انسانی مقام کا زوال، اخلاقِ رذیلہ کی اصلاح اور مسبب الاسباب کی قدرت

دفتر اول حکایت نمبر 25 - (اشاعتِ اول)، منگل، 27 اگست ، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

بیان کے اہم موضوعات (Main Themes)

  • 1. مسخِ سیرت (انسان کا اخلاقی زوال):انسان کو اللہ نے 'احسن تقویم' (بہترین ساخت) پر پیدا کیا ہے اور فرشتے بھی اس پر رشک کرتے ہیں۔ لیکن جب انسان تقویٰ چھوڑ کر فجور (برائی) اور لذاتِ حرام کے پیچھے بھاگتا ہے، تو اس کی سیرت مسخ ہو جاتی ہے اور وہ جانوروں بلکہ شیاطین سے بھی بدتر (اسفل السافلین) ہو جاتا ہے۔
    • 2. حبِ دنیا اور حبِ جاہ (دنیا اور عہدے کی محبت):حرام طریقے سے دنیا کمانا اور خود کو سب سے برتر سمجھنے کا خبط انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ شیطان بھی اسی تکبر اور 'حبِ جاہ' کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا۔ دنیاوی مال و منصب کی کوئی حیثیت نہیں، اللہ جب چاہے بادشاہ کو فقیر اور فقیر کو بادشاہ بنا سکتا ہے۔
      • 3. عشقِ الٰہی اور گناہوں کی معافی:انسان کتنے ہی گناہ کر چکا ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ عشقِ الٰہی کی ایک چنگاری گناہوں کے انبار اور دنیاوی تعلقات کو یوں جلا کر راکھ کر سکتی ہے جیسے سورج کی تپش برف کو پگھلا دیتی ہے۔ حضرت عمرؓ اور عکرمہؓ کی مثالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کی نظرِ کرم شقی (بدبخت) کو بھی سعید (نیک بخت) بنا دیتی ہے۔
        • 4. اخلاقِ ذمیمہ کا اخلاقِ حمیدہ میں بدلنا:انسان کے اندر موجود بری خصلتوں (جیسے غصہ، بے غیرتی، شہوت) کو ریاضت، مجاہدے اور اللہ کی محبت کے ذریعے اعتدال پر لا کر بہترین اخلاق (حمیت، بہادری، پاکدامنی) میں بدلا جا سکتا ہے۔ جیسے زہر کو اگر صحیح مقدار اور طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ تریاق (دوا) بن جاتا ہے۔
          • 5. ریاضت اور مجاہدے کی اہمیت:جسمانی مشقت اور نفس کے خلاف کام کرنا (ریاضت) بظاہر انسان کو کمزور کرتا ہے، لیکن درحقیقت یہ روح کو طاقتور بناتا ہے۔ جس طرح ویرانے میں خزانہ محفوظ ہوتا ہے، اسی طرح ریاضت سے ٹوٹے ہوئے جسم میں روحانی کمالات پروان چڑھتے ہیں۔
            • 6. اسباب اور مسبب الاسباب کا تعلق:یہ دنیا ظاہری اسباب (Cause and Effect) کے تحت چلتی ہے، لیکن اصل طاقت 'مسبب الاسباب' (اللہ) کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ جب چاہے اسباب کے بغیر کام کر دے (جیسے آگ کا حضرت ابراہیمؑ کے لیے گلزار بننا)۔ لہٰذا انسان کو اپنے ارادوں پر غرور کرنے کے بجائے ہمیشہ "ان شاء اللہ" کہنا چاہیے، کیونکہ دنیاوی اسباب کی حیثیت ایک "ہولوگرام" (Hologram) جیسی ہے، اصل وجود اور کنٹرول صرف اللہ کے حکم کا ہے۔

              اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

              أَمَّا بَعْدُ:

              أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

              معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس صبح کے وقت ہوتا ہے اور آج ان شاءاللہ حکایت نمبر 25 اس کا باقی حصہ جو ہے وہ پڑھا جائے گا۔ اس میں 21 اشعار ہو چکے تھے، 22 ویں اشعار سے ان شاءاللہ ابتدا ہوگی۔

              22

              لائقِ رشکِ ملائک ہستی کو

              مسخ کیا جو لے لیا اس پستی کو

              یعنی حضرت فرما رہے ہیں کہ 

               تو نے اپنے آپ کو اس پستی کے ساتھ اس فطرتِ (انسانیہ) سے (متغیر کر کے) جو رشکِ ملائکہ تھی، مسخ کر لیا۔

              جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ﴾ (التین: 4-5) یعنی ”ہم نے انسان کو بہتر سے بہتر ساخت کا پیدا کیا۔ پھر ہم اس کو کمتر سے کمتر مخلوق کے درجے میں لوٹا لائے“۔ فطرتِ انسانیہ میں یہ عجیب بات ہے کہ وہ علو و سفول دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھتی ہے۔ بخلاف اس کے دوسری مخلوقات اپنی فطرت کے خاص محدود و معین درجے پر قائم رہتی ہیں۔ ترقی و تنزل ان کے اختیار میں نہیں۔ 

              مولانا تنبیہًا فرماتے ہیں کہ تم بلحاظِ صلاحیت کمال و حسن تقویمِ رشکِ ملائکہ تھے مگر تنزل میں پڑ کر اپنے آپ کو مسخ کر لیا۔

              اللہ جل شانہ نے اختیار دیا ہے فجور لینے کا یا تقویٰ لینے کا۔ اگر فجور لے لے آدمی، تو پھر یہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہو سکتا ہے اور اگر تقویٰ لے لے، تو پھر ملائکہ بھی اس پر رشک کریں گے۔

              23

              مسخ صورت سے مسخ سیرت بد تر

              اس پہ کیا ہوگی تیری حالت بد تر


               پس اس سے بدتر مسخ کیونکر ہو سکتا ہے۔ اس مسخ (صورت) کے آگے یہ مسخِ (سیرت) نہایت گرا ہوا ہے۔

               اصل بات یہ ہے کہ مسخِ صورت سے وہ جو بندر بن گئے تھے لوگ، وہ مسخِ صورت تھا اور یہ جو ہے یہ مسخِ سیرت ہے۔ مسخِ سیرت سے مراد یہ ہے کہ انسان اچھے اخلاق سے برے اخلاق پہ چلا جائے۔ اب جیسے آپ ﷺ کے بہترین اخلاق اگر کوئی اپناتا ہے، تو فرشتے بھی اس پہ رشک کریں گے اور اگر انسان فجور کے راستے کو اختیار کر لے، تو شیطان کی طرح ہو جائے گا۔ شیطان کس طرح بن گیا تھا؟ شیطان اس طرح بن گیا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا اور اللہ پاک نے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا آدم علیہ السلام کو، تو وہ نہ کر سکا اور جب اس سے پوچھا گیا کہ تو نے کیوں نہیں کیا؟ تو کہتا ہے کہ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ» میں اس سے اچھا ہوں۔ «خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے، تو میں اس کو کیسے سجدہ کرتا؟ تو اللہ پاک نے نکال دیا، مردود کر دیا۔ تو یہ چیز بہت بری ہے کہ انسان اچھے اخلاق سے برے اخلاق کی طرف چلا جائے۔

              24

              جانبِ لذات کی ہمت اپنی

              نہ پہچانا قدر و منزلت اپنی

              یعنی تو نے لذتوں کے سامنے ہمت ہار دی۔ جیسے مثال کے طور پر کوئی sugar کا آدمی ہو، sugar جس کو ہو، اور وہ میٹھے کا سامنا نہ کر سکے اور میٹھا کھا لے، تو ظاہر ہے اپنی صحت کو گرا دے گا، نقصان کرے گا اپنا۔ اسی طریقے سے جو لذات حرام ہیں، ان لذات میں پڑ کر انسان اللہ سے دور ہوتا ہے، تو اس کی وجہ سے انسان اپنی قدر و منزلت گرا دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے اور فرشتوں کے سامنے۔ تو اس وجہ سے یہ فرمایا:

              جانبِ لذات کی ہمت اپنی

              نہ پہچانا قدر و منزلت اپنی

               تو نے اپنی ہمت کا گھوڑا چراگاہ (لذات) کی طرف دوڑایا (یا یوں کہو کہ تو نے اپنی ہمت کا گھوڑا پیش قدمی کے بجائے پیچھے کی طرف دوڑایا) اور (اپنے باپ) آدم علیہ السلام (کی منزلت) کو نہ پہچانا جن کے آگے فرشتے سر بسجود ہو چکے ہیں۔

               یعنی صلاحیت تو تم میں ایسی رکھی گئی تھی کہ تم ملائکہ کے مسجود بنا دیے گئے، لیکن کیا ہوا؟ تو نے اپنے آپ کو اپنے نفس کا غلام بنا دیا، نتیجہ ہوا کہ تو اپنی جگہ سے گر کے جانوروں سے بھی گیا گزرا ہو گیا۔

              25

              اے کپوت آخر تو آدم زاد ہے

              کیوں تحصیلِ دنیا میں برباد ہے

              اے کپوت! آخر تو آدم علیہ السلام کی اولاد ہے۔ بنی آدم جس کو ہم کہتے ہیں۔ کہاں تک (تحصیلِ دنیا) کی پستی کو بزرگی سمجھتا رہے گا۔

              اللہ اکبر!

              یہ جو دنیا کی چیزیں ہیں نا، جو انسان حرام طریقے سے کماتا ہے یا حرام طریقے سے استعمال کرتا ہے، تو یہ بالکل یہ بول و براز کی طرح ہے، جیسے گندگی ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی چیز انسان کے سامنے گندگی کھائے تو اس کو بڑی گھن آتی ہے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو فرشتے بھی جب ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ان کو بھی گھن آتی ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ مطلب دیکھو نا حرام کھا رہے ہیں۔ حرام چاہے کمانے کے لحاظ سے حرام ہو، چاہے اپنی ذات کے لحاظ سے حرام ہو جیسے شراب ہے یا سور کا گوشت ہے یا کوئی اور چیز ہے۔ تو بہرحال یہ کہ جس طریقے سے بھی حرام ہو، تو جو حرام کھائے گا، تو ظاہر ہے بزرگی سے پستی کی طرف جائے گا۔ 


              26

              یہ کہ عالم کو فتح کردوں ہمہ

              دیکھو نا پہلے لذت کی بات کی، تو لذت و حبِ لذات، یعنی حبِ باہ جس کو ہم کہتے ہیں، اس کی بات کی کہ تو اس کی وجہ سے اپنے آپ کو اتنا برباد کر رہا ہے۔ اب جو ہے نا، حبِ جاہ کی بات ہو رہی ہے۔

              26

              یہ کہ عالم کو فتح کردوں ہمہ

              حشم سے اپنے ہی پُر کر دوں ہمہ

               تو کب تک یہ دعوٰی کرے گا کہ میں سارا عالم فتح کروں گا اور اس جہان کو اپنے (خدم و حشم) سے پُر کر دوں گا۔

