اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج جمعرات ہے اور جمعہ کی رات کو ہم ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ مؤلفہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ، اس کی تعلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نماز کی بات شروع ہے
نماز کے آدابِ باطنی
ظاہری آداب تو ہیں ہی، مطلب نماز کے کچھ ارکان ہیں، کچھ شرائط ہیں، کچھ واجبات ہیں، کچھ سنن ہیں، کچھ مستحبات ہیں۔ اس کا ظاہری ڈھانچہ اس سے ترتیب پاتا ہے۔ اگر اس میں کوئی کمی ہے تو اس کے مطابق حکم کیا جائے گا کہ وہ کیا ہے۔ مثلاً اگر فرض ہے اور رہ گیا تو نماز ہی نہیں ہوئی۔ اگر واجب ہے رہ گیا یا اس میں تاخیر ہوئی، تو کیا ہوا؟ سہو ہو گیا۔ سجدہ سہو کی گنجائش، اس سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اور اگر سنت ہے، رہ گیا تو محرومی ہے، قابلِ ملامت ہے کیونکہ سنت کو ترک کر لیا۔ اور اگر مستحب ہے تو کوئی ملامت نہیں اس پر، لیکن ایک بڑے خیر سے محروم ہو گیا۔ جو یہ حاصل کر سکتا تھا اور محنت بھی کوئی زیادہ نہیں تھی، لیکن حاصل کر سکتا تھا اور نہیں حاصل کیا تو اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو بلاوجہ محروم کر دیا۔
واقعتاً میں نماز پر جب غور کرتا ہوں، تو نماز میں مثال کے طور پر تعدیلِ ارکان جس کو ہم کہتے ہیں، یہ واجب ہے۔ مثلاً پورا کھڑا ہو جانا جس کو "قومہ" کہتے ہیں۔ آپ رکوع سے پورے کھڑے ہو جائیں پھر اس کے بعد سجدے میں جائیں۔ اگر آپ ابھی راستے میں ہیں اور آپ چلے گئے تو آپ نے قومہ نہیں کیا جو واجب ہے۔ قصدًا جو چھوڑ دیا تو نماز ہی نہیں ہوئی، اور غلطی سے رہ گیا تو سجدہ سہو ضروری ہے۔ ہاں! عذر ہو تو علیحدہ بات ہے۔ عذر میں تو اشارے سے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ تو اب یہ ہے کہ یہ آپ اکثر دیکھیں، اکثر دیکھیں کہ تعدیلِ ارکان نہیں ہوتی۔ یعنی پوری صف کے اندر اگر آپ دیکھیں نا تو میرے خیال میں ستر پچھتر فیصد لوگ تعدیلِ ارکان نہیں ہوتی۔ ذرا دیکھ لیں ان کی نماز کو مکمل دیکھیں۔ حیران ہو جائیں گے آپ کہ کیا مسئلہ ہے! ہمارے حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ حج کے موقع پر ایک افغانی تھا۔ یہ پٹھان لوگ جو ہیں نمازیں تو نمازیں پڑھتے ہیں باقاعدگی سے، لیکن تعدیلِ ارکان میں بہت گڑبڑ کرتے ہیں، بہت گڑبڑ کرتے ہیں۔ تو یہ ایک افغانی تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا تو اس میں یہی بس اٹھک بیٹھک، ٹھونگیں۔ تو کہتے ہیں کہ میں نے اسے کہا پشتو میں ’’ کابلیا دې مخکې نییسم‘‘ یعنی مطلب "میں جھولی پھیلاتا ہوں آپ کے سامنے"۔ صرف فرض نماز پڑھو اور جو سنتِ مؤکدہ ہے، واجب، اور اس کے علاوہ نفل کوئی نہ پڑھو ادھر۔ انہوں نے کہا کیوں؟ انہوں نے کہا آپ اپنے اوپر خواہ مخواہ بوجھ لاد رہے ہیں، نماز آپ کی ہو گی تو نہیں، تو جو آپ کے اوپر فرض نہیں ہے تو کیوں اپنے اوپر لاد رہے ہو؟ جو فرض ہے اس کے ساتھ تو کرو جو کچھ کرنا ہے وہ تو پھر دیکھا جائے گا اس کا۔ لیکن کم از کم نفل تو اپنے اوپر فرض نہ کرو نا۔ جو نفل ہے اس کی آپ نے نیت کر لی تو اب فرض ہو گیا نا، تو اب اس کا بھی حساب دینا پڑے گا آپ کو۔ پہلے اگر آپ نہ کرتے تو آپ کے اوپر حساب کوئی نہیں تھا، بات سمجھ آگئی نا؟ حساب اس کا کوئی نہیں تھا۔ اب آپ نے نیت کر لی جیسے کہہ دیا "اللہ اکبر" تو اب فرض ہو گیا۔ اب آپ کو پورا کرنا ہے۔ تو پورا کرو گے تو صحیح طریقے سے کرو گے، اور اگر غلط طریقے سے کرو گے تو آپ کے اوپر جمع ہو گیا۔ تو خواہ مخواہ یہاں کے لحاظ سے جہاں ایک لاکھ گنا ہے، اتنی ساری چیزیں اپنے اوپر کیوں جمع کرتے ہو؟
یہ بات ہے۔ تو یہ بہت ہی ڈرنے والی بات ہے، بہت ہی ڈرنے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، اللہ ہماری نمازوں کو درست فرما دے۔
دیکھیے نماز جلدی پڑھنا، آہستہ پڑھنا یہ الگ بات ہے۔ اس میں ہم بحث نہیں کرتے، کسی کی Speed کم ہو گی، کسی کی زیادہ ہو گی۔ لیکن یہ بات ہے کہ کوئی رکن چھوٹے نہیں، کوئی واجب چھوٹے نہیں، کوئی شرط نامکمل نہ رہے۔ یہ کم از کم ضرور ہو کہ کم از کم نماز ہو تو جائے نا۔ نماز ہو تو جائے نا۔ تو یہ اصل میں اس کے لیے بہت ضروری ہے، یہ اتنی فقاہت کم از کم ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ اپنی نماز کو واقعی نماز بنائے۔ اور اس کو درست کر لے اور اس میں وقت اتنا نہیں لگے گا۔ مثال کے طور پر آپ ابھی پورے کھڑے نہیں ہوئے اور چلے جائیں۔ آپ اس کا باقاعدہ timer حساب لگا دیں، خود حساب لگا دیں گھڑی میں سٹاپ واچ آن کر لیں۔ پورے تعدیلِ ارکان کے ساتھ نماز پڑھیں اور پھر بغیر تعدیلِ ارکان کے نماز پڑھیں۔ اگر ایک منٹ سے زیادہ فرق ہو تو مجھے بتا دینا۔ پوری نماز کے اندر۔ اگر ایک منٹ سے زیادہ فرق آپ کر سکیں تو مجھے بتا دینا۔ ایک منٹ سے کم فرق ہے چاروں رکعتوں میں، چار رکعت کی نماز بتا رہا ہوں۔ پھر آپ کس لیے کر رہے ہیں؟ یہ ایک منٹ میں آپ نے کون سا دنیا فتح کر لی؟ کون سا کمال حاصل کر لیا کہ آپ نے اتنی بڑی نعمت کو ضائع کر دیا۔ یہ صرف شیطان کا اغوا ہے اور کچھ نہیں ہے۔ اس وجہ سے بہت خیال رکھنا چاہیے اپنی نمازوں کا۔ تو نماز کے ظاہری باتوں میں ہی کمی ہے تو اب باطنی باتیں وہ تو اس کے بعد کی چیز ہے نا۔
نماز کے آدابِ باطنی: قرآن پاک اور احادیثِ نبویہ میں نماز کے لئے متعدد الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً صلوٰة، دعا، تسبیح اور ذکرِ الٰہی اور یہ الفاظ خود نماز کی روحانی خصوصیات و آداب ظاہر کرتے ہیں۔ نماز جسم و روح دونوں کی عبادت ہے اگر اس میں جسم کی حرکت کے ساتھ دل کی جنبش شامل نہ ہو اور روح میں اہتزاز پیدا نہ ہو (اعتراض نہیں اہتزاز) پیدا نہ ہو تو ایسی نماز گلِ بے رنگ اور شرابِ بے کیف سے زیادہ نہ ہوگی۔
