اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔
أَمَّا بَعْدُ،
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللهَ ۚ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! بہت سارے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں ہوتے ہیں۔ اور مختلف قسم کے حالات میں لوگ رہتے ہیں۔ اور اپنی زندگی گزارنے کے لیے بہت سارے لوگوں کو اپنے مقصد کا پتہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک بے مقصد زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ تو اللہ جل شانہٗ ہم پر، ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری تمام چیزوں میں رہنمائی فرمائی ہے۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے، اس میں بھی ان تمام چیزوں کو Address کیا گیا ہے۔ اور احادیثِ رسول ﷺ بھی وحی ہے، وحی غیر متلو ہے، اس میں بھی بارہا ان تمام چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ ابھی میں نے آپ کو قرآنِ کریم میں صرف ایک آیت، اور احادیث شریفہ کے وسیع ذخیرے میں صرف ایک حدیث شریف تلاوت کی ہے۔ تو ظاہر ہے اس ضمن میں جو باتیں سمجھ میں آسکتی ہیں اس پر بات ہونی چاہیے۔
ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ہے، وہ مکلف ہے۔ جب وہ بالغ ہوجاتا ہے، تو مکلف ہوتا ہے۔ اپنے اعمال کا جواب اس کو دینا پڑے گا۔ تو اس آیتِ شریفہ میں، اللہ جل شانہٗ ارشاد فرما رہے ہیں، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔ یہ بات، بہت وسیع بات ہے، اس پر بہت ساری چیزیں منحصر ہیں، اللہ سے ڈرو۔
جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اللہ کی بات بھی مانتا ہے۔ اور جو اللہ کی بات ماننا چاہتا ہے وہ ہدایت کے تمام سلسلوں کو مانتا ہے۔ یعنی پیغمبروں کی بات، صحابہ کرام کا طریقہ، اولیاءِ عظام کے نصائح، علمائے کرام کے افکار اور علوم، ان تمام چیزوں کی قدر کرتا ہے کیونکہ اس سے اس کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ اور یہی بات قرآنِ پاک کی پہلی سورت کے بعد کی آیت ہے: الٓمٓ ۚ ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ۔ تو جو اللہ سے ڈرتا ہے، وہ قرآن کو بھی سیکھتا ہے اور قرآن پر عمل بھی کرتا ہے۔ اور اگر اس میں کوئی عمل کی غلطی کوئی اور پکڑے، اور واقعی غلطی ہو، تو اس کا بڑا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اس سے ناراض نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ یہ تو میرے فائدے کی بات ہورہی ہے۔ اگر کوئی غلطی میں کر رہا ہوں اور مجھے کوئی سمجھا دے تو اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة الله عليه، (اللّٰه أكبر) ان سے ایک بدو نے کہا: عمر! یاد رکھو، اگر تیرے کہنے سے اور تیرے کسی کام سے، تیری دعوت سے لاکھوں لوگ جنت میں چلے جائیں اور تو خود جہنم چلا جائے تو کیا ہوگا؟ تو ان کے بڑے شکر گزار تھے کہ انہوں نے مجھے بڑی نصیحت فرمائی۔ واقعتاً بات ایسی ہے۔ ایک انسان ہے، وہ اچھی باتیں لوگوں کو بتاتا ہے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا، تو دوسرے لوگ تو ان کی بات مان کر جنت چلے جائیں گے اور یہ خود چونکہ عمل نہیں کر رہا، جہنم جا سکتا ہے۔ تو یہ بہت بڑی نصیحت تھی۔