               یہ بھی ایک انسان کا جذبہ ہوتا ہے کہ میں سب کے اوپر غالب آ جاؤں۔ سب، جیسےشیطان، شیطان تھا۔ شیطان کیا تھا؟ وہ یہی تھا کہ میں سب سے اونچا ہو جاؤں، نتیجہ ہوا کہ سب سے نیچے ہو گیا، اسفل السافلین میں پہنچ گیا۔ تو اس طرح انسان بھی اگر دعویٰ کرتا ہے کہ میں سب سے اوپر رہوں، وہ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ کہتے ہیں نا "ہم چو من دیگرے نیست" (ہماری طرح کوئی اور نہیں ہے)، وہ اصل میں کہہ رہے ہیں "ہم چُو من ڈنگرے نیست" (میری طرح کوئی اور جانور نہیں ہے)۔ مطلب وہ یہ کہنا چاہتے ہیں۔

              27

              گر جہاں سب برف سے بھر جائے ہے

              پانی سورج کی تپش کر دے اسے


              یعنی اللہ پاک کا تو یہ نظام ہے کہ اگر ساری دنیا برف سے بھر جائے تو سورج کو پیدا کیا ہے، سورج کی تپش سے وہ سارا کا سارا پانی ہو جائے گا۔

              مطلب: اوپر ترکِ دنیا کی ترغیب دی تھی۔ اس سے پانچ سوال پیدا ہوتے ہیں اوّل یہ کہ طلب دنیا میں سابقہ جو گناہ صادر ہو چکے وہ مانعِ نجات ہیں۔ ان کا کیا علاج؟ دوم: تعلقات جو ہر طرف سے حاوی ہیں ان کو کیونکر منقطع کیا جائے؟ سوم: تخیلاتِ فاسدہ جو دل و دماغ میں جا گزیں ہو چکے، کیونکر زائل ہوں؟ چہارم: اخلاقِ ذمیمہ جو طبیعتِ ثانیہ بن چکے ہیں وہ کس طرح علاج پذیر ہوں گے؟ پنجم: ریاضات سے جو ضعفِ جسم اور اضمحلالِ قویٰ لازم آئے گا وہ متحملِ عبادات کیونکر ہونے دے گا؟ اب ان پانچوں سوالوں کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔ چنانچہ پہلے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں۔ ہوسِ دولت اور طلبِ دنیا میں جو معاصی و ذنوب ہو چکے ہیں ان کے خیالات سے اپنی نجات کو نا ممکن تصور نہ کرو۔ بلکہ اس غفارِ ذنوب کی ایک نگاہِ کرم گناہوں کے دفتر دھو ڈالتی ہے۔ 

              جیسے سورج کی تپش کا بتا دیا کہ وہ برف کو سارے کا سارا پگھلا دے گی۔

              گناہوں کے عظیم بار کو انبارِ برف سے تشبیہ دی ہے اور ان کے معاف ہونے کی تمثیل برف کے پگھلنے سے کی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شعر کا تعلق شعرِ سابق سے ہو۔ پھر یوں مطلب ہو گا کہ تو کب تک ہفت اقلیم کو اپنے اقتدار سے پُر کرنا چاہتا ہے اگر ایسا بھی ہو جائے تو خدا کی نگاہِ جلال کے سامنے تیرا اقتدار ایک انبارِ برف سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا جو چند لمحہ میں پانی پانی ہو کر بہہ جاتا ہے۔

              دیکھیں انسان کی قدر و قیمت اس کی اس position کے ساتھ ہے جو اللہ نے اس کو دی ہوئی ہے۔ اس position سے اگر گرا دے تو اس کی کچھ بھی value نہیں ہوتی۔ میں عرض کرتا ہوں جیسے انسان بہت بڑی post پر ہوتا ہے، اور ایک دم retire ہو جائے یا demote ہو جائے، کوئی اور ہو جائے، تو آن کی آن میں سارا کچھ اس کا نظام بدل جائے گا، بعض دفعہ انقلاب آ جاتے ہیں، انقلاب سے بھی، وہ جیسے جو اموی بادشاہ، خلیفہ تھے آخری، تو ان کے سامنے عباسیوں کی خاتون وہ کر رہی تھی۔ تو نہیں وہ کوئی آدمی آیا اور اس کو وہ سوال کر رہا تھا، تو عباسی خلفاء کی وہ جو تھی وہ بیٹھی ہوئی تھی، تو اس نے اس کو بہت دھمکایا، اور مطلب اس کو نکال دیا، سخت اس کے ساتھ سختی کی۔ تو اس پر بعد میں جب دیکھا، تو وہ اس طرح وہ ایک دفعہ پھر ایک صاحب بیٹھا ہوا ہے، وہ کھانا کھا رہے ہیں، اس کی بیوی ہے، تو ایک آواز آتی ہے سائل کی، تو یہ باہر بیوی جاتی ہے تو رو پڑتی ہے۔ تو انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہتی ہے وہ جو میرا خاوند تھا نا جس سے بعد میں طلاق ہو گئی تھی، اور اس کی غربت کی وجہ سے وہ سارا، تو وہ سائل ہے وہ آیا ہوا ہے۔ تو اس خلیفہ نے اس وقت کہا، آپ کو پتا ہے پہلے جو آیا تھا وہ میں تھا جو سائل تھا۔ تو اللہ پاک نے نظام الٹا کر دیا، یعنی ایک خلیفہ تھا اس کو فقیر بنا دیا، جو فقیر تھا اس کو خلیفہ بنا دیا۔ تو ایسا ہو سکتا ہے، مطلب یہ ہے کہ کوئی مشکل نہیں اللہ تعالیٰ کے لیے۔

              28

              گر خدا چاہے تو کر دے خاک سب

              عشق کی چنگاری پڑے ان سب پر


               خداوند تعالیٰ (اگر چاہے تو) اس (وزیر) کے بار (علائق) کو اور اس جیسے لاکھوں کے بارِ (علایق) کو (اپنے عشق کی) ایک چنگاری سے نیست و نابود کر دے۔

              مطلب: اس شعر میں دوسرے سوال کا جواب ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ علائقِ دنیا کو بھی ترکِ دنیا سے مانع سمجھو۔ کیونکہ ان کا علاج عشق ہے۔ جو علائق کے انبار کے لیے وہ تاثیر رکھتا ہے جو خرمن کے لیے ایک شرارہ۔ آتشِ عشق کی بدولت نہ صرف دیگر علائق سے بلکہ خود اپنی ذات کے تعلق سے بھی آزادی مل سکتی ہے۔

              واقعتاً انسان اپنے نفس کی جب اصلاح کرتا ہے نا تو بہت مشکل ہوتا ہے، ایک پہاڑ کی طرح ہے۔ آسان نہیں ہے اپنے نفس کے خلاف کام کرنا۔ دوسری چیزوں کو کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اپنے آپ کو ٹھیک کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بہت مشکل ہوتا ہے، دوسروں کے لیے سوچنا آسان ہے۔ وہ کیسے ٹھیک ہوتا ہے؟ وہ تب ٹھیک ہوتا ہے جب انسان کو اللہ کے ساتھ اتنی محبت ہو جائے کہ اس کے لیے اس کو مشکل سے مشکل کام کرنا آسان ہو جائے۔ تو یہ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی محبت سے حاصل ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی محبت اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے یا اللہ والوں کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے۔ تو اگر کسی شخص کو اللہ کے ساتھ عشق ہو جائے، تو اس کے لیے ساری کی ساری چیزیں آسان ہو جائیں گی۔ یہ مطلب یہ فرمایا۔ 

              یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وِزر سے مراد بارِ گناہ ہو اور شعر سابق کا ہم مضمون ہو۔ یعنی خدا تعالیٰ کی بخشش سے نا امید نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب اس کی رحمت جوش میں آتی ہے تو وزیر جیسے لاکھوں شقی بھی اس کی مغفرت سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔

              جی ہاں بالکل! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کو شہید کرنے کے لیے آ رہے تھے اور جب اللہ کی رحمت کی نظر اس پر پڑی تو ماشاءاللہ نمبر دو position پہ آ گئے مسلمانوں میں۔ عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں سے بھاگ رہے تھے، غصے میں حبشہ جا رہے تھے، راستے میں طوفان آ گیا، کشتی ڈانوا ڈول ہونے لگی۔ اس پر جو ہے نا وہ ملاح نے کہا کہ آسمان والے رب سے مانگو۔ تو اس نے کہا لات و ہبل سے کیوں نہیں؟ اس نے کہا کہ اس وقت وہ کام نہیں دیتے۔ کام نہیں دے سکتے، اس وقت بس آسمان والا رب ہی کر سکتا ہے۔ تو اس نے کہا خشکی پر بھی نہیں کر سکا، مسلمانوں نے ہمارا کچومر نکال دیا اور سمندر میں بھی نہیں کر سکتا، تو کیا ضرورت ہے لات و ہبل کی؟ واپس کرو کشتی! تھے تو سردار۔ کشتی ان کو واپس کرنی پڑی۔ جب اترے ساحل پر تو ان کی بیوی راستے میں اس کو ملی، اس نے آپ ﷺ سے ان کے لیے امان لے لیا تھا، تو ان کے ساتھ چلی، مسلمان ہو گئے ماشاءاللہ۔ اس طرح ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی، حالانکہ مسلمانوں کے خلاف تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شقی بھی ہے، لیکن اگر اللہ کی مغفرت کا دریا جوش میں آ جائے تو اس کو بھی ہدایت مل سکتی ہے۔ اس لیے مایوس کبھی نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ پاک نے اس کے لیے special ایک آیت اتاری ہے۔ اور وہ کیا ہے؟

              «لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ ۚ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا»

              اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ جل شانہ سارے کے سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، کر سکتا ہے، کر لیتا ہے۔

              29

              باطل جو خیالات ہیں حکمت بنے

              زہر ہلاہل سے بھی شربت بنے

              یعنی جو باطل خیالات ہیں، اس کو بھی حکمت بنا سکتا ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپ سے کہہ رہے ہیں، اے عمر، دیکھو تو کیا تھا، تیرا چچا تجھے کہہ رہا تھا کہ تو ایک اونٹ کو بھی نہیں چرا سکتا اور اب پوری مملکت کو چلا رہا ہے۔ بالکل بات تو تھی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ تو یہ بات ہے کہ اگر انسان کے خیالات باطل بھی ہوں یا غبی بھی ہو، لیکن جب اللہ جل شانہ کی رحمت کی نظر اس پر پڑ جائے تو اس کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتے ہیں۔ 

              اس شعر میں باقی دونوں سوالوں کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو تخیلاتِ باطلہ اور علوم ضارّہ بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ 

               بلکہ وہ کھاد بن جاتے ہیں۔ یعنی اس کے ذریعے سے وہ ان کو محالات معلوم ہوتے ہیں کہ غلط چیزوں سے کیسے انسان بچ سکتا ہے، کیوں غلط چیزیں معلوم ہوتی ہیں، تو اس کے علم کا ایک بنیاد بن جاتا ہے۔

              بلکہ وہی علومِ ضارّہ کئی وجود سے مفید ہو جاتے ہیں۔ یعنی اوّل ان علوم کو پڑھنے والے شرور سے واقف ہو کر محتاط ہو سکتے ہیں۔ دوم ان کی قوتِ استدلال بڑھ جاتی ہے۔ سوم وہ علومِ باطلہ کا علومِ حقّہ سے موازنہ کر کے ان کا بطلان معلوم کر سکتے ہیں۔

              جیسے ایک فلسفی آدمی اگر صحیح معنوں میں دین کی طرف آ جائے تو فلسفہ کے تمام نقصانات کو جانتا ہوگا۔ لہٰذا وہ تمام نقصانات کا جواب دے سکے گا۔ Tit for tat والی بات ہوتی ہے نا، diamond cuts diamond۔ لہٰذا ایک فلسفی فلسفی کا جواب دے سکتا ہے۔ تو جیسے امام رازی رحمۃ اللہ علیہ، فلسفے کی طرف سے آئے تھے نا، تو انہوں نے تفسیرِ کبیر لکھی ہے۔ سبحان اللہ! تو مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ظاہر ہے کر سکتا ہے، اس پر قادر ہے۔ تو یہ ہے کہ 

              چہارم ان کی تردید پر قادر ہو سکتے ہیں وغیرہ۔ غرض اگر اعتبار و استبصار کا مادہ ہو تو مضر باتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

              مجھے بتاؤ یہ جتنے بھی، آپ سے پوچھتا ہوں، یہ جتنی بھی دوائیاں ہیں، کیا یہ ، زہر ہیں یا نہیں ہیں؟ ہے تو زہر ہی نا! اب dose آپ مقرر کریں گے نا۔ یعنی اگر زیادہ تعداد میں کھائیں گے تو زہر ہے۔ بس تھوڑی مناسب dose میں کھائیں تو دوا ہے۔ اب مثال کے طور پر آپ کے جسم میں پہلے سے اس کا کوئی dose موجود ہے۔ اور یہ اس کے ساتھ مل جائے۔ تو یہی زہر بن جائے گا۔ یہی زہر بن جائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ہیں اگر جو زہر ہے، اس سے بھی اللہ پاک کام لے لیتا ہے، اس کو بھی استعمال کرواتا ہے۔

              پھر فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اخلاقِ ذمیمہ کو بھی اخلاقِ حمیدہ بنا دے۔ 

              اخلاقِ ذمیمہ کے اخلاقِ حمیدہ میں تبدیل ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ نفسِ انسانی میں تین طاقتیں موجود ہیں۔

               اب دیکھو تفصیل سنو۔

              ایک قوتِ ناطقہ، دوسری قوتِ غضبیہ، تیسری قوتِ شہویہ، اور ان تینوں طاقتوں میں صدورِ فعل کے خاص خاص ملکات موجود ہیں۔ اگر یہ طاقتیں اعتدال پر ہوں تو ان کے ملکات بھی معتدل اور محمود ہوتے ہیں اور ان کا نام اخلاقِ فاضلہ یا اخلاقِ حمیدہ ہے، اور اگر یہ قوتیں معتدل نہ ہوں بلکہ ان کا میلان افراط یا تفریط کی طرف ہو تو ان کے ملکات بھی درجۂ اعتدال سے بعید اور افراط یا تفریط کی طرف مائل ہوتے ہیں، اس لیے اخلاقِ رذیلہ یا ذمیمہ کہلاتے ہیں۔ مثلًا قوتِ غضبیہ اعتدال پر ہو تو اس کے بہت سے ملکات میں سے ایک ملکۂ حمیت ہے۔ جو اخلاقِ فاضلہ میں سے ہے۔ لیکن اگر وہ قوت اعتدال پر نہ ہو تو افراط کی صورت میں وہی ملکہ غضب کی صورت رکھتا ہے اور تفریط کی حالت میں وہ بے غیرتی ہے۔ (جبن جس کو ہم کہتے ہیں۔) اور یہ دونوں اخلاقِ ذمیمہ میں داخل ہیں۔

              اخلاقِ ذمیمہ کا علاج یہ ہے کہ مجاہدات و ریاضات کے ذریعہ سے مذکورہ قوتوں کو اعتدال پر لایا جائے تاکہ ان کے ملکات بھی معتدل ہو جائیں پھر وہی ملکہ جو زیادتی کی صورت میں درندے کی سی خونخواری اور کمی کی حالت میں بے غیرتی اور بے حمیتی سے موسوم تھا معتدل ہو کر حمیت و غیرت بن جاتا ہے۔ گویا تبدیلِ ملکات یا اصلاحِ اخلاق کا خاص ذریعہ ریاضات و مجاہدات ہیں۔ جو شیخِ کامل کی ہدایت کے ماتحت یا کتبِ اخلاق و تصوف کی تعلیم کے موافق کئے جاتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ وہ قادرِ مطلق جل شانہ اگر چاہے تو ریاضت و مجاہدہ کے بغیر اخلاقِ رذیلہ کو اخلاقِ حمیدہ بنا دے۔


               اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کو ہم محبوبین کہتے ہیں۔ یہ جو محبوبین ہوتے ہیں نا ان کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے، لیکن یہ ہے کہ عمومی طور پر تو انسان کو ریاضت و مجاہدات کرنے چاہییں۔

              30

              ویرانہ محفوظ خزانہ کرے

              خار کو گل کرے جسم کو جاں کرے

              یعنی ویرانے میں خزانہ محفوظ ہوتا ہے۔ کیسے؟ ویرانے میں لوگ سمجھتے ہیں نا، یعنی کہ اس میں کیا ہوگا؟

              ایک دفعہ میں نے مکان کے لیے پیسے لیے تھے نا تو مکان کی registry کرانی تھی، میں نے کہا گھر والوں کو بتاؤں گا تو یہ پتا نہیں گھبرا جائیں گی کہ اس کی کیا حفاظت کریں گی؟ تو میں نے کاغذات کا جو ہوتا ہے نا ٹوکری، ویسے جو نیچے، اس میں پڑی ہوئی تھی سیڑھیوں کے نیچے، تو اس میں میں نے رکھ دیے۔ ان سے کہہ دیا کہ یہ کاغذات ہیں۔ کچھ کاغذات صحیح بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس کو جلانا ولانا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی ضرورت پڑے تو مجھے بتانا ہے۔ بس اتنا میں نے کہہ دیا۔ اس میں پڑے رہے، ظاہر ہے مطلب اب کون اس کو کہہ سکتا ہے کہ بھئی یہاں پر پیسے پڑے ہوں گے کہ تین لاکھ 27 ہزار روپے تھے اس وقت پڑے تھے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ویرانہ جو ہے وہ خزانے کو محفوظ رکھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے کہ آپ کوئی، کسی کا خیال بھی نہیں جائے گا کہ یہاں پر بھی کوئی چیز ہوگی۔

