انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت اور حرمتِ سود کا قرآنی حکم

درس نمبر 116 - سورۃ البقرہ: آیت 274 تا 275 - (اشاعتِ اول) 18 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے لیے ولایت کا درجہ اور بے خوفی کا انعام۔

·      سود (ربا) خوری کی سخت مذمت اور روزِ قیامت سود خور کی عبرت ناک حالت۔

·      تجارت (بیع) اور سود میں بنیادی فرق اور مشرکین کے اعتراضات کا رد۔

·      پیسے سے پیسہ کھینچنے (Money pump) اور سود کو "منافع" کا نام دے کر دھوکہ دینے کی کوشش۔

·      اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے لیے ولایت کا درجہ اور بے خوفی کا انعام۔

·      سود (ربا) خوری کی سخت مذمت اور روزِ قیامت سود خور کی عبرت ناک حالت۔

·      تجارت (بیع) اور سود میں بنیادی فرق اور مشرکین کے اعتراضات کا رد۔

·      پیسے سے پیسہ کھینچنے (Money pump) اور سود کو "منافع" کا نام دے کر دھوکہ دینے کی کوشش۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔


اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿274﴾ اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ۗ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۗ وَاَمْرُهٗ اِلَى اللّٰهِ ۗ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿275﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہو گا، نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿274﴾

یعنی جو مال کو خرچ کرنا ہے، یہ بھی اللہ کی رضا میں خرچ کرنا یہ ولایت کا بہت بڑا سبب ہے۔ کیونکہ جیسے ارشاد فرمایا نہ کوئی خوف ان کو ہوگا نہ کوئی غم پہنچے گا، تو یہ ولایت کی نشانی ہے۔ جیسے اولیاء اللہ کے بارے میں فرمایا:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ۔

آگاہ ہو جاؤ کہ جو اولیاء اللہ ہیں، ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے، اور وہ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا۔

تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے ولی جو ہوتے ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے، نہ کوئی غم ان کو پہنچے گا۔ تو مختلف وجوہات سے وہ ہو سکتا ہے، تو ان میں ایک مال کا اللہ پاک کے راستے میں خرچ کرنا یہ بھی ہے۔

لیکن اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس لئے ہو گا کہ انہوں نے کہا تھا کہ: "بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہوتی ہے۔" حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے۔ اور اس (کی باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ﴿275﴾

یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کا تو مقام ولایت ہے۔ اور جو لوگ اس کے مقابلے میں ہیں، کیونکہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا یہ سخاوت ہے اور سود کھانا یہ بخل ہے۔ تو یہ اس کا بالکل ضد ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پاک مال سے لوگوں کو دیتے ہیں۔ اور جو لوگ سود کھاتے ہیں تو وہ اصل میں دوسروں کے لوگوں کے مال کو اپنے مال کے ذریعے سے چھینتے ہیں۔ یعنی گویا کہ انہوں نے اپنے مال کو money pump بنایا ہوتا ہے۔ یعنی پیسے کے ذریعے سے پیسے کو کھینچنا۔ پیسے کے ذریعے سے پیسے کو کھینچنا۔

درمیان میں اگر کوئی کام ہو تو پھر وہ سود نہیں بنتا۔ مثلاً آپ کوئی محنت کر لیں اس کے اوپر آپ مزدوری لے لیں تو یہ سود نہیں ہے۔ آپ کوئی چیز بیچتے ہیں اس پر آپ نفع کمائیں تو یہ سود نہیں ہے۔ سود اس وقت ہوتا ہے جب آپ پیسہ کسی کو دیں اور اس کے اوپر آپ کوئی charge لگا دیں کہ اتنی مدت کے بعد پھر اتنا ہوگا۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ سود ہے۔ مطلب اس پر آپ نفع نہیں کما سکتے۔ یہ والی بات... پیسے کے اوپر پیسہ نہیں۔ ہاں مطلب یہ ہے کہ commodities درمیان میں آجائیں تو پھر جو ہے نا وہ ٹھیک ہے، پھر وہ تجارت بن جائے گا۔

یا اگر مثال کے طور پر کوئی شخص ہے وہ اپنا مال لگاتا ہے، دوسرا اپنا service لگاتا ہے۔ اور ان دونوں کا کسی ratio پر اتفاق ہو جائے کہ جو نفع ہوگا وہ آپس میں اس طرح بانٹیں گے، تو یہ مضاربت ہے۔ یا آپس میں کوئی شراکت کوئی کر سکتا ہے، تو یہ تمام جائز طریقے جو ہیں ان میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جو پیسے کے اوپر پیسہ لیتے ہیں یہ اصل میں سود بنتا ہے۔

اب چونکہ جو لوگ سودی ہوتے ہیں، سود خور ہوتے ہیں، تو وہ اصل میں تو اپنا پیسہ جو ہے نا وہ پیسے کے ذریعے سے پیسے لگاتے ہیں۔ لیکن وہ اس کو confuse کرتے ہیں کہ نہیں، یہ بھی تو تجارت ہے۔ ہم دیکھو نا اپنا مال لگاتے ہیں اس پر مال لیتے ہیں تو یہ بھی تو تجارت ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بالکل سیدھا سیدھا جواب دیا۔ یہ نہیں کہا کہ اس میں یہ حکمت ہے اور یہ حکمت نہیں ہے۔ فرمایا بس ایک کو اللہ پاک نے جائز قرار دیا، دوسرے کو ناجائز قرار دیا بس، صاف بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یہ فیصلہ کہ کس چیز کو کیا کہے۔ تو اللہ پاک نے اِس کو حلال قرار دیا ہے اُس کو حرام قرار دیا ہے۔ بس اگر کوئی یہ نہیں جانتا تو ظاہر ہے وہ نقصان اٹھائیں گے۔

تو یہاں پر یہ ہے کہ گویا کہ…فرماتے ہیں

سود یا ربا ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کر کے وصول کی جائے۔ مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کر کے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے؟ ان کے اس اعتراض کا جواب

بلکہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ سود کو لوگ آجکل کیا کہتے ہیں؟ منافع۔ منافع، منفعت سے... مطلب یہ ہے کہ اس پر کوئی ہم یعنی اگر پیسے کمائے تو اس میں وہ نفع ہی ہے۔ تو گویا کہ اس تجارت کے نفع اور اس سود کی جو بڑھوتری ہے اس کو ایک جیسے قرار دیتے ہیں۔

تو اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامانِ تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامانِ تجارت بنا کر اس سے نفع کمایا جائے۔ وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے تاکہ اس کے ذریعے اشیاء ضرورت خریدی اور بیچی جا سکیں۔ نقدی کا نقدی سے تبادلہ کر کے اسے بذاتِ خود نفع کمانے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ (اس کی تفصیل دیکھنی ہو تو ربا کے موضوع پر میرا وہ فیصلہ ملاحظہ فرمائیے جو میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں لکھا تھا اور اس کا اردو ترجمہ بھی "سود پر تاریخی فیصلہ" کے نام سے شائع ہو چکا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے تو ایک بندے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حکم کی حکمت اور اس کا فلسفہ پوچھتا پھرے اور گویا عملاً یہ کہے کہ جب تک مجھے اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آجائے گا میں اس حکم پر عمل نہیں کروں گا۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کی سمجھ میں بھی آجائے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو پہلے اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اپنے مزید اطمینان کے لئے حکمت اور فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کو موقوف رکھنا ایک مؤمن کا طرزِ عمل نہیں۔

تو یہاں پر گویا کہ سود والے معاملے پہ... یہ انسان کو خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے۔


تو... فرمایا،

لہٰذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے۔

ہاں... اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے سود وصول کیا تھا، چونکہ اس وقت تک سود کے حرام ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا، اس لیے وہ پچھلے معاملات معاف ہیں۔ اب جیسے مثال کے طور پر یعنی نماز کا حکم جب نہیں آیا تھا تو اس سے پہلے بس وہی تھا۔ اس طریقے سے حج کا جب حکم نہیں آیا تھا تو اس سے پہلے وہ نہیں تھا۔ تو جس وقت حکم آ جائے پھر اس کی مخالفت نہیں کی جا سکتی۔ جب تک حکم ہی نہیں آیا تھا تو ظاہر ہے اس پہ تو عمل کیا نہیں جا سکتا تھا۔ تو یہ ہے کہ…

اس لئے وہ پچھلے معاملات معاف ہیں، اور ان کے ذریعے جو رقمیں وصول کی گئی ہیں وہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ حرمت کے اعلان کے وقت جو سود کسی پر واجب الادا ہو وہ لینا جائز نہیں ہو گا بلکہ اسے چھوڑنا ہو گا، جیسا کہ آگے آیت نمبر 278 میں حکم دیا گیا ہے۔

یعنی اس وقت اگر کسی نے سود وصول نہیں کیا اس کا... اب نہیں کر سکتا۔ کیوں؟ حکم آ گیا ہے۔ جیسے شراب لوگ پیتے تھے نا، تو جب تک شراب کا حکم نہیں آیا تھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بعض بھی شراب پیتے تھے۔ لیکن جس وقت شراب کا حکم آ گیا کہ یہ حرام ہے، تو پھر مدینہ منورہ کی گلیوں میں شراب کو انڈیلا گیا۔ مطلب اس کے بعد پھر کسی نے اس کو منہ نہیں لگایا۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ذہن بن چکا تھا، دل بن چکے تھے۔ لہٰذا حکم پر عمل فوراً ہو گیا۔

یعنی جن لوگوں نے حرمتِ سود کو تسلیم نہ کیا اور وہی اعتراض کرتے رہے کہ بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں، وہ کافر ہونے کی وجہ سے ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ سود کے موضوع پر مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ان آیات کے تحت معارف القرآن اور مسئلہ سود از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور میرا مذکورہ بالا فیصلہ۔...

اس کو دیکھنا چاہیے۔




انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت اور حرمتِ سود کا قرآنی حکم - درسِ قرآن - دوسرا دور