مطلب یہ ہے کہ اس میں جان نہیں ہوگی۔ جان اس میں نہیں ہوگی۔ آپ کو ایک خوبصورت لاش مل جائے تو کیا کریں گے اس کے ساتھ؟ ظاہر ہے! لیکن ایک زندہ انسان آپ کو مل جائے چاہے اتنا خوبصورت نہ بھی ہو لیکن زندہ ہو کام کر سکتا ہے سارے۔ ظاہر ہے کام کا ہے نا! تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ظاہری طور پر بہت بہترین نماز پڑھ لیں، لیکن روح والا حصہ اس میں کم ہو، جسم والا حصہ اس میں پورا ہو۔ تو پھر کیا ہے، اس میں جان نہیں ہوگی۔
اقامتِ صلوٰة
نماز پڑھنے کے لئے قرآن پاک میں جابجا اقامتِ صلوٰة (نماز کو قائم کرنا) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف نماز پڑھنے کے نہیں بلکہ نماز کو اس کے آداب اور ارکان و سنن کے ساتھ ادا کرنے کے ہیں چنانچہ خوف کی حالت میں جہاں نماز کے بعض آداب و ارکان و شرائط کو معاف کر دیا گیا ہے اس کے بعد ہی یہ کہا گیا ہے۔ ﴿فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ "پھر جب تم کو اطمینان ہو جائے تو نماز کو قائم کرو"۔ (سورة النساء: 103)
اس سے معلوم ہوا کہ اقامتِ صلوٰة یعنی نماز کو قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ نماز کو اس کے آداب و ارکان و شرائط کے ساتھ بجا لایا جائے اس بناء پر نماز میں اطمینانِ ارکان کا اعتدال باطنی خضوع و خشوع ملحوظ رہنا چاہئے جس کے بغیر نماز ناقص رہتی ہے۔
قنوت
نماز کے آداب باطنی میں دوسری چیز قنوت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ (سورة البقرة: 238)
"اور خدا کے سامنے ادب سے کھڑے ہو۔"
صحابہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ پہلے نماز میں باتیں کر لیا کرتے تھے لیکن جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرما دیا کہ یہ یکسوئی اور نماز کے باطنی آداب کے خلاف تھا۔ قرآن پاک میں جس قنوت کا حکم دیا گیا ہے وہ عجیب جامع لفظ ہے لغت میں (دیکھو لسان العرب) اس کے حسب ذیل معنی ہیں چپ رہنا، بندگی کرنا، دعا مانگنا، عبادت کرنا، کھڑے رہنا، دیر تک کھڑے رہنا، عاجزی کرنا، نماز کے جس قنوت کا اس آیت میں ذکر ہے اس کے متعدد معنوں میں سے ہر معنی نماز میں مقصود ہے کیوں کہ نماز میں ذکر و قراءت تسبیح و استغفار سلام و تشہد کے سوا تمام انسانی ضرورتوں اور باتوں سے خاموشی ہوتی ہے، وہ خدا کی بندگی بھی ہے، دعا بھی ہے، عبادت بھی ہے، اس میں دیر تک قیام بھی ہے، اور عاجزی کا اظہار بھی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی کسی نماز میں کم ہو تو اس قدر نماز کے اوصاف میں بھی کمی ہو جائے گی۔
جاری ہے ان شاءاللہ