              خار کو گل کرے جسم کو جاں کرے

              یعنی کانٹے کو پھول بنا دے اور جسم کو جاں کر دے، یعنی روح بنا دے۔

              وہ (قادرِ مطلق) ویرانہ میں خزانے محفوظ رکھتا ہے، کانٹے کو پھول اور جسم (کثیف) کو (بمنزلہ) روح لطیف بنا دیتا ہے۔

              مطلب: یہ شعر جواب ہے پانچویں سوال کا۔ یعنی یہ خوف نہ کرو کہ ریاضت سے جسم میں ضعف اور قوتوں میں اضمحلال پیدا ہو جائے گا جو مانعِ اعمال ہو گا۔ فرماتے ہیں کہ جس طرح وہ قادرِ مطلق گراں بہا خزانے ویرانوں میں مدفون رکھتا ہے۔ اسی طرح دولتِ کمال کو بھی ویران جسم اور تباہ حال بدن میں محفوظ بلکہ ترقی پذیر رکھتا ہے۔ 

              پھر فرماتے ہیں کہ ریاضات بے شک جسم کے لیے تباہ کن ہیں۔ مگر اس کی قدرت سے یہی خار مرتاض کے لیے پھول بن جاتے ہیں۔

              اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ریاضت کی تکالیف برداشت کر لو گے تو بفضلِ خدا تمہارا جسمِ مضمحل و بدنِ منکسر باوجود اپنی ظاہری بد نمائی کے باطنی نزاہت و نفاست کی بدولت بمنزلۂ روح ہو جائے گا۔

               مطلب یہ ہے کہ ریاضت کیا چیز ہے؟ یہ انسان کی جو فطرتی سستی ہے اس کو دور کرتا ہے۔ جیسے انسان کے اندر ہوتی ہے، جس کو ہم کہتے ہیں Inertia …  Inertia ہوتی ہے نا، جس حالت پر ہے اس حالت کو تبدیل نہیں کرتا، تو اس کو دور کرتا ہے۔ یہ جیسے ریاضت کی بات ہوتی ہے۔ تو جب انسان ریاضت کے ذریعے سے اپنے قویٰ کو متحرک کرتا ہے، تو پھر بڑے بڑے کام بھی کر لیتا ہے، اس کے بعد اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ تو یہ فرمایا۔

              31

              وہ گماں کی بات کو یقین کر دے

              اور بنائے کینہ سے محبتیں

              یعنی اس کے اندر تو ایسے تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے کہ وہ گماں کی بات کو بھی یقین کی صورت میں بنا دے گا۔ کیا فرمایا؟

              «أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي»

              میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ تو گمان ہوتا ہے نا، تو اس کو یقین بنا دیتا ہے۔

              اور بنائے کینہ سے محبتیں

              کینہ رکھنے والا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ ﷺ کے ساتھ کینہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو محبت میں بدل دیا۔ کیا سے کیا ہو گیا۔

              اس شعر میں عجائباتِ قدرت کے دیگر نظائر بیان کیے ہیں کہ وہ قادرِ مطلق قوتِ قیاسیہ کو، جو شبہات ضلالت خیز اور وساوسِ جہالت آمیز کی سر چشمہ ہے، علومِ یقینیہ و حقیقیہ کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اور جن امور سے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے بغض و عداوت پیدا ہوتی ہے، مثلًا اموالِ دنیا جب کہ ظلمًا و غصبًا ان کے حصول کی کوشش کی جائے، وہ ان کو وسیلۂ محبت بنا دیتا ہے۔ جیسے کہ احسان و مروت کے طور پر بذل مال کرنے سے ہوتا ہے۔

              32

              پرورش کر دے آگ ابراہیم کا

              خوف بنے باعث امید و بیم کا

              یعنی جو آگ ہے وہ جلانے والی ہے لیکن وہ ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کرتی ہے۔ اور جو خوف ہے، انسان کو جو خوف ہوتا ہے، وہ بجائے امید و بیم کا ذریعہ بن جائے۔ 

               وہ آگ میں ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کرتا ہے (اور موجب) خوف (یعنی آگ) کو روح کے لیے (باعث) امن بنا دیتا ہے۔

              33

              اک طرف اسباب اس کے کامل بہت

              حکم سے اس کے ہو سب باطل بہت


              مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو اس کے اسباب اتنے کامل ہیں کہ اس میں کوئی کمی نہیں ہے، اور دوسری طرف اس کے حکم سے سارا کچھ دھڑام سے گر سکتا ہے، جو کچھ موجود ہے۔ یعنی 

               اس کی علت آفرینی سے میں دیوانہ ہوں اور اس کے ابطالِ سبب سے میں (ایک) سُوفسطائی (کی طرح حیران) ہوں۔

              مطلب: فرماتے ہیں کہ ایک طرف تو میں عالمِ کائنات کو علل و اسباب کے سلسلے سے مربوط و تسلسل دیکھ کر حیران ہوں۔ دوسری طرف جب اس کی قدرت سے ایسے امور وقوع پاتے ہیں جن میں سلسلۂ علل و اسباب کی کوئی پابندی نظر نہیں آتی۔ جیسے خلقِ حضرت آدم علیہ السلام، آگ میں سلامتیِ حضرت ابراہیم علیہ السلام، آفرینشِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، ناقۂ حضرت صالح علیہ السلام، عصائے حضرت موسیٰ علیہ السلام، وغیرہ۔ تو میں سوفسطائیہ کی طرح یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ سلسلۂ علل محض وہم و خیال ہے۔ درحقیقت خدا کے حکم اور قدرت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ 

