آدم میثاق لیا جانا مذکور ہے۔ اور یہ میثاقِ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ظاہر روایت سے بعض خلقِ آدم کو معلوم ہوتا ہے۔ سو ممکن ہے کہ یہ میثاقِ نبوت قابلِ اشتراکِ غیرے ہو جیسے کہ حدیث کے ذیل میں اس طرف اشارہ ہے۔

اصل میں اس وقت ہم کچھ اختلافی باتیں چھیڑنا نہیں چاہتے۔ ہمارا مقصود یہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کو بہت مشکل مسئلہ بنایا ہوتا ہے۔ حالانکہ مشکل ہم لوگ خود اس کو بناتے ہیں۔ مثلاً مشکل سب سے یہ بات ہے کہ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نور ہیں اس طرح کہ اللہ جس طرح نور ہے، اس طریقے سے اس کا ایک حصہ ہے۔ یہ غلط ہے۔ کیونکہ اللہ اللہ ہے اور مخلوق مخلوق ہے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ کبھی بھی مخلوق خالق کی طرح نہیں ہو سکتا۔ یہ ناممکن ہے۔

لہٰذا اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا، اس کا مطلب یہ ہے جیسے میں کہتا ہوں یہ میری زمین ہے، اس سے الگ کر کے اس میں گھر بنا دو۔ تو یہ اضافت کی بات ہے۔ یعنی میری زمین... تو نُوْرٌ مِّنْ نُّوْرِ اللّٰهِ سے مطلب کیا ہے کہ جو نور اللہ نے بنایا ہے، اس نور سے آپ ﷺ کو بھی تخلیق کیا۔ اور ظاہر ہے یہ بہت بڑی بات تھی۔

تو آپ ﷺ نور ہیں، کس طرح؟ یہ میں آپ کو ایک... جو ہے نا میرا خیال میں ہم لوگ مناجاتِ مقبول میں ایک دعا پڑھتے ہیں۔ میں آپ کو ان کے الفاظ سنا دیتا ہوں، یہ دیکھیں میرے سامنے آ گیا۔ یہ دعا ہے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِيْ قَلْبِيْ نُوْرًا، وَفِيْ بَصَرِيْ نُوْرًا، وَفِيْ سَمْعِيْ نُوْرًا، وَعَنْ يَمِيْنِيْ نُوْرًا، وَعَنْ يَسَارِيْ نُوْرًا، وَخَلْفِيْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ لِيْ نُوْرًا، وَفِيْ عَصَبِيْ نُوْرًا، وَفِيْ لَحْمِيْ نُوْرًا، وَفِيْ دَمِيْ نُوْرًا، وَفِيْ شَعْرِيْ نُوْرًا، وَفِيْ بَشَرِيْ نُوْرًا، وَفِيْ لِسَانِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ فِيْ نَفْسِيْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِيْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِيْ نُوْرًا، اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِيْ نُوْرًا۔

یہ بخاری، مسلم میں روایت ہے متفق علیہ۔ حدیث شریف سے ہے، ابن عباس رضي الله عنه سے مروی ہے۔ اب میں اس کا ترجمہ سناتا ہوں۔

ترجمہ یہ ہے: یا اللہ! نور کر دے میرے دل میں، اور نور کر دے میری بینائی میں، اور نور کر دے میری شنوائی میں، اور نور کر دے میرے داہنی طرف، اور نور کر دے میرے بائیں طرف، اور نور کر دے میرے پیچھے، اور نور کر دے میرے سامنے، اور میرے لیے ایک خاص نور کر دے۔ اور نور کر دے میرے پٹھوں میں، اور نور کر دے میرے گوشت میں، اور نور کر دے میرے خون میں، اور نور کر دے میرے بالوں میں، اور نور کر دے میری جلد میں، اور نور کر دے میری زبان میں، اور نور کر دے میری جان میں، اور مجھے نورِ عظیم دے، اور میرے اوپر نور کر دے۔

