سود کی تباہ کاری اور صدقہ کی برکت: قرآنی نقطہ نظر

درس نمبر 117 - سورۃ البقرہ: آیت 276 تا 277 - (اشاعتِ اول) 19 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

سود (Riba) کو مٹانے اور صدقات کو بڑھانے کا الٰہی اعلان۔

سودی نظام کی ظاہری چمک اور اس کی حقیقت (رئیل اسٹیٹ اور کرایے کی مثال سے وضاحت)۔

مضاربت اور شراکت داری میں اللہ کی طرف سے برکت کا مشاہدہ۔

عالمی سودی نظام (آئی ایم ایف) کے ذریعے غریب ممالک کا استحصال۔

تقویٰ اور سودی ملازمتوں سے بچنے کی اہمیت (واقعہ تنظیم الحق علیمی صاحب)۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۗ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ﴿276﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿277﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْکَرِيْمُ۔

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گنہگار ہو ﴿276﴾ (ہاں) وہ لوگ جو ایمان لائیں، نیک عمل کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں وہ اپنے رب کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے؛ نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہو گا، نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿277﴾

یہ جو آیتِ کریمہ ہے، اس میں اللہ پاک نے یہ اعلان فرمایا ہے کہ اللہ پاک سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ ایک مومن شخص کے لیے یہ بات کافی ہوتی ہے۔ جو مومن ہوتا ہے وہ دل سے چونکہ ایمان لا چکا ہوتا ہے اللہ پر اور اللہ کے رسول پر، کتابوں پر. تو اس وجہ سے ان کے لیے اس میں کوئی شک اور شبہ کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن بعض لوگوں کو اس میں ذرا اشکال ہوتا ہے اور لوگوں کو جو ظاہری چیزیں ہیں وہ نظر آرہی ہوتی ہیں۔ تو ظاہر میں سود کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مال بڑھتا ہے، اور صدقات سے کم ہوتا ہے۔ یہ بالکل ہمارا ظاہری مشاہدہ بظاہر یہی لگتا ہے۔ لیکن میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں، ان شاء اللہ آپ کو خود ہی یقین ہو جائے گا کہ یہ آیت کس حد تک ماشاء اللہ اس کی ایک ایک بات سچی ہے۔

ہمارے ایک ٹیچر تھے، انہوں نے 82-1981 کے لگ بھگ گھر بنایا اسلام آباد میں، G-9 میں۔ تو اس نے ہماری دعوت کی تھی، سب فیکلٹی ممبرز کی دعوت کی تھی۔ اس میں میں بھی گیا تھا۔ دعوت کے بعد جب ہم آرہے تھے تو وہ ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا، تو کسی نے ان سے پوچھا: "گھر بنا کر آپ کے کیا تاثرات ہیں؟" واقعی اسلام آباد میں گھر بنانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی اور وہ دس مرلے کا مکان تھا اور بڑی اچھی لوکیشن تھی۔ تو ہم یہی Expect کر رہے تھے کہ وہ کہیں گے کہ "میں بڑا خوش ہوں"۔ اس نے کہا کہ "مکان تو بنا لیا لیکن نہ بناتا تو اچھا تھا"۔

تو اس ساتھی نے پوچھا کہ کیوں؟ اس نے کہا کہ "اگر یہ پیسے پانچ لاکھ روپیہ میں Fixed Deposit پہ دیتا بینک کو، تو مجھے چودہ فیصد اس پہ Interest ملتا۔ تو پانچ لاکھ کا چودہ فیصد جو ہوتا ہے وہ ستر ہزار ہوتا ہے، تو ستر ہزار کو آپ تقسیم کر لیں بارہ مہینوں پر، تو تقریباً کچھ چھ ہزار روپے Per Month بنتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ "یہ میرا مکان اگر میں کرایے پہ دوں تو بارہ سو روپے (ان دنوں کی بات تھی) بارہ سو روپے پہ لگے گا۔ تو کہاں بارہ سو کہاں چھ ہزار!" یہ اس کی سوچ تھی۔