تو جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، وہ نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ۔ وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے، تو جو لوگ ان کو کوئی بات بتاتے ہیں کہ تمہاری فلاں بات غلط ہے، تو ان کے ساتھ لڑتے ہیں۔ اور اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ حالانکہ توہین نہیں ہوتی، وہ تو ان کے فائدے کی بات ہوتی ہے۔
تو پہلی بات يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔
یعنی بات ایمان والوں سے کی جارہی ہے، کفار سے نہیں کی جارہی، کفار کا تو پہلا کام یہ ہوگا کہ ایمان لائیں۔ پھر اس کے بعد وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ۔ اور چاہیے، کہ ہر شخص خود یہ جانچ لے پرکھ لے کہ وہ کل کے لیے کیا بھیج رہا ہے۔ کل سے مراد آخرت ہے۔ یعنی آخرت کے لیے وہ کیا تیاری کر رہا ہے۔ اس وقت ہم لوگ دورِ ابتلا میں ہیں۔ یعنی ہم لوگ ہر لمحے، اس بات کے مکلف ہیں، کہ ہم اپنا پیسہ صحیح جگہ پہ لگائیں۔ اپنی کوششیں صحیح کام کے لیے کریں۔ اور اپنی جان صحیح چیزوں میں کھپائیں۔ کیونکہ پانچ چیزوں کی پوچھ ہوگی ہر ایک شخص سے، جب تک وہ ان کا جواب نہیں دے گا آگے نہیں بڑھ سکتا۔
1۔ تو نے زندگی کیسے گزاری؟
2۔ تو نے مال کیسے کمایا؟
3۔ تو نے مال کیسے خرچ کیا؟
4۔ تو نے علم کیسے استعمال کیا؟
5۔ اور تو نے اپنی جان کن چیزوں میں کھپا دی؟
یہ پانچ سوالوں کے جواب ہر شخص کو دینے پڑیں گے۔ تو گویا کہ یہ حدیث شریف اس قرآن کی آیت کی تفسیر ہے۔ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللهَ۔ اس وجہ سے ان سوالوں کے جواب کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔
جو با اختیار ہیں، وہ اپنے اختیار کو کن چیزوں میں استعمال کرتے ہیں؟ چونکہ میں ہسپتال کی مسجد میں بیٹھا ہوں، تو یہاں تو میں وہی بات کرنا چاہوں گا جو یہاں کے لیے زیادہ مفید ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ ہر ڈاکٹر یہ سوچے، کہ یہ مریض میرے کمانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر میں اس کی صحیح طریقے سے خدمت کروں گا، تو اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائیں گے۔ اور اگر نہیں کروں گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ جو Time دے گا، جو سوچے گا، جو فکر کرے گا، وہ اس رخ پر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کو میں راضی کروں۔ پیسہ، یہ تو اللہ تعالیٰ نے جتنا مقدر میں رکھا ہے وہ تو ملے گا۔ وہ تو کہیں جا نہیں رہا۔
یہیں قریب ہی ایک Doctor ہیں، میرے دوست ہیں میجر جنرل ریٹائرڈ عجب خان صاحب، بڑے نیک آدمی ہیں۔ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، میرے دوست ہیں، Clinic ہے اس کا اپنا۔ تو میں اپنے بچوں کو ان کے پاس لے جایا کرتا تھا چونکہ Child Specialist ہیں۔ تو ان کے ساتھ گپ شپ بھی لگی رہتی تھی کیوں کہ ہمارے گاؤں کے قریب گاؤں کا ہے۔ تو میں جب بھی جاتا تو اپنے آپ کو کوسنا شروع کر لیتا۔ اور کہتا، دیکھو آپ بھی ملازم ہیں، میں بھی ملازم ہوں، آپ دین کا کام کر رہے ہیں، میں پیسے کما رہا ہوں۔ مجھ میں اور ہندو ڈاکٹر میں کوئی فرق نہیں ہے، وہ بھی Fees لیتا ہے میں بھی Fees لیتا ہوں۔ اس طرح اپنے لیے باتیں وہ کرتا تھا۔ میں نے ایک دن اسے کہا، ڈاکٹر صاحب آپ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ آپ تو بالکل جنت کے دروازے پہ بیٹھے ہیں، بس تھوڑی سی ہمت کی بات ہے آگے اندر... کہتے، وہ کیسے؟
میں نے کہا حدیثِ قدسی ہے، أَنَا عِنْدَ الْمُنْكَسِرَةِ قُلُوبُهُمْ۔ میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ ہوں۔
تو بیمار سے زیادہ ٹوٹا ہوا دل کس کا ہوگا؟ تو اگر آپ ان بیماروں کی خدمت کریں، اور ان کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، ان کو پیسے کمانے کا ذریعہ نہ سمجھیں، تو ان کے دلوں کی دعائیں آپ لے لیں گے۔ اور بس یہی آپ کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ تو مجھے فرمانے لگے، کیا آپ مجھے یہ لکھ کے دے سکتے ہیں حدیث شریف؟ میں نے کہا کیوں نہیں، میں نے لکھ کے دے دیا۔ اگلی دفعہ آیا تو اس نے ماشاءاللہ اس کو بڑے خوبصورت لکھوایا تھا اور اپنے سامنے اس کو لگوایا تھا۔
مطلب میرا یہ ہے کہ Doctor حضرات جو ہیں، ان کا جو شعبہ ہے، یہ بہت اہم شعبہ ہے۔ کون بیمار نہیں ہوتا؟ ہر شخص بیمار ہو سکتا ہے۔ اولیاء اللہ بھی بیمار ہوتے ہیں، بڑے بڑے نیک لوگ بیمار ہوتے ہیں، وہ سب ان ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں۔ اگر یہ ان کا صحیح طریقے سے علاج کر لیں، تو ان کے دلوں کی دعائیں لے لیں گے۔ عام آدمی بھی اللہ تعالیٰ کے لیے بہت اہم ہے، یہ کوئی بات نہیں کہ ولی اللہ کا خیال رکھے گا اور باقی لوگوں کا خیال نہیں رکھے گا۔ لیکن یہ بات ہے کہ ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ تو ان کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ میرے پاس آئے ہیں اب مجھے جو علم حاصل ہے اس علم کے ذریعے سے میں ان کی خدمت کروں گا۔
پروفیسر ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ صحیح ٹیچنگ کرے۔ جو فن، جو علم اس کے پاس ہے اس کو صحیح طریقے سے اپنے طلباء کو پہنچائے۔ اس وقت اس دور کے اندر ہم مسلمانوں کے لیے ہر چیز بہت ضروری ہے۔ یہ جس کو ٹیکنالوجی کہتے ہیں، تو یہ مسلمانوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ تو اگر کسی کے پاس ٹیکنالوجی ہے، وہ ٹیکنالوجی دے، کسی کے پاس سائنس ہے، وہ سائنس دے، کسی کے پاس دینی علم ہے وہ دینی علم دے، کسی کے پاس معیشت کا علم ہے، وہ اس علم سے لوگوں کی خدمت کرے، مطلب ہر چیز بہت ضروری ہے۔
تو جو اساتذہ ہیں، وہ اس میدان میں اللہ کو راضی کر سکتے ہیں۔ مزدور... سبحان اللہ! ایک مزدور تھے، صحابی رضی الله تعالى عنه۔ آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ چوما۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ہاتھ سے کمانے والے بہت پسند ہوتے ہیں۔ داؤد عليه السلام بھی ہاتھ سے کام کرتے تھے، زرہیں بناتے تھے۔ حضرت زکریا عليه السلام، مزدور کا کام کر رہے تھے۔ ایک دفعہ ان کے مہمان آئے۔ وقفہ ہو گیا کھانے کا، حضرت زکریا عليه السلام کے لیے کھانا آگیا، مزدوری کر رہے تھے۔ اس کھانے میں حضرت زکریا عليه السلام نے ان مہمانوں کو کچھ نہیں پوچھا کہ آپ نے کھانا ہے نہیں کھانا۔ خود ان کے سامنے کھاتے رہے۔ پیغمبر اور ایسا! بڑی حیرت ہوئی۔ کیونکہ پیغمبر تو بہت زیادہ مہمان نواز ہوتے ہیں۔ تو خود ہی ان سے فرمایا: آپ لوگوں کو محسوس ہوگا کہ میں نے آپ کو نہیں پوچھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کھانا مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ مجھ میں طاقت آئے اور میں یہ کام جو میرے حوالے ہے میں صحیح طریقے سے کر لوں۔ اگر یہ کھانا میں آپ لوگوں کو کھلاتا تو میں کمزور رہتا، کام صحیح نہیں کر سکتا، کام میں خیانت ہو جاتی۔ اب دیکھو نا، یہ ہے معاملات! کیا ہے یہ؟ یہ معاملات ہیں۔ اس کو ہمیں سیکھنا چاہیے۔
بہت سارے لوگ ہیں جو دین کو صرف عقائد تک سمجھتے ہیں، بس شرک نہ کرے پھر جو کچھ کرے۔ بھئی شرک نہیں کرنا چاہیے، لیکن اور بھی کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۙ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ کتنی چیزیں ہو گئیں؟ ایمان، اعمالِ صالحہ، پھر اس کے بعد تواصی بالحق، اور تواصی بالصبر۔ یہ چاروں کام کرنے پڑیں گے، اس طرح نہیں کہ بس صرف ایک کام آپ کر کے اور فارغ ہو گئے بھئی ٹھیک ہے نہیں؟ یہ آپ کی گاڑی ایک ٹائر سے چل سکتی ہے؟ آپ ایک ٹائر لگا لو تینوں نہ لگاؤ۔ کام ہو جائے گا؟ نہیں، اس طرح نہیں ہوگا۔
پورے دین پر عمل کرنے کی نیت کرنی چاہیے۔ پورے دین پر عمل کرنے کی نیت کرنی چاہیے۔ تو بعض لوگ تو صرف عقائد تک بات کرتے ہیں کہ بس عقائد ہیں، نہیں بھئی، صرف عقائد نہیں ہیں۔ عقائد کے بعد اعمالِ صالحہ ہیں۔ اعمالِ صالحہ میں پہلا نمبر عبادات کا ہے۔ اور عبادات میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ہے۔
تو دوسرے نمبر وہ لوگ ہیں جو ان چار کو کر کے بس پکے اولیاء بن گئے اب ان کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے۔ عبادات سے کماؤ گے، معاملات سے گنواؤ گے۔ اگر معاملات صحیح نہیں ہوئے، تو عبادات سے آپ کمائیں گے اور معاملات سے گنوائیں گے، اور جو کچھ بھی آپ کریں گے دوسروں کے لیے کریں گے۔ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، حدیث شریف ہے۔ حدیث شریف سناتا ہوں۔
آپ ﷺ نے پوچھا صحابہ کرام سے، مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا: وہ جن کے پاس پیسے نہ ہوں، مال نہ ہو۔ عام تعریف یہی ہے مفلسی کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اصل مفلس وہ ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ مفلس یہ نہیں ہے، یہ بھی مفلس ہیں، لیکن اصل مفلس وہ ہے، جو پہاڑوں جتنی نیکیاں قیامت کے دن لا چکا ہوگا۔ لیکن لوگوں کے حقوق اس پر ہوں گے، کسی کو مارا ہوگا، کسی کو پیٹا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کو غصہ کیا ہوگا، کسی کا مال غصب کیا ہوگا۔ کچھ، اس طرح لوگوں کو نقصان پہنچایا ہوگا۔ وہ سب آجائیں گے اپنا اپنا حق وصول کرنے۔ اللہ کے ہاں تو انصاف ہے۔ ان کو اپنا اپنا حق اللہ پاک اس طرح دیں گے کہ ان سے نیکیاں لیں گے ان کے کھاتے میں رکھیں گے۔ اس طریقے سے ان سے انصاف ہوگا۔ اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی لیکن لوگوں کے حقوق ابھی ختم نہیں ہو چکے ہوں گے۔ پھر کیا ہوگا؟ پھر لوگوں کی بدیاں، برائیاں، وہ اٹھا کے اس کے کھاتے میں ڈالی جائیں گی۔ حتیٰ کہ اس کے سارے اعمال کی نیکیاں ختم ہو چکی ہوں، اور لوگوں کے اعمال کی وجہ سے جو برائیاں ہوں گی یہ جہنم چلا جائے گا۔ فرمایا اصل مفلس یہ ہے۔ اصل مفلس یہ ہے۔
اب ذرا غور سے دیکھو، اگر معاملات ہمارے صحیح نہیں ہیں، تو کیا ہم عبادات پر مطمئن ہو سکتے ہیں؟ کرنے ہیں عبادات، یہ نہیں کہ عبادات نہ کرو۔ وہ تو بنیادی بات ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ وہ تو بنیادی بات ہے کرنا ہے۔ لیکن اس کی حفاظت بھی تو کرنی ہے نا۔ بھئی اگر آپ، ایک Drum میں پانی، یا دودھ، لا رہے ہیں گھر تک۔ اور اس میں سوراخ ہے، گھر پہنچ گئے پتہ چلا کہ ہاں وہ تو خالی پڑا ہوا ہے۔ وہ سارا زمین پہ چلا گیا ہے۔ تو کیا خیال ہے کتنا خوش ہوں گے آپ؟