              یہاں پر حضرت نے ایک بڑی بات فرمائی ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش فرمائیں۔ اصل میں اللہ پاک نے اسباب کو ذریعہ بنایا ہے کاموں کا دنیا میں۔ بطورِ حکمت، یعنی حکمت کے طور پر اسباب ہیں۔ جیسے پانی آگ کو بجھا دیتی ہے، آگ چیزوں کو جلا دیتی ہے، اوپر سے کوئی گرتا ہے تو چوٹ لگتی ہے، مر بھی سکتا ہے، زہر سے انسان مر جاتا ہے، یہ ساری چیزیں اسباب ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے، وہ اسباب کو پیدا کرتا ہے اور اسباب کو مؤثر کرتا ہے۔ اگر اسباب کو مؤثر نہ کرے تو اسباب کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ چیز کبھی کبھی اللہ پاک ظاہر کر دیتا ہے۔ اگر نبی کے ہاتھ پہ ظاہر کر دے، تو یہ معجزہ ہے اور اگر ولی کے ہاتھ پر ظاہر کر دے تو کرامت ہے۔ تو اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ جو اسباب ہیں، یہ مسبب الاسباب کے حکم سے ہیں۔ اگر وہ اپنا حکم اس سے ہٹا دے تو یہ اسباب کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ بات ہے۔ تو اس سے مطلب جو ہے نا کہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ جس وقت میں اللہ تعالیٰ کے اس کام کو دیکھتا ہوں کہ وہ اسباب کو bypass کر لیتا ہے، تو مجھے پتا چلتا ہے کہ اسباب تو کچھ بھی نہیں، مجھے پتا ہے بھئی میں جو کر رہا ہوں، پتا نہیں اس سے ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ تو سوفسطائی اس طرح کرتا ہے نا، وہ کہتا ہے کہ پتا نہیں ہو گا یا نہیں ہو گا، پتا نہیں میں ہوں یا نہیں ہوں۔ تو فرمایا کہ میں جب کوئی کام کرتا ہوں، تو مجھے کیا پتا کہ ہو یا نہ ہو؟ یہی تو "ان شاءاللہ" کی بات ہے۔ جس وقت ہم کوئی کام کرتے ہیں تو ہم کیا کہتے ہیں؟ ان شاءاللہ! اور جب ہو جاتا ہے تو کیا کہتے ہیں؟ ماشاءاللہ! ٹھیک ہے نا، مطلب یہ ہے کہ یعنی اللہ جل شانہ چاہے گا تو ہو گا۔ 

              "وہ ایک شخص تھے جا رہا تھا بازار۔ تو دوست ملا اس کو، دوست نے پوچھا کدھر جا رہے ہو؟ اس نے کہا بازار جا رہا ہوں۔ کیا کرنے؟ کہتا ہے گدھا لینے۔ (دوست نے کہا) کہہ دے ان شاءاللہ۔ کہتا ہے ان شاءاللہ کی کیا ضرورت ہے؟ پیسے میری جیب میں ہیں، گدھا بازار میں ہے، میں لے لوں گا۔ (دوست نے) کہا اچھا چلے جاؤ۔

              وہاں گیا تو اس کی جیب کٹ گئی۔ جیب کٹ گئی، اب سودا ہو گیا گدھے کا، پیسے نکالے تو جیب ہی نہیں! اب بڑا گھبرا گیا، لیکن بہرحال بیچارہ مرجھایا ہوا آ رہا ہے واپس۔ تو دوست نے اس کو دیکھا، پتہ تو چل گیا کہ کیا ہوا ہے۔ اس نے کہا بھئی کیا ہوا ہے بھئی؟ گدھا کدھر ہے؟ اس نے کہا: "ان شاءاللہ میری جیب کٹ گئی ہے!" ... پھر ہر چیز کے ساتھ ان شاءاللہ کہہ رہا تھا۔

              تو یہی بات ہوتی ہے کہ انسان اپنا ارادہ کرتا ہے کہ میں نے یہ کام کرنا ہے۔ لیکن اس کا ارادہ اللہ کے ارادے کے تحت ہے۔ اگر  اللہ کا ارادہ بھی ہوگا، اس وقت وہ کام ہوگا۔ اگر اللہ کا ارادہ نہیں ہوگا، تو کام نہیں ہوگا۔ یہ تو ہم اپنے سامنے سارے دنیا کے کاموں میں دیکھتے ہیں۔ کہ اچھا خاصی تیاری کی مگر، دیکھو نا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا جو قول ہے، وہ کیا ہے؟

              فرمایا: «عَرَفْتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ»

              کہ میں نے رب کو پہچانا اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے۔

              کہ جب میں کوئی ارادہ کرتا ہوں، اور وہ کام اس طرح نہیں ہوتا، تو میں سمجھتا ہوں کوئی اور ہے جو فیصلہ کرنے والا ہے، میں نہیں ہوں۔ تو یہ بات ہے۔ تو اس طرح اس قسم کی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں۔


              34

              اسباب سازی میں سرگرداں ہوں میں

              توڑ سے ان اسباب کے پریشان ہوں میں


              یعنی اسباب کو تو میں تیار کرتا ہوں، اس میں میں سرگرداں رہتا ہوں، لیکن جس وقت میں دیکھتا ہوں کہ اسباب کام نہیں کرتے تو پھر پریشان ہو جاتا ہوں۔ یعنی 

              یہ شعر تاکید ہے شعر سابق کے مضمون کی۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے علت و معلول میں جو حیرتناک ترتّب قائم کیا ہے اس کے گہرے اسرار کے متعلق تو مجھے حیرانی تھی ہی، دوسری طرف جب وہ کوئی کام بلا علت کر دکھاتا ہے تو اس سے ایک اور ہی حیرت ہوتی ہے۔

              سوال: سوفسطائیہ فلاسفہ کا ایک گمراہ فرقہ ہے۔ جو حقائقِ اشیاء کا منکر ہے اور حقیقتِ اشیاء کا انکار ضلالت و جہالت ہے۔ پھر مولانا نے سوفسطائیم کیوں کہا؟ یعنی اپنے لیے یہ لقب کیوں استعمال کیا؟

              جواب: سوفسطائیہ تمام حقائقِ اشیاء کو باطل اور محض وہم و خیال قرار دیتے ہیں اور یہی وہ خیال ہے جو دینِ حق کے نزدیک ضلالت ہے۔ قرآن مجید میں وارد ہے: ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴾ (المومنون: 115) ”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو فضول و بے فائدہ پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے“۔ مگر مولانا کے قول سُوفسطائیم میں یہ عقیدہ مراد نہیں بلکہ ان کی حیرت سے تشبیہ مقصود ہے یعنی میں جب علت کو معلول پر مؤثر نہیں پاتا تو سلسلۂ علل کے متعلق مجھے بھی وہی حیرت دامن گیر ہوتی ہے جو سوفسطائیہ کو ہے۔  

              مطلب شک کی بات ہو جاتی ہے نا۔ شک میں۔۔۔ دیکھو نا میں کہتا ہوں میں نے کام کرنا ہے، پتا نہیں ہوگا نہیں ہوگا؟ تو اس میں مشابہت ہے نا۔ سوفسطائی بھی تو وہ کہتے ہیں پتا نہیں میں ہوں یا نہیں ہوں، تو مشابہت ہے اس میں۔ اس وجہ سے اپنے آپ کو سوفسطائیہ کے طور پہ کہہ دیا اور مشابہت میں ساری چیز بالکل ایک طرح ہونا یہ ضروری نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں فلاں چاند کی طرح خوبصورت ہے، تو کیا چاند بن گیا؟ بس صرف چاند کی روشنی کی ایک مشابہت ہے کہ اس کا چہرہ نورانی ہے یا کوئی اس طرح وہ بتاتے ہیں۔ باقی یہ کہ وہ باقاعدہ وہ شیر کی طرح بہادر ہے تو شیر تو نہیں بنتا ۔ 

              لیکن فرق یہ ہے کہ سوفسطائیہ تو تمام اشیاء کی حقیقت کے متعلق حیران ہیں اور مولانا صرف تاثیرِ علت کے متعلق اظہارِ حیرت کرتے ہیں اور تشبیہِ نفس حیرت میں ہے نہ کہ عقیدے میں۔ 

              سوال: بعض صوفیہ کے کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عالم محض وہم و خیال ہے۔

              اس خیال میں اور سوفسطائیہ کے عقیدہ باطل میں کیا فرق ہے؟

              سبحان اللہ! 

              جواب: صوفیہ کے کلام میں جو عالم کو وہم خیال کہا گیا ہے۔ اس میں عالم کے ثبوت و تحقق کی نفی نہیں۔ ورنہ یہ عقیدہ معاذ اللہ عین سوفسطائیہ کے عقیدے کے موافق ہو جاتا۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ عالم کا وجود بالاستقلال کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ حقیقی اور کامل وجود صرف اللہ کا ہے اور غیر اللہ کا وجود ظاہری اور ناقص ہے اور اس کے وجود کے تابع ہے۔

              دیکھو نا مطلب یہ والی بات ہے کہ وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہے۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں، آج کل hologram آئے ہوئے ہیں نا؟ تو hologram ایسے کیمرے ہوتے ہیں مختلف direction سے لگے ہوتے ہیں کہ وہ ایک three-dimensional picture بناتے ہیں۔ یعنی ہم یہاں کمرے میں بیٹھے ہیں تو آپ دیکھیں گے درمیان میں ادھر ہاتھی گزر رہا ہوگا۔ تو آپ کہیں گے بھئی یہ ادھر ہاتھی کدھر سے آ گیا؟ نظر آ رہا ہوگا باقاعدہ بالکل ہاتھی کی طرح three-dimensional۔ تو اب بات یہ ہے کہ وہ صرف کیمروں کی بادشاہی ہوتی ہے۔ اب وہ کیمرے پیچھے سے off کر لے ہاتھی غائب۔ ہاتھی کا وجود ہی نہیں پھر۔ تو وہ اس کی جو موجودگی ہے، وہ صرف اس کیمروں کے اس سے تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ چیز موجود ہے، اللہ کا حکم ہٹ جائے تو کچھ بھی نہیں۔ مطلب یہ اس قسم کی بات ہے۔

              علاوہ ازیں اہلِ سلوک جمالِ لَمْ یَزَلْ کے مشاہدہ میں اس قدر محو و مشغول رہتے ہیں کہ ان کی نظر میں باقی تمام موجودات کالعدم ہو جاتی ہیں،  کالعدم، کالعدم کا لفظ کیا ہے؟ عدم کی طرح۔ عدم نہیں۔ کالعدم ہو جاتی ہیں، اگرچہ وہ حقیقتًا معدوم نہیں ہوتیں۔  «وَمَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا» قرآن میں تو فرمایا کہ تو نے اے اللہ اس کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا وجود بھی ہے، اس کا تمام چیزوں کا وہ اسباب کے دائرے میں ہے، لیکن اصل میں کچھ بھی نہیں ہے، اللہ کا حکم ہی ہے۔ اللہ کا حکم ہی ہے۔ یہ بات ہے۔


              تو اس سے جو ہے نا حکایت نمبر 25 پورا ہو جاتا ہے۔ 


              جاری ہے ان شاءاللہ