اس وقت میں نہیں بولا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت ذرا سمجھانا مشکل تھا۔ اب میں عرض کرتا ہوں کہ اس وقت اس مکان کی اسلام آباد میں جو دس مرلے کا مکان ہے G-9 میں، اس کی کیا قیمت ہوگی؟ اندازہ کریں؟ تین کروڑ سمجھیں، تین کروڑ مان لیا، پانچ لاکھ روپے کا بنا تھا تو دو کروڑ پچانوے لاکھ تو اس میں ہو گیا نا پرافٹ دو کروڑ پچانوے لاکھ تو اس میں ہو گیا۔ آپ جتنا عرصہ گزرا ہے اس کے اوپر اس کو Divide کر لیں۔ یہ ایک۔ دوسرا یہ کہ اس وقت وہ جو مکان ہے، اسلام آباد والے بیٹھے ہیں وہ بتائیں کتنے کرایے پہ لگے گا؟ اس وقت؟ چلو ایک لاکھ سہی۔ ایک لاکھ پہ تو اب اس وقت چھ ہزار مل رہے تھے تو مطلب ہے کہ دیکھو کتنا فرق ہے اس میں۔

اب ہم لوگ سرسری سوچتے ہیں۔ Deep سوچیں تو اللہ پاک کی ہر بات سچی ہے۔ سودی نظام نے پورے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے اور وہ نہ آزادانہ سوچ سکتے ہیں، نہ آزادانہ کام کر سکتے ہیں۔ ہر چیز ان کے اس پر ہے جو وہ سوچتے ہیں۔ اس وجہ سے جو بھی سود سے نکلتے ہیں نا ان کو وہ معاف نہیں کرتے۔ ضیاء الحق نے بھی سود سے نکلنا چاہا تھا تو ان کے ساتھ بھی کچھ کیا۔ یہ وہاں پر جو ملائیشیا کا جو وزیراعظم تھا، اس نے بھی سوچا تھا تو ان کے ساتھ کیا کیا؟

جہاں پر بھی سود کے خلاف کوئی بات چلے گی، یا خلافت کی بات چلے گی وہ ان کے نزدیک ناقابلِ معافی ہے۔ تو اب خود اندازہ کر لیں کہ شیطانی نظام اس کے اتنا خلاف کیوں ہے؟ کیونکہ پورا شیطانی نظام اسی سے چلتا ہے۔ پورا شیطانی نظام اسی کے گرد چل رہا ہے۔ اس وجہ سے سود کو ختم کرنا، مٹانا بہت زیادہ اہم ہے۔ اب ظاہر ہے جب تک ہماری سیاسی قوت اتنی نہیں آتی تو اس وقت تک تو ہم مجبور ہیں، اگرچہ جو لوگ بھی اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے، لیکن کم از کم خود تو سود نہ لیں۔

اب میں آپ کو ایک اور واقعہ بتاتا ہوں۔ یہ ادھر کا نہیں ہے مطلب ہے یہ یہاں کا ہے، اسی الہ آباد کا ہے۔ ایک دفعہ میں نے تجرباتی طور پر ایک ساتھی سے کہا، حالانکہ مجھے ضرورت نہیں تھی کیونکہ میں تو ملازم تھا، لیکن میں نے ایک ساتھی سے کہا تھا اس کو تین ہزار روپے ماہانہ پہ کسی نے ملازم رکھا ہوا تھا۔ تو میں نے کہا اچھا اس طرح کر لیتا ہوں کہ میں آپ کو آپ کے بیٹھک میں تیس ہزار روپے پہ مال ڈلواتا ہوں دکان، آپ دکان کریں اور نفع ہم 40-60 یعنی آپ کا ساٹھ فیصد میرا چالیس فیصد، اس طرح مضاربت (مطلب ہے یہ تقسیم کریں گے)۔ تو آپ کا چونکہ بیٹھک استعمال ہوگا لہٰذا اس کے حساب سے دس فیصد آپ کو زیادہ دیا جا رہا ہے۔

اس نے بات مان لی۔ تیس ہزار روپے کا میں نے ان کے سامان ڈالا۔ تقریباً پہلے ہی مہینہ یا دوسرے مہینے آپ اندازہ کر لیں جب ہم حساب کر رہے تھے تو ڈھائی ہزار مجھے دیتے ساڑھے تین ہزار روپے اس کے ہوتے تھے۔ تقریباً اتنے لگ بھگ۔ اب ڈھائی ہزار جو ہے اگر مہینے کے ملتے ہیں تو بارہ مہینے کے کتنے ملے؟ تیس ہزار نا؟ تو تیس ہزار پر تیس ہزار کتنے فیصد بن گئے؟ سو فیصد۔ کوئی بینک دیتا ہے سو فیصد؟ دنیا میں کہیں پر بھی سو فیصد؟ تو اس پر شیطان تو اپنا کام کرتا ہے نا۔

تو تقریباً ڈیڑھ دو سال کے بعد دکان میں مال بہت کم ہو گیا۔ ایک دن میں نے طائرانہ نظر ڈالی، میں نے کہا بھائی اس میں کتنا مال ہوگا آج کل؟ کہتے ہیں بارہ تیرہ ہزار کا۔ میں نے کہا میں نے تو تیس ہزار کا مال ڈالا تھا۔ کہتے ہیں کہ اصل میں ہم لوگ بھی اس میں سے کچھ قرض لیتے تھے نا۔ تو میں نے کہا قرض کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے اور لوگوں سے مہینہ کے بعد لیتے ہو تو مہینہ کے بعد اس میں ڈالنا تھا۔ یہ کون سا طریقہ ہے کہ آپ لیتے رہیں؟ بس یہ تو تجارت کے قانون کے بالکل خلاف ہے کہ جو بنیاد ہے، اس کو اصل ہی کو کھانے لگیں، یہ تو تجارت کے بالکل قانون کے خلاف ہے۔

خیر میں نے کہا اچھا چلو ٹھیک ہے چونکہ میں نے آپ کو یہ بتایا نہیں تھا، تو اس وجہ سے میں آپ کو کچھ نہیں کہتا۔ میں بیس ہزار روپے اور دیتا ہوں تو کل پچاس ہزار روپے ہو جائیں گے میرے۔ اور اب اگر تو نے قرض سے لیا اور مہینے میں داخل نہیں کیا واپس، تو پھر آپ کے اوپر حرام ہے۔ اب تو میں نے آپ کو بتا دیا تو اب تو آپ کو یہی کرنا پڑے گا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر کچھ عرصہ تک بالکل ٹھیک رہا، پھر اس کے بعد پھر وہی مسئلہ شروع ہو گیا۔ میں نے کہا اب حساب کرتے ہیں بھائی ٹھیک ہے ختم کرتے ہیں۔ تقریباً ڈھائی سال کے بعد ہم نے حساب کیا۔ باجود اس کے کرپشن کے، یہ کرپشن ہی ہے ظاہر ہے، اس کے کرپشن کے بتیس فیصد نفع مجھے ہو گیا۔ اب بتیس فیصد کوئی بینک دیتا ہے؟ اگر کرپشن نہ کرتا تو سو فیصد تھا۔ اب کرپشن کے باوجود بتیس فیصد مجھے مل رہا تھا۔ یہ ہے تجارت کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ذرا سی سستی کی وجہ سے اتنی بڑی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اچھا صدقات کی بات کرتا ہوں۔ صدقات کا یہ حال ہے کہ واللہ اعلم یہ جنید جمشید، ان کے ساتھ کچھ واقعہ ہوا تھا کہ ان کا کاروبار نہیں چل رہا تھا۔ تو یہ ملے مولانا تقی عثمانی صاحب کے ساتھ، تو انہوں نے ان کو کہا کہ آپ اللہ میاں کو ساتھ شامل کر لیں۔ انہوں نے کہا کیسے۔ انہوں نے کہا اس طرح کہ جو نفع ہو اس میں کچھ حصہ مقرر کر لیں کہ یہ اللہ کے راستے میں خیرات کریں گے۔ اب اس کے بعد جو اس کا کاروبار چلا تو ابھی تک رکا ہوا ہے؟ تو یہ صدقات والی بات ہے "وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ"۔ صدقات سے مال بڑھتا ہے۔ صدقات سے مال بڑھتا ہے حقیقت میں۔ ظاہری طور پر کم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں بڑھتا ہے۔