اب دیکھیں، اس میں آپ ﷺ نے ہر طرح کا نور اپنے لیے مانگا ہے۔ وَاجْعَلْنِيْ نُوْرًا... یعنی مجھے نور کر دے، مجھے نور بنا دے۔ اب جس چیز کو آپ ﷺ مانگ رہے ہیں تو اس کو غلط کہا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے خود مانگا ہے۔ تو اس کو کیسے غلط کہیں گے؟ البتہ یہ جو میں نے عرض کیا جو سب سے بڑی غلطی کہ لوگ کہتے ہیں کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کا نور جس طرح ہے یعنی ذات، اس سے کاٹ کے نور بنایا ہے وہ غلط ہے۔ آپ یقین کیجیے گجرات میں ایک صاحب نے مجھے ایک عجیب بات پوچھی بلکہ مجھ سے۔ مجھ سے کہتے ہیں کہ اللہ اور رسول یہ دو ہیں یا ایک ہیں؟ میں نے کہا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! یہ کونسی بات کر رہے ہو تم؟ ایک اور دو کی بات کہاں سے آ گئی؟ اللہ اللہ ہے اللہ کا رسول اللہ کا رسول ہے۔ ان دونوں کو آپ ایک کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہاں تک غلطیاں پہنچ جاتی ہیں۔ تو یہ ظاہر ہے وہ تو زیادتی ہے اپنے ساتھ۔

اللہ اللہ ہے اور اللہ کا رسول اللہ کا رسول ہے۔ مخلوقات میں سب سے زیادہ اونچا مقام آپ ﷺ کا ہے۔ مخلوقات میں سب سے اونچا مقام آپ ﷺ کا ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!

تو مخلوقات میں سب سے اونچا مقام، اور آپ ﷺ کا مخلوق ہونے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ مخلوق ہیں ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ، آپ ﷺ نے خود اپنے لیے اس کا اقرار کیا۔

تو جب یہ والی بات ہے تو آپ ﷺ مخلوق ہیں اور مخلوقات کے سردار ہیں، مخلوقات میں سب سے زیادہ افضل مقام، سب سے اونچا مقام وہ آپ ﷺ کا ہے۔ کسی طریقے سے بھی کوئی اونچے سے اونچا مقام اگر ہوگا تو وہ آپ ﷺ کا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی بھی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا، اللہ کے فضل سے جائے گا۔ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنها نے پوچھا یا رسول اللہ کیا آپ بھی؟ فرمایا ہاں میں بھی، لیکن مجھ پر اللہ پاک فضل فرما دیں گے۔ یہ صرف آپ ﷺ ہی کہہ سکتے تھے۔ کوئی اور اس طرح نہیں کہہ سکتا تھا۔ اسی طریقے سے تو بات ہے، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوثَرَ۔ ہم نے تمہیں حوضِ کوثر عطا فرما دیا۔ یہ جو Specialities ہیں، یہ تو آپ ﷺ کے لیے ہیں۔ اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ہم لوگ خواہ مخواہ کی چیزوں میں پھنس جاتے ہیں، پریشانیوں میں پھنس جاتے ہیں۔ جیسے علمِ غیب کے بارے میں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو علمِ غیب حاصل تھا۔ لیکن وہ علمِ غیب کی تعریف ہی غلط کرتے ہیں۔ بھئی علمِ غیب اس کو کہتے ہیں جو ذاتی ہو، جو ہمیشہ ہو، جو ہر وقت ہو۔ اس کو علمِ غیب کہتے ہیں۔ اور جو ہر وقت نہ ہو، کبھی ہو کبھی نہ ہو۔ اور ذاتی نہ ہو عطائی ہو۔ اور کلی نہ ہو جزوی ہو۔ اس کو انباء الغیب کہتے ہیں۔ قرآن میں اس کے لیے لفظ آیا ہے۔ کہ یہ انباء الغیب ہیں، جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے۔

تو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا، بلکہ آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا، اگر مجھے علمِ غیب حاصل ہوتا، اگر مجھے علمِ غیب حاصل ہوتا، تو کیا میں اپنے لیے ساری اچھی اچھی باتیں جمع نہ کرتا؟ اچھی اچھی باتوں سے مراد ہے کہ تکالیف پھر آپ ﷺ کو نہ ہوتیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کو اگر تکلیف ہوتی اور آپ ﷺ کو پتہ ہوتا کہ یہ تکلیف ہے اور پھر بھی اس کو لیتے... تو پھر اور حکم آ جائے گا ساتھ۔ تو جیسے طائف کے اندر واقعہ ہوا۔ آپ ﷺ تشریف لے گئے بہت پریشانی ہو گئی۔ اب یہ جو بات ہے، کہ ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ نے بہت سارے موقعوں پر آپ ﷺ کو اطلاع فرما دی کہ یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے عباس رضي الله عنه، کہ جو مسلمان نہیں ہوئے تھے تو اس نے کوئی چیز چھپائی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کر دی اور فرما دیا کہ فلاں اس نے چھپائی ہوئی تھی، عباس رضي الله عنه سے کہا کہ تو نے یہ اس موقع پہ یہ کیا، تو نے فلاں چیز کہاں چھپائی ہوئی ہے؟ تو اس پر وہ ایمان لائے۔

