عقائد اہل سنت والجماعت (حقیقتِ توکل اور اختیارِ اسباب اور اعمال کی جزا و سزا)

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 - (حصہ سوم) - (اشاعتِ اول)، 3 جنوری، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات 

  • توکل اور اسباب کا توازن:حضرت یعقوب علیہ السلام اور اونٹ باندھنے والی حدیث کی مثالوں سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ تدبیر اور اسباب کو اپنانا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ اسباب کو اختیار کر کے نتیجہ اللہ پر چھوڑنا ہی "کمالِ توکل" ہے۔
    • شریعت کے احکامات میں حکمت:روزمرہ کے کاموں (جیسے پانی دیکھ کر پینا، جوتا جھاڑ کر پہننا، برتن ڈھکنا) اور شرعی احکامات (جیسے عورتوں کا پردہ) میں موجود حکمتوں کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ دراصل انسان کی اپنی حفاظت (Protection) کے لیے ہیں۔
      • تقویٰ اور مخالفتِ نفس:مولانا رومؒ کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ دنیاوی خواہشات تقویٰ کے حمام کا ایندھن ہیں۔ نفسانی خواہشات کی مخالفت اور اس پر قابو پانے سے ہی اصل تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔
        • خیر و شر اور اللہ کی رضا (عقیدہ):یہ بہت اہم اور باریک موضوع بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالقِ کل ہے، یعنی خیر اور شر دونوں کو پیدا وہی کرتا ہے، لیکن وہ 'خیر' سے راضی ہوتا ہے اور 'شر' سے ناراض۔ ارادے (تخلیق) اور رضا میں فرق سمجھایا گیا ہے۔
          • انسانی فعل اور کسب (بجلی کے بٹن کی مثال):مسئلہ جبر و قدر کو ایک شاندار مثال (بجلی کے سوئچ اور بلب) سے سمجھایا گیا ہے کہ انسان صرف اپنے ارادے سے عمل کی کوشش (کسب) کرتا ہے، جبکہ اس عمل میں تاثیر اور اس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتا ہے۔
            • مجاہدہ اور اللہ کی مدد:انسان کو کوئی بھی مشکل کام (یا دینی حکم) دیکھ کر فوراً ہار نہیں ماننی چاہیے، بلکہ کوشش شروع کرنی چاہیے۔ جب انسان قدم بڑھاتا ہے تو اللہ کے وعدے (وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا) کے مطابق راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔
              • مختصر زندگی اور دائمی جزا و سزا:اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ دنیا کی یہ مختصر زندگی (فعل موقت) ایک امتحان ہے، جس کے نتائج (عذاب یا ثواب) کی صورت میں ہمیشہ ہمیشہ (مخلد) کے لیے ملیں گے۔

                اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ۝ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝


                گذشتہ سے پیوستہ

                فرماتے ہیں: 

                انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات بھی اسباب کی رعایت کرتے ہیں اور (باوجود اس رعایت کے) اپنے کام کو حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی مراعات سے جانتے ہیں جیسا کہ حضرت یعقوب علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے نظر بد لگ جانے کے خیال سے اپنے لڑکوں کو وصیت فرمائی تھی {یا بنی لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَاب وَاحِد وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَاب مُتَفَرِّقَة } (یوسف 12 آیت 27)  اور (حضرت یعقوب نے) اس احتیاطی تدبیر کی رعایت کے باوجود اپنے حکم کو جل سلطانہ کے سپرد کر کے فرمایا: وَمَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ: اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ(یوسف 12 آیت 67) 

                دیکھیں! اللہ کا ایک حکم ہے کہ اگر میں نے زہر کھا لیا تو مر جاؤں گا۔ حکم ہے اللہ پاک کا، بس سبب ہے۔ اب میں زہر کھا کر پھر کہوں کہ اللہ پاک قادر ہے مجھے بچانے میں۔ تو یہ اللہ پاک کا امتحان لینے والی بات ہو گئی۔ تو اللہ پاک نے جو حکم دیا ہے اس حکم کو کیوں نہیں مانتے؟ حکم تو ایسا ہے کہ روٹی جلی ہوئی ہو، روٹی جلی ہوئی ہو، اس جلے ہوئے حصے کو اتار کے اس روٹی کو کھانا ہے، ہے نا یہ بات؟ حکم تو یہ ہے۔ حکم تو یہ ہے کہ پانی جب پیو تو پہلے سے دیکھو کہ اس کے اندر کوئی چیز پڑی ہوئی تو نہیں ہے۔ یہ حکم ہے۔ حکم سے مراد میری کیا ہے؟ سنت ہے، شریعت ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ سنت ہے۔ تو حکم تو یہ ہے کہ جوتے میں پیر بھی ڈالو تو پہلے دیکھو جوتے کے اندر کچھ اور تو نہیں ہے۔ ہر چیز کا حکم تو یہ ہے کہ جس وقت رات کو سوؤ تو برتنوں کو ڈھک دیا کرو۔ ہے نا؟ یہ ظاہر ہے حکم ہے۔ تو حکم کو کیوں نہیں پورا کیا؟ اس لیے کہتے ہیں تم پورے اسباب اختیار کر لو، پھر نتیجہ خدا پہ چھوڑو، اس کو توکل کہتے ہیں۔ تم پورے اسباب کو اختیار کر لو۔

                آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک صاحب نے: یا رسول اللہ! میں اپنے اونٹ کو ویسے چھوڑ کر توکل کروں یا اس کا گھٹنا باندھ کر توکل کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا گھٹنا باندھ کے توکل کرو۔ اس کا گھٹنا باندھ کے توکل کرو۔ سبب اختیار کر لو۔ یہ بات ہے۔ یہ معاملہ بہت دور تک چلا جاتا ہے اگر حکم کو نہیں مانتا آدمی۔ ایک ایئرہوسٹس تھی، ایک بزرگ جا رہے تھے امریکہ میں ایئر لائن میں۔ تو چونکہ بزرگ کو لوگ جب جانتے ہیں تو ان سے پھر پوچھتے ہیں، عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، تو اس نے جب اس کو دیکھا کہ بھئی اہم شخصیت لگ رہے ہیں مسلمانوں کے، تو قریب آئی اس نے کہا کہ سر! میں آپ سے کچھ پوچھ سکتی ہوں؟ اس نے کہا پوچھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں یہ پردہ کو کیوں لازم کیا گیا ہے عورتوں کے لیے؟ تو اس بزرگ نے کہا کہ اس کو تو تم بھی جان سکتی ہو۔  پھر اس کے بعد اس نے، چونکہ وہ کافی Learned scholar تھا وہ بزرگ جو تھا، تو اس نے امریکہ کا ایک کیس جو ہوا تھا کچھ عرصہ پہلے، جس میں ایک صاحب نے اپنی دکان کو کھلا چھوڑ دیا تھا اور کوئی چیزیں اس طرح کھلی چھوڑی تھیں قیمتی، وہ چوری ہو گئیں۔ اس پہ کیس چل پڑا، جب کیس چل پڑا تو عدالت نے اس دکاندار کو سزا دی۔ کہ تو نے یہ چیزیں جو کھلی چھوڑی تھیں تو تم نے لوگوں کو چوری کرنے دیا، ان کے اخلاق بگاڑے۔ تو مجرم ہے، تو نے کیوں اپنے اس کو Protect نہیں کیا؟ تجھے Protect کرنا چاہیے تھا۔ پھر اگر ہوتا تو پھر جو وہ جرم کرتے۔ تو انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس جو تمہاری عصمت ہے سب سے قیمتی متاع ہے۔ اگر تم اس کو کھلا چھوڑو گی تو اگر کسی نے اس کو نقصان پہنچایا تو تم مجرم ہو گی۔ وہ بھی بے شک اپنی جگہ پہ مجرم ہوگا لیکن تجھے بھی سزا دی جائے گی اس لیے تجھے سزا سے بچانے کے لیے اللہ نے حکم دیا کہ تو پردہ کرے۔ اور اس کو سن کر وہ مسلمان ہو گئی۔ اس کو بات سمجھ آ گئی کہ بات تو صحیح ہے۔ 