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ عبادات کے ذریعے سے نیکیاں کمائیں، لیکن اس کو محفوظ بھی کریں۔ تو معاملات کی جو صفائی ہے، وہ اپنے عبادات کی نیکیوں کی حفاظت ہے۔ اور پھر معاملات سے بھی زیادہ معاشرت ہے، معاشرت۔ معاشرت کیا ہے؟ معاملات میں تو ہمارا آپس کا لین دین ہوتا ہے نا آپس کا۔ معاملہ، دو آدمیوں کا آپس میں کوئی معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن معاشرت میں سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مثلاً مسجد میں ہم بیٹھے ہیں، ایک دوسرے کے اوپر حقوق۔ بازار میں ہیں، ایک دوسرے کے اوپر حقوق۔ گھر میں ہیں، ایک دوسرے کے اوپر حقوق۔ ملک کے شہری ہیں، ایک دوسرے کے اوپر حقوق۔
حتیٰ کہ کہتے ہیں، اور قرآن میں یہ بات آئی ہے، وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ، کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بیٹھا ہے، سفر میں Seat پر بیٹھا ہے، اس کا حق ہے۔ اس کو سیکھنا پڑے گا۔ یہ معاشرت ہے۔ تو معاشرت یہ معاملات سے بھی آگے کی بات ہے، اور پھر اخلاق! اس... وہ تو بہت ہی اونچی بات ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے پانچوں ستونوں کو لینا پڑے گا۔ عقائد کو، عبادات کو، معاملات کو، معاشرت کو، اور اخلاق کو۔ تب ہمارا دین کامل ہوگا۔ ورنہ جس طرف بھی نقصان ہوگا وہ ہمارے لیے خسارے کی بات ہوگی، نقصان کی بات ہوگی۔ صحابہ کرام کی زندگیوں کو دیکھیں، عبادات کو دیکھو سبحان اللہ، کیا بات تھی۔ معاملات کو دیکھو تو اتنے صاف سبحان اللہ، معاشرت کو دیکھو تو اتنی عجیب، زبردست، اور اخلاق ان کے کیا بات ہے۔ یہ ساری چیزیں صحابہ کرام میں تھیں۔
اور آپ ﷺ ہر چیز کی تربیت فرماتے تھے۔ ہر چیز کی تربیت فرماتے تھے۔ صرف عبادات نہیں سکھا رہے تھے، بلکہ ہر چیز کی ماشاءاللہ تربیت فرماتے تھے۔ آج کل کے دور میں، تربیت والی بات مفقود ہو گئی ہے۔ تقریباً تقریباً مفقود ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ دینی مدارس میں بھی دین کی کتابیں پڑھائی جاتیں ہیں، تربیت نہیں کی جاتی۔ تربیت نہیں کی جاتی۔ اسکولوں میں تربیت پہلے ہوتی تھی، اب اسکولوں میں بھی تربیت نہیں ہوتی، کالجوں میں تربیت نہیں ہوتی۔ گھروں میں تربیت ہوا کرتی تھی، اب گھروں میں بھی نہیں ہوتی۔
تعلیم پر زور ہے، چاہے دنیاوی ہے چاہے اخروی ہے تعلیم پر زور ہے۔ تربیت بالکل ختم۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ وہی چیزیں جو خیر کے ذریعے تھیں، وہ برائی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ جو خیر کے ذریعہ تھیں جو چیزیں، وہ برائی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا، یہ سب کے لیے، ہم سب کے لیے وہ آیت کافی ہے جو ابھی میں نے پڑھی ہے:
يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، چاہیے کہ سب لوگ یہ جانچیں پرکھیں، کہ وہ کل کے لیے کیا بھیج رہے ہیں۔
کل کے لیے کیا بھیج رہے ہیں؟ خود بخود دیکھ لیں ذرا! جیسے قیامت میں، عمل نامہ ہاتھ میں دیا جائے گا، اور فرمایا پڑھو! تم اپنے لیے کافی ہو حساب کرنے کے لیے، پڑھ لو کیا ہے۔ تو جس وقت وہ پڑھیں گے تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلے گا، یہ کیسا عمل نامہ ہے کہ اس میں نہ چھوٹے عمل چھوڑے گئے ہیں نہ بڑے عمل چھوڑے گئے ہیں۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی لکھی گئی ہوں گی۔ بالکل سامنے نظر آرہی ہوں گی۔
لیکن اب ایک نسخہ عرض کرتا ہوں۔ میں نے ساری باتیں ڈرانے کی کیں ہیں۔ اب ذرا تھوڑا سا، آسانی کی بات بھی عرض کروں۔ اور یہ بھی اپنی طرف سے نہیں کہتا، اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا وہ عرض کروں گا۔ جیسے یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے نا، وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ ۚ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔ تو اسی طریقے سے اللہ پاک یہ فرماتے ہیں:
لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ ۚ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ جل شانہٗ تو سارے گناہوں کو، جب بخشنا چاہے تو بخش دیتے ہیں۔ لیکن اس کے بخشنے کے لیے ایک طریقہ کار ہے Formula ہے۔ وہی دیکھو آپ کو کبھی سرکاری کاموں میں واسطہ جب پڑتا ہے، تو جب وہ کام آپ کرتے ہیں تو کسی طریقے سے ہوتا ہے نا۔ وہ کہتے ہیں جی Application دے دو۔ فلاں افسر سے منظور کرواؤ، یہ کرو، وہ کرو، وہ ساری ایک ترتیب ہوتی ہے۔
یہاں پر بھی ایک ترتیب ہے۔ یہاں پر کیا ترتیب ہے؟ یہاں پر ترتیب ہے، توبہ کرنا! تُوْبُوْا اِلَی اللّٰهِ۔ توبہ کرو۔ توبہ کرنے سے سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ عموماً کیا ہوتا ہے؟ یہ عرض کرتا ہوں یہ دیکھو نا حدیث شریف ہے، میں حدیث شریف عرض کرتا ہوں تاکہ ذرا سمجھ میں آجائے، یہ ساری باتیں کڑیاں آپس میں مل جائیں گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے، عقلمند ہے وہ شخص، جس نے اپنے نفس کو قابو کیا۔ اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بے وقوف ہے وہ شخص، جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا، جو کرنا چاہتا تھا کرنے دیا۔ اور پھر محض تمناؤں پہ جیتا رہا۔ اللہ پہ صرف تمنائیں کرتا رہا، اللہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ کس نے کہا اللہ غفور الرحیم نہیں ہے؟ لیکن اللہ پاک نے جو حکم دیا ہے، سنا ہے تو نے؟ کیا حکم دیا ہے؟
حکم یہ دیا ہے، توبہ کرو میں معاف کرتا ہوں۔ غفور الرحیم ہے، لیکن توبہ مانگتا ہے۔ بغیر توبہ کے نہیں! تو یہ بات ہے کہ توبہ کرنا پڑے گا۔ توبہ کیا ہے؟ صرف تین چیزوں کا مجموعہ ہے، اور چوتھا اضافی ہے۔ تین چیزوں کا مجموعہ ہے۔
پہلی بات: اپنی غلطی کو محسوس کرنا۔ اور اس پر ندامت ہونا۔ تو توبہ انسان کرتا ہی اس وقت ہے جب انسان نادم ہوتا ہے۔ یہ شرط تو تقریباً سب پوری کر لیتے ہیں۔
دوسری بات: اس عمل سے رک جائے۔ اس عمل سے رک جائے۔ بھئی جب ندامت ہے، اور آپ کے پاس اختیار ہے تو رک جاؤ نا۔ مثلاً آپ کسی راستے پہ جا رہے ہیں اور آپ کو کوئی بتائے یہ راستہ اس طرف نہیں جا رہا۔ تو پھر کیا کریں گے پھر بھی جاؤ گے؟ اس وقت پہلا کام کیا ہوگا، رک جاؤ گے۔ پھر دوسرا کام کیا ہوگا، اپنا Direction Change کرو گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ رک جاؤ۔
پھر اس کے بعد کیا ہے، تیسری بات: مستقبل کے لیے عزم کرو اب نہیں کروں گا۔ اب نہیں کروں گا۔
یہ تو تین شرائط لازمی ہیں، بغیر اس کے توبہ ہوتا نہیں ہے۔ بغیر اس کے توبہ مکمل ہی نہیں ہے۔
لیکن ایک اضافی شرط ہے، وہ اضافی شرط کیا ہے؟ اضافی شرط یہ ہے، اگر کسی کا حق مارا ہے۔ یعنی معاملات کی بات اور معاشرت کی بات۔ اسے دینا پڑے گا یا اس سے معاف کروانا پڑے گا۔ ان دو باتوں میں ایک بات لازمی ہے؛ کیوں کہ اللہ پاک کسی اور کا حق معاف نہیں کرتا جب تک وہ خود معاف نہ کرے۔ یہ بات لازمی ہے۔ اگر کسی کا حق ہے، تو اس سے معاف کروانا پڑے گا یا اس کو دینا پڑے گا۔ مثلاً آپ نے اس کے کچھ پیسے لے لیے، ابھی واپس نہیں کیے، واپس کر دو اس کو۔ ہے نہیں پاس، جی میرے پاس جب ہو جائیں گے آپ کو دے دوں گا، لیکن دل سے! یہ نہیں، ٹال مٹول والے نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ساری چیزوں کو جانتا ہے۔ ٹال مٹول والے نہیں۔ تو یہ والی بات کہ اس سے معاف کروا دو یا پھر یہ ہے کہ آپ ان کو دے دو۔
اور یا اگر کسی چیز کی قضا ہے۔ مثلاً روزے کا قضا، روزہ نہیں رکھا اس کی قضا۔ نماز نہیں پڑھی، اس کی قضا۔ زکوٰۃ نہیں دی، اس کی قضا۔ تو یہ جو قضا ہے وہ قضا بھی کر لے۔ تو پھر، پھر اللہ پاک اس کو معاف کر لیتا ہے۔ یہ اضافی والی بات ہے۔ یعنی جب تک انسان یہ نہ کرے تو اس وقت تک توبہ قبول نہیں ہوتا۔
اب ایک اور چیز بتاتا ہوں۔ اکثر اسی میں لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ کہتے ہیں پھر ہم سے غلطی ہو جائے گی۔ اکثر لوگ کیا کہتے ہیں، جی کیا کریں جی پھر ہم سے غلطی... بھئی پھر غلطی ہو تو پھر توبہ کرو۔ اس وقت توبہ کرلو چاروں شرطیں پوری کر لو۔ لیکن اگر خدانخواستہ، شیطان کی وجہ سے، نفس کی وجہ سے دوبارہ غلطی ہو گئی، تو پھر توبہ کرلو۔ حتیٰ کہ دن میں 70 مرتبہ بھی توبہ کرلو تو اللہ قبول فرماتے ہیں۔ یہ کوئی بات نہیں ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ ہے، کہ غلطیوں کے دائرے سے نکلنے کے لیے جو چیز اللہ پاک نے ہمیں دی ہے، اس سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے؟ یعنی اپنے نفس کی اصلاح کر لیں۔ اپنے نفس کی اصلاح کر لیں کہ پھر یہ غلطی ہو ہی نا۔ اپنے نفس کی اصلاح کروائیں۔
تو بس یہ چیزیں ہیں اگر ہم لوگ ان چیزوں کو سمجھتے ہیں۔ اور ان چیزوں کو جانتے ہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ انشاءاللہ کوئی چیز اس میں مشکل نہیں ہے۔ اب میں نے ایک حدیث شریف اور بھی پڑھی ہے، اس کے بھی بارے میں کچھ عرض کرتا ہوں پھر میں ختم کرتا ہوں۔
حدیث شریف ہے، إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (اللّٰه أكبر) بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے۔ اس میں مثال دی ہے، حدیث شریف ہے یہ، بخاری شریف کی پہلی حدیث شریف۔ اور اس میں، جو مثال دی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص، ہجرت اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے لیے کرتا ہے، تو وہ تو اس کے لیے ہے۔ اور اگر وہ کسی عورت سے شادی کے لیے کرتا ہے تو وہ اس کے لیے ہے۔
تو اس وجہ سے اگر کوئی شخص نیت اچھا کرلے، بے شک اس پر عمل نہ ہوسکے۔ لیکن اس وقت نیت واقعی خالص ہو، تو اس کو اس نیت کا اجر مل جائے گا۔ وہ واپس نہیں ہوگا۔ ہاں! اگر اس عمل کو کرلے گا، تو دس گنا اجر مل جائے گا۔ عمل نہیں ہوسکا تو ایک تو مل ہی جائے گی نا۔ ایک تو مل ہی جائے گا۔ وہ تو مل ہی جائے گا۔ ہاں اگر عمل کر لیا تو دس گنا اجر مل جائے گا۔ اس لیے فرماتے ہیں:
نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهٖ۔ مومن کی نیت اس کے عمل سے زیادہ اچھی ہے۔
کیونکہ عمل میں تو ذمہ داری ہوتی ہے، نیت سبحان اللہ، آپ نے نیت کرلی اور اللہ پاک نے اس کا اجر دے دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نیت تو ہم بڑی بڑی کریں۔
اب دیکھو یہاں پر Students ہیں، ماشاءاللہ Medical Students آتے ہیں۔ اب وہ Students اگر نیت کر لیں کہ میں نے Doctor بننا ہے لیکن اللہ جل شانہٗ کو راضی کرنے کے لیے بننا ہے۔ تو کیا خیال ہے، اس کو اس نیت کرنے کے ساتھ تنخواہ پھر نہیں ملے گی؟ نہیں ملے گی؟ تنخواہ تو ملے گی نا۔ لیکن اس کی ڈاکٹری جو ہوگی وہ اللہ کے لیے ہوگی۔ اس کو اس پر اجر ملے گا۔ اب وہ عام ڈاکٹر نہیں ہوگا، وہ اللہ والا ڈاکٹر ہوگا۔ اس کی پڑھائی ساری اسی میں شمار ہوگی۔ اس کا خرچ وغیرہ سارا اسی میں شمار ہوگا۔ سبحان اللہ! بڑی مزے کی مزے کی بات ہے۔
اور یہ کام صرف ڈاکٹروں کے لیے میں نہیں بتا رہا، یہ سب کے لیے ایسا ہے۔ جو بھی نیت کر لے مثلاً دوکان کی نیت کرلے کہ میں، لوگوں کو نفع پہنچانے کے لیے کر رہا ہوں، تاکہ لوگ مہنگی چیزوں سے بچیں، اور جو صحیح طریقہ ہے، مطلب اس کے ذریعے سے میں ان کو دوں۔ تو رزق تو آپ کو پھر بھی ملے گا ان شاءاللہ، وہ ختم نہیں ہوگا بلکہ زیادہ ملے گا، لیکن یہ ہے کہ آپ کی دوکانداری اللہ کے لیے ہوگی۔
مزدوری ہے، کوئی اور دین کا، کوئی اور دنیا کا کام ہے۔ نیت دین کی کرو آپ کا وہ کام دین کا ہو جائے گا۔ اور خدانخواستہ، خدانخواستہ، خدانخواستہ! نماز پڑھو لیکن نیت یہ ہو کہ لوگ دیکھیں کہ میں نمازی ہوں، میں نے کیسی اچھی، اچھی نماز پڑھی، وہ دنیا کا ہو گیا۔
حدیث شریف میں، تین قسم کے لوگوں کے لیے جہنم کا جو پروانہ ملے گا، ابتدا میں، وہ تین کون ہوں گے؟ ایک عالم ہوگا، ایک سخی ہوگا، ایک شہید ہوگا۔ عالم، سخی، اور شہید کتنے بڑے لوگ ہیں۔ لیکن وہ کام چونکہ انہوں نے اللہ کے لیے نہیں کیے ہوں گے، صرف اس لیے کہ لوگ ان کو عالم کہیں، سخی کہیں، اور بہادر کہیں۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ جہنمی ہو جائیں گے۔
تو دنیا کا کام دین کی نیت سے کرو تو وہ دین بن جاتا ہے۔ اور دین کا کام دنیا کی نیت سے کر لو، وہ دنیا بن جاتا ہے۔
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
لہٰذا نیتیں درست کرو۔ نمبر ایک۔
اور بڑی بڑی نیتیں کرو۔ بڑی بڑی نیتیں کرلو۔ کیونکہ آپ کے پاس جو Time ہے، وہ تو اتنا ہی ہے۔ اس سے تو زیادہ نہیں ہو سکتا۔ Time زیادہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن آپ جب اچھی نیتیں کریں گے، سبحان اللہ وہ آپ کے Time کے اندر آپ کی نیکیاں بڑھا دیں گی۔ تو اسی طریقے سے ہم اپنی زندگی سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ طریقے سیکھ لیں، اور اسی کے لیے تو سارا نظام ہے نا۔ یہ جو اللہ والوں کے پاس لوگ جاتے ہیں، یہ اسی کے لیے جاتے ہیں۔ جو لوگ اللہ والوں کے پاس اس لیے جاتے ہیں کہ ہماری بیماریاں درست ہو جائیں، ہمارے کاروبار ٹھیک ہو جائیں، ان کے لیے وہی ہے۔ ان کے لیے وہی ہے۔ ان کو اور کچھ نہیں ملے گا۔ ان کے لیے وہی ہے۔ لیکن جو اس لیے جائیں گے کہ میری اصلاح ہو جائے، اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے، میری زندگی قبول ہو جائے، میرا مال قبول ہو جائے، میری جان قبول ہو جائے، سبحان اللہ ان کے لیے وہی ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے لیے بھی ایسے کر دے، آپ کے لیے بھی۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
نماز کے بعد جو دعا ہوتی ہے اس میں دعا کریں، فلسطینیوں کے لیے، اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں کو دور فرما دے۔ اور مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائے۔ آمین۔