اس طریقے سے بہت ساری باتیں۔ لیکن دیکھیں باقی پیغمبروں کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ کہ جیسے یعقوب عليه السلام۔ ان کو ایک وقت میں تو یہ بھی پتہ نہیں تھا، بلکہ پاس ہی کنعان تھا۔ اس میں یوسف عليه السلام ڈالے گئے تھے کنویں میں، ان کا پتہ نہیں تھا۔ اور جس وقت پتہ لگنا تھا تو اس وقت بھی لگا کہ ابھی یوسف عليه السلام نے اپنی قمیض دی تھی اور وہ ابھی مصر سے چلی تھی۔ مصر اتنا دور تھا وہاں سے، اور پتہ چلا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ بیٹوں نے کہا کہ کیا تو سے سٹھیا گیا ہے تو کیوں اس طرح باتیں کر رہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ پاک نے جو مجھے بتایا تمھیں نہیں بتایا۔ پھر جب وہ پہنچ گئے تو فرمایا کہ میں نہیں کہتا تھا؟! دیکھو نا پہلے کنعان کا پتہ نہیں ہے، ساتھ ہی ہے۔ اور ادھر مصر کا پتہ چل گیا۔

تو اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں کسی کو بتا دیتے ہیں، جب چاہے نہیں بتاتے۔ خود قرآن میں ہے، خود قرآن میں ہے، کہ بدر کا واقعہ چونکہ ہونا تھا تو مسلمانوں کو پتہ نہیں چلا تھا جس میں آپ ﷺ بھی شامل تھے کہ کافروں کا قافلہ ادھر سے گزرا ہے۔ مسلمانوں کو پتہ نہیں چلا۔ اور کافروں کو ان کا پتہ چل گیا، مینگنیوں سے۔ مینگنیوں سے پتہ چل گیا اس کو توڑ کے معلوم کیا کہ یہ مسلمان تو ادھر سے گزرے ہیں۔ اب کافروں کو پتہ چل گیا، مسلمانوں کو پتہ نہیں چلا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ اللہ کو یہ منظور تھا کہ یہ جنگ ہونی ہے۔ لہٰذا اس کے حالات بنا دیے۔

اب جب یہ والی بات ہوئی یہ تو قرآن سے ثابت ہیں۔ پس پتہ چلا کہ ہم لوگ خواہ مخواہ جذباتی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے اللہ، اللہ ہیں، اللہ کے رسول، اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کے رسول کی طرح مخلوق میں کوئی نہیں ہو سکتا۔ اور اور کسی مخلوق کو اللہ کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی اس کو تسلیم کرتا ہے درمیان میں کوئی مسئلہ ہی نہیں پھر۔ پریشانی ہی نہیں ہے۔ کوئی نقصان ہی نہیں ہے۔

تو یہی مطلب یہ ہے کہ بنیادی باتیں ہیں۔ تو یہاں پر جتنی باتیں ہوئیں نور کے بارے میں، وہ اصل میں نور یہی ہے۔ دیکھو علم کو بھی نور کہا گیا ہے۔ علم کو بھی نور کہا گیا ہے، اس طرح اور بہت ساری چیزوں کو نور کہا گیا ہے۔ دیکھو آپ ﷺ خود فرماتے ہیں اے اللہ میرے دل میں نور کر دے، میری آنکھوں کے اندر نور کر دے، میرے سننے میں نور کر دے، میری دائیں طرف نور کر دے، میری بائیں طرف نور کر دے، میرے آگے سے نور کر دے، میرے پیچھے سے نور کر دے۔ اب بتاؤ پھر نور کا مطلب کیا ہوا؟ آپ ﷺ خود یہ دعا مانگ رہے ہیں نا، بخاری شریف کی اور مسلم شریف کی روایت ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نور سے مراد یہ ہے کہ جو اللہ جل شانہ نے خاص مخلوق نور جو بنایا ہے، اور جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بہت ساری ایسی چیزیں جو عام لوگوں کو نہیں مل سکتیں، وہ اس نور کے ذریعے سے ان کو مل جاتی ہیں۔ تو آپ ﷺ کے لیے تو اسپیشل تھی، اور آپ ﷺ سراپا نور تھے۔ آپ ﷺ تو سراپا نور تھے۔ ظاہر ہے مطلب آپ ﷺ کی ہر چیز نور، آپ ﷺ کا طریقہ نور، آپ ﷺ کا جو بیٹھنا نور، آپ ﷺ کا اٹھنا نور، آپ ﷺ کی ہر چیز نور۔

لہٰذا اس مسئلے میں تو نور کی مخالفت نہیں ہے۔ لیکن اگر نور کو مراد کوئی اس طرح لیتا ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا نور ایسا جیسے نور اللہ ہے، اس طرح آپ ﷺ کو بنایا گیا، یہ پھر غلط بات ہے۔ اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔

بہرحال اس سے کچھ نعتیں سنوانی ہیں۔


کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی

کتنا ہے ضروری متابعت رسول کی


اب سارے طریقے جو ہیں منسوخ ہوگئے

اللہ کو پسند ہے سنت رسول کی


اللہ نے جو جمال و کمال ان کو دیا تھا

دل پر تو اس لئے ہے حکومت رسول کی


کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی

کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی


اس میں بہت اہم بات ہے۔ پوری نعت کو اگر ہم اساسی نعت کہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس میں بالکل بنیادی باتیں کی گئی ہیں۔ پہلے کا جو اس کا شعر ہے وہ ذرا سا غور طلب ہے۔ آج کل ہمارے یہاں یہ ہے کہ ہم جھومتے ہیں چیزوں کے ساتھ۔ لیکن اس پہ غور نہیں کرتے کہ کہا کیا گیا ہے۔ بہت سارے مطلب لوگ ہیں جو سنتے ہیں ان چیزوں کو، لیکن صرف سنتے ہیں اس کے ساتھ جھومتے ہیں۔ سُر تو لے لیتے ہیں، لیکن جو اس کے اندر جو کہا ہوتا ہے اس کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔

اب یہاں پر کیا ہے:


کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی

کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی


مطلب دونوں چیزیں ہیں۔ آج کل دو بڑے طبقے ایک دوسرے کے خلاف ٹکرا رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں ایک ایک کام بالکل صحیح کر رہے ہیں۔ مثلاً آپ ﷺ کی محبت اگر کسی کو ہے، تو میں کہتا ہوں اس کو تو اور بڑھنا چاہیے۔کیوں کہ آپ ﷺ نے خود فرمایا ہے۔ کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں ان کو اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ ساری مخلوق سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اس کو اپنے آپ سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ تو جب یہ والی بات ہے تو اس سے تو کسی کو نہیں روکا جائے گا۔ یہ تو بالکل صحیح بات ہے۔ آپ ﷺ کی محبت بہت زیادہ ہونا چاہیے۔

دوسری بات، آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔

(اے میرے حبیب ﷺ! اپنی امت سے) کہہ دے، اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو، میری اتباع کر لو اللہ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ﷺ کی سنت کی متابعت ہے، یہ تو اس میں دونوں جہان کی کامیابی ہے۔ آپ ﷺ کی سنت کی متابعت میں اللہ تعالیٰ کی محبوبیت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس کو محبوب بنائے گا۔

اب کچھ لوگوں نے سنت کو لے لیا محبت کو چھوڑ دیا۔ کچھ لوگوں نے محبت کو لے لیا سنت کو چھوڑ دیا۔ اب مجھے بتاؤ دونوں نقصان میں چلے گئے یا نہیں؟ یہی تو شیطان کا کمال ہے۔ کہ اچھی چیز سے وہ غلط نتیجہ پیدا کرنے کا ماہر ہے۔ اب اگر دونوں کو جمع کر دیا جائے تو سبحان اللہ دونوں کامل ہو جائیں گے۔ جو سنت پہ چلنے والے ہیں، ان کو آپ ﷺ کی ذات کی محبت ہو جائے۔ جو ذات کے ساتھ محبت کرنے والے ہیں وہ سنتوں پہ آ جائیں۔ تو بات کیا ہے؟ مشکل کیا ہے؟

اب یہی بات ہے تو اب دیکھو اس کا پہلے شعر ہی تھوڑا سا میرا خیال میں اس کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔


کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی


معیار اب اچھے برے کا کیسے ہو مشکل

جب تجھ کو ہے معلوم شریعت رسول کی


جو ان کے بن گئے ہیں وہ اللہ کے بن گئے

اللہ کے ساتھ ہے کیسی حیثیت رسول کی


کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی

کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی


شبیؔر بن جا اب تو ان کا سچا متبع

مل جائے وہاں تجھ کو شفاعت رسول کی


کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی


یہ دیکھیں ہم لوگ بہت ساری باتوں کو گڈ مڈ کر رہے ہیں۔ شفاعتِ رسول ﷺ یہ حقیقت ہے، ہوگی۔ اور ہمارے لیے بہت بڑا آسرا ہے۔ اس کے لیے قوانین ہیں۔ ہر چیز کے لیے قوانین ہیں۔ اس کے لیے بھی قوانین ہیں۔ ایک بات، کہ شفاعت اللہ کے حکم سے ہوگا۔

یہ آیت اگر الکرسی کوئی پڑھ لے، تو میرا خیال میں اس میں سب کچھ موجود ہے۔

اَللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ لَا تَأْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ لَهٗ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗ إِلَّا بِإِذْنِهٖ

کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی شفاعت کر سکے؟

پتہ چل گیا کہ شفاعت کون کروا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کروا رہے ہیں۔

میں یہاں تک کہتا ہوں کہ دیکھو آپ ﷺ کے صفات جتنے بھی آپ جاننا چاہیں گے اور جتنا آپ ﷺ کے ساتھ آپ کی محبت بڑھے گی، لازمی اللہ کے ساتھ بھی آپ کی محبت بڑھے گی اگر سمجھدار ہیں تو۔ اور سمجھدار نہیں ہیں تو پھر معذور ہیں پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟

اب دیکھو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا مقام عطا فرمایا، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر اتنا زیادہ شفیق بنا دیا، اتنا زیادہ مہربان بنا دیا، آپ ﷺ ہمارے لیے اتنے زیادہ رونے والے بن گئے، تو کس نے کیا ان کو؟ یہ اللہ تعالیٰ نے کیا نا۔ تو اصل تو اللہ تعالیٰ ہمیں چاہتے ہیں۔ پتہ چل گیا کہ آپ ﷺ کی ہر نسبت سے ہمیں اللہ یاد آتے ہیں۔ اللہ، آپ ﷺ کی ہر نسبت سے ہمیں اللہ تعالیٰ یاد آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے رہیں۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔

جب یہ والی بات سمجھ میں آ جائے، تو پھر میرے خیال میں یہ بات بھی سمجھ میں آ جائے گی کہ اللہ کا حکم اور رسول ﷺ کا طریقہ چھوڑ کر ہم خواہ مخواہ اپنے آپ کو دھوکہ دیں اور شیطان کی باتوں میں آ جائیں، تو مجھے بتاؤ نقصان کس کا ہوگا؟ نقصان ہمارا ہوگا نا۔

تو شفاعت کیا ہے؟ اس کے لیے یہ بات ہے کہ ہم آپ ﷺ کے طریقے پہ چلیں۔ جب آپ ﷺ کے طریقے پہ چلیں گے تو اللہ بھی چاہیں گے کہ اس کی شفاعت ہو جائے، اور آپ ﷺ بھی چاہیں گے کہ میں اس کی شفاعت کر لوں، تو بات ختم ہو جائے گی۔ بات ہو جائے گی۔ تو اس وجہ سے اتباعِ شریعت، اتباعِ رسول، یہ کیا ہے، اللہ کی اطاعت، ان تینوں چیزوں کے اندر پنہاں ہے، آپ ﷺ کی شفاعت جو ہمارے لیے بڑی بڑی کامیابی ہے۔

لہٰذا جو بھی چاہتا ہے کہ آپ ﷺ کی شفاعت اس کو حاصل ہو، وہ دل سے آپ ﷺ کے ساتھ محبت بھی کرے، دل سے آپ ﷺ کی پیروی بھی کرے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے لیے کرے۔ یہ سب کچھ اللہ کے لیے کرے۔ کیونکہ اللہ کے لیے جو بات نہیں ہوتی، وہ نہ اللہ کو چاہیے نہ آپ ﷺ کو چاہیے۔ اللہ کے لیے جو بات نہیں ہوگی۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کا مطلب یہی ہے۔

پس ہم لوگ کو ان کے درمیان فاصلے پیدا نہیں کرنے چاہیے۔ بلکہ ان کو اکٹھا کرنا چاہیے۔ جب ہم اس کو اکٹھا کرتے ہیں تو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔


محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور عقائد کی درستگی - نشر الطیب فی ذکر الحبیب ﷺ - دوسرا دور