اور سود سے مال گھٹتا ہے۔ اب حقیقت میں کس طرح بڑھتا ہے وہ بتاتا ہوں۔ اصل میں اللہ پاک نے امتحان کے لیے تو ساری چیزیں وہی رکھی ہیں نا (یعنی چیزیں سامنے دوسری نظر آتی ہیں) اللہ پاک کا امتحان کا ظاہر ہے نظام ہے۔ تو بظاہر تو صدقہ آپ نے دے دیا تو آپ کے اس مال سے کم ہو گیا۔ لیکن کسی اور جگہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا نفع دیں گے کہ Overall معاملہ بڑھے گا۔ مثال کے طور پر دیکھیں نا، پیسہ کس لیے ہے؟ پیسہ اس لیے نہیں کہ پیسہ آئے، ورنہ پیسے کی تو کوئی چیز۔ پیسہ کوئی کھا سکتا ہے؟ پیسہ تو نہیں کھا سکتا لیکن پیسے سے کوئی مقصد اس کو حل کیا جاتا ہے، یعنی ذریعہ ہے پیسہ۔ اب جس چیز کا وہ ذریعہ ہے اگر وہ مقصد اللہ تعالیٰ آپ کا دوسرے طریقے سے پورا کر لے تو پھر آپ کا کام تو ہو گیا نا۔ آپ کا کام تو ہو گیا!

تو جو صدقات ہیں اس سے انسان کے لیے راستے کھلتے ہیں۔ اور جو سود ہے، اس سے راستے بند ہوتے ہیں۔ بس یہی اس کا وہ مفہوم ہے کہ سود سے انسان کے نفع کے راستے بند ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ظلم پر مبنی ہے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں۔ غریب آدمی سود لیتا ہے نا، مالدار آدمی سود لیتا ہے؟ غریب آدمی جس کے پاس مال نہیں وہی سود پہ مجبور ہوتا ہے وہی سود لیتا ہے۔ اچھا تو آپ کیا کرتے ہیں؟ مالدار لوگ غریب کو پیسہ دے کر اس سے سود لیتے ہیں گویا کہ غریب سے پیسہ ٹرانسفر ہو رہا ہے مالدار کی طرف۔ الٹی بات ہے۔ ہونا کیا چاہیے تھا؟ اسلامی طریقہ تو یہ ہے کہ مالدار سے غریب کی طرف مال جانا چاہیے۔ اور یہاں پر معاملہ کیا ہے؟ غریب سے مالدار کی طرف جا رہا ہے۔ اور اتنا دل سخت ہوتا ہے ان ظالموں کا اب تو خیر یہ بینکوں وینکوں کا نظام ہے وہ تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے، لیکن جو عموماً گاؤں وغیرہ میں لوگ سود لیتے تھے تو انہوں نے غنڈے پالے ہوتے تھے۔ اور جو ان کے پیسے نہیں دیتے تھے نا تو پھر وہ ان کو تڑی لگواتے تھے۔ اس طریقے سے انہوں نے وہ کیے ہوتے تھے۔

تو یہ بہت ظالمانہ نظام ہے اور اسی طریقے سے جو بینکوں کا نظام ہے یہ تو بالکل سارا کچھ آپ کا کھا جائیں گے۔ اب آئی ایم ایف کیا کر رہا ہے پاکستان کے ساتھ؟ جو کر رہا ہے وہ سب کو نظر آرہا ہے۔ وہ کسی نے مثال دی تھی آئی ایم ایف کی، کہتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے جس سے اس نے قرض لیا نا، تو اس نے اگر قمیص پہنی ہے کہتا ہے "آپ نے قمیص پہنی؟ قمیص پہننے کی کیا ضرورت ہے؟ نیچے بنیان کافی ہے، یہ تو اتارو۔" اس طرح پھر آہستہ آہستہ بنیان بھی اتروا دے گا۔ جب آپ کے پاس قمیص بھی نہیں رہے گا۔ تو مقصد بالکل وہ اس طرح ہی کرتے ہیں۔

