تقویٰ کی حقیقت اور گناہوں کی تلافی

درس نمبر 81 - باب المراقبہ - حدیث نمبر 61 - (اشاعتِ اول)،4 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

خلوت و جلوت کا تقویٰ: تنہائی اور محفل دونوں میں اللہ کا ڈر رکھنا۔

 نیکیوں کا اثر: یہ واضح کرنا کہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔

گناہوں کی معافی کی شرائط: صغیرہ گناہوں کی معافی کے لیے ندامت اور اصرار نہ کرنے کی اہمیت۔

حسنِ اخلاق: لوگوں کے ساتھ بہترین رویہ اختیار کرنے کی تاکید۔


الحمد للہ رب العالمین، الصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین امّا بعد!

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

اللہ کا خوف ہر وقت ساتھ ہو

﴿61﴾ اَلثَّانِي: عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ وَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ)

ترجمہ: دوسری حدیث: "حضرت ابوذر اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ کا ڈر رکھو اور بُرائی کے بعد نیکی کرو وہ برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔"

ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

تشریح: ہر حال میں تقویٰ اختیار کرنا چاہئے

ایک دوسری روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کی نصیحت فرمائی کہ "أَوْصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فِي سِرِّكَ وَعَلَانِيَتِكَ" کہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ کے تقویٰ کی سرّاً اور علانیتہ۔

محدثین فرماتے ہیں کہ لفظ تقویٰ مختصر لفظ ہے مگر بہت ہی جامع لفظ ہے مختصر یہ کہ اس میں تمام وہ امور منہیات جس سے شریعت نے روکا ہے اس سے بچنا اور وہ تمام امور جس کو شریعت نے کرنے کا حکم دیا ہے ان سب کو بجالانا، ان سب کا نام تقویٰ ہے۔

یعنی اوامر و نواہی جو بھی ہیں جس کو ہم شریعت کہتے ہیں، اس پر پورا پورا عمل تقویٰ کہلاتا ہے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

پھر اس نظر سے جانچ کے تو کر یہ فیصلہ

کیا کیا تو کرنا چاہئے کیا کیا نہ چاہئے


برائی کے بعد نیکی کرنے کی ترغیب

اس طرح اس میں برائی کے بعد نیکی کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ فرماتے ہیں: "وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا" برائی کے بعد نیکی کرو وہ برائی کو مٹا دے گی۔

جیسے کہ فرماتے ہیں

"إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ" (بے شک نیکیاں مٹاتی ہیں برائیوں کو)۔ (حوالہ: سورہ ھود، آیت 114)

مفسرین و محدثین دونوں کا اتفاق ہے کہ یہاں الحسنات سے تمام نیک کام مراد ہیں مثلاً نماز، روزہ، صدقات، حسن خلق، صلہ رحمی وغیرہ۔ اسی طرح سیئات سے تمام برے کام مراد ہیں خواہ وہ کبیرہ گناہ ہوں یا صغیرہ مگر قرآن مجید کی دوسری آیات اور احادیث نبویہ کے متعدد ارشادات کی وجہ سے علماء اس کو صغیرہ گناہوں کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ نیک کام کی وجہ سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مگر تفسیر بحر محیط میں محققین علماء اصول کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نیک کاموں سے صغیرہ گناہ جبھی معاف ہوتے ہیں جب کہ آدمی ان گناہوں کے کرنے پر نادم بھی ہو اور آئندہ نہ کرنے کا ارادہ بھی کرے، ان پر اصرار نہ کرے کیونکہ روایات حدیث میں جتنے واقعات کفارہ ہو جانے کے منقول ہیں ان سب میں یہ تصریح بھی ہے کہ ان کا کرنے والا جب اپنے فعل پر نادم ہو اور آئندہ کے لئے توبہ کرے اس پر آپ ﷺ نے اس کو گناہ معاف ہو جانے کی بشارت سنائی ہے۔ واللہ اعلم

اللہ جل شانہ ہم سب کو ہر حال میں تقویٰ اختیار کرنے کی اور برائی سے بچنے کی اور خدانخواستہ ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔




تقویٰ کی حقیقت اور گناہوں کی تلافی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور