اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿268﴾ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴿269﴾ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۗ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ﴿270﴾ اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۚ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۗ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ ۗ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ ﴿271﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے؛ اور اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، ہر بات جاننے والا ہے ﴿268﴾ وہ جس کو چاہتا ہے دانائی عطا کر دیتا ہے، اور جسے دانائی عطا ہو گئی اسے وافر مقدار میں بھلائی مل گئی۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو سمجھ کے مالک ہیں ﴿269﴾ اور تم جو کوئی خرچ کرو یا کوئی منت مانو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور ظالموں کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿270﴾ اگر تم صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے؛ اور اگر ان کو چھپا کر فقراء کو دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے۔ اور اللہ تمہاری برائیوں کا کفارہ کر دے گا؛ اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے ﴿271﴾ (اے پیغمبر!) ان (کافروں) کو راہِ راست پر لے آنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے راہِ راست پر لے آتا ہے۔
بعض انصاری صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے، اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔
تو اصل میں جو ہدایت ہے وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ تو بہت ساری آیاتِ کریمہ میں اس طرح ہے۔ بلکہ اس میں "إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ" یہ آیت بھی، کہ جس کو تو چاہے ضروری نہیں کہ اس کو ہدایت ملے۔ تو ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لیکن جو پڑوسی کا اور رشتہ داری کا حق ہے وہ تو اپنی جگہ پر ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں پہ بھی اگر کوئی وسعت کر دے تو ایک تو یہ بات ہے کہ ان کا حق ادا ہو جائے گا، دوسری بات یہ ہے کہ اسی سے متاثر ہو کر وہ ایمان بھی لا سکتے ہیں، مطلب ان کے لیے یہ بھی راستہ کھل سکتا ہے۔
اس وجہ سے جو کسی کے کفار رشتہ دار ہیں تو ان کے ساتھ یہ معاملہ ہو سکتا ہے، تو جب کفار کے لیے یہ معاملہ ہو سکتا ہے تو گناہ گاروں کے لیے تو بدرجہا یہ بات ہو سکتی ہے کہ جو گناہ گار ہیں ان کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ مطلب ان کے لیے یہ نہیں کہ جو متقی ہو ان کو تو آپ خرچ کے لیے دیں اور جو گناہ گار ہوں آپ ان کو نہ دیں، اگر آپ کی وسعت ہے اور اللہ کی خوشنودی کے لیے آپ کرنا چاہتے ہیں تو ان سب کو آپ دے دیں گے۔
اور یہ بات یہاں پر فرمائی کہ جس کو دانائی عطا کی گئی اس کو بہت زیادہ وافر مقدار میں بھلائی مل گئی۔ کیونکہ دانائی سے وہ سبحان اللہ دین کا بھی خیال رکھے گا، اپنی دنیا کا بھی خیال رکھے گا جو جائز دنیا ہے اس کا بھی خیال رکھے گا، اس کو کوئی دھوکہ بھی نہیں دے سکے گا اور نہ وہ کسی کو دھوکہ دے گا۔ جیسے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے
"لَا یَخْدَعُ وَلَا یُخْدَعُ"، نہ وہ دھوکہ دیتا ہے نہ وہ دھوکہ کھاتا ہے۔ تو قیصر نے کسی سے پوچھا تھا اس نے جب کہا کہ ہمارے خلیفہ ایسے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ "دھوکہ نہیں دیتا یہ تو ان کی دیانت داری ہے، ایمانداری ہے، اور دھوکہ نہیں کھاتا یہ ان کی عقلمندی ہے"۔
تو یہ بات ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ دانائی عطا فرما دیں، تو وہ دانائی جو ہے وہ ماشاء اللہ بہت کام آتی ہے۔ مثلاً یہ دیکھو کس وقت بولنا ہے کس وقت نہیں بولنا، کس وقت ملنا ہے کس وقت نہیں ملنا، کس سے کیا بات کرنی ہے، کس طرح کوئی کام کرنا ہے، یہ سب دانائی میں آتی ہیں۔ تو جو دانائی والا ہوتا ہے تو وہ ظاہر ہے... لیکن یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ اپنی دانائی کو صرف دنیا کے لیے استعمال کرتے ہیں تو دنیا کے فوائد تو ان کو حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن وہ دین میں نہیں استعمال کرتے۔ تو اس وجہ سے اصل دانائی وہ ہے جو اس کو وہاں کامیابی دلا دے۔ تو اس کا Side effect وہ یہ ہوتا ہے کہ یہاں پر بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اصل میں دانائی وہی ہوتی ہے کیونکہ جو وہاں کی پرواہ نہیں کرتا اور یہاں کے لیے سب کچھ کرتا ہے وہ دانا کہاں ہے؟ وہ تو دانا نہیں ہوئے۔
تو جو لوگ وہاں کا خیال رکھتے ہیں یعنی میرے وہاں کے حالات درست ہو جائیں، تو اس کی برکت سے یہاں کے حالات بھی درست ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کا اصل میں Target جو ہوتا ہے وہاں کی بات۔۔۔ کیونکہ ہوشیار وہی ہے جو وہاں پر اپنی زندگی کو بہتر کر دے۔ جیسے اللہ پاک نے قرآن میں پاک میں فرمایا: "إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ"۔ جو کائنات کی تخلیق میں اور دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
لیکن عقلمند کون لوگ ہیں؟ اللہ پاک نے کن کے بارے میں فرمایا؟
"اَلَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا"
اب دیکھیں ایک شخص ہے فارغ بیٹھا ہے، کچھ بھی نہیں کر رہا، لیکن وہ ذکر کر سکتا ہے۔ اب جب ذکر کر سکتا ہے تو اس وقت جو ذکر کر رہا ہے یہ دانائی ہے، کیونکہ اپنے وقت کو قیمتی بنا رہا ہے۔ یا اس طریقے سے جہاں پر بھی جاتا ہے تو وہاں کا شر کیا ہے اس سے بچاتے ہیں اپنے آپ کو اور اپنا خیر کس کو کس طرح دے سکتا ہے یہ بھی دانائی کی بات ہے۔
تو یہ ساری چیزیں جو ہیں نا دانائی کے لحاظ سے ہیں، لیکن اس کے لیے کیا ضروری ہے؟ اس کے لیے ذکر و فکر ضروری ہے۔ ذکر و فکر کے بغیر یہ نہیں ملتا۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہیے، یہ دل و دماغ کا صحیح سالم ہونا اور اپنی جگہ پہ ہونا اور جیسا ہونا چاہیے اس طرح ہونا، یہ دانائی کی جگہ ہے، دل و دماغ۔ تو اس کے لیے ذکر و فکر دونوں کے لیے ضروری ہے، تو اگر ذکر و فکر سے کسی کی اصلاح ہو جائے اور نفس قابو میں آ جائے تو ماشاء اللہ اصلاح ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
(ٹرانسکرپشن کا اختتام)
تجزیہ اور خلاصہ
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: دانائی کی حقیقت: ذکر و فکر اور انفاقِ فی سبیل اللہ
متبادل عنوان: خیرِ کثیر کا راستہ: حکمت اور اصلاحِ نفس
اہم موضوعات:
شیطانی وسوسے بمقابلہ رحمانی وعدے: شیطان کا فقر و فاقہ سے ڈرانا اور اللہ کا مغفرت و فضل کا وعدہ۔
حکمت (دانائی) کی تعریف: حکمت کو "خیرِ کثیر" قرار دیا گیا ہے جو دین و دنیا دونوں میں کام آتی ہے۔
انفاق کی وسعت: غیر مسلم رشتہ داروں اور گناہ گاروں کی مالی مدد کرنے کی شرعی حیثیت اور اس پر ثواب کی بشارت۔
حقیقی عقلمندی: وہ دانائی جو انسان کو آخرت کی کامیابی کی فکر میں لگا دے۔
ذکر و فکر کی اہمیت: اصلاحِ نفس اور دانائی کے حصول کے لیے اللہ کی یاد اور کائنات میں غور و فکر کو لازمی قرار دینا۔
خلاصہ: