انفاق فی سبیل اللہ اور صدقات کے حقیقی مستحقین کی پہچان

درس نمبر 115 - سورۃ البقرہ: آیت 272 تا 273 - (اشاعتِ اول)17 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      ہدایت اللہ دیتا ہے، لہٰذا غیر مسلم محتاجوں کی امداد بھی باعثِ ثواب ہے۔

·      رضائے الٰہی کے لیے خالص نیت سے صدقہ کرنے پر پورا بدلہ ملتا ہے۔

·      دین کے لیے خود کو وقف کرنے والے محتاج، صدقات کے بہترین مستحق ہیں۔

·      حقیقی محتاج مجبوری کے باوجود گڑگڑا کر نہیں مانگتے، ناواقف انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔

·      اصحابِ صفہ نے دین و احادیث محفوظ کرنے کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کیں۔

·      دورِ حاضر میں توکل مشکل ہو تو دینی خدمت کے ساتھ روزگار بھی کمائیں۔

·      اللہ پر کامل توکل کرنے والوں کی کفالت وہ خود غیب سے فرماتا ہے۔

·      راہِ خدا میں خفیہ یا اعلانیہ مال خرچ کرنے والوں پر کوئی خوف نہیں۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ


لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰىهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ﴿272﴾ لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰهُمْ ۚ لَا يَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ﴿273﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

(اے پیغمبر!) ان (کافروں) کو راہِ راست پر لے آنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے راہِ راست پر لے آتا ہے۔

بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے، اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔

اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لئے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہو گا ﴿272﴾ (مالی امداد کے بطورِ خاص) مستحق وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لئے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لئے ناواقف آدمی انہیں مالدار سمجھتا ہے۔ تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحابِ صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علمِ دین حاصل کرنے کے لئے وقف کر دی تھی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آپڑے تھے، طلبِ علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کر سکتے تھے، مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے، کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔

آیت نمبر 261 سے 274 تک صدقات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان ہوئے تھے۔ آگے آیت نمبر 280 تک اس کی ضد یعنی سود کا بیان ہے۔ صدقات انسان کے جذبہ سخاوت کی نشانی ہیں، اور سود بخل اور مال کی محبت کی علامت ہے۔



یہ جو ابھی بات آئی ہے اس میں... یہ اصل میں کچھ لوگ اگر ایسے ہوں جو ظاہر ہے دو کاموں میں سے ایک کر سکتے ہوں۔ مثلاً یا وہ اپنے آپ کو کسی دینی کام کے لیے وقف کر دے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو اس کے لیے استعمال کر لے، یا پھر وہ معاش کے لیے کوشش کر لے۔ ہاں، بعض خوش قسمت ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دونوں کو ساتھ ساتھ رکھتے ہیں، جیسے امام ابو حنیفہ رحمة الله عليه تھے یا اس طرح جو صحابہ کرام میں ایسے حضرات تھے جو اپنا کاروبار بھی کرتے تھے، محنت مزدوری بھی کرتے تھے، علی رضي الله عنه جیسے محنت مزدوری کرنے والے تھے، لیکن وہ اپنے دین کا کام بھی چلاتے تھے جب ان کو ضرورت پڑتی تھی۔

لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اصحابِ صفہ میں اور عام صحابہ میں فرق یہ تھا کہ ان کی نیت یہ تھی کہ آپ ﷺ کے قریب ہر وقت رہیں تاکہ جو بھی دین کی بات آپ ﷺ سے سنیں اس کو محفوظ کر لیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے یعنی گویا کہ اسوۂ حسنہ ہے، تو کوئی chance miss نہ ہو جائے۔ اب اگر کوئی کاروبار کرنے والا ہے یا محنت مزدوری کرنے والا ہے وہ اگر اتنی محنت مزدوری پہ جا سکتے ہیں، چلے جاتے ہیں، تو پھر اس وقت تو وہ حضرت کے ساتھ نہیں ہیں، لہٰذا اس وقت اگر کوئی بات ہوگی تو ان کے سامنے نہیں آئے گی۔

البتہ صحابہ کرام میں یہ بھی ایک بات ہوتی تھی کہ باریاں مقرر کر لیتے تھے۔ مثلاً بھائی ہوتے تھے، دوست ہوتے تھے، تو اس وقت آپ ہوں گے تو آپ ہمیں بتائیں گے کہ کیا فرمایا، اور پھر اس وقت ہم ہوں گے تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیا فرمایا ہے، اس طریقے سے باری باری بھی لگا لیتے تھے۔ تو وہ بھی ایک طریقہ کار تھا۔ لیکن اس میں بھی یہ بات تھی کہ وہ باری جو لگانے والی ہوتی تھی وہ بھی ان وقتوں میں جب آپ ﷺ کی مجلس کا وقت ہوتا تھا۔

تو اب ظاہر ہے جو مجلس کا وقت نہیں اس میں تو نہیں کوئی ہوتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ اگر خود کسی سے بات کرنا چاہیں، کسی چیز کو سامنے لانا چاہیں، اس وقت کوئی تو ہونا چاہیے تھا کہ ان کے پاس جا کر ان سے بتا دیں کہ یہ بات اس طرح ہے۔ تو اصحابِ صفہ کی ایک ضرورت ہر وقت گویا کہ سامنے تھی دین کے لیے کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو ایسا وقف کر لیں جو ہر وقت ادھر ہوں۔