ان کے شر سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے، لیکن کم از کم اتنی نیت تو ہم بھی کریں نا، کہ چاہے مر جائیں لیکن سود نہیں کھائیں گے۔ یہ نیت ہم کر لیں کہ چاہے مر جائیں لیکن سود نہیں کھائیں گے۔ کیونکہ سود کا جو مال ہے، افوہ! وہ تو اللہ کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے۔ اللہ پاک اعلانِ جنگ کرتا ہے ان کے ساتھ۔ ہمارے تنظیم الحق حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے واقعہ سنایا، ان کو کوئی بینک میں ملازمت مل رہی تھی، وہ انٹرویو کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے والد صاحب بڑے ولی اللہ آدمی تھے۔ تو کہتے ہیں کہ نماز سے آرہے تھے تو میں باہر جا رہا تھا انٹرویو کے لیے۔ تو ڈیوڑھی ہوتی ہے تو اس میں ملاقات ہوئی۔ کہتے ہیں مجھے کہتے ہیں: "تنظیمہ! زہ! تہ پہ خدائے سرہ جنگ کولے شے زہ نہ شم کولے" (یعنی تنظیم! چلو! تم خدا کے ساتھ لڑ سکتے ہو میں نہیں لڑ سکتا)۔

کہتے ہیں یہ بات کر لی اور اندر چلا گیا۔ کہتے ہیں میں وہاں پہنچ گیا نوشہرہ میں شوبر ہوٹل میں جو انٹرویو تھا وہاں شوبر ہوٹل کے سامنے کھڑا ہو گیا، لیکن اندر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ادھر سے واپس ہو گیا۔ اللہ پاک نے بچا لیا۔ ان کے والد صاحب کی ایک بات نے جو اس انداز میں کی، اللہ پاک نے بچا لیا۔ بات تو بالکل یہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک عورت تھی وہ سود گر تھی، سود پہ پیسے دیتی تھی۔ تو وہ خود یہ سویٹر وغیرہ بُن رہی تھی یا کچھ اس طرح کر رہی تھی۔ تو ان سے عورتیں پوچھتی تھیں کہ "تو تو بڑی مالدار ہے تو تو یہ کیوں کر رہی ہے؟" اس نے کہا "کفن کے لیے میں نے اپنے پیسے بچانے ہیں، اس سے میرا کفن ہوگا۔" یعنی اس کو پتا تھا کہ حرام ہے۔ یعنی اس پیسے سے کفن نہ لگے۔ لیکن اب انسان کیا کرے اس کو کہتے ہیں اللہ پاک نے فرمایا: كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ﴿20﴾ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ﴿21﴾

ہرگز نہیں بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو چاہتے ہو، اور جو بعد میں آنے والی چیز اس کو چھوڑتے ہو۔ اور یہ سارا نظام اسی کے پیچھے چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

(تحریر کا اختتام)

تجزیہ اور خلاصہ

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع اور بہترین عنوان: سود کی تباہ کاری اور صدقہ کی برکت: قرآنی نقطہ نظر

متبادل عنوان: معاشی خوشحالی کا نبوی راستہ بنام سودی نظام کی ہلاکت خیزیاں

اہم موضوعات:

سود (Riba) کو مٹانے اور صدقات کو بڑھانے کا الٰہی اعلان۔

سودی نظام کی ظاہری چمک اور اس کی حقیقت (رئیل اسٹیٹ اور کرایے کی مثال سے وضاحت)۔

مضاربت اور شراکت داری میں اللہ کی طرف سے برکت کا مشاہدہ۔

عالمی سودی نظام (آئی ایم ایف) کے ذریعے غریب ممالک کا استحصال۔

تقویٰ اور سودی ملازمتوں سے بچنے کی اہمیت (واقعہ تنظیم الحق علیمی صاحب)۔



سود کی تباہ کاری اور صدقہ کی برکت: قرآنی نقطہ نظر - درسِ قرآن - دوسرا دور