                تو اصل بات یہ ہے کہ اسباب کو اختیار کرو۔ آج کل بعض عورتیں کہتی ہیں نا، بھئی جی دل صاف ہونا چاہیے۔ پردے کی کیا ضرورت ہے؟ بس دل صاف ہونا چاہیے۔ دل صاف ہونے کا کیا مطلب ہے؟ دل صاف ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ بغاوت کرو؟  تو یہ والی بات ہے۔

                 تو آپ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اگرچہ حکمت کی تدبیر بتائی کہ اپنے بیٹوں کو کہ ایک دروازے سے داخل نہ ہو بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہو جاؤ، پھر ان کا عقیدہ بھی درست کیا۔ فرمایا: حکم تو اللہ کا ہی چلے گا اور اسی پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں۔ کام تو وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ تو حقیقت بھی بتا دی اور حکمت بھی بتا دی۔ یہ بات ہے۔

                 اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی اس معرفت کو پسند فرما کر اس بات کو اپنی طرف منسوب کر کے فرمایا: وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ(یوسف 12 آیت 68) (اور وہ (حضرت یعقوب ) بیشک بہت ہی صاحب علم تھے اس لئے کہ ہم نے ان کو اپنے پاس سے علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے) اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمارے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اسباب کے واسطہ کا اشارہ فرمایا ہے: يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَسۡبُكَ ٱللّٰهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ(انفال 8 آیت 64) اے نبی! آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ مومنین بھی جو آپ کی اتباع کرتے ہیں)۔

                باقی رہا یہ کہ اسباب کی تاثیر روا ہے کیونکہ بعض اوقات حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اسباب میں بھی تاثیر فرما دیتا ہے تاکہ وہ موثر ہو جائے، اور بعض اوقات ان سے تاثیر کو اٹھا دیتا ہے لہذا ناچار اس کو کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم (روزمرہ) اسباب میں اس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ کبھی ان اسباب پر مسببات کا وجود مرتب ہوتا ہے اور کبھی کوئی اثر ان سے ظاہر نہیں ہوتا۔

                یہ چھوت کی بیماری جو ہے، حکمتاً آپ اس سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں لیکن توکل لازم ہے۔ تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اس طرح یہ جو خارش والی بیماری آئی تھی اونٹوں میں، تو یہ دوسروں کے اونٹوں کی وجہ سے آئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ پہلے اونٹ کو کہاں سے آئی؟ پہلے اونٹ کو کہاں سے آئی؟ تو بات تو صحیح ہے، پہلے اونٹ کو تو اللہ کی طرف سے آئی تھی نا۔ لہٰذا اسباب بھی اختیار کرنے چاہئیں جیسے یعقوب علیہ السلام نے فرمایا، اسباب بھی اختیار کرنے چاہئیں اور اس کو مؤثرِ حقیقی بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ حکم اللہ پاک کا ہی مؤثرِ حقیقی ہے۔ ٹھیک ہے؟ یا اللہ۔

                اسباب کی تاثیر سے مطلقاً انکار کرنا لغو و باطل ہے۔ تاثیر کو ماننا چاہئے لیکن اس تاثیر کو بھی اس کے سبب کی طرح حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی ایجاد سے جاننا چاہئے۔ فقیر کی رائے اس مسئلہ میں یہی ہے، واللّٰہُ سُبْحَانَہ المُلْھِمُ (جیسا کہ اللہ سبحانہ نے الہام فرمایا۔)

                اس بیان سے واضح ہو گیا کہ اسباب کا واسطہ توکل کے منافی نہیں ہے جیسا کہ ناقصوں نے خیال کیا ہے بلکہ اسباب میں توسط کا خیال کرنا "کمالِ توکل" ہے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملہ کو حق جل و علا کے سپرد کرنے کو توکل فرمایا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖوَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ

                حضرت ہمارے شیخ مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ اپنے بیان میں فرما رہے تھے کہ یہ توکل تو ایک بچہ بھی کر سکتا ہے کہ جیب میں کچھ نہ ہو اور کہتا ہے اللہ ہی کرتا ہے۔ اصل توکل تو اس شخص کا ہے کہ جس کے بینک بیلنس بھرے ہوں، لیکن وہ کہے کہ اللہ ہی کرتا ہے۔ پیسہ نہیں کرتا، اللہ ہی کرتا ہے۔ اس کا توکل کامل ہے۔ کیونکہ وہ اپنی دنیا سے نظر اختیاری طور پر ہٹا کر کہتا ہے۔ دوسرا اضطراری طور پر ہٹا کر کہتا ہے، فرق ہے۔ ایک اندھا کہہ دے کہ میں غیر محرم کو نہیں دیکھتا، وہ دیکھ ہی نہیں سکتا تو کیا دیکھے گا؟ جو غیر محرم کو دیکھے گا، دیکھ سکتا ہے، اس پہ گناہ ہے اور جس کے دیکھنے سے اثر ان کا زیادہ ہوتا ہے اس کو زیادہ ثواب ملے گا جو نہیں دیکھتا۔ غیر محرم کے دیکھنے کا اثر جن پر زیادہ ہوتا ہے، وہ اگر نہیں دیکھیں گے ان کو اجر زیادہ ملے گا۔ ان کو اجر زیادہ ملے گا۔ یہ بات ہے، پکی بات ہے۔ حضرت مولانا روم نے فرمایا کہ:

                شہوتِ دنیا مثلِ گلخن است

                از وے حمامِ تقویٰ روشن است

                یعنی جو دنیا کی شہوات ہیں وہ خاشاک کی طرح ہیں۔ جس سے ہمارا تقویٰ کا حمام روشن ہے۔ ہمارا تقویٰ کا حمام کس چیز سے روشن ہے؟ یہ خواہشات سے روشن ہے۔ اگر خواہش نہ ہو تو تقویٰ کدھر سے آ گیا؟ تقویٰ تو آتا ہے نفس کی مخالفت سے، نفس کی بات نہ ماننے سے۔ حضرت جو اصلاح میں نفس کی اصلاح کو نکال لیتے ہیں، ان کو تقویٰ حاصل ہو سکتا ہے؟ بعض لوگ نکال لیتے ہیں۔  جس نے نفس کو درمیان سے آؤٹ کر دیا، نفس کی اصلاح کو، تو تقویٰ کیسے آئے گا اس کے پاس؟ تقویٰ تو آتا ہے نفس کی مخالفت سے۔ 

                عقیدہ (10) اور حق تعالیٰ خیر و شر کا ارادہ کرنے والا بھی ہے اور دونوں (خیر و شر) کا پیدا کرنے والا بھی، لیکن وہ خیر سے راضی ہوتا ہے اور شر سے ناراض۔ ارادہ اور رضا کے درمیان یہ ایک بڑا باریک اور دقیق فرق ہے جس کی طرف حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اہل سنت کو ہدایت عطا فرمائی ہے۔ باقی تمام فرقے اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے معتزلہ نے بندہ کو اپنے افعال کا خالق کہا ہے اور کفر و معاصی کی ایجاد کو اس (بندہ) سے منسوب کیا ہے۔ شیخ محی الدینؒ اور ان کی پیروی کرنے والوں کے کلام سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ "جس طرح ایمان و عمل صالح" اسم الہادی" کے پسندیدہ ہیں اسی طرح کفر و معاصی بھی "اسم المضل" کے پسندیدہ ہیں" ـــ (شیخ کی) یہ بات بھی اہل حق کے خلاف ہے اور ایجاب کی طرف میلان رکھتی ہے جو رضا کا منشا ہوئی ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں کہ آفتاب کا کام ضوفشانی (روشنی پھیلانا) ہے اور اس میں اس کی مرضی شامل ہے۔ اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قدرت و ارادہ عطا کیا ہے کہ اپنے اختیار سے اپنے افعال کا کسب کرتے ہیں۔ افعال کا پیدا کرنا حق سبحانہ کی طرف منسوب ہے اور ان افعال کا کسب بندوں کی جانب منسوب ہے۔ اللہ سبحانہ کی عادت اسی طرح جاری ہے کہ بندہ جب اپنے فعل کا ارادہ کرتا ہے تو حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اس فعل کو پیدا کردیتا ہے۔ چونکہ بندہ کا فعل اپنے اختیار سے صادر ہوتا ہے اس لئے لازمی طور پر اس کی تعریف اور برائی، ثواب اور عذاب بھی اسی سے متعلق ہو جاتا ہے۔

                کافی باریک چیز ہے لیکن الحمد للہ ایک چیز سے سمجھ میں آ جائے گی آسانی کے ساتھ ،جو اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں۔ اگر بٹن میں نے دبا دیا بجلی کا، اور بجلی کا بلب روشن ہو گیا، تو آپ کیا کہیں گے کہ بلب کس نے روشن کیا؟  میں نے بٹن پر ہاتھ رکھا ہے تو بلب کس نے روشن کیا؟ میں نے روشن کیا۔ لیکن اس کے اندر اگر سرکٹ نہ ہوتا جو روشن کرنے والا سرکٹ ہے، مثلاً اس کا element یہ اگر فیوز ہو جائے، تو کیا خیال ہے آن ہوتا؟ اس تار کے اندر جو تار اس سے ملی ہوئی ہے اس کے اندر کبھی بریک آ جائے، پھر آن ہوگا؟ ادھر سے بجلی آنی بند ہو جائے ٹرانسفارمر سے، پھر آن ہوگا؟ کتنی ساری باتیں ہو گئیں۔ اب دیکھ لیں، مقصد یہ ہوا کہ بجلی اگرچہ میرے بٹن کے اوپر ہاتھ رکھنے سے بظاہر آن ہوتا ہے، روشن ہوتا ہے بلب، لیکن اصل تو اس کے اندر ہے۔ میں تو صرف اس کو ایک اشارہ کرتا ہوں کہ ایسا ہو جا، اشارہ عملی کرتا ہوں اشارہ عملی کرتا ہوں کہ ایسا ہو جا، تو ایسا وہ سسٹم کر لیتا ہے۔ وہ سسٹم ایسا کر لیتا ہے وہ جڑ جاتا ہے لہٰذا ہو جاتا ہے۔ تو اسی طریقے سے جب ہم کہتے ہیں کہ جیسے مثال کے طور پر میں کسی کو مارنا چاہتا ہوں اور میں نے اس پہ گولی چلائی۔ یہ جو میں نے گولی چلائی ہے تو یہ میرا ارادہ ہے کہ یہ مر جائے۔ اور اللہ اس کو جب مار دیتا ہے تو اس ارادے کو مکمل کر دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے ارادے کے بغیر تو مر سکتا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو مکمل کر لیتا ہے لیکن اللہ کا مکمل کرنا اور ہے اور ہمارا ارادہ کرنا اور ہے۔ کیا عزرائیل علیہ السلام کو کوئی قاتل کہہ سکتا ہے؟ ایکسیڈنٹ میں کوئی مرتا ہے تو ملک الموت آئے گا نا، تو اس کو کوئی قاتل کہے گا؟ ظاہر ہے وہ تو اس کا کام ہی یہی ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہمارا ارادہ چونکہ اللہ نے احکامات دیے ہیں، حکمت کے تحت احکامات دیے ہیں، ان احکامات کی خلاف ورزی کی وجہ سے گرفت میں آ جاتے ہیں۔ وہ جو کام ہے وہ تو اللہ تعالیٰ نے کر لیا، احکامات کی خلاف ورزی میں آ گئے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی؟ 

                تو اس طریقے سے اللہ پاک کے جو احکامات ہیں، ان احکامات کی خلاف ورزی کرنا جرم ہے جب ہم اس کا ارادہ کر لیتے ہیں اللہ پاک کے احکامات کی مخالفت ہو جاتی ہے اس میں ہم مجرم ہو جاتے ہیں لیکن اللہ پاک جو کام کرتے ہیں وہ تو خالق بھی ہیں، يُحْيِي بھی ہے وَيُمِيتُ بھی ہیں۔ لہٰذا دونوں کام وہی کرتا ہے، زندہ بھی کرتا ہے مارتا بھی ہے، تو وہ تو اپنا جو کام کرتا ہے اس کی وجہ سے تو اس طرف نہیں جائے گا، ہاں البتہ کام پورا تو وہی کرے گا۔ 

                اور یہ فرمایا: 

                اور جنہوں نے یہ کہا ہے کہ بندے کا اختیار کمزور اور ضعیف ہے اگر حق سبحانہ کی قوت اختیار کے اعتبار سے (اس بندے کے اختیار) کو ضعیف کہا ہے تو مسلم ہے، اور اگر اس معنی میں کہا گیا ہے کہ جس کام کے کرنے میں اس کو مامور کیا گیا ہے وہ (قوت و اختیار) کافی نہیں ہے، تو یہ بات صحیح نہیں: فَاِنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہ لَا یُکَلِّفُ بِمَا لَیْسَ فِی وُسْعِہِ بَلْ یُرِیدُ الیُسْرَ وَلَا یُرِیدُ العُسْر (پس بیشک اللہ سبحانہ ایسے کام کی تکلیف نہیں دیتا جو بندے کی وسعت سے باہر ہو بلکہ وہ تو آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں کرتا)۔

                مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک تو چونکہ جب ہمیں حکم دیتا ہے تو حکم پورا کر سکتے ہیں۔ اللہ کو پتہ ہوتا ہے، لہٰذا کوئی کہہ دے کہ میں تو نہیں کر سکتا تھا۔ تو اللہ پاک اس کے سامنے کوئی اور کھڑا کر دے گا جو انہی حالات والا ہوگا، وہ کر چکا ہوگا، تو کہے گا یہ جب اس نے کیا تو تم کون ہو؟تم کیوں نہیں کر سکے؟ مثلاً یہ والی بات ہے۔

                خلاصہ کلام یہ کہ "فعل موقت" (چند روزہ زندگی کے فعل) پر جزائے مخلد (دائمی عذاب) کا مقرر کرنا حق تعالیٰ کے حوالہ ہے جس نے "کفر موقت" کی سزا اس کے اعمال کے موافق "عذاب مخلد" فرمائی۔ اور "تلذ ذات دائمی" (یعنی بہشت اور جو کچھ اس میں ہے) کو "ایمان موقت" (زندگی بھر کے ایمان پر وابستہ کر دیا: ذلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ(یہ عزیز و حکیم کا مقرر کردہ ہے)۔

                 اصل بات یہ ہے کہ بہت تھوڑا عرصہ ہمیں ادھر رہنا ہے۔ اس عرصے کے اندر جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کا پورا ایک ڈیٹا بن رہا ہے۔ ہمارا نامۂ اعمال بن رہا ہے۔ اس نامۂ اعمال کے مطابق ہمارا فیصلہ ہوگا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اس وقت کو رسک پہ نہ لے جائیں بلکہ جو اللہ پاک نے احکامات دیے اس پر ہم عمل کریں چاہے نتیجہ جو نکلتا ہے نہیں نکلتا ہے۔ نتیجہ خدا کے سپرد، یہی توکل ہے۔ نتیجہ خدا کے سپرد ہے باقی عمل جیسے حکم ہو اس کے مطابق۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ، اللہ اکبر! جو ہوشیار ہوتا ہے وہ حکم پورا کرتا ہے، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں ہو سکتا، اس کو پتہ ہوتا ہے کہ نہیں ہو سکتا اور جو کہنے والا ہے وہ بھی جانتا ہے کہ نہیں کر سکتا، اب اس نے حکم دے دیا، یہ اٹھ گیا اس کو کرنے کی کوشش نہیں کر سکا، اس کو پتہ ہے کہ نہیں کر سکا، بس پتہ چل گیا حکم ماننے والا ہے لیکن وہ تو اس کا کام ہو نہیں سکتا۔  تو ایسی باتیں اللہ پاک جانتے ہیں، جو ہم نہیں کر سکتے لیکن ہم جب حکم پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے جب ہم حکم پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے ہی ہوتا ہے کہ آدمی وہ کام اتنا کر نہیں سکتا لیکن یہ بات ہے کہ جب اس کو لبیک کہتا ہے، جس وقت اس کو حکم دیا جاتا ہے وہ لبیک کہتا ہے، بس اس کا لبیک ہی قبول ہو جاتا ہے، آدمی حاضر ہو جاتا ہے، آدمی کام شروع کر لیتا ہے اور پھر اس کے بعد اس کو اللہ پاک پورا فرما دیتے ہیں۔

                اللہ سبحانہ کی توفیق سے اس قدر ہم جانتے ہیں کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ جو ظاہری اور باطنی نعمتوں کا دینے والا اور آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جس کی بارگاہ قدس کے لئے ہر قسم کی بزرگی اور کمال ثابت ہے، اس کی نسبت کفر اختیار کرنے کی سزا بھی ایسی ہی ہونی چاہئے جو سخت ترین سزاؤں میں سے ہو، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنا ہے۔ اور اسی طرح اس منعم بزرگ و برتر پر ایمان بالغیب لانا اور نفس و شیطان کی مزاحمت کے باوجود اس کو راست گو جاننے کی جزا بھی ویسی ہی ہونی چاہئے جو سب جزاؤں سے بہتر اور اعلیٰ درجہ کی ہو اور وہ دائمی نعمت و لذات میں رہنا ہے۔

                بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ "در حقیقت بہشت میں داخل ہونا محض حق سبحانہ کے فضل پر موقوف ہے، اور اس کو ایمان کے ساتھ مربوط کرنا اس وجہ سے ہے کہ اعمال کی جزا لذیذ ترین معلوم ہو"۔ لیکن اس فقیر کے نزدیک حقیقتاً بہشت میں داخل ہونا ایمان کی وابستگی پر موقوف ہے لیکن ایمان بھی اس سبحانہ و تعالیٰ کا فضل اور عطیہ ہے ـــ اور جہنم میں داخل ہونا کفر کے ساتھ وابستہ ہے اور کفر نفس امارہ کی خواہشات سے پیدا ہوتا ہے:وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۖ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ (نسا 4 آیت 79) 

                دلیل بھی بہت مضبوط دیتے ہیں حضرت۔

                جاننا چاہئے کہ بہشت کے داخلہ کو ایمان کے ساتھ مربوط کرنا حقیقت میں ایمان کی تعظیم اور تکریم ہے۔

                دیکھیں! میں آپ کو بات بتاؤں، حکم دیا یہ کرو۔ اب کام شروع کرنے سے پہلے آدمی کہہ دے کہ میں نہیں کر سکتا، اس کا حق اللہ پاک نے نہیں دیا کیونکہ اللہ پاک کوئی حکم ایسا نہیں دیتا جو انسان کر نہ سکتا ہو۔ کام شروع کر کے پھر پوچھے کہ جو مشکل آرہی ہے اس کے بارے میں پوچھے کہ اس کو میں کیسے کروں یہ تو مجھ سے نہیں ہو رہا، پھر راستہ بتا دیا جائے گا: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ بھئی جَاهَدُوا فِينَا پہلے ہے لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا بعد میں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں ہدایت مل جائے پھر اس کے بعد جَاهَدُوا فِينَا کریں گے۔ اللہ پاک نے ایسا نظام نہیں بنایا: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ بلکہ وَالَّذِينَ سے باقاعدہ تعریف آتی ہے یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک چیز بیان ہو رہی ہے کہ سسٹم یہی ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ان کو ہم ضرور بضرور ہدایت کے راستے سجھائیں گے۔ لہٰذا ہم کوشش شروع کر لیں۔ حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کا بہت زور دیتے تھے کہ جب کبھی کوئی کہتا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا، فرمایا تو نے شروع کیا ہے؟ تو نے شروع کیا ہے اب کہہ رہے ہو؟ یا شروع نہیں کیا اور پہلے سے ہی کہہ رہے ہو کہ نہیں ہو سکتا۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟  یہ اصل میں بالکل۔ میں آپ کو کیا بتاؤں، دنیا میں بھی جتنے مشکل کام ہیں کیا پہلے ہو سکتے تھے؟ جمناسٹک ہی کو لے لو، وہ جو جمناسٹک کرنے والا ہے عجیب و غریب کرتب وہ اگر پہلے دن اس کو کہتے کہ تم کر لو، وہ کہتا یہ تو ہو نہیں سکتے، یہ تو ہو نہیں سکتے، اس کی بات مان لی جاتی کہ نہیں؟ ہاں اب نہیں ہو سکتے لیکن شروع کر لو، ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہ آپ کے جو سرجنز ہیں، کیا خیال ہے اول ہی دن ان کو جو ہے وہ دے دیتے ہیں آپریشن؟ بھئی پتہ نہیں کتنی مشکلوں سے ایک چیز سیکھی جاتی ہے کوئی ایسی تو بات نہیں ہے۔ لیکن جس نے پہلے دن ہی انکار کر لیا وہ تو اس دروازے کے اندر ہی داخل نہیں ہو سکا۔ اور جس نے انکار نہیں کیا، چلنا شروع کر لیا تو بے شک کتنی دفعہ گرا کتنی دفعہ پڑا کتنی دفعہ آگے پیچھے ہو گیا، بالاآخر سرجن بن گیا۔ ممکن ہے دو دو تین تین دفعہ viva میں فیل ہو چکا ہو، پھر کسی وقت کامیاب ہو گیا ہو گا اور پھر سرجن بن بھی گیا ماشاءاللہ اب بڑے کامیاب آپریشن کرتا ہو گا۔  تو یہ جو پہلے ہی سے کہنا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ اصل میں کسی کو حق نہیں دیا گیا۔ نفس کا سلسلہ اللہ پاک نے ایسا بنایا ہے، نفس کا، کہ نفس کے اوپر بوجھ ڈالو گے تو یہ ماننا شروع کرے گا، اس کو آزاد چھوڑو گے تو یہ باغی ہوتا جائے گا۔ لہٰذا آپ اس کے اوپر بوجھ تو ڈالنا شروع کریں۔ کیا مفتی صاحب وہ کون سا آیت ہے؟ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ كَبَدٍ اللہ پاک نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بوجھ ڈالو گے تو کیا ہو گا؟ یہ چلنا شروع کرے گا، یہ ماننا شروع کرے گا۔ اس کی جو resistance ہے وہ روز بروز کم ہوتی جائے گی جب آپ اس کی نہیں مانیں گے۔ جب آپ اس کی نہیں مانیں گے تو اس کی resistance روز بروز کم ہوتی جائے گی حتیٰ کہ ایسا ہوگا کہ بالکل resistance ختم ہو جائے گا، وہ نفسِ مطمئنہ کہلائے گا۔ لیکن کام تو ادھر سے شروع ہو گا ناں۔ 


                وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