تو یہ جماعت تھی، ان لوگوں نے یہ opt کیا تھا کہ ہم ہر وقت ادھر ہوں گے۔ اب چونکہ معاش نہیں وہ کر سکتے تھے تو ایسی صورت میں پھر باقی لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ ان کو وہ support کریں۔ تو ان کے بارے میں ذکر اس وجہ سے آیا ہے کہ سب سے زیادہ مستحق وہی ہیں جنہوں نے دین کی وجہ سے اپنے آپ کو مقید کر رکھا ہے، وہ کسی اور کام کی طرف نہیں جاتے۔

تو اب ابوہریرہ رضي الله عنه جو ہیں یہ ان حضرات میں سے تھے، اصحابِ صفہ میں سے تھے۔ تو ہم نے دیکھا کہ سب سے زیادہ حدیث شریف ان سے مروی ہے۔ حالانکہ بعض صحابہ کرام بہت زیادہ قریبی تھے، لیکن وہ وقت پر ہوتے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک ماشاء اللہ ان کا وہ تھا۔ تو ان حضرات نے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا دین کی تحصیل کے لیے، جس کے لیے ان کی ادھر موجودگی ضروری تھی اور پھر ان کے لیے specially گویا کہ بات آگئی کہ اب ہم آج کل دیکھیں تو بھی اس قسم کی صورتحال بعض لوگوں کے لیے ہوتی ہے جو اپنے آپ کو وقف کر لیتے ہیں، حالانکہ ان میں بڑی بہترین صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ اگر جائیں تو کاروبار بھی کر سکتے ہیں، محنت مزدوری بھی کر سکتے ہیں، بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

تو ایسی صورت میں پھر کچھ لوگوں کو تو اگر انہوں نے وقف کیا اپنے دین کے لیے تو ان کی بڑی contribution ہے۔ پھر ان کا معاملہ بھی اس طرح ہی ہوگا۔ تو اب صرف یہ بات ہے کہ آج کل چونکہ کمزوری ہے، پورا مکمل وقف کرنا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں زیادہ بہتر ہے کہ جب لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا والی کیفیت ہو، کہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر نہ مانگیں۔ اب آج کل ذرا مسئلہ ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو وقف کر لے تو ارادہ تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن بعد میں برداشت نہیں کر سکتے، پھر وہ لوگوں سے مانگتے ہیں یا کوئی اس طرح چاہے اشاروں ہی سے مانگیں یا جو بھی ہے، تو اس وقت بہترین صورت تو وہی ہے کہ اپنا کوئی کاروبار وغیرہ کرتا ہو، کوئی کام شام کرتا ہو، ملازمت ہو، جو بھی ہو۔ لیکن اس کے علاوہ وقت جو ہو وہ پھر وہ دین کے لیے استعمال کر لے، یہ صورتحال تو زیادہ بہتر ہے۔

لیکن اگر کچھ لوگ ایسے ہوں دنیا میں جن کے بارے میں ہمیں تحقیق ہو جائے کہ وہ اس line کے ہیں، وہ پرواہ نہیں کرتے، وہ بس اپنے دین کے کام پہ لگے رہتے ہیں۔ مثلاً حضرت تھانوی رحمة الله عليه تھے، تو حضرت تھانوی رحمة الله عليه کو حضرت حاجی صاحب رحمة الله عليه نے فرمایا کہ بس توکل کر کے بیٹھ جاؤ۔ تو حضرت نے کوئی کام نہیں کیا اس پر، نہ کوئی تجارت نہ کوئی، حتیٰ کہ وہ royalty کتابوں کی بھی نہیں لی تھی۔ لیکن شاہوں کی طرح زندگی گزاری۔ پھر اللہ پاک نے ان کو ایسا ان کے اوپر فتوحات کھولیں کہ ان کا ناشتہ جو تھا وہ بڑے بڑے نواب بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تو اللہ پاک نے بس ان کے لیے پھر انتظام کر لیا تھا۔

اب سید احمد شہید رحمة الله عليه روزانہ ایک جوڑا پہنتے تھے اور پھر اگلے دن اس کی باری نہیں آتی تھی۔ لیکن خود اس کے لیے وہ محنت مزدوری نہیں کرتے تھے۔ وہ ایک صاحب آتے ایک سال کے بعد 365 جوڑے لاتے اور یہ عرض کرتے کہ حضرت ایک جوڑا صرف ایک دن استعمال کرنے کی اجازت ہے، دوسرے دن نہیں، بس وہ بے شک آپ آگے کر لیں۔ اب ظاہر ہے مطلب...

تو اس قسم کے لوگ پھر ہوتے ہیں۔ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ، جو اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں تو پھر اللہ ان کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کا پھر حق زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ ہی ان کا کفیل ہوتا ہے۔ تو آپ جو دے رہے ہیں وہ گویا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے رہے ہیں کہ اللہ ان کو دے رہا ہے، آپ کو ذریعہ بنا رہے ہیں۔ تو یہ کتنی بڑی بات ہے، ایسے لوگوں کی خدمت جو ہے نا... تو یہ گویا کہ اس کے لیے یہ فرمایا گیا ہے۔

تو کچھ لوگ خوش قسمت اگر آج کل ایسے ہوں تو واقعی ان کی خدمت کرنے میں بڑی بات ہے۔

اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿273﴾ جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہو گا، نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿274﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ اپنا تعلق نصیب فرما دے اور اس کے لیے جان و مال اور اوقات خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



انفاق فی سبیل اللہ اور صدقات کے حقیقی مستحقین کی پہچان - درسِ قرآن - دوسرا دور