اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ، اَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج ان شاء اللہ جو حدیثِ جبریل پڑھی گئی تھی، گزشتہ دن میں، تو اس کے باارے میں کچھ تعلیمات ہیں، وہ رہ گئی تھیں۔ اور یہ مشہور حدیث شریف ہے، بخاری شریف میں بھی مروی ہے، اور اس میں یہاں جو ریاض الصالحین ہے اس میں بھی ہے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یا محمد ﷺ کیوں کہا؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ اس حدیث شریف میں جبریل علیہ السلام نے کہا تھا "یا محمد"۔
بظاہر یہ جملہ قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
’’لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘
"تم آپس میں جس طرح ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو اس طرح سے رسول ﷺ کو آواز نہ دو۔"
اس کا جواب محدثین نے اس طرح دیا ہے کہ آیتِ قرآنیہ میں خطاب بنی آدم علیہ السلام کو ہے فرشتے اس سے مستثنیٰ ہیں۔
دوسرا جواب: یہ دیا جاتا ہے کہ محمد کا لغوی معنی مراد ہے (یعنی وہ ذات جو قابلِ تعریف ہے) تو یہ صفاتی نام ہو گیا۔
اور تیسرا مطلب یہ بتایا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہے۔
ایک سوال یہ کیا گیا تھا اسلام کیا ہے؟ اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِسْلَامِ
پہلا سوال جو تھا یہی تھا کیونکہ اسلام قبولِ شرائع و التزامِ فرائض ادا کرنے کا نام ہے اس لئے یہ سب سے پہلے ہونا چاہئے۔ اس کے جواب میں اسلام کے بنیادی ارکان کو بیان فرمایا کلمہ توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج۔
اگر دیکھا جائے تو یہی اصل ہے، کیونکہ: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
نہیں پیدا کیا میں نے انسانوں اور جنات کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔
تو عبادت کے لیے تو پیدا کیے گئے، تو لہٰذا عبادت کے بارے میں تو معلوم ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ جو معاملات ہیں، وہ آپس کے طریقہ کار ہیں۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لین دین تو ہوگا، تو کس طرح ہونا چاہیے؟ تو اس کے احکامات بتائے گئے۔ تو یہ گویا کہ بضرورت ہے۔ معاشرت بھی بضرورت ہے، کیونکہ آپس میں رہن سہن ہو گا۔ اخلاق، یہ بھی بضرورت ہے، یعنی کس طرح ہمیں رہنا چاہیے۔ تو یہ یہاں جس چیز کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے بارے میں بنیاد ہے۔
ایمان کیا ہے؟ اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِيْمَانِ ایمان نام ہے آپ ﷺ کی تمام باتوں پر یقین رکھنا اور دل کی گہرائی سے اس کو سچا ماننا۔
یہ اصل میں گویا کہ ایمان کے بارے میں بات ہو گئی۔
ان ایمانی باتوں میں سے اساسی ایمانیات وہ ہیں جس کو اس روایت میں بیان فرمایا:
اللہ پر یقین، 2. ملائکہ پر یقین، 3. آسمانی کتابوں پر یقین، 4. رسولوں پر یقین، 5. قیامت کا یقین، 6. تقدیر پر یقین۔
پھر یہ سوال آیا احسان کیا ہے؟
فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِحْسَانِ۔
اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ کہ آدمی یوں اللہ کی عبادت کرے جیسے دل کی آنکھوں سے اپنے معبود کو دیکھ رہا ہے پھر یہ دھیان اس قدر غالب ہو جائے گویا یہ ظاہری آنکھوں سے اللہ کو دیکھ کر عبادت کر رہا ہے۔ دنیا میں ظاہری آنکھیں اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتیں اس لئے کلمہ تشبیہ "كَأَنَّ" استعمال کیا۔
اور اگر یہ خیال پیدا نہیں ہو رہا تو پھر یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے۔ پہلے درجہ میں اخلاص، خشوع و خضوع عبادت پہ زیادہ ہو گی دوسرے درجہ میں اس سے کچھ کم۔
اور آخری سوال یہ تھا کہ قیامت کب آئے گی؟
فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَةِ۔ تو قیامت کے بارے میں مجھے خبر دیں۔ تو جواب مطلب جو ہے وہ یہ بتایا گیا تھا کہ:
مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ جو مسؤول ہے، یعنی میں، وہ جو سائل ہیں، یعنی جبریل علیہ السلام، اس سے زیادہ اس مسئلے میں نہیں جانتے۔تو اس جملہ کے بارے میں تمام محدثین فرماتے ہیں کہ قیامت کی تاریخ کے نہ جاننے میں ہم دونوں مساوی ہیں کسی کو بھی اس کا علم نہیں۔
علمِ محیط صرف ذات باری تعالیٰ کا ہے آپ ﷺ کو اگرچہ علم الاولین والآخرین سے نوازا گیا ہے لیکن آپ ﷺ کا علم محیط نہیں ہے۔ علم کا ذاتی ہونا اور محیط ہونا یہ خصائص خالق کے ہیں۔
اور یہ جو فرمایا کہ اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا لونڈی اپنے آقا کو جنے گی۔
اس جملہ کے محدثین نے بہت سے مطالب بیان کئے ہیں مثلاً یہ جملہ کنایہ ہے اس بات سے کہ اولاد والدین کی نافرمان ہو جائے گی جیسے گویا کہ والدین غلام باندی کی طرح اور اولاد آقا بن جائے گی۔
یا جن باندیوں کو غلبہ علی الکفار کے بعد حاصل کیا ان سے اولاد ہو گی پھر یہی اولاد بعد میں بادشاہ بن جائے گی۔
یا معاملات غیر اہل کے سپرد ہونے لگیں۔ مثلاً ایک دوسری روایت میں آتا ہے إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَىٰ غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ کہ جب معاملات غیر اہل کے سپرد کئے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ تو دوسری روایت نے پہلی حدیث کے مطلب کو واضح کر دیا۔
وَ أَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ...... الخ
حفاۃ: ننگے پاؤں، عراۃ: ننگے بدن، عالۃ: محتاج کثیر العیال لوگ، رعاء: راعی کی جمع ہے چرواہا۔
مطلب یہ ہے کہ بھوکے ننگے بکریوں کو چرانے والے ارذل قسم کے لوگ اونچے اونچے محلات بنائیں گے۔
بس اللہ جل شانہ ہم سب کو جو یہاں پر فرمایا گیا ہے، اس کو سمجھنے کی اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ، وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